راکھ کے بنائے لاکھ۔۔سلیم فاروقی

کہتے ہیں، واللہ علم سچ کہتے ہیں یا جھوٹ کہتے ہیں، ایسے موقع پر راوی کی گردن سب سے مناسب جان کر تمام دروغ کا ملبہ ہم بھی اسی پر ڈال دیتے ہیں، اگر کسی میمن سیٹھ ، کسی دہلی پنجابی بھائی یا کسی شیخ کو کسی چیز پر سو روپے منافع  ملنے کی توقع ہو اور مارکیٹ کی صورت حال کے باعث اس کو سو کی بجائے پچاس روپے منافع پر وہی چیز بیچنی پڑ جائے تو اس کے  نفع  میں یہ نقصان اس سے برداشت نہیں ہوپاتا ہے اور اس کے پیٹ میں اتنا اپھارہ اٹھتا ہے کہ راتوں کی نیند بھی اُڑ جاتی ہے۔بلکہ اکثر تو یہ دیکھا گیا ہے وہ کئی کئی روزتک تینوں وقت ایک ایک روٹی کم کھا کر نفع میں اس نقصان کو پورا کرنے کی جگاڑ کرتا رہتا ہے۔ لیکن اگر اس کے حساب کتاب سے ہٹ کر خلاف توقع اس کی ردی (Wastage) اچھے داموں فروخت ہو جائے تو وہ اس کو نقصان میں نفع گردانتا ہے اور اس کو ایسے چھپاتا ہے جیسے ٹیکس حکام سے اپنی دولت اور بیوی سے اپنی آمدنی چھپاتا ہے۔

چلیں اس بات کو سمجھنے کے لیے ہم آپ کو پاکستانی کاروباری دنیا کا ایک دلچسپ واقعہ سنا دیتے ہیں۔ قصہ کچھ یوں ہے کہ جب پاکستان میں نئی نئی زراعت سے منسلک صنعتوں کا قیام عمل میں آیا تو چینی کے کارخانے بھی لگنے شروع ہوگئے۔ گنے سے چینی بنانے کے عمل کے دوران دو مختلف قسم کا کچرا نکلتا ہے ایک تو رس نکال لینے کے بعد گنے کی پھوک بچ جاتی ہے جس سے آج کل چپ بورڈ اور گتے کی کچھ اقسام بنتی ہیں۔ دوسرا کچرا گنے کا رس پکانے کے بعد اس میں سے نکلنے والی گندگی ہے۔ اس کو لوگ اردو میں ”راب“ کہتے ہیں اور انگریزی میں ”مولاسس (Molasses) “کہتے ہیں۔ اور اسی گندگی سے استفادہ کرتے ہوئے ہم آج کا کالم لکھ رہے ہیں۔ اُس زمانے میں اس گندگی کو ضائع کرنا ایک بڑا مسئلہ ہوا کرتا تھا۔ اس کو آبادی کے قریب اس لیے نہیں پھینک سکتے تھے کہ یہ جہاں پر جمع ہوجاتا وہاں سڑنا شروع ہو جاتا اوراتنا تعفن اٹھتا کہ اس کے قریب کئی کئی میل تک سانس لینا بھی دشوار ہوجاتی۔

ابتدائی کارخانوں میں سے ایک کا واقعہ ہے کہ اس نے ایک ٹھیکیدار سے معاہدہ کیا کہ اس کے ٹینکر یہ کچرا فیکٹری سے اٹھا کر آبادی سے کافی دور ایک مخصوص مقام پر یہ کچرا پھینک دیا کریں گے۔ اب روز کا ایک ٹینکر کچرا نکلے یا دس ، ٹھیکیدار مطلوبہ تعداد میں ٹینکر فراہم کرنے کا پابند تھا۔ اس کام کی ایک مخصوص اجرت بھی باہمی طور پر طے پا گئی۔ وہ طے شدہ اجرت کیا تھی یہ تو ہمارے علم میں نہیں ہے لیکن ہم بات کو سمجھنے کے لیے فی ٹینکر فی چکر پانچ ہزار روپیہ فرض کر لیتے ہیں۔ ایک لمبے عرصے تک یہ ٹھیکہ سکون سے چلتا رہا ، اور پھر ایک روز اس بحرکی ”موجوں“ میں اضطراب ایک مقابل ٹھیکیدار نے پیدا کردیا۔ اس نے شوگر مل والوں کو یہ پیشکش کی کہ آپ جو فی ٹینکر فی چکر پانچ ہزار دے رہے ہیں میں یہی کام ساڑھے چار ہزار میں کرنے کو تیار ہوں۔ مل مالکان کو اس نقصان میں دس فیصد نفع نظر آیا تو انہوں نے فوری طور پر نئے ٹھیکیدار پر نظرِ کرم کردی اور پانچ سو روپیہ فی ٹینکرنقصان میں نفع کمانا شروع کردیا۔ چند دن بعد پرانا والا ٹھیکیدار مل مالکان سے ملا اور اپنی پرانی خدمات کا حوالہ دیا اور پیشکش کی کہ میں یہی کام چار ہزار میں کردوں گا۔ مالکان کو سورج مُکھی بننے میں کون سی دیر لگتی تھی انہوں نے واپس یہ کام پرانے والے ٹھیکیدار کو دے دیا۔ بس پھر کیا تھا دونوں ٹھیکیداروں میں وہ مقابلہ شروع ہوا جس کاصحیح مفہوم ادا کرنے کے لیے ایک عوامی لفظ ہے ”لاگت بازی“ ۔ اور پھر یہ لاگت بازی ایسی چلی کہ کچھ دن بعد دونوں ٹھیکیدار شوگر مل سے بلامعاوضہ یہ کچرا اٹھا رہے تھے، اور مل والے دونوں کی لاگت بازی سے ہر دو معنوں میں لطف اندوز ہورہے تھے۔

کچھ دن تو یہ کھیل یوں ہی چلتا رہا پھر ایک روز مل مالکان کو یہ خیال آیاکہ یہ لاگت بازی زیادہ عرصہ نہیں چل پائے گی اور پھر ایک وقت آئے گا کہ دونوں میں سے کسی ایک کی سانس پھول جائے گی۔ اور پھر بچ جانے والا ٹھیکیدار ان سے اگلی پچھلی کسر پوری کرنا شروع کردے گا۔ یہ خیال آنا تھا کہ کمپنی والوں نے دونوں ٹھیکیداروں کو علیحدہ علیحدہ بلایا اور ان سے کہا کہ ہم چاہتے ہیں تم ہم سے کم از کم ایک سیزن کا معاہدہ کرو کہ تم پورا سیزن اسی طرح بلا معاوضہ یہ کچرا اٹھاتے رہو گے اور اس معاہدے کی ضمن میں ہمارے پاس بطور ضمانت پچاس ہزار روپے جمع کرواؤ گے۔ دونوں ٹھیکیدار اس شرط پر بھی سر کے بل تیار ہوگئے۔ بلکہ پرانے والے ٹھیکیدار نے پیشکش کی کہ اگر پورا ٹھیکہ مجھ کو اکیلے دے دیا جائے تو میں کمپنی کو کچرا اٹھانے کا فی ٹینکر ایک ہزار روپیہ بھی ادا کروں گا، اور ضمانتی رقم میں بھی اضافہ کردوں گا۔ جب یہ بات نئے والے ٹھیکیدار کے علم میں آئی تو اس نے ایک کی جگہ ڈیڑھ ہزار روپیہ فی ٹنیکر کی پیشکش کردی۔اب ایک نیا مقابلہ شروع ہوگیا ۔ ہوتے ہوتے بات اس پر ختم ہوئی کہ ٹھیکہ دونوں ٹھیکیداروں میں آدھا آدھا بانٹ دیا گیا۔ اور دونوں فی ٹینکر پانچ پانچ ہزار روپیہ کمپنی کو ادا کرنے لگے۔یوں کمپنی کو ہونے والا پانچ ہزار روپیہ فی ٹینکر نقصان دس ہزار روپیہ فی ٹینکر منافع میں بدل چکا تھا۔

اب شوگر مل مالکان کو بھی تجسس ہوا کہ معلوم کریں کہ اس کے پیچھے اصل کہانی کیا ہے؟ اب جو کمپنی نے اپنے مخبر دوڑائے تو پتا چلا کہ یہ کچرا مقررہ جگہ پر تلف نہیں کیا جارہا ہے بلکہ کسی اور جگہ جمع کر کے وہاں سے کراچی بندرگاہ روانہ کردیا جاتا ہے اور پھر وہاں سے چند مغربی ممالک بھیج دیا جاتا ہے۔ اب وہ زمانہ گوگل کا تو تھا نہیں کہ چند کلک پر آگے کی کہانی بھی معلوم ہو جاتی۔ جب کمپنی نے بیرون ممالک بھی اپنے تعلقات استعمال کرتے ہوئے معلومات کیں تو پتا چلا پاکستان میں ایک کمپنی کا کام ہی یہ ہے کہ وہ یہ راب بیرون ممالک بھیج دیتی ہے اور وہاں یہ راب عمدہ قسم کی شراب بنانے کے خام مال کے طور پر استعمال ہوتی ہے۔

ہمیں یہ قصہ اس لیے یاد آیا کہ گذشتہ دنوں تھرپارکر میں موجود کوئلے کے ذخائر کے مطالعاتی دورے پر وہاں کے قصبہ اسلام کوٹ کے پاس کوئلے کے ذخائر کے بلاک نمبر دو پر جانے کا اتفاق ہوا۔ یہاں پر چینی کمپنی اور پاکستانی کمپنی اینگرو کے تعاون سے کوئلہ نکال کر اس سے پانچ ہزار میگا واٹ روزانہ بجلی بنانے کا کام بڑے زور و شور سے جاری ہے اور توقع ہے کہ اگلے سال جون سے یہاں سے کوئلہ نکالا جانا شروع کردیا جائے گا۔ جبکہ اس سے اگلے سال یہاں سے بجلی پیدا کرکے قومی گرڈ میں دی جانی شروع کردی جائے گی۔ اس بارے میں تفصیلات تو اگلے کسی کالم میں پیش کی جائیں گی کہ کمپنی کے دعوے کے مطابق کس طرح یہاں سے پیدا ہونے والی بجلی پانی سے پیدا ہونے والی بجلی سے بھی سستی ہو جائے گی۔ اور کس طرح ایک مخصوص مدت کے بعد یہاں کی سو فیصد ملکیت پاکستان کی ہوگی اور چینی کمپنی اپنی ذمہ داریاں ادا کرکے واپس چلی جائے گی۔

ہم اپنے اس کالم کو صرف اسی حد تک محدود رکھیں گے کہ جس حد تک اس کا تعلق ہمارے تمہیدی واقعہ سے ہے۔ بات دراصل یہ ہے کہ جب اسلام کوٹ، تھرپارکر کے کوئلے کے ذخائر کا تکنیکی تجزیہ کیا گیا تو پتہ چلا اس میں جلنے کے بعد بچ جانے والی راکھ کا تناسب بہت زیادہ ہوگااور اس راکھ کو محفوظ طریقے سے ٹھکانے لگانے پر اضافی اخراجات آئیں گے جس کی وجہ سے لامحالہ اس کوئلے سے پیدا ہونے والی بجلی کی لاگت میں اضافہ ہوجائے گا۔ لیکن جب تھر کے کوئلے کا لیبارٹری میں تجزیہ کیا گیا تو حقائق بالکل ہی مختلف نکلے۔ جب تھر کے کوئلے کا بھارتی گجرات کے کوئلے سے مقابلہ کیا تو پتا چلا کہ بھارتی کوئلے میں راکھ نو سے بارہ فیصد تک ہوتی ہے اور تھر کے کوئلے میں آٹھ فیصد تک گویا تھر کا کوئلہ اُس ہندوستانی کوئلے سے بہتر ہے جو بھارت 1958ء سے اب تک نکال کر سستی بجلی پیدا کرتا رہا ہے اور اب بھارت کا وہاں پر کوئلہ ختم بھی ہوچکا ہے۔ ہاں جرمنی کے کوئلے میں راکھ یقیناً کم ہوتی ہے وہاں دو سے پانچ فیصد تک راکھ ہوتی ہے۔ لیکن اہم بات یہ کہ حدت یا تپش کے حوالے سے تھر کا کوئلہ دونوں سے بہتر ہے۔ بھارتی کوئلے میں حدت 2600 درجہ ہے اور جرمنی کے کوئلے میں 1900 درجہ ہے جبکہ تھر کے کوئلے میں تقریباً 2800 درجہ کی حرارت ہے ۔ گویا تھر کے کم کوئلے کو جلا کر زیادہ تپش حاصل کی جاسکتی ہے۔

چلیں ہم ضمنی تفصیلات سے گریز کرتے ہوئے اپنے مقصد کی جانب آتے ہیں۔ جب کمپنی اپنے بجلی کے منصوبے کے رواں اخراجات حساب لگا رہی تھی تو اس نے اس راکھ کو اٹھا کر کسی ایک مقام تک تلف کرنے کے اخراجات بھی شامل کرلیے اور اندازہ لگایا کہ ان اخراجات کے باوجود تھر کے کوئلے سے اگر بجلی کی پیداوار اپنے منصوبے کے مطابق جون 2019ءمیں بجلی کی پیداوار شروع ہوگئی اور اس میں کوئی بڑی رکاوٹ نہ آئی تو پیداواری لاگت کے حساب سے جون 2021ء کے قریب درامدی کوئلے سے پیدا ہونے والی بجلی کی لاگت سے بھی کم ہو جائے گی جبکہ بینکوں کے قرضوں کی مکمل ادائیگی کے بعد یہ لاگت جون 2031ء میں لاگت تو پانی سے بننے والی بجلی سے بھی کم ہوجائے گی۔

ایک طرف تو کمپنی کے حساب دان یہ حساب لگائے بیٹھے تھے اور کمپنی اس مقام کا تعین کر رہی تھی کہ اس راکھ کو کہاں لے جاکر تلف کیا جائے، کیونکہ اتلاف کا خرچ تو حساب کتاب میں لیا ہی جاچکا تھا۔ اسی دوران کمپنی کے پاس بین الاقوامی سطح کی ایک اور پارٹی ٹہلتی ہوئی پہنچ گئی اور اس نے کہا کہ آپ اس راکھ کی ذمہ داری ہمیں دے دیں ہم جانیں اور راکھ جانے۔ کمپنی والوں نے لاکھ سمجھایا کہ بھائی اب تو سٹیل وول اور ڈش واش لیکویڈ کا زمانہ ہے ، اب تو لوگ راکھ سے برتن بھی نہیں دھوتے ہیں اور ٹوتھ پیسٹ نے راکھ سے دانت مانجھنے کا رواج بھی ختم کر دیا ہے، تم کیا کروگے اتنی راکھ؟ پارٹی بولی ہم راکھ سے لاکھ بنائیں گے، بلکہ لاکھوں اور کروڑوں بنائیں گے۔ اصل بات یہ کھلی کہ آج کے دور میں راکھ بھی اتنی ہی قیمتی جتنا کہ خود کوئلہ۔ اس وقت بین الاقوامی مارکیٹ میں اگرکوئلہ کی قیمت 55 سے 60 ڈالر فی میٹرک ٹن ہے تو کوئلے کی راکھ کی قیمت 40 سے 45 ڈالر فی میٹرک ٹن ہے،کیونکہ یہ راکھ سیمنٹ کی مخصوص قسم بنانے کے علاوہ تعمیراتی صنعت اور ٹائیل کے علاوہ ظروف سازی میں بھی استعمال ہوتی ہے ۔ گویا ہم نے اسلام کوٹ کے مقام پر کوئلے کے جس ذخیرے کا دورہ کیا وہاں سے پچاس سال میں تقریباً ڈیڑھ ارب ٹن کوئلہ نکلے گا ، جس کے استعمال کے بعد آٹھ فیصد کے حساب سے راکھ کتنی نکلے گی اور پھر بین الاقوامی نرخ کے مطابق چالیس ڈالر فی میٹرک ٹن کے حساب سے اس راکھ کی مالیت کیا ہوگی؟

یہ معلوم کرنے کے لیے کچھ کام آپ خود بھی کر لیجیے اور اپنے موبائل فون میں موجود کیلکولیٹر کو زحمت دیجیے ، اگر جواب مل جائے تو اس موبائل کی اچھی طرح حفاظت کیجیے اچھا موبائل ہے یہ، اگر ناکام ہوجائیں تو بس اتنا سمجھ لیں تقریباً سوا سو کروڑ ٹن راکھ نکلے گی۔ اس سوا سو کروڑ کو مزید پہلے چالیس سے ضرب دے کر پتا لگائیے کہ اس کی آمدنی امریکی ڈالر میں کتنی ہوگی پھر آج کل کے حساب سے ایک سو سات سے ہی ضرب دے دیجیے تو پتا چلے گا اس راکھ کی مالیت پاکستانی روپوں میں کتنی ہوگی؟ شنید تو یہ بھی ہے کہ اب اس راکھ کی خریدار پارٹی اور کمپنی کے مابین سمجھوتہ طے پارہا ہے کہ راکھ کی خریدار پارٹی اسی پاور ہاؤس کے قریب ہی اپنی فیکٹری بھی لگا ئے گی، جہاں سے کوئلے کی راکھ نکلے گی، اور پارٹی وہیں اس راکھ سے مصنوعات بنا کر مارکیٹ میں لائے گی۔

جب آپ حساب کتاب لگانے بیٹھیں گے تو ایک دلچسپ حقیقت سامنے آئے گی کہ یہ کوئلہ نکالنے پر کمپنی   جتنی کُل سرمایہ کاری کر رہی ہے اس سے زیادہ رقم کی تو صرف راکھ کی فروخت سے ہی آمدنی ہوسکتی ہے، اب یہ بات الگ کہ سرمایہ کاری تو اگلے تقریباً دس سال کے اندر اندر کرنی ہوگی جبکہ راکھ سے آمدنی پچاس سال میں ہوگی۔ گویا کمپنی بجا طور پر ”آم کے آم گٹھلیوں کے دام“ والے معروف محاورے کو تبدیل کرکے کہہ سکتی ہے، ”کوئلے کا کوئلہ ، راکھ بنائے لاکھ“۔ اب صرف دیکھنا یہ ہے کہ اس نقصان میں نفع کے اندر بجلی کے نرخ میں کمی کی صورت میں عوام کو بھی کچھ حصہ ملتا ہے یا یہ عوام کے ارمانوں کی راکھ ہی ثابت ہوگی؟؟؟

سلیم فاروقی
سلیم فاروقی
کالم نگار، کہانی نگار، بچوں کی کہانی نگار، صد لفظی کہانی نگار

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *