• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • سیاست میں انتہا پسندی کے رجحانات /قادر خان یوسف زئی

سیاست میں انتہا پسندی کے رجحانات /قادر خان یوسف زئی

مذہبی انتہا پسندی ایک ایسا رجحان ہے جو مذہب کے جھنڈے تلے اُبھر کر سامنے آیا، جس کا مقصد تھیو کریسی کی بحالی اور ایک انتہا پسند مذہبی ریاست کا قیام ہے۔ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد سے مذہبی انتہا پسندی پہلے سے کہیں زیادہ فعال نظر آتی ہے۔ مذہبی انتہا پسندی کو دہشت گردی، نسل پرستی اور علیحدگی پسندی کے ساتھ ملا دیا گیا، جو بین الاقو امی نظم و نسق اور علاقائی استحکام کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ ہے۔ مذہبی انتہا پسندی کا براہ راست تعلق کسی خاص مذہب یا کسی خاص نسلی گروہ سے نہیں ہوتا اور نہ ہی ایسی منفی سر گرمیوں و اقدامات یا فرقہ وارانہ بیانیہ کا اسلام سے کوئی تعلق ہے۔ تاہم، چونکہ مذہب کسی خطے میں ایک گروہ کی ثقافت سے قریبی تعلق رکھتا ہے اور ان جگہوں پر جہاں مذہبی روایات نسبتاً طویل ہیں اور مذہبی ماحول نسبتاً مضبوط ہے اس لیے مذہبی نظریات اور تنظیمی طریقے، آسانی سے سیاسی تنظیموں کے لیے نظریاتی متحرک اور تنظیمی کارروائیوں کو انجام دینے کے لیے سہولت کار بن سکتے ہیں۔

اسلام ایک ایسا دین ہے جو امن کی وکالت کرتا ہے، پُر تشدد اور مذموم واقعات کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ اس وقت دنیا میں اسلامی انتہا پسندی کو مخصوص زاویے سے دیکھا جاتا ہے۔ حالانکہ مذہبی انتہا پسندی بذات خود ایک عالمی مسئلہ بن چکا  ہے ،جو جدیدیت اور سیکولرائزیشن کے عمل میں نئے روپ کے ساتھ وارد ہوا۔ انتہا پسندی کو واضح طور پر سیاسی بنیادوں سے بھی جوڑ ا جاتا ہے جس میں واضح سیاسی مطالبات کو مذہب کے منفی استعمال کے وتیرہ میں دوہرایا جاتا ہے۔ اس نظریے کو سمجھنا ہوگا کہ ایسی انتہا پسندی کا تعلق مذہب سے نہیں بلکہ سیاست سے ہے جو سیاسی زمرے کے لحاظ سے بنیاد پرستی، تاریخی، ثقافتی سیاق و سباق کے ساتھ پیدا ہوتی ہے۔ اس حقیقت کو سمجھنا ہوگا کہ در حقیقت مذہبی انتہا پسندی ایک مذہب نہیں اور کسی خاص قوم، مسلک سے تعلق نہیں رکھتا بلکہ انسانیت کا عوامی اور تمام مذاہب اور قو میتوں کا کھلا دشمن ہے۔ انتہا پسندی کو مذہب اور نسل سے الگ تصور کیا جانا چاہیے تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ آ خرکار یہ ایک نظریاتی نظریہ ہے جو معروضی حقیقت کے مطابق ہے، یہ بہت معنی خیز حقیقت ہے کہ نسل پرستی، انتہا پسندی اور دہشت گردی کئی برسوں سے بعض خطوں میں پھیلی ہوئی ہے اور اس کا الزام ایک مخصوص گروہ اور مخصوص مذہب پر عائد کرنے سے مسئلہ حل نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ایک اہم نظریاتی پالیسی اور نظریاتی پیش رفت کا تقاضا کرتا ہے جو لامحالہ نسلی اور مذہبی پالیسیوں میں ایک اہم موڑ اور تبدیلی لا سکتا ہے۔

خلاصہ یہ ہے کہ انتہا پسندی کے تصورات کو احتیاط کے ساتھ سیاسی بیانیہ میں استعمال کرنا چاہیے اور ترجیحاً اس کا استعمال بند کر دینا چاہیے تاکہ مذہب کو انتہا پسندی اور سیاسی استعمال سے مکمل طور پر الگ کرنے کے لیے عوام کو انتہا پسندی کی ہر قسم کے خلاف متحد کیا جا سکے۔ مذاہب لوگوں کو متحد کرتے ہیں، لہٰذا جو متحد ہو سکتے ہیں تو ان کے تمام مثبت عوامل کو متحرک کیا جا سکتا ہے۔ انتہا پسندی اور سیاست میں مذہب کے استعمال کے رجحانات کو اب بھی روکا اور اس کے خلاف باہمی اتحاد سے آہنی طور پر نمٹا بھی جا سکتا ہے۔ سیاسی رہنماؤں کو سمجھنا ہوگا کہ سیاست میں مذہبی انتہا پسندی کا استعمال سماجی ترقی کو شدید متاثر کرتا ہے اس پر سنجیدگی سے غور و فکر کی ضرورت ہے۔ سیاسی اور قومی دھارے میں شامل مذہبی و سیاسی جماعتوں کو مکالمے کے ذریعے سمجھانا ہوگا کہ مذہبی انتہا پسندی کیا ہے اور سیاست میں اس کا استعمال کیوں کیا جا رہا ہے، مذہبی انتہا پسندی کا مذہب اور سیاست  سے کیا تعلق ہے۔ سیاست میں مذہبی انتہا پسندی اس قدر تیزی سے کیوں پھیل رہی ہے۔ مذہبی انتہا پسندی، بین الاقو امی دہشت گردی کا سیاسی انداز سے جڑنا کیا معنی رکھتا ہے۔ سیاست میں مذہبی انتہا پسندی کے نقصانات کتنے ضرر رساں ہیں اور اس سے کیسے نمٹنا چاہیے۔ یہ سب اہم نظریاتی اور عملی مسائل ہیں جن کا آج بین الاقوامی سیاسی علوم اور مذہبی مطالعات میں فوری طور پر جواب دینے کی ضرورت ہے۔

Advertisements
julia rana solicitors

بد قسمتی سے ہمارے معاشرے میں رواداری کا مظاہرہ ختم ہوتا جا رہا ہے۔ مذہبی انتہا پسندی میں ایک عنصر واضح ہے کہ انتہا پسندی کو مذہب سے جوڑ دیا جاتا ہے اگر انتہا پسندی کو مذہب کا لبادہ نہ پہنایا جائے تو اس رویے کو سمجھنے میں آسانی پیدا ہوسکتی ہے کہ انتہا پسندی کی کئی جڑیں ہیں جو مذہب کے ساتھ ساتھ سیاست اور عدم برداشت سے بھی جڑی ہوئی ہیں۔ عصرِ  حاضر میں مذہبی انتہا پسندی کے وسیع پیمانے کے عروج میں ایرانی انقلاب اور70کی دہائی میں سوویت یونین کے  افغانستان پر حملے کی مثالیں دی جاتی ہیں۔ 90کی دہائی میں مشرقی یورپ میں زبردست تبدیلیاں، سوویت یونین کا خاتمہ اور سر د جنگ انجام کو پہنچی لیکن یہاں اس امر کی وضاحت پھر بھی مشکل ہے کہ مذہبی انتہا پسندی اُس وقت عروج پر تھی یا دنیا کے نزدیک اب افغانستان سمیت دیگر ممالک میں مذہب کے نام پر شدت پسند عوامل پیدا ہوئے۔ کئی ممالک میں سیاسی طور پر اختیار کی جانے والی پالیسیوں اور رائے عامہ کو جان بوجھ کر متاثر کرنے کے لیے مذہب کو مخصوص مقاصد کے تحت استعمال کیا جاتا ہے۔
سیاسی بنیادوں پر مذہب کے منفی رجحان کو استعمال کرنے سے سماجی استحکام تباہ ہو جاتا ہے جس سے انتہا پسندی کو موثر طریقے سے قابو میں نہیں لایا جا سکتا، یہ انتہا پسندی کی  وسعت میں فروغ کا سبب بن جاتا ہے۔ مذہب کے غلط استعمال کا دائرہ بڑھتا چلا جاتا ہے جو خود مذہب پر یقین رکھنے والوں کے لیے ناقابلِ  تلافی نقصان کا باعث بن جاتا  ہے ۔ مذہب کے ماننے والوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچتی ہے او ر عدم برداشت کے ماحول میں انفرادی فیصلوں کے منفی رجحانات میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ عام لوگوں کے ذہنوں میں مذہبی تاثر غیر یقینی بن جاتا ہے جب کہ موخر الذ کر حقیقی ساکھ، اس نظریے اور روح کو اندر سے خراب کر دیتی  ہے۔ انتہا پسندی، مذہب، نسلی، گروہی یا علیحدگی پسندی کی جس شکل میں ہو اس کے رَد کے لیے تمام حلقوں کو اپنی ذمہ داریاں کما حقہ ادا کرنا ہوں گی۔ سب سے پہلے اس نظریے کو الگ کرنا ہوگا کہ مذہبی انتہا پسندی کا مذہب سے کوئی تعلق ہے۔ مذہب ایک عقیدہ ہے، اس لیے انتہا پسندی کو غیر قانونی سیاسی مسئلہ سمجھنا ہوگا۔ عدم اطمینان اور عدم برداشت کو مذہبی انتہا پسندی کے ذریعے استعمال کیا جا سکتا ہے، جس سے مذہب کا تشخص مسخ ہوتا ہے۔ سیاست میں انتہا پسندی کے رجحان میں کمی لانا ناگزیر ضرورت بن چکاہے۔

  • merkit.pk
  • julia rana solicitors
  • julia rana solicitors london

قادر خان یوسفزئی
Associate Magazine Editor, Columnist, Analyst, Jahan-e-Pakistan Former Columnist and Analyst of Daily Jang, Daily Express, Nawa-e-Waqt, Nai Baat and others. UN Gold medalist IPC Peace Award 2018 United Nations Agahi Awards 2021 Winner Journalist of the year 2021 reporting on Media Ethics

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply