• صفحہ اول
  • /
  • گوشہ ہند
  • /
  • حضرت آدم و نوح ؑ کی طویل عمروں پر ملحدین کے سائنسی اعتراضات اور ان کا جواب ۔۔احید حسن

حضرت آدم و نوح ؑ کی طویل عمروں پر ملحدین کے سائنسی اعتراضات اور ان کا جواب ۔۔احید حسن

سائنسی تحقیقات کے مطابق انسانی عمر انسان کے جینیاتی مواد یا ڈی این اے پر منحصر ہے۔ اس مادے میں مضر جینیاتی تبدیلیاں یا منفی میو ٹیشن جتنی کم ہوں گی یہ مادہ اس قدر ماحولیاتی تبدیلیوں اور بڑھاپے کے اثرات سے آزاد رہے گا اور بڑھاپے کا عمل تاخیر سے واقع ہوگا اور عمر زیادہ ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ ماضی کے قدیم انسانوں کی جوانی کئی  کئی  سو سال چلتی تھی۔ مذہب کا یہ تصور سائنس کے مطابق عین ممکن ہے۔ لیکن جب اس مادے میں منفی تبدیلیاں بڑھ جاتی ہیں ،یہ مادہ ماحولیاتی اثرات اور دیگر تبدیلیوں کے خلاف کم مزاحمت کرتا ہے اور اس طرح بڑھاپے کا عمل جلد واقع ہوتا ہے اور انسان کی عمر بھی ساتھ ساتھ کم ہوجاتی ہے۔ شروع میں جب انسان اس زمیں پہ نیا آیا تھا اس کا جینیاتی مواد ان منفی تبدیلیوں یعنی میو ٹیشن سے آزاد تھا اور عمر زیادہ ہوتی تھی۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس میں ہونے والی میو ٹیشن سے بڑھاپے کا عمل تیز اور عمر کم ہوتی گئی۔
زمین کی فضا میں کائنات اور سورج سے آنے والی شعاعیں یا آئیونائزنگ ریڈی ایشن پائی جاتی ہیں جو کہ جینیاتی مادے یا ڈی این اے میں منفی تبدیلیاں یا میو ٹیشن پیدا کرتی ہیں اور وقت کے ساتھ ساتھ انسان کے ڈی این اے میں توڑ پھوڑ کا یہ عمل بڑھتا چلا گیا اور بڑھاپے کا عمل تیز اور عمر کم ہوتی گئی۔
سائنس دانوں کا خیال ہے کہ اگر چوہوں پر تجربات کرکے ان کو شعاعوں سے آزاد ماحول میں پروان چڑھایا جائے اور دوسرے چوہوں کو ریڈی ایشن والے ماحول میں پروان چڑھایا جائے تو وہ چاہے جو ریڈی ایشن سے آزاد ماحول میں پروان چڑھائے جائیں گے ان کی عمر زیادہ لمبی ہوگی کیونکہ ان کے جینیاتی مواد میں ان شعاعوں کے زیر اثر منفی تبدیلیاں یا میو ٹیشن کم ہوں گی اور بڑھاپے کا عمل سست اور عمر زیادہ ہوگی۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ماحولیاتی اثرات انسان کے بڑھاپے کے عمل کو آٹھ سے نو گنا تیز کردیتے ہیں اور سائنسدانوں کے مطابق   انسان کی عمر کا انحصار اس کے جینیاتی مواد یا ڈی این اے پہ بھی ہوتا ہے۔ ٹشو کلچر یا تجرباتی طور پہ پروان چڑھائے جانے والے انسانی سیلز یا خلیوں پر تحقیق سے ثابت ہوا کہ یہ خلیے پچاس بار تک تقسیم ہوکر دوسرے خلیے پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور اس کے بعد ان میں مزید تقسیم کی صلاحیت ختم ہوجاتی ہے اور یہ خلیے مر جاتے ہیں ۔ اس تقسیم کا انحصار جینیاتی مواد پہ ہوتا ہے اور جینیٹک پروگرامنگ کہتے ہیں ۔ شروع میں یہ جینیاتی ترمیم منفی تبدیلیوں سے آزاد تھا اور زیادہ عرصے تک سیلز تقسیم ہونے کی صلاحیت رکھتے تھے اور عمر زیادہ تھی لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اس میں کائناتی اور ماحولیاتی شعاعوں اور منفی عوامل کی وجہ سے منفی تبدیلیاں ہوئیں اور اس وجہ سے سیلز یا خلیوں میں تقسیم کی صلاحیت کم ہوگئ اور بڑھاپے کا عمل تیز اور عمر کم ہوتی گئی  اور  آج انسان کی زیادہ سے زیادہ عمر سائنس کے مطابق 120 سال ہے۔
مزید براں سائنس دانوں کا خیال ہے کہ عمر طویل ہونے کے خاص جین ہوتے ہیں جو مختلف انسانی آبادیوں کے اندر موجود ہوسکتے ہیں یہی وجہ ہے کہ کچھ انسانی نسلیں نسل در نسل بہت طویل عمر کی ہوتی ہیں جیسا کہ پاکستان کے علاقے ہنزہ کے لوگ جن کی عمر اکثر سو سال کے لگ بھگ ہوتی ہے  اگر یہ جین میو ٹیشن کے نتیجے میں ضائع ہوجائیں تو عمر کم ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ جینیٹک ڈرفٹ کا عمل کسی انسانی آبادی سے جین کے ضائع ہونے یا معدوم ہونے کی فریکوئنسی کا مشہور عامل ہے اور یہ تبدیلیاں ان انسانی نسلوں میں زیادہ واقع ہوتی ہیں جن کی آبادی کم ہو۔ اگر کسی ماں باپ کا صرف ایک بیٹا ہو اور ان ماں باپ میں کسی جین کی اے بی سی ڈی چار الیل ہوں تو ایک بیٹے میں زیادہ سے زیادہ صرف دو الیل جائیں گی اور باقی دو الیل اگلی نسل میں منتقل نہ ہونے کی وجہ سے ضائع ہوجائیں گی۔ اگر دو بچے ہوں تو ممکن ہے چار کی چار الیل یعنی جین کے حصے ان میں منتقل ہوں لیکن بہت امکان ہے کہ ایک نہ ایک ضائع ہوگی۔ بعد میں ان دو بچوں یا ایک بچے سے بڑھنے والی نسل خواہ جتنی بڑی ہو لیکن ضائع شدہ جین واپس آبادی میں کبھی نہیں آسکتے۔ اسی عمل کے ساتھ ساتھ جین میں آنے والی منفی تبدیلیوں کی وجہ سے یہ جین ناقص اور ضائع ہوتے گئے اور بعد کی آنے والی انسانی نسلوں کی عمر کم سے کم ہوتی گئی۔
وقت کے ساتھ ساتھ یہ کم عمری والے جین یا Lesser Longevity genes کچھ قدیم انسانی نسلوں جیسا کہ ہومو ایریکٹس اور نینڈر تھال میں رہ گئے اور اس کے بعد یہ کچھ جدید انسانی نسلوں کو منتقل ہوگئے۔ یہ بات یاد رکھیں کہ ارتقا والے جھوٹ بولتے ہیں کہ ہومو ایریکٹس اور نینڈر تھال حقیقی انسان نہیں تھے جب کہ ہم ثابت کر سکتے ہیں کہ یہ دونوں نسلیں حقیقی انسان تھیں اور ان پر میں چار مضمون بھی کچھ عرصہ قبل پوسٹ کی شکل میں دے چکا ہوں ۔ آہستہ آہستہ یہ جین جینیٹک ڈرفٹ کی وجہ سے جدید انسانی نسلوں سے غائب ہوگئے اور اج کی انسانی نسل میں صرف چار فیصد ڈی این اے نینڈر تھال کا ہے۔ ایک تخلیقی سائنسدان بیسلے کے مطابق ماضی کے قدیم انسانوں کی کچھ خاص جسمانی خدوخال کی وجہ میو ٹیشن کم ہونے کی وجہ سے ان کی عمر کا طویل ہونا بھی ہوسکتا ہے۔ اگر ایسا ہی ہے تو نینڈر تھال اور سب سے قدیم یورپی انسانوں کرومیگنن کے درمیان شکل یعنی مارفالوجی کا فرق ان کی عمروں میں فرق کی وجہ سے ہوسکتا ہے۔
انسان کی عمر پہ جینیاتی اثرات کا کتنا انحصار ہے،اس پہ مزید تحقیق جاری ہے۔
سورج کی شعاعیں یا منفی کائناتی اثرات کا اثر شروع کے انسانوں پہ تھا لیکن ہم سے کم کیوں کہ تب زمین مقناطیسی میدان طاقتور تھا،زمیں کا کرہ ہوائی  زیادہ کثیف تھا اور دوسری بات یہ کہ اگرچہ منفی تبدیلیاں آدم علیہ السلام کے زمین پہ اترنے کے فوری بعد شروع ہوچکی تھیں لیکن محض ایک نسل کے در ان کا اثر اتنا نہیں ہوتا کہ واضح ہو۔ جیسے جیسے یہ تبدیلیاں جینیاتی مادے میں بڑھتی چلی جاتی ہیں ویسے ویسے انسانی صحت اور عمر پہ ان کے منفی اثرات زیادہ سے زیادہ ہوتے جاتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ شروع میں عمریں زیادہ تھیں ۔ پھر آہستہ آہستہ کم ہوتی گئی۔
انسان کے جینیاتی مادے میں نسل در نسل اس زوال پذیری کو Genetic Entropy کہتے ہیں
۔ کچھ سائنسدانوں کے مطابق شروع میں زمین کا ماحول زندگی کے لیے زیادہ سازگار تھا،زمین کا مقناطیسی میدان یا میگنیٹک فیلڈ زیادہ طاقتور تھا،کرہ ہوائی یا ایٹما سفییر زیادہ کثیف یعنی Dense تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ یہی عوامل ہیں جن کی وجہ سے شروع میں انسانی عمر زیادہ تھی۔ مزید براں سائنسدانوں کاخیال ہے کہ انسان کے جینیاتی مادے کے کروموسوم میں ٹیلومییر پائے جاتے ہیں جو خلیے یا سیل کی ہر تقسیم کے ساتھ چھوٹے سے چھوٹے ہوتے چلے جاتے ہیں اور اس کی وجہ سے سیل یا خلیے اور فرد کی عمر نسل در نسل کم سے کم ہوتی جاتی ہے۔ ان عوامل اور جینیٹک انٹراپی یا نسل در انسانی جینیاتی زوال پذیری کی وجہ سے انسانی عمر نسل در نسل کم ہوتی چلی گئی۔
(For further reading, see Genetic Entropy & The Mystery of the Genome, JC Sanford PhD, Elim Publishing, 2005, pp. 148-149)
پہلی صدی عیسوی کا یہودی مورخ فلیویس جوزیفس اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ قدیم انسانوں کی عمریں چھ سو سال کے لگ بھگ بھی ہوتی تھیں ۔ وہ کہتا ہے کہ بربر،مصری تاریخ کے مصنفین یہاں تک کہ قدیم انسانی تہذیب کالدین۔ ۔ ۔ Chaldean۔ ۔ ۔ کی یادگاریں اکٹھے کرنے والا بیروسس،موکس،ہیرونومیس مصری اور وہ لوگ جنہوں نے قدیم تہذیب فونیشیا کی تواریخ مرتب کیں ،اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ ماضی میں انسانوں کی عمریں بہت لمبی ہوتی تھیں ۔ وہ کہتا ہے کہ ہیسیوڈ،ہیکاٹیس،ایفورس اور نکولس اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ قدیم انسانوں کی عمریں ایک ہزار سال سے زیادہ ہوتی تھیں ۔ (Antiquities, I:5:104-108)
مزید کچھ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ شروع میں زمین کی کشش ثقل یا گریویٹی کم تھی اور انسانی و حیوانی اجسام پہ اس کے منفی اثرات کم تھے لیکن  آج یہ پہلے سے زیادہ ہے۔ نتیجتاً  اس کے جسمانی اثرات بھی زیادہ ہیں ۔ مزید براں طوفان نوح کے بعد سوا اسی نوے افراد کے چند انسان زندہ بچے۔ سیلاب میں ہلاک ہونے والے انسانوں کا بہت سا متنوع جینیاتی مواد یا Heterozygosity جو کہ باقی انسانوں میں کم تھا ضائع ہوگیا،اس سے انسانی جینیاتی مادہ مزید زوال کا شکار ہوا کیوں کہ کئی مفید جین رکھنے والے افراد مر چکے تھے اور اس طرح جینیاتی زوال پذیری سے عمر میں کمی کا یہ سلسلہ اور بڑھ گیا۔
ارتقائی ماہرین یہ دعوی کرتے ہیں کہ پیدائش کے وقت انسان کی عمر کا اندازہ یا Life Expectancy At Birth Or LEVELS کانسی اور لوہےکے دور میں 26 سال تھی اور بعد میں یہ زیادہ ہوگئی ۔ اگرچہ 19 ویں صدی کے بعد خوراک و علاج کی اچھی سہولتوں کی وجہ سے انسان کی اوسط عمر میں کچھ اضافہ ہوا ہے لیکن ماضی کے انسانوں کے حوالے سے ارتقائی ماہرین کا دعوی سائنسی اور تاریخی دونوں طور پر غلط ہے۔
کچھ سائنسدانوں کا یہ بھی خیال ہے کہ طوفان نوح سے پہلے فضا میں آکسیجن کی مقدار آج سے زیادہ تھی اور یہ بات بھی ان کی عمدہ صحت اور لمبی عمر کی ذمہ دار تھی۔ لیکن آکسیجن کی حد سے زیادہ مقدار نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے۔
سائنس کے مطابق وہ جاندار جن کا استحالہ یا میٹابولزم تیز ہوتا ہے وہ کم عمر پاتے ہیں اور وہ جاندار جن کا میٹابولزم سست ہوتا ہے وہ زیادہ عمر پاتے ہیں ،یہی وجہ ہے کہ کچھ سائنسی تحقیقات کے مطابق وہ لوگ جو روزانہ کی بنیاد پہ مراقبہ یعنی Meditation کرتے ہیں ان کی عمر لمبی ہوتی ہے کیونکہ اس سے ان کا استحالہ یا میٹابولزم سست پڑ جاتا ہے اور اس سے پیدا ہونے والے نقصان دہ کیمیائی مرکبات یعنی آکسیجن فری ریڈیکل کم پیداہوتے ہیں ۔ یہی وہ سائنسی عمل ہے کہ ہندو اور بدھ بھکشو مراقبہ کے ذریعے اپنا میٹابولزم یا استحالہ کم کر کے کئی  کئی  دن اور ہفتے بغیر کھائے پیے گزار دیتے ہیں ۔
انسانی قد تو ویسے اب بھی وقت کے ساتھ ساتھ چھوٹا ہورہا ہے اور قد کی یہ تبدیلی محض چند نسلوں میں واضح نہیں ہوتی۔ ان تبدیلیوں کو واضح کرنے میں سینکڑوں ہزاروں سال لگتے ہیں ۔ جہاں تک بات ہے عمر کی تو وہ کم ہوتی رہی لیکن گزشتہ دو سو سال سے یہ جدید سائنسی ترقی،خوراک اور صحت کی عمدہ سہولیات کی وجہ سے پھر بڑھ رہی ہے لیکن سائنسدانوں کے مطابق اب انسان کی اوسط عمر کبھی بھی 120 سال سے زیادہ نہیں ہوسکے گی۔
قدیم انسانی عمروں کے طویل ہونے کا تذکرہ صرف تورات،انجیل اور قرآن شریف میں نہیں ہے بلکہ دنیا کے اکثر علاقوں کی تاریخ میں ایسے افراد کا تذکرہ ملتا ہے جو کئی  کئی  سو سال زندہ رہے۔ دنیا کے اکثر علاقوں میں پائے جانے والے ان واقعات نے تاریخ دانوں کو چکرا دیا ہے۔ اس کو نہ ماننے والے لوگ اس کو تاریخی ترجمے کی غلطی،غلط فہمی کہ کر اور دوسرے انداز سے جھٹلانے کی کوعشش کرتے ہیں لیکن کئی  مورخین کا خیال ہے کہ دنیا کے اکثر علاقوں میں انسانی عمروں کے اتنے طویل ہونے کا بیان محض ایک فرضی کہانی نہیں ،بلکہ حقائق سے بہت قریب تر ہے۔ کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ قدیم انسان ایک قمری مہینے کو ایک سال سمجھتے تھے۔ جب کہ یہ غلط ہے۔ اگر اسے سچ مان لیا جائے تو آدم علیہ السلام کی عمر محض 77 سال بنتی ہے،ان کے بیٹے شیث علیہ السلام کی پیدائش کے وقت آدم علیہ السلام کی عمر محض 11 سال بنتی ہے جب کہ یہ حقیقت سے بہت بعید ہے۔
سومر یعنی قدیم جنوبی عراق کی ترقی یافتہ سمیری تہذیب کے بادشاہوں کی چار ہزار سال پرانی تاریخ ظاہر کرتی ہے کہ ان کے بادشاہوں کی عمر وقت کے ساتھ ساتھ کم ہوتی گئی۔
حوالہ “Sumerian King List Puzzles Historians After More Than a Century of Research”
انسانی عمروں کے زیادہ ہونے کی تاریخ چین اور فارس کے لوگوں میں بھی پائی جاتی ہے۔ چین کے ایک آکو پنکچ سپیشلسٹ ڈاکٹر جوزف ہو پی ایچ ڈی۔ ۔ Joseph P. Hou, Ph.D.۔ ۔ ۔ اپنی کتاب Healthy Longevity Techniques میں لکھتا ہے “
چین کے میڈیکل ریکارڈ کے مطابق ایک چینی ڈاکٹر چین کی Qin dynasty کا ایک ڈاکٹر کوئی  وینزی تین سو سال زندہ رہا۔ ہان سلطنت کا گی یول۔ ۔ ۔ Gee Yule۔ ۔ ۔ 280 سال زندہ رہا۔ ایک اعلٰی حیثیت کا چینی درویشHui Zhao 290 سال زندہ رہا۔ Chinese Encyclopedia of Materia Medica کے مطابق ہی نینگسی 168 سال زندہ رہا۔ تاؤ مذہب کا ایک پیروکار لی کنگوان 250 سال زندہ رہا۔ “
ڈاکٹر ہو کے مطابق لمبی عمر کا انحصار نہ صرف اچھی خوراک بلکہ اچھی جسمانی اور ذہنی پروردگی پہ بھی ہے۔
دسویں صدی عیسوی میں فردوسی کی طرف سے لکھی گئی فارسی نظم شاہنامہ میں ایران کے ان بادشاہوں کا ذکر کیا گیا ہے جنہوں نے ایک ہزار سال تک حکومت کی اور پھر حکومت کا دورانیہ ان کی عمر میں کمی کے ساتھ کم ہوتا چلا گیا۔
آذر بائیجان سے تعلق رکھنے والی سشالی مسنلو 170 سال زندہ رہی اور خود اس کے اپنے مطابق اس نے 150 سال جسمانی مشقت کا کام کیا۔
چین کے Guan Chen Czi کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ 1400 سال زندہ رہا۔ یونانی مصنف لوسین کے مطابق سیرس نسل کے۔ لوگ 300 سال زندہ رہتے تھے۔
دنیا کے وہ افرد جو طویل عرصے تک زندہ رہے
ان کی فہرست https://en.m.wikipedia.org/wiki/Longevity_myths پر موجود ہے۔

اگرچہ ویکی پیدیا اسے محض ایک فرضی دعوہ قرار دیتا ہے لیکن سائنسی  اور تاریخی حقائق اس کی تصدیق کرتے ہیں جیسا کہ ہم نے اوپر بیان کیا۔

بشکریہ مضامین!

گوشہ ہند
گوشہ ہند
ہند کے اردو دان دوست آپ کیلیے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *