چھوٹے چھوٹے اعمال-بڑی تبدی/ محمد جنید اسماعیل

آپ کے چھوٹے چھوٹے اعمال بھی معاشرے میں بالعموم اور آپ کے گھر میں بالخصوص بڑی تبدیلی کا موجب بن سکتے ہیں ۔جس طرح قطرہ قطرہ قلزم ہوتا ہے اور ہر فرد ملت کے مقدر کا ستارا ہوتا ہے بالکل آپ کے چھوٹے چھوٹے خیر کے کاموں سے بھی معاشرے کی نَیا پار لگ سکتی ہے ۔
وہ اعمال کچھ بھی ہوسکتے ہیں ۔

ہوسکتا ہے کہ آپ کسی ادارے کو چلاتے ہوں ،وہاں موجود اگر درجہ چہارم کے لوگوں سے حُسنِ اخلاق سے پیش آئیں تو وہ اپنا کام زیادہ دلجمعی سے کرپائیں گے ۔میرا اپنا یہ مشاہدہ ہے کہ جس انسان کی عام ملازمین یعنی چوکیدار ،صفائی  والا اور سقا وغیرہ زیادہ عزت کرتے ہوں وہ ہمیشہ عزت پاتے ہیں ۔یہ عام ملازمین ہی دراصل کسی باس کو باس بناتے ہیں اور انہی کے توسط سے اُسے عزت نصیب ہوتی ہے ۔ہوسکتا ہے کہ آپ کسی تعلیمی ادارے میں بطور معلم اپنا کردار ادا کررہے ہوں ،ایسے میں وہاں زندگی سے مایوس کسی بچے کے کاندھے پر دی گئی  تھپکی ،اُس سے مسکراہٹ کا تبادلہ اُس کی پھیکی سی بے رنگ زندگی میں رنگ بھردے اور اُس کا یہ مثبت سفر کئی  گُل ہوچکے چراغوں میں روشنی بھردے ۔میرا یہ  مشاہدہ ہے کہ بچے کو بگاڑنے اور سنوارنے میں زیادہ تر حصہ اُستاد کا ہی ہوتا ہے ،اُستاد کا بول چال اور بچوں کو تکریم سے نوازنے کا عمل کئی  نالائق بچوں کو بھی بہترین کارکردگی دینے پر مجبور کردیتا ہے ۔اُستاد وہ ہے جو بچوں کو بس پڑھا نہ دے بلکہ پڑھنے پر مجبور کردے ،جو بچے کے اندر احساس ِ جُرم کی بجائے اعتماد جا چراغ جلادے ۔

اگر آپ گھر میں موجود ہیں، تو بچوں کو شفقت سے بُلاکر اُن کو ہنسا سکتے ہیں ،اُنہیں کوئی  چھوٹی موٹی کھانے کی چیز دے کر خوش کرسکتے ہیں ،بالفرض اگر جیب اجازت نہ بھی دے تب بھی آپ فقط بول چال میں رحمدلی کا مظاہرہ کرکے بچوں کا دل جیت سکتے ہیں ۔

Advertisements
julia rana solicitors london

بچے بے شک آپ کو ردِ عمل نہ دے سکیں لیکن وہ آپ کی حرکات وسکنات اور اُن کی طرف میلان دیکھ کر آپ کے مقام و مرتبے کا فیصلہ کرتے ہیں۔۔اسی طرح آپ کچھ کما کر گھر آئے ہیں یا آپ کو اپنی تنخواہ ملی ہے تو گھر میں بیوی یا والدین کے ہاتھ میں رکھ دیں ،امکان غالب یہی ہے کہ وہ آپ کو واپس کردیں گے یا کم ازکم اُن کی ذات پر خرچ نہیں ہوں گے لیکن اِس سے اُن کا مان بڑھے گا اور انہیں اپنی محنت ،تھکن اور خوابوں کا بوجھ ہلکا ہوتا محسوس ہوگا،آپ پر اُن کا اعتماد بھی بڑھے گا ۔۔ اگر آپ اپنی تنخواہ بیوی کے ہاتھ میں دیتے ہیں تو وہ گھر کے کاموں کی ساری تھکاوٹ بھول کر آپ پر صدقے واری جائے گی۔۔۔یہی حال ماں با پ کا بھی ہوتا ہے،وہ فقط آپ کے چند جملے سننے کو بے تاب بیٹھے ہوتے ہیں اور اولاد کے اس عمل سے اولاد پر اُن کے اعتماد میں اضافہ ہوتا ہے ۔یہی چھوٹے چھوٹے کام پہلے انفرادی سطح پر اپنا اثر دکھاتے ہیں اور پھر اجتماعی سطح پر بھی۔

  • merkit.pk
  • julia rana solicitors
  • julia rana solicitors london

محمد جنید اسماعیل
میں محمد جنید اسماعیل یونی ورسٹی میں انگلش لٹریچر میں ماسٹر کر رہا ہوں اور مختلف ویب سائٹس اور اخبارات میں کالم اور آرٹیکل لکھ رہا ہوں۔اس کے علاوہ وزیر اعلیٰ پنجاب کے ٹیلنٹ مقابلہ جات میں افسانہ نویسی میں پہلی پوزیشن بھی حاصل کرچکا ہوں،یونیورسٹی کی سطح تک مضمون نویسی کے مقابلہ جات میں تین بار پہلی پوزیشن حاصل کرچکا ہوں۔مستقبل میں سی ایس ایس کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں ۔میرے دلچسپی کے موضوعات میں کرنٹ افیئرز ،سیاسی اور فلاسفی سے متعلق مباحث ہیں۔اس کے علاوہ سماجی معاملات پر چند افسانچے بھی لکھ چکا ہوں اور لکھنے کا ارادہ بھی رکھتا ہوں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply