خواجہ سرا کیوں قتل کیے جاتے ہیں؟/ثاقب لقمان قریشی

سوشل میڈیا کا سب سے زیادہ فائدہ معذور افراد اور خواجہ سرا کمیونٹی کو پہنچا ہے۔ سوشل میڈیا سے پہلے ہمارے پاس کوئی ایسا پلیٹ فارم موجود نہیں تھا جہاں ہم اپنے مسائل پر بات کر سکیں۔ اپنے جیسے دوسرے لوگوں سے دوستی کرسکیں۔ معذور افراد اور خواجہ سراؤں  کے حقوق کے سلسلے میں آج جتنی بھی آگہی پائی جاتی ہے سب سوشل میڈیا کی وجہ سے ہی ممکن ہوسکی ہے۔

دو سال قبل جب میں نے خواجہ سراؤں کے سوشل میڈیا گروپس کو جوائن کیا۔ یہ گروپ تو موجود تھے لیکن ان میں نہ تو بحث ہوتی تھی اور نہ کوئی خاص ایکٹیوٹی تھی۔ میں نے ان گروپس میں بحث چھیڑ کر انھیں چلانے کی کوشش کی۔ مجھے کسی حد تک کامیابی تو ملی لیکن ابھی یہ نہ ہونے کے برابر ہے۔

2022ء کا سال خواجہ سراء کمیونٹی پر عذاب بن کر نازل ہوا ہے۔ قتل اور مارپیٹ کے واقعات میں اضافہ ہوا۔ حیران کن بات یہ ہے کہ تشدد کے واقعات میں اضافہ صرف خیبر پختون خوا  میں ہوا۔ چند روز قبل مجھے مانسہرہ سے تعلق رکھنے والی خواجہ سرا  لیڈر نے اخبارات کے کچھ تراشے بھیجے جن میں پولیس کلین خواجہ سرا کے نام سے کچھ علاقوں میں آپریشن کر رہی ہے۔ تشدد کے واقعات میں اضافے پر پی ٹی آئی کی حکومت کی خاموشی حیران کن ہے۔

تشدد اور قتل کے ہر واقعے پر میں ملک کے مختلف شہروں سے تعلق رکھنے والے خواجہ سراؤں سے سوال کرتا ہوں کہ اسکی وجہ کیا ہے۔ سب کا جواب ایک ہی ہوتا ہے کہ خواجہ سرا  جب کسی مرد سے دوستی کر لیتا ہے تو وہ اس پر خوب پیسہ لٹاتا ہے۔ جب وہ اس خواجہ سرا  کو کسی دوسرے مرد کے ساتھ دیکھتا ہے تو یا تو تشدد کرتا ہے یا پھر گولی مار دیتا ہے۔

میں خواجہ سراؤں کے اس موقف کی تائید کرتا ہوں لیکن میری تحقیق کے مطابق قتل کے تمام واقعات صرف دوستی بدلنے کی وجہ سے نہیں ہوتے۔ معذور افراد، بصارت اور سماعت سے محروم افراد اور خواجہ سراؤں سے لیے گئے انٹرویوز کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ ان سے بہترین دوست کوئی ہو ہی نہیں سکتا۔ محروم طبقات کے گروپس میں مجھے سب سے زیادہ بہترین دوست خواجہ سرا  لگے۔ شائد اسکی وجہ یہ ہے کہ انھیں قدرت کے دیئے گئے تمام رشتوں سے محروم کر دیا جاتا ہے۔

چند ماہ قبل میں نے ایک خواجہ سرا  سے غلطی سے کہہ  دیا کہ میری ویل چیئر کی حالت خستہ ہے نئی ویل چیئر بہت مہنگی آ رہی ہیں۔ اسکے بعد خواجہ سرا  لیڈرز میرے پیچھے پڑ گئے کہ ویل چیئر کی تصویر اور گھر کا ایڈریس بھیج دیں۔ بڑی مشکل سے انھیں سمجھایا کہ میں اپنے مسائل خود حل کرنے کا عادی ہوں۔ پیسے ہوئے تو خریدونگا ورنہ نہیں۔

کراچی کے پوش علاقے میں رہنے والی اعلیٰ  تعلیم یافتہ خواجہ سرا  نے ہمیں بتایا کہ کچھ عرصہ قبل لڑائی کے ایک کیس میں وہ اپنی دوست کی مدد کیلئے تھانے گئیں۔ ایک نوجوان لڑکا بھی انکی مدد کیلئے وہاں آگیا۔ نوجوان سے موبائل نمبروں کا تبادلہ ہوا۔ پھر اس نے خواجہ سرا  کے گھر آنا جانا شروع کر دیا۔ خواجہ سرا  نوجوان کے اعلیٰ  اخلاق سے بہت متاثر ہوئی۔ اس نے نوجوان کو مشورہ دیا کہ وکالت کی ڈگری کرکے اسکی این جی او جوائن کر لے۔ خواجہ سرا  لڑکے کو چھوٹے بھائیوں کی طرح پیار کرنے لگی۔

کچھ دن بعد لڑکا خواجہ سرا  کو میسج کرتا ہے کہ میں تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔ شادی کے بعد ہم کراچی شہر چھوڑ دیں گے۔ میں نوکری کرونگا تم گھر سنبھالنا۔ خواجہ سرا  کے بہت سمجھانے کے باوجود وہ نہ مانا۔ وہ خواجہ سرا  کو دیکھتے ہی رونے لگتا اور غصے سے کانپنے لگتا۔ خواجہ سرا  کو اسکی جذباتی حالت سے خوف آنے لگا۔ خواجہ سرا  کو ڈر لگنے لگا کہ کہیں لڑکا اسے نقصان ہی نہ پہنچا دے۔ پھر ایک دن خواجہ سرا اپنے وکیل کے ساتھ لڑکے کے گھر گئی۔ اسکے خاندان والوں کو صورتحال سے آگاہ کیا۔ گھر والوں نے سمجھا بھجا کر اسے ملک سے باہر بھیج دیا تب جاکر معاملہ ٹھنڈا ہوا۔ خواجہ سرا  کہتی ہیں کہ اگر یہ واقعہ پنجاب یا خیبر پختون خوا  میں ہوتا تو شائد اسے قتل کر دیا جاتا کیونکہ دونوں صوبوں میں خواجہ سراؤں کو شائد انسان تسلیم نہیں کیا جاتا۔

بڑی عید سے چند روز قبل کراچی کے پوش علاقے میں رہنے والی پڑھی لکھی خواجہ سرا  گھر جانے کی تیاری میں مصروف تھی۔ اچانک بجلی چلی گئی۔ کچھ دیر بعد خواجہ سرا کو پتہ چلا کہ بلڈنگ کے باقی گھروں میں لائٹ آگئی ہے لیکن اس کے فلیٹ کی لائٹ نہیں آئی۔ وہ مدد کیلئے نیچے آئی۔ ایک فلیٹ کا دروازہ بجایا ادھیڑ عمر کے شخص نے دروازہ کھولا۔ خواجہ سرا  نے کہا کہ اسکے فلیٹ میں لائٹ نہیں ہے۔ مارکیٹ سے الیکٹریشن کو بلا دیں۔ باتوں کے دوران خواجہ سرا  نے فلیٹ کے اندر نظر دوڑائی تو دیکھا کہ اندر اس آدمی کے دوست شراب پی رہے ہیں۔ آدمی نے خواجہ سرا  کو فلیٹ کے اندر آنے کا کہا اور سیکس کی پیشکش کی۔ وہ خواجہ سرا  کی طرف لپکا۔ خواجہ سرا پھرتی سے بھاگ کھڑی ہوئی۔ ہراسانی کے اس بدترین عمل میں اگر خواجہ سرا  آدمی کے ہاتھ لگ جاتی تو عزت اور جان دونوں میں سے کسی ایک چیز نے جانا تھا۔

خواجہ سراؤں کو کن وجوہات کی بنا پر قتل کیا جاتا ہے یہ جاننے کیلئے میں نے نشاء رائے کو کال کی۔ نشاء وطن عزیز کی پہلی خواجہ سرا  وکیل ہیں۔ جنوری 2023ء میں نشاء کا ایل-ایل-ایم مکمل ہونے والا ہے۔ جس کے بعد نشاء بیرسٹر بننا چاہتی ہیں۔

نشاء کہتی ہیں کہ بہت سے کیسز میں خواجہ سراؤں کے گھر والے غیرت کے نام پر یا دوسرے بچوں کے مستقبل کے ڈر سے خواجہ سرا  کو قتل کر دیتے ہیں۔قانون، جائیداد میں خواجہ سراء کو برابر کا حصہ دیتا ہے۔ خواجہ سراء کا جائیداد میں حصہ ہڑپ کرنے کیلئے بھائی خواجہ سراؤں کے خون کے پیاسے ہو جاتے ہیں۔

سیکس ورک کے دوران اکثر لوگ نشے میں ہوتے ہیں۔ نشے کی حالت میں خواجہ سرا پر تشدد بھی کرتے ہیں اور بعض اوقات گلا تک دبا دیتے ہیں۔کسٹمر کی مرضی کا سیکس نہ کرنے پر لوگ مشتعل ہوکر خواجہ سرا  کو مارتے ہیں مارپیٹ کے دوران گولی بھی چل جاتی ہے۔

قتل کے اکثر مقدمات میں سیکس کے بعد خواجہ سرا  کو یا تو پیسے نہیں دیئے جاتے یا پھر کم دیئے جاتے ہیں جسکی وجہ سے وہ شور کرتی ہے اور بات بڑھ جاتی ہے۔نجی محفلوں میں ڈانس کے دوران اوباش نوجوان خواجہ سراؤں کو اٹھا کر لے جاتے ہیں۔ جنسی زیادتی کا نشانہ بناتے ہیں۔ زور اور زبردستی کے دوران خواجہ سراؤں کو مار بھی دیتے ہیں۔

خواجہ سرا  ،پیسہ، زیور گھر ہی میں رکھتے ہیں۔ جسکی وجہ سے پولیس والے اور ڈکیتوں کی نظریں ان پر رہتی ہیں ۔ ڈکیتی کے دوران خواجہ سراؤں کی مزاحمت کرنے پر گولی چل جاتی ہے۔
بعض کیسز میں چیلہ  مجرموں کے ساتھ مل کر پیسے والے گرو کو قتل کروا دیتا ہے۔ اسی طرح پیسے والے چیلوں کو گرو بھی قتل کرواتے دیکھے گئے ہیں۔

Advertisements
julia rana solicitors

تشدد اور قتل کی تمام وجوہات قابل مذمت ہیں۔ نفرت آگ کی مانند ہوتی ہے۔ جس پر قابو نہ پایا جائے تو یہ پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ وطن عزیز میں شدت پسندی پر قابو پانے کیلئے سب سے پہلے خواجہ سرا  کمیونٹی اور اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرنا ہوگا۔

  • julia rana solicitors
  • merkit.pk
  • julia rana solicitors london

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply