راجستھان ؛250 دلت خاندانوں نے ہندو مذہب ترک کردیا

راجستھان کے باراں ضلع میں اونچی ذات کے لوگوں کی مارپیٹ سے مجروح 250 دلت کنبوں نے ہندو مذہب چھوڑ کر بودھ مذہب اختیار کر لیا۔ ان لوگوں نے اپنے گھروں سے دیوی دیوتاؤں کی مورتیوں اور تصویروں کو بیتھلی ندی میں بہا دیا۔ ان خاندانوں نے ریاستی حکومت کے خلاف بھی اپنا غصہ ظاہر کیا اور الزام لگایا کہ 15 دن قبل دیوی درگا کی آرتی کرنے پر دلت برادری کے 2 نوجوانوں کو اونچی ذات کے لوگوں نے مارا تھا۔
برادری نے صدر سے لے کر ضلع انتظامیہ تک انصاف کی التجا کی لیکن مار پیٹ کے ملزمین کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ یہ پورا معاملہ چھبڑا علاقہ کے بھولون گاؤں کا ہے۔ضلع بیروا مہاسبھا یووا مورچہ کے صدر بالمکند بیروا نے بتایا کہ 5 اکتوبر کو دلت برادری کے نوجوانوں راجندر اور رامہیت ایروال نے بھولون گاؤں میں ماں درگا کی آرتی کا اہتمام کیا تھا۔ ان نوجوانوں سے راہل شرما اور لال چند لودھا نے مار پیٹ کی تھی۔ ان لوگوں کا الزام ہے کہ انہوں نے پولیس انتظامیہ، وزیر اعلیٰ، وزیر اعظم اور صدر جمہوریہ سے انصاف کی اپیل کی، لیکن جب کہیں سے کوئی کارروائی نہیں ہوئی تو سماج کے لوگوں نے اجتماعی طور پر اپنا مذہب تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا۔ جمعہ کو گاو¿ں میں آکروش ریلی نکالی گئی۔ اس کے بعد دیوتاو¿ں کی مورتیوں اور تصویروں کو دریا میں بہا دیا گیا۔ بالمکند بیروا نے انتباہ دیا کہ اگر کلیدی ملزم کو جلد گرفتار نہیں کیا گیا تو چھبڑا ایس ڈی ایم دفتر پر مظاہرہ کیا جائے گا۔ انہوں نے ریاست میں امن و امان کی صورتحال ٹھپ ہونے اور دلتوں کے خلاف مظالم کے واقعات میں اضافہ کا الزام لگایا۔ اس دوران رمیش میراٹھا، بدری لال بیروا (چھیپابرود)، چھیتر لال بیروا، پون، رامہیت بیروا، مہندر مینا (ترکی پاڑا) وغیرہ موجود تھے۔ ڈی ایس پی پوجا ناگر نے بتایا کہ متاثرہ نے تھانے میں ایف آئی آر درج کرائی تھی لیکن اس میں سرپنچ کے نمائندے کا نام نہیں لکھا ہے۔ معاملے کی تحقیقات کی جا رہی ہے۔

  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com
  • julia rana solicitors
  • julia rana solicitors london
  • merkit.pk

خبریں
مکالمہ پر لگنے والی خبریں دیگر زرائع سے لی جاتی ہیں اور مکمل غیرجانبداری سے شائع کی جاتی ہیں۔ کسی خبر کی غلطی کی نشاندہی فورا ایڈیٹر سے کیجئے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply