کیا قائد اعظم کو جناح کہہ کر پکارنا غداری ہے؟ ایک مغالطہ

جب بھی کوئی لکھنے والے مین فریم میں تحریر لکھتے ہیں تو وہ اپنی تحریر کبھی بھی اُس لقب سے اُس شخصیت کو نہیں لکھتے، جو لقب لوگوں نے عزت اور احتراماً ان کو دیا ہوتا ہے۔ ہمیشہ اس کے اصل نام سے لکھتے ہیں۔ دنیا چونکہ انگریزوں سے متاثر ہے اس لیے ہمیشہ کسی بھی شخصیت کا آخری نام لکھا جاتا ہے۔ اسی طرح کسی بھی قسم کی قانونی دستاویز کی صورت میں بھی پہلے “سر نیم”لکھا جاتا ہے۔ جیسے شناختی کارڈ، پاسپورٹ ، ایئر ٹکٹ یا داخلے کا فارم وغیرہ۔
اب آئیے دیکھتے ہیں دنیا کی دوسری قومیں اپنے عظیم لیڈروں کو کیسے پکارتی ہیں۔ انڈین یا عام عوام موہن داس کرم چند گاندھی کو احتراماً باپو کہتے ہیں۔ ترکش مصطفےکمال کو اتاترک ، امریکی جارج واشنگنٹن کو بھی امریکی قوم کا باپ کہتے ہیں۔ اسی طرح چائنیز بھی ماؤ کو کیمونسٹ ریوولوشن کا باپ کہتے ہیں۔ برٹش ایک سروے کے مطابق سر ونسٹن چرچل کو اپنا ہیرو اور برطانیہ کی تین علامتوں میں سے ایک علامت سمجھتے ہیں۔ افغانستان، احمد شاہ درانی کو شاہ بابا کہتے ہیں، البانیا سکندر بیگ کو بابائے کومٹ، بنگالی شیخ مجیب کو بانگاباندھو، ارجنٹینا کے لوگ اپنے محسن جوز دی سان مارٹن کو پادرے دو لا پیٹریا کہہ کر بلاتے ہیں۔ انڈونیشیا کے لوگ احتراماً اپنے لیڈر سوئکارنو کو باپک بانگسا کہتے ہیں۔ ساوتھ افریکن، نیلسن مینڈیلا کو ٹاٹا ویتھو کہتے ہیں۔ پاکستان کے علاقے پختونخواہ کے لوگ خان عبدالغفار خان کو احتراماً باچا خان کہتے ہیں۔ اسی طرح دنیا کے ہر ملک کے لوگ احتراماً اپنے محسنوں کو مختلف ناموں یا لقب سے پکارتے ہیں۔
دنیا میں ہر ملک، ہر قوم اپنے اپنے محسنوں، وطن کے معماروں، آزادی کے لیے لڑنے والوں کو ایک خطاب سے ضرور نوازتی ہے۔ مگر جونہی کوئی لکھنے والا کوئی تحریر لکھتا ہے اپنے لیڈروں کے بارے میں تو جب بھی ان کاذکر آۓ تو ان کا ذکر اصل نام یا “سر نیم “سے کیا جاتا ہے۔ یہ دنیا کے ہر ملک میں ہوتا ہے اور ہمارا ملک دنیا کا کوئی انوکھا ملک نہیں، کہ یہاں پر اپنے لیڈروں کو ان کے سر نیم کی بجاۓ لقب سے لکھا جاۓ۔ یہ بات بھی خاص طور پر یاد رکھنے کی ہے کہ ہمیشہ کسی بھی ریسرچ کی تحریر میں” سر نیم “سے لکھا جاتا ہے۔ سرنیم لکھنے سے اُس شخصیت کا مرتبہ گھٹ نہیں جاتا۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ دنیا والے آخر کیوں نہیں اپنے محسنوں کو ان کے لقب سے لکھتے ہیں؟ کیوں نہیں اُن کو عزت دیتے؟ اصل نام سے کیوں لکھتے ہیں؟ اصل نام سے لکھنے کا مقصد صرف اور صرف اپنی تحریر کو غیر جانبدار بنانا ہوتا ہے کہ پڑھنے والے کو محسوس نہ ہو کہ ارقم نے کسی بھی قسم کی جانبداری سے کام لیا ہے۔ یہ تحریر کو مضبوط بناتا ہے۔ تحریر میں سے جذباتیت اور عقیدت کا احساس ختم کرتا ہے۔ یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اصل نام سے لکھنے کا مطلب ہرگز ہرگز بھی اس شخصیت کی تضحیک نہیں، بلکہ یہ کتابی دنیا کی مجبوری ہے۔
پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں ایک خطہ، ایک قوم اور ایک سوچ والوں نے کچھ چیزوں کا ٹھیکہ لے لیا ہے۔ انہوں نے پاکستان کے ہر ہیرو، ہر نظریہ اور ہر تاریخ کے وقوعہ پر اپنی اجارہ داری قائم کر رکھی ہے۔ وہ صرف اپنے آپ کو محبِ وطن، سچا پاکستانی اور سچا مسلمان سمجھتے ہیں۔ جو بھی ان کی سوچ سے اِعراض کرے اسے غدار کہہ دیا جاتا ہےاور اپنے ملک میں بسنے والی دوسری قوموں کو محبِ وطن یا سچا پاکستانی ماننے سے انکار کر دیتے ہیں، ان لوگوں کی اسی مطلق العنانی سوچ کی وجہ سے بنگالی ہم سے جُدا ہوۓ اور بلوچ ناراض ہیں۔
ان خودرائی سوچ رکھنے والوں سے کچھ سوالات ہیں:
1. کیا ہم پاکستانی، کچھ اِتراہٹ میں مبتلا لوگوں کو یہ حق دے سکتے ہیں کہ وہ تعین کریں کہ ملک کس قسم کے نظریہ کے تحت چلےگا؟
2. اگر کوئی صاحبِ تحریر اپنے کسی ریسرچ پیپر میں انٹرنیشنل اصولوں کے تحت محمد علی جناح یا صرف سر نیم جناح لکھتا ہے تو اس کا مطلب یہ کیسے ہو گیا کہ وہ غدار ہے اور قائد اعظم سے نفرت کرتا ہے؟
3. کیا قائد اعظم کا لقب ان کے اصل نام “محمد علی جناع” سے زیادہ ارفع ہے؟ اُس نام سے جس میں محمد اور علی آتا ہو؟
4. کیا یہ اجاراداری ہم پاکستان کے کچھ لوگوں کے حوالے کر دیں کہ وہ پوری قوم کی رہنمائی کریں کہ اپنے محبوب لیڈر کو کیسے پُکارا جاۓ، کیسے لکھا جاۓ؟
5. کیا وہ سمجھتے ہیں کہ پوری قوم صامت ہے کہ جو وہ چاہیں، وہ ہی پوری قوم کرے؟
6. کیا وطن کے ساتھ محبت کا لٹمس ٹیسٹ یہ ہے کہ ہم اپنے محسن کو صرف قائد اعظم کے لقب سے پکاریں۔
7. آخر میں ایک سوال کہ کس حیثیت کے تحت، وہ لوگ جو اپنے آپ کو دائیں، رائٹیسٹ یا اسلامسٹ سمجھتے ہیں، غداری اور محبِ وطنی کے سرٹیفکیٹ بانٹتے پھرتے ہیں؟
تحریر کو ہم اس نکتہ پر ختم کرتے ہیں کہ نناویں ناموں میں سے جب ہم اپنے محبوب رسول کو اُن کےاپنے پیارے نام حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے لکھ، پڑھ اور پکار سکتے ہیں تو کوئی اور شخصیت اُن سے اوپر ہے؟

عامر کاکازئی
عامر کاکازئی
پشاور پختونخواہ سے تعلق ۔ پڑھنے کا جنون کی حد تک شوق اور تحقیق کی بنیاد پر متنازعہ موضوعات پر تحاریر لکھنی پسند ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”کیا قائد اعظم کو جناح کہہ کر پکارنا غداری ہے؟ ایک مغالطہ

Leave a Reply to طارق جواب منسوخ کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *