• صفحہ اول
  • /
  • خبریں
  • /
  • ارشد شریف قتل دو الگ ممالک کا معاملہ ہے، عدالت نے فی الوقت جوڈیشل کمیشن قائم کرنے سے منع کردیا

ارشد شریف قتل دو الگ ممالک کا معاملہ ہے، عدالت نے فی الوقت جوڈیشل کمیشن قائم کرنے سے منع کردیا

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے ہیں کہ ارشد شریف کا قتل دو الگ ممالک کا معاملہ ہے، ابھی جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کی ضرورت نہیں،ریاستی ادارے اس معاملے کو زیادہ بہتر حل کر سکتے ہیں۔

اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ارشد شریف کے قتل سے متعلق کیس کی سماعت کی، وزارت داخلہ اور خارجہ کی جانب سے ارشد شریف کے قتل سے متعلق رپورٹ ایڈیشنل اٹارنی جنرل کے پاس جمع کرائی گئی۔

FaceLore Pakistan Social Media Site
پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا کوئی ارشد شریف کی فیملی کے پاس گیا ہے؟ کیا انہیں کوئی معاونت چاہئے؟

بیرسٹر شعیب رزاق نے کہا کہ ارشد شریف کی ڈیڈ باڈی آج پہنچ جائے گی،ہماری استدعا ہے کہ قتل کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن بنایا جائے۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ وہ آج صرف اسی کیس کی سماعت کے لیے آئے ہیں، اس موقع پرڈپٹی اٹارنی جنرل نے موقف اختیار کیا کہ یہ ایک افسوسناک واقعہ ہوا ہے،کینیا کی حکومت کی جانب سے رپورٹ آ جائے، اگر انہیں اس پر کوئی اعتراض ہوا تو اس کیس کو مزید سن لیا جائے۔

عدالت نے ریمارکس دیئے کہ انکوائری کے معاملے پر صحافتی تنظیموں کو آن بورڈ رکھا جائے،اس مرحلے پر کمیشن بنانے کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا، کیس کی سماعت ایک ہفتے کے لیے ملتوی کر دی گئی۔

اس سے پہلے عدالت نے چیف جسٹس اطہر من اللہ کی عدالت میں ارشد شریف کیس کے سوا باقی تمام کیسز کی کاز لسٹ منسوخ کر دی تھی۔

Advertisements
julia rana solicitors london

خیال رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے گزشتہ روز سیکرٹری داخلہ اور خارجہ کو ارشد شریف کی فیملی سے رابطے کا حکم دیا تھا۔

  • julia rana solicitors
  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com
  • merkit.pk
  • julia rana solicitors london

خبریں
مکالمہ پر لگنے والی خبریں دیگر زرائع سے لی جاتی ہیں اور مکمل غیرجانبداری سے شائع کی جاتی ہیں۔ کسی خبر کی غلطی کی نشاندہی فورا ایڈیٹر سے کیجئے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply