ہوئے تم دوست جس کے۔۔سید عارف مصطفٰی

SHOPPING

 ایک بار پھر دربدر فارغ پھرتے عامر لیاقت خبروں میں اِن ہیں اور اب کے ایم کیو ایم پاکستان کے ڈپٹی کنوینر کامران ٹیسوری نے گزشتہ دنوں اپنی پریس کانفرنس میں عامر لیاقت کے بارے میں یہ کہا ہے کہ انہوں نے ان کی اور علی رضا عابدی کی کردار کشی کی ہے۔ مزے دار بات یہ ہے کہ اس موقع پہ ان کے ساتھ وہی علی رضا عابدی بھی موجود تھے کہ چند روز قبل 22 نومبر کو جن کی تصویر عامر لیاقت نے اپنے ٹوئٹر سے جاری کی ہے اور جس میں وہ علی رضا عابدی کے ساتھ ا ن کا بازو تھامے دوستی بگھارتے اور مسکراتے ہوئے نظر آرہے ہیں ۔۔۔ کامران ٹیسوری کے معاملے پہ تو پھر کبھی بات ہوگی لیکن فی الوقت علی رضا عابدی کے معاملے کا جائزہ پیش کردیا جائے اور چونکہ یہ تصویر کسی اور نے نہیں بلکہ خود عامر لیاقت نے دو روز قبل اپنے ٹوئٹر سے جاری کی ہے لہٰذا کسی بھی جانب سے اسے جعلی قرار دیے  جانے کا بھی کوئی احتمال نہیں۔

یہ علی رضا عابدی وہی صاحب ہیں کہ جن کی مبینہ ملک دشمن سرگرمیوں کے بارے میں گزشتہ ماہ 20 اکتوبر کو بول پہ اپنے پروگرام ایسے نہیں چلے گا میں ناظرین کو عامر لیاقت نے اپنے گلے کی رگیں پھلا پھلا کے بڑی خوفناک اطلاعات بہم پہنچائی تھیں کہ علی رضا عابدی درحقیقت ایم کیو ایم لندن کے ایجنٹ ہیں اور ان کے فوڈ پوائنٹ بریانی آف دی سیز میں ملکی سالمیت کے خلاف منصوبہ بندیاں ہوتی ہیں اور کئی اور لوگوں کے نام بھی لیے تھے کہ جو ان گھناؤنی سرگرمیوں میں شریک ہوتے ہیں اور اسی حوالے سے ایک فلم کی تیاری کا بھی حوالہ دیا گیا تھا جو کہ انہی لوگوں کی سرپرستی میں پاکستانی سماج  کی تصویر کو مسخ کرکے پیش کرنے اور یوں دنیا میں پاکستان کو بدنام کرنے کی مکروہ نیت اور غرض سے بنائی جارہی ہے۔

اس کے بعد موصوف نے وطن کے خلاف بھیانک سازش کے اس معاملے کو ایک پروگرام میں سمیٹنا نا ممکن بتاتے ہوئے اس کا دوسرا حصہ اگلے روز پیش کرنے کا اعلان کیا تھا۔ دوسرے روز مگرعجیب واقعہ یہ ہوا کہ عامر لیاقت نے اس بارے میں کچھ بھی نہیں بتایا اور اپنے پروگرام میں موصوف علی رضا عابدی کے بارے میں منمناتے ہوئے یہ بتا کے آگے بڑھ گئے تھے کہ چونکہ علی رضا عابدی ان کے مرحوم اباجان کے دوست کے بیٹے نکل آئے ہیں لہٰذا اس پہ اب  بات  نہیں ہوگی ۔ اور ناظرین ان کے اس کمال کرم گستری پہ ششدر رہ گئے تھے ۔ گویا ملکی سلامتی کے تقاضے وقاضے گئے چولہے بھاڑ میں اور عفو و درگزر کی دلیل بس یہ ٹھہری کہ کسی شخص کی مبینہ ملک دشمن سرگرمیاں محض اس لیے لائق نظراندازی ہیں کہ وہ عامرلیاقت کے والد مرحوم کے دوست کا فرزند ہے ۔

چونکہ عامر لیاقت نے یہ دونوں متضاد چھلانگیں بول چینل کے پروگرام ہی میں لگائی تھیں لہٰذا یہ فرض تو بول کی انتظامیہ کا بنتا تھا کہ وہ اس جعلساز اینکر کی  مکرنی اور فریب کاری کا سخت نوٹس لیتی اور عامر لیاقت کے ہوش ٹھکانے لگا دیتی کیونکہ   اگرعابدی کے متعلق اس کے الزامات درست تھے تو پھر یہ درگزر کیسا؟ اور اگر یہ الزامات غلط تھے تو لگائے ہی کیوں گئے؟۔ لیکن بول والے کسی ایک معاملے پہ کیا روئیں، اور کب تک اور کہاں تک روئیں کیونکہ ایک تو عامرلیاقت کی ساری طاقت لسانی ایسی ہی   الزام تراشیوں اور چومکھیوں کی رہین منت ہے تو دوسری طرف خود بول کی نشریات اسی طرح کے   کھیل پہ منحصر ہیں کہ جس میں جب جی چاہے کسی بھی عزت دار کی پگڑی اچھال دینے ہی کو بلند معیار صحافت گردانا جاتا ہے

لیکن اب بول سے باہر آکر  عامر لیاقت نے خود بول کے بارے میں جو کچھ خوفناک انکشافات کیے ہیں وہ ایک الگ کالم کے متقاضی ہیں اور یہ الزامات چونکہ گھر کے اس بھیدی کے ہیں کہ جو کل تک ان کے   کھیل کا شریک تھا۔ چنانچہ اس کے انکشافات کو یونہی آسانی سے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا اور اس پہ اگلے کالم میں تفصیل سے بات کی جائےگی ،فی الوقت بول والوں‌سے میرا یہی کہنا ہے کہ صرف اپنے منہ سے یہ کہتے چلے جانے سے کہ ‘ ہم نمبر ون چینل ہیں ‘ کوئی میڈیا ھاؤس نمبر ون نہیں بن جاتا بلکہ اس کے لیے  معیاری تحقیقاتی رپورٹنگ اور عمیق نگاہی  سے کیے  گئے قابل بھروسہ تجزیات ہی کسی چینل کو بڑا بناتے ہیں اور اس حوالے سے بول نے عوام کو بری طرح سے مایوس کیا ہے

SHOPPING

کیونکہ اس کا دامن سچ کے لہو سے اس بری طرح داغدار ہے کہ  یہ سڑک چھاپ طرز صحافت اب اس کی شناخت بن گئی ہے اور اس نے اپنے انہی معاملات کے لیے  جب عامر لیاقت کو چنا تھا تو وہ یہ بھول گئے تھے ایسے  ابن الوقت لوگ اس انداز صحافت کی بنیاد پہ عوام کی نفرتیں تو حاصل کرسکتے ہیں لیکن کسی کو اعتبار و وقار نہیں دلا سکتے اور بدلے ہوئے حالات میں تو ایسے لوگ ذرا دیر نہیں لگاتے کہ چھلانگ لگاکے آناً فاناً  مخالف کیمپ کا حصہ بن جائیں اور پھر وعدہ معاف  گواہ بن کر  اس کے ہی خلاف شواہد دینے کا سب سے بڑا ذریعہ بھی بن جائیں۔

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *