گولڈن ایج (33،آخری قسط) ۔ اسلام اور سائنس ۔ اکیسویں صدی میں

 مندرجہ ذیل مضمون جِم الخلیلی کے ۲۰۱۰ میں لکھے مضمون کا ترجمہ ہے۔

کئی تبصرہ نگار کہتے ہیں کہ ماضی کی سائنسی شان و شوکت کو دیکھنا مسلمان ممالک کی ترقی میں فائدہ مند نہیں، رکاوٹ ہے۔ جدید سائنس کا قرونِ وسطیٰ کی سائنس سے خاص تعلق نہیں۔ اس سب کو بھول کر مسلمانوں کو اکیسویں صدی کے جدید ریشنلزم کی طرف دھیان دینا چاہیے۔ جدید سائنس سے راہنمائی لینی چاہیے اور پیچھے دیکھنا بند کر دینا چاہیے۔ میں ایک سائنسدان ہوں اور میرا تعلق کسی مذہب سے نہیں لیکن مجھے اس نکتہ نظر سے اختلاف ہے۔ مسلمانوں کو ایک ہزار سال پہلے کی سوچ کے طریقے سے راہنمائی لینے کی اور اس کو اپنانے کی ضرورت ہے۔
اسلامی عروج کے وقت سائنس کے کردار کو ٹھیک سے سمجھا اور سراہا نہیں جاتا۔ سائنسی ترقی کبھی ٹھہرتا، کبھی بھاگتا لیکن مسلسل عمل رہا ہے۔ اہم سائنسی بریک تھرو شاندار افراد کرتے رہے ہیں۔ نیوٹن اور آئن سٹائن نے ہماری تفہیمِ کائنات پر گہرا اثر ڈالا۔ لیکن یہ سب انہوں نے تنہائی میں نہیں کیا تھا۔ اس سے قبل جمع ہونے والے چھوٹے چھوٹے قدم ضروری تھے، جو چیزوں کو اس مقام تک لے آئے کہ نئے خیالات کی ضرورت پڑی۔ اہم چیز سائنس میں ان بڑے ناموں سے زیادہ وہ کلچر ہے جس نے ان کی دریافتیں ممکن کیں۔ ایسا کلچر جو علم کی اور سیکھنے کی پیاس رکھتا ہو۔ اس کے بغیر کچھ بھی نہیں ہوتا۔
الکِندی، الخوارزمی، ابنِ سینا، ابن الہیثم اور بہت سے دوسرے نام ہمارے تاریخ کے نگینے ہیں۔ آج کی مسلم دنیا اپنی شاندار سائنسی اور علمی وراثت پر بجا فخر کر سکتی ہے۔ ہمارے آج دنیا کو سمجھنے میں ان کے کردار کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ یہاں پر بڑی اچھی طرح سے ذہن نشین کرنے کی ضرورت ہے کہ انہوں نے بھی تنہائی میں کام نہیں کیا تھا۔ ان کو ایک روشن خیال اور مہذب معاشرے نے جنم دیا تھا۔ ان کو جب دیکھنا ہو، اس دور سے راہنمائی لینا ہو تو ان کے کام کی نہیں، کیونکہ سائنس میں تو ان سے آگے بڑھ چکے ہیں، بلکہ ان روایات کی ہے، جس سے یہ نکلے تھے۔
یہاں پر یاد رہے کہ دنیا بھر سے نہ صرف مسلمان بلکہ کرسچن، یہودی، زرتشت سبھی اکٹھے ہوئے تھے۔ علم کی قدر کی جاتی رہی تھی۔ عالموں کو ترغیبات دے کر بلایا جاتا تھا۔ اسلامی دورِ عروج کی سائنس صرف مسلمانوں نے نہیں کی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس وقت دنیا میں ڈیڑھ ارب مسلمان ہیں۔ دنیا کے 57 ممالک ہیں جہاں پر یہ اکثریت میں ہیں۔ کویت اور سعودی عرب جیسے امیر ترین اور صومالیہ اور سوڈان جیسے غریب ترین ممالک میں ہیں۔ ترکی، مصر، پاکستان، مراکش، ملیشیا اور انڈونیشیا جیسے ممالک میں ہیں جو بڑے برسوں سے رفتہ رفتہ ترقی کر رہے ہیں۔ لیکن مغربی ممالک سے موازنہ کیا جائے تو اسلامی دنیا جدید سائنس سے کٹی ہوئی ہے۔
ان ممالک کے لیڈروں کو اس بات کا احساس ہے کہ معاشی ترقی، قومی سلامتی اور ملٹری پاور کے لئے ٹیکنالوجی کی ترقی ناگزیر ہے۔ یہ بات بارہا سننے میں آتی ہے کہ سائنسی تحقیق اور ڈویلپمنٹ ضروری ہے۔ باقی دنیا سے مقابلہ کرنے کا کوئی اور راستہ نہیں ہے۔ سائنس اور تعلیم پر حکومتی فنڈنگ میں حالیہ برسوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ کئی ممالک اپنے قومی سائنسی انفراسٹرکچر کی تشکیلِ نو کر رہے ہیں لیکن جب میں کہتا ہوں کہ یہ اسلامی دنیا سائنس سے کٹی ہوئی ہے تو اس کا مطلب کیا ہے۔
چند اعداد و شمار:۔ اوسطا مسلم دنیا ریسرچ اور ڈویلپمنٹ پر اپنے جی ڈی پی کا ایک فیصد خرچ کرتی ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں یہ پانچ فیصد ہے۔ سائنسی تحقیق پر دنیا کی اوسط کا ساتواں حصہ۔ مسلم دنیا میں فی ہزار آبادی میں دس سائنسدان ہیں، دنیا کی اوسط چالیس ہے جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں ایک سو چالیس۔ سائنسی ریسرچ پیپرز میں لکھنے جانے والے پیپرز میں صرف ایک فیصد ان ممالک س آتے ہیں۔ اسلامی ممالک کی تنظیم نے نوٹ کیا کہ 2005 میں کل 13444 سائنسی پیپر مسلمان ممالک سے تھے جبکہ صرف ہارورڈ یونیورسٹی سے 15455 پیپر۔ یعنی ایک یونیورسٹی نے پوری مسلم دنیا سے دو ہزار پیپر زیادہ پبلش کئے تھے۔
لیکن معاملہ اس سے زیادہ خراب ہے۔ تعداد سے بڑا مسئلہ معیار کا ہے۔ معیاری پیپر سائٹ ہوتے ہیں۔ کہاں سے اچھے پیپر شائع ہو رہے ہیں؟ اس کا انڈیکس نکالا جاتا ہے۔ نینشل سائنس بورڈ نے جب دنیا کے 45 ممالک کی فہرست بنائی تھی تو اس میں صرف دو مسلمان ممالک تھے۔ ایران اور ترکی۔ اور ان کا سکور بھی سوئٹزرلینڈ کے مقابلے میں ایک تہائی تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صورتحال کس حد تک خراب ہے؟ اس بارے میں اپنے پاکستان کے ٹرِپ کے بارے میں بتانا چاہوں گا۔ مجھے پاکستان کی ایک صفِ اول کی بڑی یونیورسٹی میں جانے کا اتفاق ہوا۔ کیا آپ یقین کر سکتے ہیں کہ اس پوری یونیورسٹی میں کتابوں کی ایک دکان بھی نہیں؟ اس کا موازنہ بغداد، قرطبہ یا قاہرہ میں ایک ہزار سال قبل کے کتابوں سے جنون سے کر کے کلچرل فرق کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
ایسا نہیں کہ دنیا کا یہ حصہ عقل سے بانجھ ہے۔ یہاں کے ایک فزسٹ نے الیکٹروویک تھیوری میں حصہ ڈالا۔ فزکس کی انتہائی طاقتور اور خوبصورت تھیوری جس نے الیکٹرومیگنیٹک فورس اور ریڈیوایکٹو نیوکلئیر ڈیکے کو یکجا کر دیا۔ میرے ذہن میں اس بارے میں کوئی شک نہیں کہ نہ صرف پاکستان بلکہ اس پورے خطے میں سائنس میں اس سے بڑا نام پچھلی کئی صدیوں میں نہیں گزرا۔ ابن الہیثم اور البیرونی کے بعد فزکس پر سائنس میں کوئی اتنی بااثر شخصیت مجھے نظر نہیں آتی۔ یہ پنجاب میں پیدا ہونے والے عبدالسلام تھے جو غیرروایتی مذہبی مکتبہ فکر سے تعلق رکھتے تھے۔ انہوں نے محض الگ تھلگ رہ کر کام نہیں کیا۔ سائنس کو پروموٹ کرنے کے لئے انتھک کوشش کرتے رہے۔ آپ کو شاید یہ سن کر دھچکا لگے کہ نہ صرف یہ کہ خود اپنے گھر یعنی پاکستان میں ان کو ہیرو نہیں سمجھا جاتا، کم لوگ ان کے کام سے واقف ہیں اور ان کا نام تفاخر کے بجائے تنازعہ پیدا کرتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک بہت بڑا مغالطہ یہ ہو گا کہ سائنسی جمود کی وجہ محض مذہبی قدامت پرستی کو قرار دیا جائے۔ امریکہ اور یورپ میں بھی کری ایشنسٹ سائنس پر حملہ آور رہتے ہیں، لیکن سائنس چلتی رہتی ہے۔ اننظامی اور بیوروکریٹک سسٹم، کرپشن، سیاسی ترجیحات، ناکامی کا شکار تعلیمی نظام، ادارے اور سب سے بڑھ کر رویے۔ یہ سب اس کی وجوہات میں ہیں۔
کئی لوگ سائنس سے خوف زدہ ہیں اور دنیا کے مسائل کا سبب قرار دیتے ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی، وبائیں، توانائی اور پانی کے مسائل پر اصل پریشانیوں کے حل تو سائنس سے ڈھونڈنا پڑیں گے جبکہ جینیاتی تبدیلی شدہ فصلوں، ہائیبرڈ ایمبریو، نیوکلئیر پاور پر خوف بے وجہ نہیں لیکن زیادہ تر خوف سائنس کی غلط سمجھ کا نتیجہ ہیں۔ اس وقت دنیا بھر میں بڑھتے پیرانارمل خیالات، اڑن طشتریوں کے مذاہب، نیو ایج کے علاج، خلائی مخلوقات سے اغوا ہونے کی کہانیاں، متبادل علاج، یہاں تک کہ اپالو مشن پر بننے والی سازشی تھیوریاں یہ بتاتی ہیں کہ وہم اور منطق میں لڑائی رہے گی۔ اس مسئلے کو ہزار سال پہلے جس خوبصورتی اور انٹلکچوئل طریقے سے حل کیا گیا تھا، اس سے آج بھی ان خرافات سے پیچھا چھڑانے کے لئے راہنمائی حاصل کی جا سکتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ مسلم دنیا کے کئی حصوں میں سائنس اور مذہب میں تناوٗ موجود ہے جس کو حل کرنے کی ضرورت ہے۔ مسلم سوسائٹی میں غیرسائنسی رویوں کو ڈھونڈنا مشکل نہیں۔ انٹرنیٹ نے ان میں اضافہ کیا ہے۔ ہزاروں ویب سائنٹس پھل پھول رہی ہیں جو یا تو سائنس کا مذاق اڑانے کے لئے وقف ہیں یا پھر بگ بینگ، بلیک ہول، کوانٹم مکینکس اور ریلیٹیویٹی کو بھی مذہب کے اندر سے تلاش کرنے کے لئے وقف ہیں۔ لیکن اس پر بھی مجھے خوشگوار حیرت ہوئی جب میری ملاقات دو مدارس کے اماموں سے ہوئی۔ انہوں نے مجھے کہا کہ قرآن ریاضی، فزکس، میڈیسن یا آسٹرونومی کی نصابی کتاب نہیں ہے۔ یہ ایک ارب سے زیادہ مسلمانوں کی یہ بتاتی ہے کہ زندگی کیسے بسر کرنی ہے اور خدا کی تخلیقات کو کیسے سمجھنا ہے۔ اور اس کا طریقہ سائنس کے علاوہ کچھ نہیں۔ نہ صرف اس کو حاصل کرنے میں دین کو خطرہ نہیں بلکہ خالصتا سائنسی طریقے سے دنیا کو سمجھنا دینی فریضہ ہے۔
اس میں شک نہیں کہ مسلمانوں میں سے ایک اچھی خاصی تعداد ایسی ہے جو سائنس کو مذہب سے دور ایک مغربی روایت سمجھتی ہے۔ یہ خود بھول چکے ہیں کہ ایک ہزار سال پہلے مسلمان سکالر اس میں کیسے کام کرتے رہے ہیں۔ میں آج کے ایسے اسلامی رائٹرز کی تحریریں پڑھ چکا ہوں جو سائنس کے کئی شعبوں جیسے کاسمولوجی کو ایمان کے لئے خطرہ سمجھتے ہیں۔ اس پر حملہ کیا جاتا ہے کہ “سائنس ہر چیز کو فطری طریقے سے دیکھتی ہے۔ اس سے میٹافزکس اور روحانی وجوہات ختم کر دیتی ہے۔ میٹیریل اور نیچرل وجوہات سے دنیا کو سمجھا دیتی ہے”۔ تو ہاں، یہی تو سائنس ہے اور یہی تو سائس کو ہونا چاہیے۔ کیا سائنس اس کے علاوہ بھی کچھ ہو سکتی ہے؟ یہاں پر میں البیرونی کا ایک قول نقل کرنا چاہوں گا، “ضدی نقاد کہتا ہیں کہ سائنس کا کیا فائدہ ہے؟ اس کو پتا نہیں کہ یہی تو ہمیں دوسرے جانوروں سے جدا کرتی ہے۔ اس کو حاصل کرنے کی کوئی وجہ نہیں۔ یہ خود میں ہی مزا ہے۔ ایسا مزا جو کسی اور کاوش میں نہیں۔ علم سے سچ کو آگے لایا جا سکتا ہے۔ برائی کو اور جھوٹ کو دور کیا جا سکتا ہے۔ اور کیا فائدہ چاہیے؟ اس سے بڑا فائدہ بھی کچھ ہو سکتا ہے؟”
خوش قسمتی سے ایسے نظریات تمام مسلمانوں کے نہیں ہیں۔ بہت سے مسلمان اس دنیا میں اپنا مقام سائنسی کامیابیوں سے بنانا چاہتے ہیں۔ سب کا مقابلہ کرنا چاہتے ہیں۔ مسلمان ہونے کا مطلب سائنس دشمن نہیں ہوتا۔ یہ وہ پیغام ہے جو مسلمانوں اور غیرمسلموں، دونوں تک پہنچانے کی ضرورت ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کے لئے کرنا کیا پڑے گا؟ ایک چیز تو مالیاتی سرمایہ کاری ہے۔ ملیشیا سے نائجئیریا تو اس میں حوصلہ افزا آثار نظر آ رہے ہیں۔ عالمی معیار کے ادارے بنانے پر کام ہو رہا ہے۔ نئی یونیورسٹیاں بن رہی ہیں۔ مغربی اداروں سے مدد لی جا رہی ہے۔ لیکن صرف پیسے کا مسئلہ نہیں ہے۔ اس سے زیادہ اہم سیاسی وِل ہے اور فکر کی آزادی۔ مصر سے تعلق رکھنے والے المشکٰوة تحقیقی مرکز کے سربراہ نادر فرغانی کا کہنا ہے، “کرنے کا سب سے بڑا کام سائنسی اداروں کی اصلاح ہے، اظہارِ رائے کی آزادی کا احترام ہے، مکالمے کو فروغ دینا ہے اور تعلیم کی کوالٹی پر زور دئے جانا ہے۔ اس حوالے سے اسلامی دنیا کی موجودہ حالت غیرمعمولی طور پر خراب ہے۔ تاریخی اعتبار سے اس پر کبھی اتنی بندش نہیں رہی جتنی بیسویں صدی میں لگائی گئی۔ انفارمیشن ایج اور علم کی بنیاد پر بنائے جانے والے معاشرے ایسا نہیں چل سکتے۔”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مجھے بہت سے مثبت چیزیں ہوتی نظر آ رہی ہیں، تین کا ذکر کرنا چاہوں گا۔ قطر نے دوہا کے قریب ایک بڑا تعلیمی شہر شروع کیا ہے۔ جس میں دنیا کی بڑی یونیورسٹیوں کے کیمپس ہوں گے۔ قطر کو امید ہے کہ وہ دنیا کی ہائی ٹیک کمپنیوں اور افراد کی توجہ کھینچ سکتا ہے۔ کیلے فورنیا کی سلیکون ویلی کی کامیابی حاصل کر سکتا ہے۔
دس ارب ڈالر سے سعودی عرب میں جدہ کے قریب بننے والی کنگ عبداللہ یونیورسٹی ایک اور بڑا پراجیکٹ ہے جس میں ڈیڑھ ارب ڈالر کا بجٹ صرف پہلے پانچ سال کی تحقیق کے لئے مختص کیا گیا ہے۔ اس میں پہلی مرتبہ خواتین اور حضرات اکٹھے تعلیم حاصل کریں گے۔ سعودی عرب کے مقامی زرعی مسائل، یہاں کی شمسی توانائی کا استعمال جیسے کام اس ادارے سے کئے جا سکتے ہیں۔ یورپ اور امریکہ کی بہترین یونیورسٹیوں کی توجہ یہ ادارہ حاصل کر چکا ہے۔
ایک اور بڑا پراجیکٹ اردن میں ہونے والا سیسامی ہے۔ سنکٹرون ریڈی ایشن پر تحقیق جو ہائی انرجی لائٹ ہے جس کا اخراج چارجڈ سب ایٹامک پارٹیکل کرتے ہیں جب انہیں انتہائی تیز رفتار سے مقناطیسی فیلڈ میں ایکسلریٹ کیا جائے۔ جرمنی سے حاصل کردہ اس ریسرچ سنٹر میں اسرائیل، فلسطین، پاکستان، مصر، ترکی، ایران، بحرین کے سائنسدان اکٹھے کام کریں گے۔ یہاں پر میٹیرئل سائنس، مالیکیولر بائیولوجی، نینوٹیکنالوجی، ایکسرے امیجنگ، آرکیولوجی انالیسز، کلینیکل میڈیسن پر تحقیق کا ارادہ ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تو کیا اسلامی دنیا میں سائنس کا مستقبل روشن ہے؟ یہاں پر یاد رکھنا چاہیے کہ اینٹ اور گارا، چمکدار دھاتی آلات ضروری تو ہیں لیکن کافی نہیں۔ ریسرچ کے ماحول کے بغیر اور ٹھیک رویوں کے بغیر کچھ بھی نہیں ہو سکتا۔ تربیت یافتہ ٹیکنیشنز سے لے کر نئے خیالات کی آزادی تک سبھی درکار ہے۔
سائنس کو تھیولوجی سے الگ کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے لئے میں ایران میں تہران رائل انسٹیٹیوٹ کی مثال دینا چاہوں گا۔ یہاں پر جینیات، سٹیم سیل اور کلوننگ میں ہونے والی تحقیق آزادانہ ماحول میں ہو رہی ہے۔ بہت اعلیٰ معیار کا کام کیا جا رہا ہے۔ (یہ میری توقع سے بڑھ کر تھا)۔ حساس معاملہ ہونے کی وجہ سے یہاں پر کئے جانے والے کام پر ایتھکس بورڈ ہے جس میں مذہبی علماء بھی ہیں۔ ان کو اس سے آگاہ رکھا جاتا ہے۔ اس کو لیڈ سائنس کر رہی ہے، سائنسدان کر رہے ہیں۔ اگر یہاں پر یہ تعلق بدل جائے، سائنس کا کام سائنسدانوں سے ہاتھ سے لے لیا جائے، کوئی بھی رکاوٹ ڈالی جائے تو یہ سب کچھ ختم ہو جائے گا۔ مجھے خدشہ ہے کہ یہاں پر ایسا ہو سکتا ہے اور امید کہ ایسا نہ ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عبدالکریم سروش کے الفاط میں، “سائنس پارٹیکل ایکسلریٹر میں نہیں ہوتی۔ یہ سائنسی آلے اور بڑی عمارات نہیں کرتیں۔ یہ دماغوں میں ہوتی ہے۔ تجسس رکھنے والے دماغوں میں۔ اس کائنات کی تخلیق کی خوبصورتی کی کھوج کا تجسس۔ اس دنیا کو سمجھنے کا تجسس”۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عرب میں سائنس کی تاریخ مختصر نہیں۔ آٹھویں صدی کے جابر بن حیان سے پندرہوں صدی کے الکاشی تک سات سو سال کا فاصلہ ہے۔ یہ وقت گللیلیو سے سٹیفن ہاکنگ تک کے وقت سے دگنا ہے۔ سات سو سال، جس میں مختلف مراکز آتے رہے، ابھرتے رہے، ڈوبتے رہے، کبھی عباسیوں کا بغداد، کبھی فاطمیوں کا قاہرہ، کبھی امویوں کا قرطبہ، کبھی خوارزمیوں کا گرگانج۔ اپنے اپنے وقتوں میں ابھرتے رہے، ڈوبتے رہے۔
سائنسی انقلاب تنہا نہیں آتا۔ کلچرل، سیاسی، فکری انقلاب سب کچھ اکٹھا ہوتا ہے۔ یہ راتوں رات نہیں ہوتا۔ اکیڈمک آزادی اور سائنسی طریقہ سمجھنا اور اس کے لئے سیاسی وِل ہونا ضروری ہے۔
کیا اسلامی دنیا یہ کام کر سکتی ہے؟
یہ سوال آسان ہے۔ ایسا صدیوں تک کرتی رہی ہے۔
کیا اسلامی دنیا یہ کام کر لے گی؟
یہ سوال مشکل ہے۔ اور یہ جواب میرے دینے کا نہیں۔

ختم شد

Advertisements
julia rana solicitors

۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس سیریز کے لئے اس کتاب سے مواد لیا گیا
Pathfinders: The Golden Age of Islamic Science

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply