آسمان سے تارے توڑ لاؤں/ڈاکٹر حفیظ الحسن

کائنات کی ابتدا آج سے 13.8 ارب سال پہلے بگ بینگ سے ہوئی۔ بگ بینگ کسی دھماکے کا نام نہیں بلکہ یہ اس عمل کو کہتے ہیں جس کے تحت ابتداء  میں کائنات بہت تیزی سے پھیلی۔ کائنات میں موجود تمام مادہ اور انرجی بگ بینگ سے وجود میں آیا۔ بگ بینگ کے 35-^10 سیکنڈ پر کائنات کا درجہ حرارت بہت زیادہ تھا اور اسکا سائز اندازاً ایک اوسط انسان کے برابر۔ جب کائنات پھیلتی رہی تو اسکا درجہ حرارت کم ہونے لگا۔ بگ بینگ کے 3 لاکھ 80 ہزار سال بعد ہائڈروجن اور ہیلیئم کے ایٹم بنے۔ باقی کے بھاری عناصر اسکے بعد بنے۔ مگر بھاری عناصر کہاں بنے؟

یہ تمام عناصر دراصل ستاروں میں بنے۔ مثال کے طور پر چھوٹے ستاروں میں فیوژن کے عمل سے ہلکے عناصر کے ایٹم جیسے کہ ہائڈروجن یا ہیلیئم بھاری عناصر میں تبدیل ہو کر بھاری ایٹم جیسے کہ کاربن، لوہا وغیرہ میں تبدیل ہوتے ہیں۔ اس عمل کو Nucleosynthesis کہتے ہیں۔

FaceLore Pakistan Social Media Site
پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

کائنات کے کھربوں ستاروں میں سے محض ایک فیصد ستارے اپنے انجام پر Supernovas بنتے ہیں یعنی جب ان میں فیوژن کا عمل رک جاتا ہے تو وہ پھٹتے ہیں جس سے ان میں موجود بہت سے عناصر کائنات میں پھیل جاتے ہیں۔

آپکی بیگم کے ہاتھ میں موجود سونے کی انگوٹھی میں موجود سونا ایسے ہی کسی دم توڑتے ستارے کے پھٹنے سے اربوں سال پہلے زمین پہ آیا ہو گا۔ تو جب آپ بیگم یا محبوبہ سے کہتے ہیں کہ آپ ان کے لئے آسمان سے تارے توڑ لائیں گے تو سیدھا کسی سنار کے پاس جا کر یہ وعدہ پورا اور جیب خالی کر سکتے ہیں۔

اسی طرح آپکے خون میں موجود آئرن بھی ایسے ہی کسی Supernova کی نوازش ہے۔

Advertisements
julia rana solicitors london

ہماری ہڈیوں میں موجود کیلشیم ہو یا وہ آکسیجن جو ہم سانس کے ذریعے لیتے ہیں، یہ تمام عناصر ستاروں سے ہی آئے ہیں۔ اگر یہ کہا جائے کہ ستارے اس کائنات میں عناصر بنانے کی بھٹیاں ہیں تو غلط نہ ہو گا۔ امریکہ کے مشہور ماہرِ فلکیات کارل سیگن نے کہا تھا:
“کائنات ہم میں ہے۔ ہم ستاروں کی گَرد سے بنے ہیں۔ ہم وہ ذریعہ ہیں جس سے کائنات خود کو جانتی ہے۔”

  • merkit.pk
  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com
  • julia rana solicitors london
  • julia rana solicitors

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply