صدف نعیم کی دیت کون ادا کرے گا؟/محمد مشتاق

چند روز قبل  پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کی کوریج کے دوران میں ایک خاتون صحافی صدف نعیم کی موت واقع ہوگئی۔ موت کا سبب کیا بنا؟ اس کے متعلق متضاد آراء  ہیں۔ کیا ایک کنٹینر سے دوسرے میں جاتے ہوئے گر پڑیں، کیا گارڈز نے دھکا دیا، کیا گاڑی کے نیچے کچلی گئیں، کیا ان کی اپنی غلطی تھی یا کسی اور کی، یا سب کی مشترک؟

وفاقی حکومت کی جانب سے صدف نعیم کے خاندان کی “امداد” کا اعلان کیا گیا ہے۔ اسی طرح کا اعلان صوبائی حکومت کی جانب سے بھی کیا گیا ہے۔ لیکن کوئی یہ نہیں پوچھ رہا کہ کیا حکمران یہ امداد اپنی ذاتی جیب سے ادا کررہے  ہیں یا عوام سے حاصل کیے گئے ٹیکس کی رقم سے؟ اگر یہ ٹیکس ہی کی رقم ہے، اور ظاہر ہے کہ ایسا ہی ہے، تو سوال یہ ہے کہ عوام یہ ذمہ داری کیوں اٹھائیں؟

یہ سوال بھی پوچھا جارہا ہے، اور یقیناً پوچھا جانا چاہیے کہ جس ادارے نے اس خاتون کو اس طرح اپنی جان خطرے میں ڈال کر خبر لانے کی ذمہ داری دی تھی، اس ادارے پر اب اس خاتون کےلیے کیا کچھ کرنا لازم ہے؟ اور اپنے ادارے سے وابستہ دیگر افراد کو آئندہ ایسے حادثات سے بچانے کےلیے اس پر کون سے اقدامات اٹھانے لازم ہیں۔

اور بھی کئی سوالات ہیں، لیکن جس سوال پر بحث ہی نہیں ہورہی ہے وہ یہ ہے کہ کیا اسلامی جمہوریۂ پاکستان میں اسلامی قانون کی رو سے ایسی صورت میں مرنے والی خاتون کے خاندان کو “امداد” دی جاتی ہے یا اس کو “دیت” ادا کی جاتی ہے؟ اور اگر دیت ادا کرنا لازم ہے تو یہ ذمہ داری کس پرعائد ہوتی ہے؟

پاکستان میں دیت کے قانون کو عموماً دو زاویوں سے تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ یا تو شاہ رخ جتوئی جیسے طاقتور جب حکومت اور استغاثے کی مدد سے سزا سے چھوٹ جائیں، تو ملبہ دیت کے قانون اور مقتول کے مظلوم اور مجبور ورثا پر ڈال دیا جاتا ہے؛ یا اگر کوئی شخص دیت کی قیمت ادا نہ کرسکنے کی بنا پر جیل میں قید ہو، تو اس کی مظلومیت کےلیے ذمہ دار دیت کے تصور کو قرار دیا جاتا ہے۔ البتہ دیت کا ذکر وہاں ہر گز نہیں کیا جاتا جہاں اس کی وجہ سے کسی مظلوم کو مدد ملتی ہے اور اس کی وجہ سے ظالم کو ایسا سبق ملتا ہے کہ وہ آئندہ ایسے ظلم کا ارتکاب کرتے ہوئے دس دفعہ سوچے گا۔ مثلاً سانحۂ بلدیہ کراچی کو ہی لے لیجیے۔ فیکٹری میں آگ لگ گئی، ڈھائی سو مزدور اس میں جل کر مر گئے۔ حکومتِ سندھ نے “معاوضے” کا اعلان کیا، کراچی الیکٹرک نے بجلی کے بل میں معافی دے دی، اللہ اللہ خیر سلا! کسی کو یہ کہنے کی توفیق نہ ہوئی کہ ان ڈھائی سو مزدوروں کی دیت ادا کرنا فیکٹری مالکان پر لازم ہے۔ اور کیا آپ کو معلوم ہے کہ فیکٹری حادثات کی صورت میں مزدوروں کو ہونے والے نقصان کی تلافی کےلیے پاکستان میں سو سال پہلے انگریزوں کے دیے ہوئے قانون Workmen Compensation Act کا اطلاق ہوتا ہے جس میں آخری ترمیم 9 سال قبل 2013ء میں ہوئی تھی اور اس کی رو سے ایسے حادثے میں مر جانے والے مزدور کے خاندان کو 4 لاکھ روپے معاوضہ ادا کیا جاتا ہے۔

اس کے برعکس اگر اس حادثے پر دیت کے قانون کا اطلاق کیا جائے، اور شریعت کی رو سے ایسا ہی ہونا چاہیے، تو اس سال پاکستان میں دیت کی قیمت 43 لاکھ 18 ہزار 524 روپے ہے۔ کہاں 4 لاکھ کا معاوضہ اور کہا 43 لاکھ سے زائد کی دیت! اگر ڈھائی سو افراد کی دیت ادا کردی جاتی، تو شاید اس کے نتیجے میں دیگر فیکٹری مالکان مزدوروں کے  تحفظ، ان کی  صحت کے دیکھ بھال، ان کے تکافل یا انشورنس کی طرف توجہ کرتے۔ ہاں، اگر کوئی یہ سوال کرے کہ اتنی زیادہ دیت فیکٹری مالکان کہاں سے ادا کرتے، تو دو باتیں نوٹ کریں: ایک یہ کہ اگر فیکٹری مالکان کو معلوم ہوتا کہ حادثے کی صورت میں ان پر کتنی بھاری رقم عائد ہونی ہے، تو وہ حادثے کی روک تھام کےلیے پہلے ہی سے بندوبست کرتے۔ دوسری بات یہ ہے کہ اگر وہ ادا نہ کرسکتے، تو دیگر مسلمانوں پر ان کی مدد لازم ہوتی، اور دیگر مسلمانوں کو ان کی “عاقلہ” کی حیثیت حاصل ہوجاتی، اور حکومت کو عوام کے نمائندے کی حیثیت سے اختیار حاصل ہوجاتا کہ وہ ان فیکٹری مالکان کی مدد کےلیے سرکاری خزانے سے رقم ادا کرتی۔

جی، عاقلہ کا تصور!
یہ وہ تصور ہے جو شریعت کی رو سے دیت کے ساتھ جڑا ہوا ہے لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں دیت کے قانون میں دیت کو عاقلہ سے الگ کردیا گیا ہے اور یہاں دیت فرد پر عائد کی جاتی ہے کیونکہ یہاں کے قانون میں عاقلہ سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔ عاقلہ سے مراد وہ لوگ ہیں جن کی وجہ سے کسی فرد کو قوت حاصل ہوتی ہے، جن کی قوت اور مدد کی موجودگی کا خیال ہی اسے غفلت، سستی یا غلطی کی طرف لے جاتا ہے، جو اسے سزا اور نقصان سے بچانے کےلیے موجود رہتے ہیں اور جو اس کی موت کی صورت میں اس کی دولت کے وارث بھی بنتے ہیں۔ ہمارے ہاں دیت کا قانون بناتے وقت کہا گیا کہ عاقلہ ہمارے معاشرے میں موجود ہی نہیں ہے۔ یہ بات بداہتاً غلط ہے۔ مثلاً دیکھیے کہ اگر کسی وکیل سے کوئی غلطی سرزد ہوجائے، تو کیسے پوری بار ایسوسی ایشن اس کے ساتھ کھڑی ہوجاتی ہے؟ کسی سیاسی پارٹی کے کسی لیڈر سے غلطی ہوجائے، تو کیسے پوری پارٹی اس کے دفاع پر لگ جاتی ہے؟ کسی تاجر کو ہاتھ لگانے کا سوچیں،تو کیسے پوری تاجر برادری معیشت کا پہیہ جام کردیتی ہے؟ کسی فوجی کی غلطی کے بارےمیں تو سوچیں بھی مت، ورنہ “سُپہ سالار” سے لے کر آخری سپاہی تک سارے ادارے کے وقار کی حفاظت کےلیے اٹھ کھڑے ہوں گے۔ عاقلہ اور کسے کہتے ہیں؟

عاقلہ کا تصور بہت اہم ہے اور اگر ہم نے اسے اپنے قانون میں جگہ دے دی، تو اس کے بہت دور رس اثرات ہوں گے۔ مثلاً کوئی قیدی جیل میں صرف اس وجہ سے پڑا ہوا ہے کہ وہ دیت کی قیمت ادا کرنے سے قاصر ہے، تو لاہور ہائی کورٹ کے سنگل بنچ (جسٹس آصف سعید کھوسہ) نے 2002ء میں عابد حسین کیس میں کہا تھا کہ ریاست کو جدید دور میں عاقلہ کی حیثیت حاصل ہے اور اس وجہ سے ایسے قیدی کی جانب سے دیت ادا کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ انھوں نے پاکستان بیت المال کو اس کی جانب سے دیت کی ادائیگی کا حکم دے دیا تھا۔ اس فیصلے کے خلاف پنجاب حکومت اپیل میں سپریم کورٹ گئی، تو 2007ء میں چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں پانچ رکنی بنچ نے اس حکم کو منسوخ کردیا اور ایسے قیدیوں کی مدد کےلیے “فنڈ” قائم کرنے کا حکم دیا جس سے ان کو نرم شرائط پر (یعنی کم شرحِ سود پر) قرضے دیے جاسکیں۔ حکومت نے یہ فنڈ قائم کر تو دیا لیکن اس کے قواعد میں لکھ دیا کہ اگر بعد میں یہ بندہ قرض (مع سود) ادا نہ کرسکے، تو اسے پھر سے قید کیا جائے گا!

2020ء میں جیل میں اسی طرح کے ایک قیدی کی درخواست کی سماعت کرتے ہوئے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دو رکنی بنچ نے اس مسئلے کا نوٹس لیا اور سوال قائم کیا کہ کیا اس شخص کو اس کی غربت کی سزا دی جارہی ہے؟ اس سوال کے جواب میں انھوں نے حکومت سے بھی جواب طلب کیا اور پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین اور مجھے عدالت کی معاونت کی ذمہ داری سونپی۔ عدالتی معاون، amicus curiae، کی حیثیت سے میں نے تفصیل سے اس پر اپنا موقف لکھا اور عدالت میں جمع کروایا۔ تاہم چیف جسٹس ثاقب نثار نے اس کیس کی سماعت کےلیے جو بنچ تشکیل دیا، اس میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو شامل نہیں کیا۔ اس نئے تین رکنی بنچ نے ایک دفعہ کیس کی مختصر سماعت کی اور ہمیں سنے بغیر سماعت ملتوی کردی۔ اگلی دفعہ ایک اور تین رکنی بنچ نے اس کی سماعت شروع کی، تو معلوم ہوا کہ اس دوران میں وہ قیدی رہا ہوچکا ہے جس کی درخواست پر یہ سوال اٹھا تھا۔ چنانچہ عدالت نے اس سوال کا جواب دیے بغیر کیس نمٹا دیا۔ یہ سوال اب بھی باقی ہے!

اب آئیے صدف نعیم کی حادثاتی موت کی طرف۔ ہم مان لیتے ہیں کہ یہ حادثہ تھا۔ یہ بھی مان لیتے ہیں کہ اس حادثے میں خود مرنے والی خاتون کی غلطی بھی شامل تھی۔ یہ بھی مان لیتے ہیں کہ کنٹینر پر موجود گارڈ اور ڈرائیور نے اپنی ذمہ داری ادا کی، اور ان کو قتلِ عمد کےلیے ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جاسکتا، لیکن اس سب کچھ کے باوجود اس صورت میں دیت کا ادا کرنا لازم ہے۔ باقی رہا یہ سوال کہ دیت ادا کون کرے گا، تو اس کےلیے دیکھنا ہوتاہے کہ جہاں موت واقع ہوئی، وہ جگہ، وہ مقام کس کے کنٹرول میں تھا؟ وہاں عام لوگوں کی حفاظت کی ذمہ داری کس پر تھی؟ کیا کسی معین شخص، جیسے مثلاً گارڈ یا ڈرائیور، کو ذمہ دار قرار دیا جاسکتا ہے یا نہیں؟ اگر ہاں، تو پھر اس شخص کی عاقلہ پر اس خاتون کےلیے دیت ادا کرنے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے؛ اگر نہیں، تو پھر اس علاقے پر جس گروہ کا کنٹرول ہو، اس پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے؛ اور اگر کسی کو ذمہ دار نہ ٹھہرایا جاسکتا ہو، تو پھر حکومت پر ذمہ داری عائدہوتی ہے، یا بہ الفاظِ دیگر پوری قوم اس کوتاہی کےلیے ذمہ دار ٹھہرتی ہے اور اور اس وجہ سے قوم کے ٹیکس کی رقم سے یہ دیت ادا کرنی پڑتی ہے۔ بالکل ایسے ہی جیسے مسجد، یا شاہراہ، یا بازار میں بھگدڑ کی صورت میں کسی کی موت واقع ہو اور اس کےلیے ذمہ دار کسی مخصوص شخص کا تعین نہ کیا جاسکتا ہو، تو اس صورت میں دیت ادا کرنے کی ذمہ داری پوری قوم پر عائد ہوتی ہے۔

دیت، جی ہاں۔ دیت۔ نہ کہ امداد۔ اس سوال پر بھی سوچیے کہ ہماری حکومتیں، ہمارا میڈیا، ہمارے لکھاری ایسے مواقع پر، جب کسی مظلوم کو ہونے والے نقصان کی کسی حد تک تلافی ہوتی ہے، دیت کا نام کیوں نہیں لیتے؟ ہاں، جہاں کسی ظالم کو سزا سے چھوٹ جانے کی بات ہو، تو ہرکوئی دیت دیت بولنے لگتا ہے!

Advertisements
julia rana solicitors

دیکھیے! شریعت نے کس خوبی سے لوگوں کے حقوق میں توازن قائم کیا ہے۔ گارڈ یا ڈرائیور اگر اپنی ذمہ داری ادا کررہا تھا، تو اس کو قتل عمد کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جاسکتا لیکن خاتون کا خون کیوں رائیگاں جائے؟ پھر خاتون کی دیت کی قیمت چونکہ بہت زیادہ ہے، تو اس کے ادا کرنے میں شریعت نے عاقلہ کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے، پھر اگر عاقلہ بھی نہ ہو، یا وہ بھی دیت ادا نہ کرسکے، یا سرے سے معلوم ہی نہ ہورہا ہو کہ کس کو ذمہ دار ٹھہرائیں، تب پوری قوم اس کی ذمہ داری بنتی ہے۔ پوری قوم، کیونکہ کسی انسان کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔ یہ شریعت کا بنیادی ترین اصول ہے۔
آخری بات یہ ہے کہ اگر دیت کی ذمہ داری حکومت پر ہے، تو وہ صرف دیت ہی ادا کرسکتی ہے۔ اس سے آگے “امداد” کےلیے رقم دینی ہو، تو وہ حکمران اپنی ذاتی جیب سے ادا کریں اور اس کا بوجھ غریب عوام پر نہ ڈالیں۔

  • julia rana solicitors london
  • merkit.pk
  • julia rana solicitors

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply