• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • اسلامی عسکری اتحاد – ہمارا قومی المیہ اور منفی رویے۔۔بلال شوکت آزاد

اسلامی عسکری اتحاد – ہمارا قومی المیہ اور منفی رویے۔۔بلال شوکت آزاد

عنوان سے ظاہر ہے کہ میرا موضوع سخن آج اسلامی عسکری اتحاد ہے اور میں یقیناً کچھ چھپے اور ان دیکھے اور نظرانداز گوشے اجاگر کروں گا, کچھ منفی سوالات کے متضاد جوابات دوں گا, کچھ اعتراضات کا رد کروں گا اور کچھ منفی ریوں سے مزین ہمارے قومی المیے کے بخیے ادھیڑوں گا۔۔

میرے حلقہ احباب اور قریبی دوستوں میں مجھے اعلانیہ اور غیر اعلانیہ جوابی پراپیگنڈے کا ماہر سمجھا اور مانا جاتا ہے لیکن الحمداللہ آج میں نہ تو کوئی مثبت یا منفی پراپیگنڈا لے کر حاضر ہوا ہوں اور نہ کسی ایسے پراپیگنڈے کا جواب, بس یہ خالص معلوماتی اور زود ہضم تحریر ہے اگر کوئی خلوص نیت سے آفادہ حاصل کرنا چاہے تو۔موضوع پر قلم اٹھاؤں اس سے پہلے میں ایک دو عمومی معاشرتی رویوں اور عام چلن کا ذکر ضرور کروں گا جس کا تعلق میری تحریر سے بھی ہے۔

آپ میں اکثر دوست ، بہن بھائیوں بیوی بچوں کے ساتھ بازار, ہوٹل اور پارکس وغیرہ کا رخ کرتے ہیں عام اور خاص دنوں میں, یہ قطعی بری بات نہیں لیکن ہمارے معاشرے میں ایک نہایت گھٹیا چلن بلکہ اجتماعی عادت سراعیت کرگئی ہے تجسس اور بدگمانی کی۔

اوپر میں نے سب رشتے گنوائے اور مواقع بھی اور مقامات  بھی جو کسی کے لیے اجنبی نہیں لیکن ہم آپ لوگ ہی اپنے علاوہ  ہر کسی کو غلط نظر اور نظریہ سے دیکھتے اور جج کرتے ہیں۔مثال کے طور پر جیسے ایک لڑکا اور لڑکی بائیک پر جا رہے ہوں تو ہمارا عمومی رویہ اور جملہ کچھ یوں ہوتا ہے دوستو یا بیوی کو  مخاطب کرکے۔۔”وہ دیکھو دیکھو ڈیٹ جارہی ہے۔”جبکہ وہ بہن بھائی بھی ہوسکتے ہیں؟۔یاکسی خوب رو ادھیڑ عمر عورت کو کسی نوجوان کے ساتھ دیکھ لیا تو فوراً منہ سے الفان نکلتے ہیں “یہ بچے نے آنٹی پھنسائی ہے یا آنٹی نے بچہ پھنسا لیا ہے۔”جبکہ وہ دونوں ماں بیٹا ہوسکتے ہیں, خالہ بھانجا یا پھپھو بھتیجا بھی ہوسکتے ہیں۔اسی طرح کوئی شخص بینک سے یا کسی دفتر سے لین دین کرکے پیسے والا بیگ چھپا کر لےکر نکلے تو وہ ہمیں مشکوک اور چور لگ رہا ہوتا ہے۔مطلب معاشرے کے ہر فعل, ہر فیصلے, ہر رشتے, ہر تعلق اور ہر شخص پر ہمیں شک ہے, ہمارے نزدیک وہ کرپٹ ہے, ہرایک منفی کردار ہے اور ہر کسی سے ہم بدگمان ہیں۔

جب ایک قوم کے سب افراد من حیث القوم کسی پر خوش گمان نہیں, کسی کو مثبت نظر سے نہیں دیکھتے اور کسی کو بہتر تصور نہیں کرتے ماسوائے اپنے تو ایسی کنفیوز اور ڈبل مائنڈڈ  قوم سے بطور قوم کسی بڑی نوعیت کے حساس واقعے, فیصلے, خبر, ادارے, اتحاد اور امت پر کیونکر مثبت رویوں اور کردار کی امید کی جائے اور یہ ایسا کرتے بھی نہیں۔

جب اسلامی عسکری اتحاد نہیں وجود میں آیا تھا تب بیچارے پاکستان, پاک فوج اور آئی ایس آئی پر بل پھٹتے تھے امت پر ہوئے ہر ظلم و جبر پر آنکھیں موند لیتے تھے۔پھر وقت بدلا اور سعودیہ و پاکستان سمیت دیگر طاقتور اسلامی ممالک کی مشترکہ کاوش سے ایک اسلامی عسکری اتحاد کا اعلان ہوا۔بس جی ادھر اعلان ہوا اور ادھر پاکستانی متفرق امت مسلمہ کو نیا ٹارگٹ میسر آگیا تبروں اور کوسنوں کے لیے۔ تب سے پاک فوج اور آئی ایس آئی والوں کو تھوڑا سکھ کا سانس آیا ۔

اراکان ہو یا شام, کشمیر ہو یا فلسطین جہاں جہاں اس وقت ظلم و جبر کا بازار گرم ہے  دراصل وہ سب محدود پیمانے کی پراکسی وارز اور منظم سفارتی و سیاسی دہشت گردیوں کا تسلسل ہے۔سبھی اپنے اپنے خطے میں استعماری و طاغوتی طاقتوں کی طرف سے لانگ ٹرم بزنس اور سرمایہ کاری کی خاطر چھوڑے ہوئے ایجنڈے ہیں یا تقسیم و تفریق کے نامکمل ایجنڈے تاکہ ایک لمبی مدت تک سیاسی اثرو رسوخ کی بدولت ایک محفوظ سرمایہ کاری کی وجہ  اسلحے, خوراک, ادویات, بحالیات اور امن کے نام پر  موجود  رہے ۔۔

ایسے میں کھلی جنگوں کے نہیں بلکہ محدود نوعیت کے گوریلا وارفیئر آپریشن, پراکسی وارز اور مذکرات ہی کے آپشن بچتے ہیں۔طاقتور ہونا یا طاقت کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ بیوقوفوں کی طرح چھلانگ ماری جائے ہر جنگ  اور ہر لڑائی میں۔خاص کر جب دنیا ایک مربوط سفارتی اور سیاسی نظام میں جڑی ہو اور آپ ایسے نظام کا طوہاً کروہاً ہی سہی پر حصہ ہوں تو آپ کو سفارتی و سیاسی آداب کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔

آپ اب ترکی ایران وغیرہ کی مثالیں دیں گے ۔۔تو صاحبان وہ بھی ایٹم بم کے مالک بن جائیں تب بھی وہ اسرائیل یا امریکہ پر حملہ نہیں کریں گے اور ان کو ایسا کرنا بھی نہیں چاہیے اور وہ ایسا کرہی نہیں سکتے۔ مشیت ایزدی   سے کہ ایسا فقط دجال کی آمد تک ممکن ہے پہلے نہیں۔رہ گئی بات اسلامی عسکری اتحاد کی تشکیل اور کردار کی تو ہم سب بہت بڑی غلط فہمی بلکہ خوش فہمی کا شکار ہیں کہ ہمارے دشمن فقط عیسائی, یہودی اور ہندو ہیں۔یہ تو ہمارے بنیادی اور ازلی دشمن ہیں جن سے جنگ ہوگی اور ضرور ہوگی لیکن اپنے طے شدہ وقت اور مقررہ مدت میں لیکن وہ وقت فی الحال ابھی نہیں آیا۔

یہ میں نہیں کہہ رہا بلکہ میرے آقا حضرت محمد صل اللہ علیہ والہ وسلم کی قیامت سے قبل ہونے والی جنگوں کے بیان میں یہ واضح کردیا گیا ہے احادیث کی رو سے کہ”حدیث نمبر : 4252ترجمہ!

سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

“بیشک اللہ تعالیٰ نے میرے لیے زمین کو لپیٹا اور میں نے اس کی مشرقوں اور مغربوں کو دیکھا اور بلاشبہ میری امت کی عمل داری وہاں تک پہنچے گی جہاں تک اسے میرے لیے لپیٹا گیا ہے۔اور مجھے سرخ و سفید (سونا چاندی ) دو خزانے دیے گئے ہیں۔ اور میں نے اپنے رب تعالیٰ سے سوال کیا ہے کہ میری امت کو عام قحط سے ہلاک نہ فرمائے اور ان پر ان کے اپنے اندر کے علاوہ باہر سے کوئی دشمن مسلط نہ ہو جو انہیں ہلاک کر کے رکھ دے۔ تو میرے رب نے مجھے فرمایا: اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )! میں جب کوئی فیصلہ کرتا ہوں تو اسے رد نہیں کیا جاتا۔ میں (تیری امت کے) ان لوگوں کو عام قحط سے ہلاک نہیں کروں گا اور ان کے اپنے اندر کے علاوہ باہر سے کوئی دشمن مسلط نہیں کروں گا جو انہیں ہلاک کر کے رکھ دے اگرچہ سب ملکوں والے ان پر چڑھ دوڑیں (تو انہیں ہلاک نہیں کر سکیں گے) البتہ یہ آپس میں ایک دوسرے کو ہلاک کریں گے اور ایک دوسرے کو قید کریں گے۔(آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) مجھے اپنی امت پر گمراہ اماموں کا خوف ہے۔ اور جب ان میں ایک بار تلوار پڑ گئی تو قیامت تک اٹھائی نہیں جائے گی۔ اور اس وقت تک قیامت نہیں آئے گی جب تک کہ میری امت کے کچھ قبائل مشرکوں کے ساتھ نہ مل جائیں اور کچھ قبیلے بتوں کی عبادت نہ کرنے لگیں۔ اور عنقریب میری امت میں کذاب اور جھوٹے لوگ ظاہر ہوں گے ان کی تعداد تیس ہو گی ان میں سے ہر ایک کا دعوی ہو گا کہ وہ نبی ہے۔ حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ اور میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر رہے گا۔ ابن عیسیٰ نے کہا: حق پر غالب رہے گا۔ ان کا کوئی مخالف ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکے گا حتیٰ کہ اللہ کا فیصلہ آ جائے گا۔”

قال الشيخ الألباني: صحيح

جی یہ حدیث پرشور اس بات کو بیان اور واضح کرتی ہے کہ سب غیر مسلم اقوام مل کر بھی ہمارا کچھ نہیں بگاڑ پائیں گی تا آنکہ ہم خود ایک دوسرے کے خون سے اپنے ہاتھ رنگین نہ کرلیں۔

اب ذرا غور کریں اکیسویں صدی کے آغاز پر ایک خودساختہ حادثہ تشکیل دیا گیا نو گیارہ کا اور پھر یکدم ایک اصلاح “دہشت گردی” ساری دنیا کی زبان پر عام کروادی گئی جو کہ دراصل ایک مذہبی و معاشرتی غلطی ہے اسلامی شرعیہ میں “خروج” کے نام سے جانی جاتی ہے۔

گزشتہ سترہ سالوں سے امت مسلمہ کو اس ایک لفظی جنگی چال میں الجھا کر دشمن افغانستان, پاکستان, ترکی, عراق, شام, یمن, سعودیہ عرب, لیبیا, مراکش, قطر, کویت, اردن اور لبنان میں اعلانیہ و غیر اعلانیہ متنزل کررہا ہے لیکن چاہ کر بھی مٹا نہیں سکا۔جن مسلمان لیڈروں کو ان بدبخت صیہونی و عیسائی دشمنوں کی یہ گہری چال سمجھ آگئی تھی وہ دو دھڑوں میں تقسیم ہوئے۔

ایک دھڑے نے جذباتی فیصلے کیے اور آج ان لیڈروں کی زندگی کے چراغ گل ہوئے بھی وقت ہوگیا ہے۔دوسرے دھڑے میں جو لیڈر موجود تھے وہ بظاہر براہ راست جڑے بھی ہوئے تھے دشمن کی چال سے جن میں پرویز مشرف, ایران اور آل سعود اور دیگر عرب زعماء شامل تھے لیکن جب وقت نے کروٹ لی تو ان لیڈروں کی دور اندیشی اور بروقت فیصلوں کے بہترین نتائج ملنا شروع ہوئے اور ان کے پیش روؤں کو اب ہر طرح کا فیصلہ کرنے میں آسانی ہے۔

دشمن نے دہشت گردی کو چال بنا کر چلا جو الٹی پڑگئی۔پھر دہشت گردی کو ہتھیار بناکر لانچ کیا۔کمزور عقیدے والے اور متشدد سوچ والے مسلمانوں کو تربیت, پیسہ اور غلط مقصد دے کر مسلمان ممالک میں دھکیل کر دہشت گردی یعنی خروج کی لہر چلادی۔اتنا جانی و مالی نقصان کروایا ان دہشت گردوں, ان خوارج سے کہ الامان الحفیظ۔پھر بھی ہر مسلم ملک نے اپنی مدد آپ کے تحت مقابلہ کیا۔کوئی پاکستان کی طرح جنگ جیتا اور کوئی عراق کی طرح ہار گیا۔چند احادیث پڑھیں پھر آپ کو قرب قیامت کی جنگوں, فتنوں, مصلحتوں اور حکمتوں کا صحیح اندازہ ہوگا۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَتَيْنَا أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏فَشَكَوْنَا إِلَيْهِ مَا نَلْقَى مِنَ الْحَجَّاجِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ “”اصْبِرُوا، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّهُ لَا يَأْتِي عَلَيْكُمْ زَمَانٌ إِلَّا الَّذِي بَعْدَهُ شَرٌّ مِنْهُ حَتَّى تَلْقَوْا رَبَّكُمْ، ‏‏‏‏‏‏سَمِعْتُهُ مِنْ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ””صحیح بخاری 7068

ہم انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے حجاج کے طرز عمل کی شکایت کی، انہوں نے کہا کہ صبر کرو کیونکہ تم پر جو دور بھی آتا ہے تو اس کے بعد آنے والا دور اس سے بھی برا ہو گا یہاں تک کہ تم اپنے رب سے جا ملو۔ میں نے یہ تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔

یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ ہم کن حالات کا شکار ہیں۔

بالکل یہ بات واضح ہے کہ شکوے شکایات کا وقت نہیں بلکہ صبر اور تدبر کی ضرورت ہے۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ بُرَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي مُوسَى، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ “”مَنْ حَمَلَ عَلَيْنَا السِّلَاحَ فَلَيْسَ مِنَّا””.صحیح بخاری 7071

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس نے ہم مسلمانوں پر ہتھیار اٹھایا وہ ہم سے نہیں ہے۔“

خوارج کی سب بڑی نشانی اور خارجیت کی دلیل ہے یہ حدیث۔

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ يَعِيشَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لِعُبَيْدٍ قَالَا حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ بْنِ سُلَيْمَانَ مَوْلَى خَالِدِ بْنِ خَالِدٍ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنَعَتْ الْعِرَاقُ دِرْهَمَهَا وَقَفِيزَهَا وَمَنَعَتْ الشَّأْمُ مُدْيَهَا وَدِينَارَهَا وَمَنَعَتْ مِصْرُ إِرْدَبَّهَا وَدِينَارَهَا وَعُدْتُمْ مِنْ حَيْثُ بَدَأْتُمْ وَعُدْتُمْ مِنْ حَيْثُ بَدَأْتُمْ وَعُدْتُمْ مِنْ حَيْثُ بَدَأْتُمْ شَهِدَ عَلَى ذَلِكَ لَحْمُ أَبِي هُرَيْرَةَ وَدَمُهُ۔ صحیح مسلم7277

ابو صالح نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ( میں دیکھ رہا ہوں کہ ) عراق نے اپنے درہم اور قفیر کو روک لیا ہے اور شام نے اپنا مدی اور دینار روک لیاہے اور مصر نے اپنا اردب اور دینار روک لیا ہے اور تم وہیں پہنچ گئے ہو جہاں سے تمھارا آغاز تھا اور تم وہیں پہنچ گئے ہو جہاں سے تمھارا آغاز تھا ۔ اور تم وہیں پہنچ گئےہو ۔ جہاں تمھارا آغاز تھا ۔ اس پر ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا گوشت اور خون گواہ ہے ۔

جی یہ حدیث واضح کررہی ہے کہ عرب بلخصوص حجاز مقدس یا حرمین شریفین کو اکیلا پن دیکھنا پڑے گا۔بلکہ ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ اسلام آغاز میں اجنبی تھا اور آخر زمانے میں یہ پھر اجنبی ہوجائےگا اور واپس پلٹ کر وہیں آئےگا جہاں سے نکلا تھا بالکل ایسے جیسے ایک سانپ واپس اپنی بل میں واپس جاتاہے۔اس لیے  سعودیہ عرب کو برا بھلا کہنا ہے تو شوق سے کہو لیکن وہ اسلام کے امین ہیں اور اصل اسلام کے محافظ رہیں گے تاقیامت۔آخری حدیث ذرا غور سے پڑھیں کہ

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ “”لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَقْتَتِلَ فِئَتَانِ عَظِيمَتَانِ يَكُونُ بَيْنَهُمَا مَقْتَلَةٌ عَظِيمَةٌ، ‏‏‏‏‏‏دَعْوَتُهُمَا وَاحِدَةٌ، ‏‏‏‏‏‏وَحَتَّى يُبْعَثَ دَجَّالُونَ كَذَّابُونَ قَرِيبٌ مِنْ ثَلَاثِينَ، ‏‏‏‏‏‏كُلُّهُمْ يَزْعُمُ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَحَتَّى يُقْبَضَ الْعِلْمُ، ‏‏‏‏‏‏وَتَكْثُرَ الزَّلَازِلُ، ‏‏‏‏‏‏وَيَتَقَارَبَ الزَّمَانُ، ‏‏‏‏‏‏وَتَظْهَرَ الْفِتَنُ، ‏‏‏‏‏‏وَيَكْثُرَ الْهَرْجُ:‏‏‏‏ وَهُوَ الْقَتْلُ، ‏‏‏‏‏‏وَحَتَّى يَكْثُرَ فِيكُمُ الْمَالُ فَيَفِيضَ حَتَّى يُهِمَّ رَبَّ الْمَالِ مَنْ يَقْبَلُ صَدَقَتَهُ وَحَتَّى يَعْرِضَهُ عَلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏فَيَقُولَ الَّذِي يَعْرِضُهُ عَلَيْهِ:‏‏‏‏ لَا أَرَبَ لِي بِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَحَتَّى يَتَطَاوَلَ النَّاسُ فِي الْبُنْيَانِ، ‏‏‏‏‏‏وَحَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ بِقَبْرِ الرَّجُلِ، ‏‏‏‏‏‏فَيَقُولُ:‏‏‏‏ يَا لَيْتَنِي مَكَانَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَحَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا طَلَعَتْ وَرَآهَا النَّاسُ، ‏‏‏‏‏‏يَعْنِي آمَنُوا أَجْمَعُونَ، ‏‏‏‏‏‏فَذَلِكَ حِينَ لَا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا، ‏‏‏‏‏‏وَلَتَقُومَنَّ السَّاعَةُ وَقَدْ نَشَرَ الرَّجُلَانِ ثَوْبَهُمَا بَيْنَهُمَا، ‏‏‏‏‏‏فَلَا يَتَبَايَعَانِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا يَطْوِيَانِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَلَتَقُومَنَّ السَّاعَةُ وَقَدِ انْصَرَفَ الرَّجُلُ بِلَبَنِ لِقْحَتِهِ فَلَا يَطْعَمُهُ، ‏‏‏‏‏‏وَلَتَقُومَنَّ السَّاعَةُ وَهُوَ يُلِيطُ حَوْضَهُ فَلَا يَسْقِي فِيهِ، ‏‏‏‏‏‏وَلَتَقُومَنَّ السَّاعَةُ وَقَدْ رَفَعَ أُكْلَتَهُ إِلَى فِيهِ فَلَا يَطْعَمُهَا””.صحیح بخاری 7121

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک دو عظیم جماعتیں جنگ نہ کریں گی۔ ان دونوں جماعتوں کے درمیان بڑی خونریزی ہو گی۔ حالانکہ دونوں کا دعویٰ ایک ہی ہو گا اور یہاں تک کہ بہت سے جھوٹے دجال بھیجے جائیں گے۔ تقریباً تین دجال۔ ان میں سے ہر ایک دعویٰ کرے گا کہ وہ اللہ کا رسول ہے اور یہاں تک کہ علم اٹھا لیا جائے گا اور زلزلوں کی کثرت ہو گی اور زمانہ قریب ہو جائے گا اور فتنے ظاہر ہو جائیں گے اور ہرج بڑھ جائے گا اور ہرج سے مراد قتل ہے اور یہاں تک کہ تمہارے پاس مال کی کثرت ہو جائے گی بلکہ بہہ پڑے گا اور یہاں تک کہ صاحب مال کو اس کی  فکر دامن گیر ہو گی  کہ اس کا صدقہ قبول کون کرے اور یہاں تک کہ وہ پیش کرے گا لیکن جس کے سامنے پیش کرے گا وہ کہے گا کہ مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے اور یہاں تک کہ لوگ بڑی بڑی عمارتوں پر آپس میں فخر کریں گے۔ ایک سے ایک بڑھ چڑھ کر عمارات بنائیں گے اور یہاں تک کہ ایک شخص دوسرے کی قبر سے گزرے گا اور کہے گا کہ کاش میں بھی اسی جگہ ہوتا اور یہاں تک کہ سورج مغرب سے نکلے گا۔ پس جب وہ اس طرح طلوع ہو گا اور لوگ دیکھ لیں گے تو سب ایمان لے آئیں گے لیکن یہ وہ وقت ہو گا جب کسی ایسے شخص کو اس کا ایمان لانا فائدہ نہ پہنچائے گا جو پہلے سے ایمان نہ لایا ہو یا اس نے اپنے ایمان کے ساتھ اچھے کام نہ کیے  ہوں اور قیامت اچانک اس طرح قائم ہو جائے گی کہ دو آدمیوں نے اپنے درمیان کپڑا پھیلا رکھا ہو گا اور اسے ابھی بیچ نہ پائے ہوں گے نہ لپیٹ پائے ہوں گے اور قیامت اس طرح برپا ہو جائے گی کہ ایک شخص اپنی اونٹنی کا دودھ نکال کر واپس ہوا ہو گا کہ اسے کھا بھی نہ پایا ہو گا اور قیامت اس طرح قائم ہو جائے گی کہ وہ اپنے حوض کو درست کر رہا ہو گا اور اس میں سے پانی بھی نہ پیا ہو گا اور قیامت اس طرح قائم ہو جائے گی کہ اس نے اپنا لقمہ منہ کی طرف اٹھایا ہو گا اور ابھی اسے کھایا بھی نہ ہو گا۔

اس حدیث میں ویسے تو سب باتیں پڑھنے اور غور کرنے لائق ہیں لیکن مضمون کے موضوع کے حساب سے اس جملے پر غور  کیجئے کہ  قیامت تب تک قائم نہیں ہوگی جب تک دو جماعتوں کے مابین جنگ نہ ہو ایک ہی دعوے پر۔

علماء کی رہنمائی میں مجھے معلوم ہوا ہے کہ یہ دو جماعتوں والی جنگ مسلمانوں کے مابین ہے نا کہ دجال اور اس کے پیروکاروں یا  مسلمانوں کی عیسائیوں کے ساتھ۔اب آجائیں موجودہ حالات کی طرف جب ہم ہر طرف افرا تفری دیکھتے ہیں۔مسلمان ممالک میں اعلانیہ اور غیر اعلانیہ خروج کے داعی خوارج ایکٹو ہیں۔جو شدت سے خلافت, توحید اور ختم نبوت کے نعرے لگاکر برسرپیکار ہیں اور ان کا ہدف مسلمان کلمہ گو ہی ہیں جن کو وہ مرتد, کافر اور کافروں کا دوست کہہ کر مارنے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔ان کا دعوع ہے کہ پہلے مرتد و کافر مسلمان مارے جائیں گے تب اسلام خالص ہوگا تب ہم کفار کے خلاف جہاد کا اعلان کریں گے۔جبکہ درحقیقت آج کے خوارج بھی قدیم خوارج سے الگ نہیں۔

زیادہ نہیں 900 سال پیچھے چلیں۔۔سلطان صلاح الدین ایوبی دمشق سےاوائل جوانی میں یروشلم فتح کرنے نکلا لیکن عین بڑھاپے کی دہلیز پر پہنچ کر بیت المقدس فتح کر پایا۔وجہ کیا تھی اتنی دیر کرنے کی؟

کیا بزدل تھا؟وسائل کم تھے تب امت مسلمہ کے پاس؟خلافت نہیں تھی کیا؟جہاد کا اعلان نہیں ہوا تھا کیا؟کیا یروشلم میں مسلمان خوش و خرم تھے؟کیا فرقہ واریت کا مسئلہ تھا؟۔۔۔کیا مسئلہ  تھا آخر؟

جی نہیں ایسا کچھ نہیں تھالیکن خوارج کا فتنہ شدو مد سے تھا جن کی پشت پر ٹھیک آج کی طرح یہود اور نصاریٰ موجود تھے جو خود لڑ نہیں سکتے تھے اسی لیےاپنی کٹھ پتلیوں کو بیچ میں چھوڑ کر محفوظ تھے مسلمانوں کے آپسی الجھاؤ کو دیکھ کر۔یہ خوارج حسن بن صباح کے حشیشان تھے جو سلطان کی پیدائش سے بھی سو سال پہلے سے موجود تھے۔لیکن ان کو صحیح ٹکر دی اور سمجھا تو سلطان نے اور الحمداللہ ان کا جزوی خاتمہ بھی سلطان کے دست مبارک سے ہوا۔فرقہ واریت کا بت بھی سلطان نے توڑا مکمل امن اور امان کے ساتھ اور حکمت و مصلحت کا بہترین مظاہرہ کرکے۔مسلمانوں کے آپسی جھگڑوں کو ختم کرکے متحد کیا۔جب یہ سب ٹاسک حاصل  کیے تو فوج کی تشکیل کی متحدہ جھنڈے تلے اور رخ کیا بیت المقدس کا۔پھر مسلمان تو مسلمان غیر مسلم مورخ بھی داد دیئے بغیر نہ رہ سکے اس بہادر مسلمان جرنیل کی حکمت عملی اور فتح کو۔

آج کا مسلمان بھی ویسا ہی ہے بس جذباتی زیادہ ہے کہ حکمت عملی اور مصلحت سے واقف نہیں۔محمد بن سلمان اور راحیل شریف کو ابھی جمعہ جمعہ آٹھ دن ہوئے ہیں مسند اختیارات سنبھالے ہوئے۔اور آپ سب بیت المقدس اور کشمیر کی فتح دیکھ رہے ہو آج کل میں ہی۔مورخین کی رائے میں سلطان کو بیت المقدس کی فتح کرنے تک کم ازکم اندرونی معاملات کی تنظیم اور ترتیب میں 40ً سال سے زائد کا وقت لگا تھا۔حالانکہ تب ٹیکنالوجی بھی اتنی جدید نہیں تھی  اور سلطان اکیلا تھا آغاز میں۔آج تو ماحول اور ہے لیکن آپ مانو یا نہ مانو راحیل شریف اور محمد بن سلمان کو وہی حکمت عملی اپنانی پڑ رہی ہے جو صلاح الدین ایوبی اورعلی بن سفیان کو اپنانی پڑی تھی جس کا تجزیاتی تذکرہ اوپر میں کر چکا ہوں۔

اس لیے جو  جو فرقہ پرست اور متفرق امت مسلمہ بن کر اسلامی عسکری اتحاد سے یہ سوال کررہا ہےکہ جی کب بیت المقدس یا کشمیر جارہے ہو تو سن لو تم اپنے حق میں یہ بہتر نہیں کررہے۔اس اسلامی عسکری اتحاد میں اللہ کی خیر اور مرضی شامل ہے۔جب یہ اتحاد خوارج و فرقہ پرست دھڑوں کا مکمل صفایہ کرلے گا اور امت مسلمہ میں امن اور خیر قائم ہوگی سلطان کے دور کی طرح تب ان شاء ﷲ دنوں میں بیت المقدس کیا کشمیر بھی فتح ہوگا میرےاللہ  کے حکم سے۔

یہ شکایتی ٹٹو بننا ترک کرو۔صبر کرو صبر۔صبر میں خیر ہے۔اللہ  کی قسم مجھے اس اسلامی عسکری اتحاد پر اللہ کی رضا کے لیے یقین اور بھروسہ ہے۔ابھی اس موضوع پر میں اور بھی لکھنا چاہتا تھا لیکن تحریر کافی لمبی ہوگئی ہے۔لیکن میں اس پر مزید بھی لکھوں گا اگلے چند دنوں میں۔اللہ  ہم سب کو حکمت عملی اور مصلحت کو سمجھنےکی توفیق اور استقامت دے۔آمین

بلال شوکت آزاد
بلال شوکت آزاد
بلال شوکت آزاد نام ہے۔ آزاد تخلص اور آزادیات قلمی عنوان ہے۔ شاعری, نثر, مزاحیات, تحقیق, کالم نگاری اور بلاگنگ کی اصناف پر عبور حاصل ہے ۔ ایک فوجی, تعلیمی اور سلجھے ہوئے خاندان سے تعلق ہے۔ مطالعہ کتب اور دوست بنانے کا شوق ہے۔ سیاحت سے بہت شغف ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *