زرعی ملک میں گندم درآمد کیوں ہو رہی ہے؟/ڈاکٹر محمد شافع صابر

اڑتی اڑتی خبر سن لیجئے، حکومت نے روس سے 2.6 ملین ٹن گندم درآمد کرنے کی منظوری دیدی ہے۔ اب یہ بھاشن مت دیجیئے گا کہ سیلاب کی وجہ سے گندم کی پیداوار کم ہوئی، گندم کی درآمد کا سلسلہ پچھلی دو تین حکومتوں سے چلا آ رہا ہے۔
پاکستان میں گندم کی کمی کی بڑی وجہ کم پیداوار ہونا تو ہے ہی، بےہنگم آبادی کے پھیلاؤ کی وجہ سے مانگ میں اضافہ ہر گزرتے لمحے کیساتھ ہو رہا ہے، جبکہ ہماری مجموعی پیداوار اتنی ہی ہے جتنی آج سے دس بیس سال پہلے تھی ۔ ہماری تمام حکومتوں سے ایک غلطی ہوئی وہ تھی کسان کو سبسڈی نہ دینے کی، ہم نے زراعت کو جدید ٹیکنالوجی پر منتقل کرنے پر کوئی کام نہیں کیا۔2020 میں بھی کسان وہی 1980-90 کی دہائی والے طریقوں سے کشتاکاری کر رہا ہے۔
مسلسل مہنگائی میں کسان کی لاگت میں تو بے انتہا اضافہ ہوا ہے، لیکن اسکی آمدن اس حساب سے نہیں بڑھ رہی۔کسان محنت تو کرتا ہے، لیکن اسے معاوضے کے لیے سرمایہ کار کی طرف چکر لگانا پڑتے ہیں، جسکی وجہ سے کسان بددل ہوتا گیا۔ ایسے کئی واقعات رپورٹ ہوئے کہ شوگر ملز مالکان نے کسان کو حکومتی ریٹ سے کم ادائیگی کی اور وہ بھی بہت تاخیر سے کی۔ اس پر باقاعدہ حکومتی سطح پر تحقیقات بھی کروائی گئیں ۔
جو سب سے بڑی غلطی ہم سے ہوئی وہ زرعی زرخیز زمین پر ہاؤسنگ سوسائٹیز و کالونیوں کی بھرمار کر دی گئی، جہاں جہاں سے نیشنل ہائی وے/ موٹروے گزری، سرمایہ دار نے کسان کو اونے پونے دام دیکر زمین خرید کر کمرشل مارکیٹس اور ہاوسنگ سوسائٹیز بنا ڈالیں، حکومت و اپوزیشن کے لیڈران ان میں شیئر ہولڈر بن گئے ۔ فائدہ یہ ہوا کہ  دیکھتے ہی  دیکھتے کسانوں نے بھی مل بیٹھ کر زمینیں بیچنا شروع کر دیں۔ یوں زرعی زمینوں پر کمرشل مارکیٹس کی بھرمار کر دی گئیں۔
کچھ ہمارے پیارے اسلام آباد کے ہمسايہ کو پراپرٹی ڈیلنگ کا اتنا شوق تھا (اور ہے ) کہ اولیاء اللہ کے شہر میں نئی کالونی بنانی تھا، پتا نہیں کتنے سو ایکٹر آموں کے باغات اور زرعی اراضی تباہ کر کے اپنی فتح کا پرچم لہرا ڈالا۔ اوکاڑہ کے کسانوں نے تھوڑی مزاحمت دکھائی، تو انکا وہ حشر کیا گیا کہ خدا کی پناہ۔ کچھ ہمارے پیارے بحریہ ٹاؤن والے ہیں، جہاں زرعی اراضی و خالی رقبہ دیکھتے ہیں نیا ٹاؤن بنا ڈالتے ہیں، اگر کسان روئے تو خبر تک نہیں چلنے دیتے ۔ ابھی پرویز الہی کی حکومت نے صوبہ کی پولیس کے ذریعے زرعی زمین ایک ہاؤسنگ سوسائٹی کو دلوائی ہے۔
اب ہمارے دو مسلئے ہیں، ایک زرعی زمین کم ہوتی جا رہی ہے، دوسرا جو زمین بچی ہوئی ہے، وہ ہر گزرتے لمحے کیساتھ اپنی زرخیزی کھوتی چلی جا رہی ہے ۔ پوری دنیا میں زرعی اراضی کی زرخیزی برقرار رکھنے کے لیے جدید سائنسی تحقیق سے کاشت کاری کو فروغ دے رہی ہے، جبکہ وطن عزیز میں اس پر کوئی کام نہیں ہو رہا۔ کاشتکاری کو جدید ٹیکنالوجی پر منتقل کرنا تو دور کی بات ہے، ہم اپنی بچی کچھی زرعی اراضی کو بھی بنجر بنا رہے ہیں۔
دو جھوٹ جو مطالعہ پاکستان میں پڑھ پڑھ کر ہمارے کان پک چکے ہیں، ایک پاکستان زرعی ملک ہے، دوسرا یہ کہ دنیا کا جدید ترین نہری نظام پاکستان میں ہے ۔اگر پہلا جھوٹ سچ ہوتا تو آج ہم گندم درآمد نا کر رہے ہوتے، دوسرا سچ ہوتا تو ہم سیلاب سے نہ دوچار ہوتے ۔
باقی دنیا کسانوں کی ضرویات پوری کرنے کے لیے چھوٹے ڈیم بنا رہی ہے تاکہ کاشتکاری کے لیے قدرتی پانی کو محفوظ کر کے اسے کاشتکاری کے لیے استعمال کیا جا سکے۔ بارش کے پانی کو محفوظ کر کے اسے بھی کاشتکاری کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ ہمارے پڑوسی ملک نے، نہروں کے اوپر سولر پینل لگا دئیے ہیں، اسکے دو فائدے ہو رہے ہیں، ایک شمسی توانائی سے بجلی پیدا ہو رہی ہے، دوسرا نہری پانی بخارات کی شکل میں ضائع نہیں ہو پا رہا۔ کیا ہم نے اس بابت کوئی قدم اٹھایا؟؟ جواب نفی میں ہو گا۔ ہماری اجتماعی نکاسی کی اس سے بڑی مثال کیا ہو گی، اگر ہمارے ہاں معمول سے زیادہ بارشیں ہو جائیں، تو ہم اس پانی کو زخیرہ نہیں کر سکتے، یہ سارا پانی سمندر میں جا گرتا ہے، اور سیلاب کے بعد خشک سالی ہماری منتظر ہوتی ہے۔
ترقی یافتہ ممالک کسان کو ہر چیز پر سبسڈی دیتے ہیں، خواہ وہ کھاد ہو، زرعی آلات ہوں یا کم مارک اپ پر زرعی قرضے، ان سے کسان کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے، اور وہ ملکی معیشت میں اپنا بھرپور حصہ ڈالتا ہے ۔ وزیراعظم شہباز شریف نے کسان پیکج کا اعلان تو کیا ہے، کیا اس پر عمل درآمد ہو گا ؟؟ یہ سوال جواب طلب ہے۔
اس سارے مسئلے کا حل کیا ہے؟ ہمیں سب سے پہلے آبادی کو کنٹرول کرنا ہو گا۔ہر گزرتے لمحے کیساتھ آپکے وسائل ختم ہوتے جا رہے ہیں جبکہ مانگ میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔
زرعی اراضی پر ہاؤسنگ سوسائٹیز میں مکمل پابندی عائد کی جائے۔ حکومت قانون سازی کرے کہ کسی کو بھی زرعی زمین کو تباہ کر کے نئی ہاؤسنگ سوسائٹی بنانے کی اجازت نہیں ملے گی ۔
کسان کو فل سبسٹدی دی جائے۔ کسان کو آسان اقساط اور مارک اپ پر زرعی قرضے دیئے جانے چاہیے۔ کسان کو وقت پر معاوضے کی ادائیگی کا مربوط نظام وقت کی اشد ضرورت ہے ۔
اگر ہم نے یہ کام نا کیے، تو وہ دن دور نہیں، جب کسی ہاؤسنگ سوسائٹی میں بیٹھ کر ہم سب یہ سوچ رہے ہوں گے کہ اب ہم گندم کہاں سے کھائیں کیونکہ جو زمین گندم دیتی تھی وہاں اب کنکریٹ کی دیواریں ہمارا منہ چھڑا رہی ہیں ۔

  • julia rana solicitors
  • merkit.pk
  • julia rana solicitors london

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply