گلگت گارگاہ بدھا کی کہانی/اشفاق احمد ایڈووکیٹ

گلگت شہر کے مضافاتی گاؤں نپورہ میں واقع بدھا کا تاریخی مجسمہ جو عام طور پر گارگاہ بدھا کے نام سے مشہور ہے لیکن گلگت بلتستان کی شنا زبان میں اسے یݜنیYachayniکہاجاتا ہے جو گلگت بلتستان کی متھالوجی میں یاچھولو نامی ایک غَیر مَرَئی مخلوق کی مونث ہے۔

گارگاہ بدھا کے متعلق ماہرین کا ماننا ہے کہ ساتویں صدی میں ایک بلند چٹان کو تراش کر اس سے بدھ کی شکل دی گئی تھی جو ایک اہم تاریخی ارکیالوجیکل سائٹ ہے جس سے گلگت بلتستان کی قدیم تاریخ کا پتہ چلتا ہے۔ چٹان پر کھدا ہوا بدھا کا یہ تاریخی مجسمہ نا  صرف غیر ملکی سیاحوں کے لئے باعث دلچسپی ہے بلکہ دنیا بھر میں موجود بدھ مت کے پیروکار اس سے عقیدت رکھتے ہیں اور ہر سال بدھ مت کے پیروکار اور سیاح گلگت بلتستان آتے ہیں۔

FaceLore Pakistan Social Media Site
پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

سال 2019 میں کوریا سے تعلق رکھنےوالے بدھی پیروکاروں 17 رکنی ایک وفد نے گلگت بلتستان کا دورہ کیا اور بدھا کے مجسمے پر حاضری دی اور مذہبی رسومات ادا کیں تو پھر گلگت بلتستان کے لوگوں کو اس حقیقت کا پتہ چلا کہ گارگاہ بدھا سے منسوب بدروح والی کہانی محض ایک دیومالائی کہانی ہے۔

لیکن گلگت بلتستان کے مقامی لوگوں کو آج بھی بدھا کے اس تاریخی مجسمہ کے متعلق معلومات نہ ہونے کے برابر ہے۔ایسا لگتا ہے انہوں نے ماضی کو فراموش کیا ہے۔

پندرہویں صدی کے بعد جب اس خطے میں اسلام کی آمد ہوئی  تو یہاں کے باشندوں نے دینِ  اسلام قبول کیا اور وقت گزرنے کے ساتھ لوگوں کے طور طریقے اور عقائد بدل گئے چنانچہ بدھا کے مجسمہ کو یشئنی یعنی ایک بدروح آدم خور کے طور پر بیان کیا گیا ۔

چنانچہ آج بھی مقامی لوگ اپنے آبا ؤاجداد سے اس بدھا / پشئنی کے بارے میں ایک مافوق الفطرت کہانی سننے کا ذکر کرتے ہیں جس سے گلگت میں مقیم برٹش پولیٹکل ایجنٹ جان بڈولف نے اپنی کتاب Tribes of Hindookoosh میں یوں بیان کیا ہے۔

“قدیم دور میں جب یہاں دیو بستے تھے تب ایک بدروح انسانوں کا شکار کرتی تھی جو ایک گھاٹی میں رہتی تھی جہاں سے نکل کر وہ قریب سے گزرنے والے راہگیروں کو پکڑ کر نگل لیتی تھی اور اس بدروح کی عادت تھی کہ وہ اپنے اکلوتے شکار کا آدھا حصہ نگل لیتی تھی اور آدھا حصّہ چھوڑ دیتی تھی لیکن جب وہ دو افراد کا شکار کرتی تھی تو ان میں سےایک کو زندہ نگل لیتی تھی اور ایک کو زندہ چھوڑتی تھی چنانچہ اس بدروح کی وجہ سے اس پورے ملک میں بہت زیادہ خوف ہراس پھیل گیا تھا۔
مگر ایک دن ایک بزرگ اس وادی میں وارد ہوا اس نے لوگوں کو خوف ہراس کے عالم میں پایا اور جب اس بدروح کے متعلق سننا تو اس نے طے کیا کہ وہ اس بدروح کو قید کرینگے اور لوگوں کو اس کی شر سے آزاد کرائیں گے۔
چنانچہ وہ بزرگ جب بدروح کے مسکن پہنچ گئے تو بدروح بزرگ کا شکار کرنے آگے بڑھنے لگی اور بزرگ نے اپنی روحانی طاقت سے بدروح کو ایک چٹان میں قید کیا اور ا سے ایک پتھر میں بدل دیا۔
اس کے بعد بزرگ کی کرامات سے سارے ملک کے عوام چین سے زندگی جینے لگے مگر ایک دن بزرگ نے اس ملک سے واپس جانے کی خواہش ظاہر کیا اور لوگوں سے کہا کہ اس نے بدروح کو دم کرکے قید کیا ہے لیکن اس سے ہمیشہ کے لئے وہاں قید کرنے کے لئے یہ لازمی ہے کہ جب وہ (بزرگ) وفات پائے تو اس کی جسد خاکی کو اس چٹان کے عین نیچے دفن کیا جائے۔
بزرگ نے تاکید کیا کہ وہ جب بھی جہاں کہیں بھی وفات پائے تو اس کی میت کو لازمی یہاں لاکر اس چٹان کے نیچے ہی دفن کیا جائے جہاں اس نے بدروح کو قید کیا تھا اور یہ نصیحت کرنےکے بعد جب بزرگ وہاں سے رخصت ہوا تو گلگت کے لوگوں نے اس مسئلہ کا پریکٹیکل نقطہ نظر سے جائزہ لیا اور انہوں نے متفقہ طور پر کہا کہ پتہ نہیں بزرگ کہاں کس دور دراز علاقے میں جاکر وفات پائیں گے اور وہ اس کی لاش کو ڈھونڈ کر لانے کا رسک کیوں کر اٹھائیں ؟ اگر وہ اس بزرگ کو تلاش کرنے میں ناکام ہوئے تو پھر وہ بدروح دوبارہ آزاد ہوگی ۔ چنانچہ غور خوص کے بعد وہ یہ رسک لینے کو تیار نہیں ہوئے اور ملک چھوڑنے سے قبل ہی انہوں نے بزرگ کو پکڑ لیا اور اس کا سر کاٹ ڈالا ۔ بزرگ کو بے رحمی سے موت کے گھاٹ اتارنے کے بعد اس کی میت کو اسی جگہ چٹان کے نیچے دفن کیا جہاں اس بزرگ نے بدروح کو قید کیا تھا۔
بقول مسڑ بڈولف اس بدقسمت بزرگ کا مقبرہ اسی چٹان یعنی گارگاہ بدھا کے نیچے موجود ہے جہاں اس نے خود کو دفن کرنے کی تاکید کیا تھا۔ لیکن حیرت انگیز بات یہ ہے کہ کارگاہ بدھا کے مجسمہ کے نیچے اب کوئی مقبرہ موجود نہیں ہے۔”

بدھا کے مجسمے سے جڑی ہوئی اس افسانوی کہانی کے بارے میں ہمارے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے کہ وہ بدقسمت بزرگ کیا واقعی دائیل خمیٹو تھے یا وہ کون تھے ؟ جس سے ایک بدروح کے  خوف کی وجہ سے بےدردی کے ساتھ موت کے گھاٹ اتارا گیا البتہ اس قصہ کے متعلق گلگت بلتستان میں مختلف روایات موجود ہیں ۔

مثلاً وادی پونیال میں یہ قصہ مشہور ہے کہ ایک پیر نے گارگاہ بدھا / یشئنی کے سنیے میں کیل گاڑھ کر اس بدروح کو اسی چٹان میں قید کیا تھا تاکہ لوگ اس کے شر سے محفوظ رہیں ۔

اس کہانی کے پس منظر کا جائزہ لینے سے پتہ چلتا ہے کہ قدیم دور میں گلگت سے ضلع غذر جانے والی سڑک پہاڑوں کے بیچ سے گزرتی تھی جو ایک بہت دشوار گزار سڑک تھی جہاں سے لوگ پیدل یا گھوڑوں اور گدھوں پر سامان لاد کر سفر کرتے تھے۔ رات ہوتے ہی جب اندھیرا چھا جاتا تھا تو اس پہاڑی پر پیدل سفر کرنے والے مسافروں پر ہیت طاری ہوتی تھی چونکہ اس زمانہ میں یہاں نہ تو بجلی کا تصور تھا نہ ہی مٹی کے تیل سے جلنے والے لالٹین کا، لہذا رات کو تنہا سفر کرنا خطرے سے خالی نہیں تھا پہاڑی مشکل راستہ سے نیچے گرنے کا خوف کے علاوہ بھوت چڑیل کا خوف یہاں کے لوگوں کی نفسیات کا آج تک حصہ ہے اور گلگت بلتستان کےلوگوں کی اکثریت کا آج بھی یہ ماننا ہے کہ زمانہ قدیم سے ہی چٹریل اکثر آدھی رات کو سنسان جگہوں میں انسان کا شکار کرتی ہے، لہذا اس مجموعی معاشرتی خوف کی وجہ سے بھی بدھا کے مجسمہ کو ایک بدروح کے روپ میں پیش کیا گیا ہو تاکہ لوگ آسانی سے یہ بات تسلیم کریں۔

اور یہ کہانی تھوڑی ردوبدل کے ساتھ گارگاہ بدھا مجسمہ کے احاطہ میں تنصیب ایک سرکاری سائن بورڈ میں درج کیا گیا ہے ۔

گزشتہ دنوں گارگاہ بدھا جاکر وہاں موجود ایک مقامی گائیڈ سے جب میں نے اس بزرگ کے مقبرہ کے بارے میں سوال کیا کہ اس بزرگ کا مقبرہ یہاں نظر نہیں آرہا ہے جس کاذ کر اس سائن بورڈ میں کیا گیا ہے وہ کہاں گیا؟ جواب میں مقامی گائیڈ نے ہاتھ کے اشارے سے بدھا کے مجسمے سے کافی دور مغرب کی طرف ایک بنجر گھاٹی دکھاتے ہوئے کہا کہ وہاں اس بزرگ کا مقبرہ موجود تھا لیکن بہت سال قبل لینڈ سلائیڈنگ نے مقبرہ تباہ کیا ہے اب وہاں کچھ نہیں ہے۔ گائیڈ نے بھی وہی افسانوی کہانی دہرائی  ،جو گارگاہ بدھا میں تنصیب سائن بورڈ میں درج ہے۔ دراصل بدھا کے مجسمے کی مختصر تاریخ کے نام پر ایک افسانوی کہانی اس سائن بورڈ میں درج کی گئی ہے، جس میں سوائے بدھا کے نام کے دیگر حقائق درست نہیں، شاید  ریسرچ نہ ہونے کی وجہ  سے  ا یسا کیا  ہو گیا۔
لہذا اس مضمون میں بدھا کے مجسمے سے متعلق تاریخی معلومات کا ذکر کیا ہے تاکہ عوام کو اس افسانے  کے پیچھے پوشیدہ حقائق کا پتہ چلے۔

پروفیسر آسکر وان ہنبر اپنے ریسرچ پیپر بعنوان ”گلگت میں سدھرمپواسر کاساترا، خطوط، عبادت گزار، اور فنکار“ میں لکھتے ہیں ”قدیم ہندوستان کی واحد زندہ لائبریری، گلگت لائبریری تھی جو اتفاق سے 1931 ء میں گلگت کے قریب نپورہ میں ایک مقام پر دریافت ہوئی اور اس قدیم عمارت کو اکثر غلطی سے ایک اسٹوپا سمجھا جاتا ہے۔

وہ عمارت درحقیقت ایک چھوٹی سی ٹاور تھی اور راہبوں کے لئے ایک رہائشی جگہ تھی۔ یہ شاید دو منزلہ عمارت تھی جہاں راہب، مذہبی مشیروں کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے تھے۔ ممکنہ طور پر وہ بدھ مت رسومات بجا لاتے تھے اور یقینی طور پر مقامی افراد کے لیے معالجہ کے طور پر خدمات انجام دیتے تھے جہاں متعدد نسخوں اور بدھ مت کی چیزوں کو دفن کیا گیا تھا۔اس کی تصدیق نپورہ گلگت سے برآمد ہونے والی کتابوں میں سے ملنے والے دو طبی نسخوں سے ہوئی ہے۔ بدھ مت کے مخطوطات دریافت ہونے والی سائٹس کا احاطہ کیا گیا ہے جہاں گلگت لائبریری دریافت ہوئی تھی وہ آج ایک مسلم قبرستان کی جگہ بن گئی ہے۔

آسکر وان ہنبر کے بقول 1929 ء میں مقامی لوگوں نے اگ جلانے والی لکڑی کے لیے گلگت نپورہ میں جب کھدائی کی تو انہیں زمین کے اندر ایک نہایت انوکھا خزانہ ملا جو قدیم زمانے کی ایک لائبریری تھی جہاں سے بہت بڑی تعداد میں کتابیں ملیں مگر دریافت ہونے کے فوراً بعد ان کا ایک بڑا حصہ ضائع ہو گیا۔ مقامی لوگ جنہوں نے یہ کتابوں حاصل کی تھیں وہ ان نایاب کتابوں کی قیمت کو پہچان نہیں سکے۔ اس لیے انہوں نے برج کے پتوں پر لکھی گئی ان کتابوں کو اپنے مکانات کے چھتوں کو تعمیر کرنے میں استعمال کیا اور ایک بڑے حصے کو ایندھن کے طور پر استعمال کیا البتہ خوش قسمتی سے قابل ذکر تعداد میں کچھ قدیم کتابیں ٹوٹی حالت میں بچ گئی تھیں۔

جن میں ان امراء اور بادشاہوں کے نام لکھے گئے ہیں جنہوں نے بدھا کے مجسموں کو پہاڑی چٹانوں پر بنوانے کے لیے چندہ دیا تھا۔

یونیورسٹی آف فریبرگ کے پروفیسر آسکر وان ہنبر اپنے ریسرچ پیپر بعنوان
The Saddharmapuˆ∂ar¥kasËtra at Gilgit
Manuscripts, Worshippers, and Artists
میں لکھتے ہیں کہ گلگت بلتستان میں پائے جانے والی چھٹی صدی عیسوی کی یہ تصاویر اور نقوش جو Rock Art پر مشتمل ہیں وہ مقامی افراد کے لیے اس لیے دلچسپی کا باعث نہیں بنیں چونکہ ان کو ان کی افادیت کا اندازہ نہیں تھا اور وہ ان نقوش کو صرف پریاں اور جن بھوت سمجھتے رہے اور ایک طویل عرصے تک کسی نے ڈر کے مارے ان پر ہاتھ تک نہیں لگایا۔ اس طرح یہ تصویریں خراب اور تباہ ہونے سے بچ گئیں البتہ گزشتہ چند سالوں میں گلگت بلتستان کے کچھ علاقوں میں واقع ان نایاب نقوش پر کلر پینٹنگ کر کے ان کو سخت نقصان پہنچایا گیا ہے۔

جرمن ماہر بشریات کارل جیٹمار کے مطابق، کانسیوں /پیتل پر بدھا کے مجسموں کی نقش کاری سے پتہ چلتا ہے کہ ”بلور شاہی کی فیاضی اور مذہبی جوش کی وجہ سے اس خطے میں موجود انسکرپشنز (inscriptions) اور دیگر سٹوپاز کو تیار گیا اور ان کی تیاری کے لیے چندہ دیا گیا تھا۔

بقول آسکر وان ہنبر گلگت کی وادیوں میں چین اور تبت کی جنگ کے بعد بدھا کے بہت سارے مجسمے تبت والے اپنے ساتھ تبت لے کر گئے تھے جو ایک ملینم کے بعد دوبارہ دنیا کے سامنے آرہے ہیں۔ گلگت بلتستان کی وادیوں میں چین اور تبت کے درمیان لڑی گئی اس جنگ کا ذکر Susan Whitfield نے اپنی تصنیف Life Along the Silk Road میں تفصیل سے کیا ہے۔ ان کے بقول” 745 صدی عیسوی میں چین اور تبت کے درمیان گلگت کی وادیوں میں لڑی گئی اس جنگ میں تبت کے 9000 ہزار اور چین کے 10000( دس ہزار ) فوجیوں نے ایک خونی جنگ لڑی جس میں تبت کو شکست ہوئی” ۔

تبت اور چین کی اس خونی جنگ کی وجہ سے بلور شاہی ریاست ٹوٹ گئی اور یہ علاقہ چھوٹی چھوٹی شاہی ریاستوں میں بٹ گئی۔

بلور اینڈ دردستان نامی کتاب میں کارل جیٹمار لکھتے ہیں کہ 4th صدی عیسوی کے دوران گلگت بلتستان میں بڑی تعداد میں بودھی خانقاہوں اور سٹوپاز کی تعمیر کی گئی اور آہستہ آہستہ گلگت بدھ مت کی ایک اہم نشست بن گیا تھا۔ اس وقت گلگت بلتستان کے بلور شاہی حکمران بدھ مت کے پیروکار تھے اور لوگ بھی بدھ مذہب کے ہی پیروکار تھے اسی دور میں گلگت بدھ مت اور بدھ بھکشوؤں کا ایک اہم مرکز بن گیا۔ گلگت نپورہ میں واقع گارگاہ بدھا کا مجسمہ، ہنزل کا سٹوپا، گلگت کی قدیم بدھ مت لائبریری سمیت سکردو کے قریب منتھل گاؤں بھی بدھی نقش و نگار کے لئے مشہور ہے اور یہ سیاحوں کے مشہور مقامات میں سے ایک ہے جہاں بیس شاگردوں کے چاروں طرف بدھ کا ایک بہت بڑا مجسمہ موجود ہے۔ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ شلالیھ دوسری اور تیسری صدی کے آس پاس نقش کشی کی گئی ہے۔ اس طرح گلگت بلتستان کے دیگر علاقوں میں بھی بدھ مت کے انمٹ نشانات اور باقیات موجود ہیں جو اس دلیل کی تصدیق کرتے ہیں کہ قدیم دور میں یہاں کے لوگ بدھ مت کے پیروکار تھے اسی دور میں گلگت بلتستان میں بدھ مت کو بہت فروغ ملا اور شاہی خاندان کے بادشاہوں شہزادیوں اور امرا نے چندہ دے کر پتھروں پر بدھا کی نقش کاری کروائی اور بدھا کے کانسی والے مجسمے بھی تیار کروائے تھے جن کا باقاعدہ زکر قدیم گلگت لائبریری سے ملنے والی کتابوں میں کیا گیا ہے۔

نپورہ سے جو مخطوطات ملے ان کو گلگت مینسکرپٹ کہا جاتا ہے ان میں بلور شاہی دور کےحکمرانوں کے نام بھی بیان کیے گئے ہیں۔ جن میں شری دیو شاہی سریندر وکرما دیتہ نندا اور ان کی اہلیہ سمی دیوی ,ٹریلوکا دیوی بھٹیریکا اور بلور شاہی وجے را دیتیا نندی کا ذکر ہے اور دیگر ان 16 افراد کے نام اور تصویریں درج ہیں جنہوں نے بدھا کے مجسمے بنوانے کے لیے چندہ دیا تھا۔

لیکن گلگت بلتستان کی قدیم تاریخ کے متعلق مقامی لوگوں کو معلومات نہ ہونے کے برابر ہے کیونکہ نوآبادیاتی دور میں یہاں کے عوام علم کی دولت سے محروم رکھا گیا تھا تاکہ ان پر آسانی سے حکومت کی جائے اس طرح گلگت بلتستان کی قدیم تاریخ طویل غلامی کے اندھیروں میں کھو گئی ہے چنانچہ مقامی لوگوں کی اکثریت کو یہ بھی نہیں معلوم ہے کہ سال 1931ء میں ایک چرواہے نے گلگت نپورہ میں واقع بدھ کے ایک اسٹوپا کے اندر سرکلر چیمبر میں لکڑی کے خانے میں قدیم کتابیں دریافت کی تھیں جنہیں گلگت مخطوطے کہا جاتا ہے۔ جو زندہ بچ جانے والی قدم ترین بدھ مت دور کی کتب ہیں۔ ان کتابوں کو عمارت کی منجمد ذیلی حصے میں رکھا گیا تھا جو بھوج (برچ) کے درخت کی چھال پر لکھے گئے تھے۔ اس لیے صدیوں تک زندہ رہے۔ ان نایاب کتب میں بدھ مت کی اہم کتاب ”لوٹس سوترا“ بھی شامل ہے جو قدیم دور کی گلگت لائبریری سے ملنے والی کتب میں شامل ہے جو انڈیا کی نیشنل اکائیوں دہلی میں محفوظ کیا گیا ہے۔
Known as the Saddharma Pundarika Sutra – or the teachings of the white lotus and sun – the sutra is the basis of the Tiantai and Nichiren schools of Buddhism.

جبکہ گلگت سے ملنے والی مخطوطات کا ایک حصہ شری نگر میں موجود تھے جن کا ایک حصہ چند دہائیاں قبل سیلابی طوفان نے تباہ کیا ہے جبکہ زیادہ تر مخطوطات یونیورسٹی آف بارکلے میں محفوظ کیا گیا ہے۔

Advertisements
julia rana solicitors

ان قدیم ترین مخطوطات کا نام گلگت کے نام پر رکھا گیا ہے جہاں انہیں دریافت کیا گیا تھا۔ ان مخطوطات سے بلور شاہی دور کے بادشاہوں اور ان کے مذہبی رسومات کے متعلق معلومات ملتی ہیں۔ بقول ڈاکٹر آسکر وان ہنبر عرب اور مسلم تاریخ میں اس ریاست کا نام پلولا شاہی/ بلور سلطنت کے طور پر درج کیا گیا ہے۔
سال 1938 ء میں ریاست کشمیر کی سرکار نے نپورہ گلگت میں جہاں یہ کتابیں ملی تھیں وہاں کھدائی کروائی جہاں سے باقی بچ جانے والی کتب کے جلدیں ملیں۔ ان کتب کے اندر خوبصورت پینٹگ کی گئی تصاویر بھی شامل ہیں۔
ہیرالڈ ہاپ مین کے مطابق گلگت بلتستان میں پچاس ہزار سے زیادہ چٹانوں کی نقاشی اور چھ ہزار شلالیھ درج کیے گئے ہیں اور مزید تلاش کے ساتھ تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
یونیسکو کے مطابق گلگت کے مخطوطات قدیم زندہ بچ جانے والی نسخوں میں شامل ہیں۔ یہ مخطوطات برصغیر میں بدھ کے مسودات کی واحد حوالے (کارپس) ہیں۔ گلگت کے مخطوطات میں تین بدھ مت کے مذاہب (مذہب کے سربراہوں کے مابین کانفرنس) کا حوالہ ہے۔
نپورہ سے تعلق رکھنے والے سنئیر قانون دان مظفر الدین ایڈوکیٹ کے بقول بدھا کا یہ مجسمہ گارگاہ میں نہیں بلکہ نپورہ کے حدود میں واقع ہے جہاں اس بدھا کے مجسمے کے علاوہ بدھ مت دور کے بہت سارے نشانات آج بھی موجود ہیں جن کا ذکر اوپر آیا ہے ۔
مظفر الدین کے بقول ایک روایت کے مطابق نپورہ کے ایک اور چٹان پر بدھا کا دوسرا مجسمہ بھی موجود تھا جس سے بہت سال قبل موضع بسین کے لئے پانی کا کوہل تعمیر کرتے وقت بارود سے دھماکا کرکے ضائع کیا گیا البتہ نپورہ میں بدھ مت دور کا ایک اسٹوپا آج بھی موجود ہے ۔
چنانچہ بدھا کے اس تاریخی مجسمے کے متعلق اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ یہ کوئی بدروح نہیں بلکہ یہ بدھا کا ایک تاریخی مجسمہ ہے جس سے ریاست بلور کے دور میں بنوایا گیا تھا جب یہاں بدھ تہذیب وتمدن اپنی عروج پر تھی لیکن گلگت بلتستان کے آخری بدھ مت حکمران شری بدت کی طرح بدھا کے مجسمے کو بھی بدروح اور آدم خور بنا کر پیش کرنے کا مقصد پرانے معاشرتی نظام کے خلاف لوگوں میں نفرت پیدا کرنا تھا تاکہ ماضی سے عوام کے تعلق کو توڑ کر نئے معاشرتی نظام کی توثیق اور قبولیت کے لئے راستہ ہموار کیا جاسکے؛؛
لہذا یہ کہنا درست ہے کہ گلگت میں واقع گارگاہ بدھا کا یہ مجسمہ نہ صرف ہمارے خطے کی قدیم تاریخ کا مظہر اور فن تعمیر کا ایک شاہکار ہے بلکہ گلگت بلتستان کی قدیم تاریخ کا ایک انمول نشان اور امن و محبت کی علامت ہے۔

  • merkit.pk
  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com
  • julia rana solicitors
  • julia rana solicitors london

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply