کھیل کھیل میں /پروفیسر رفعت مظہر

اسحاق ڈار کی وطن واپسی عمران نیازی کے لیے بڑا جھٹکا ثابت ہوئی اور محترمہ مریم نواز کی باعزت رہائی نے تو اُنہیں جھنجھوڑ کے رکھ دیا۔ وجہ یہ کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے معزز بنچ کے مطابق ایون فیلڈ ریفرنس میں نیب مریم نواز کے خلاف کوئی ایک ثبوت بھی پیش نہیں کر سکا۔ اِس فیصلے کے بعد میاں نوازشریف کی واپسی کی راہ ہموار ہو گئی ہے کیونکہ ایون فیلڈ ریفرنس میں جو الزامات مریم نواز پر تھے وہی میاں نوازشریف پر بھی ہیں۔ عمران نیازی جتنی جی چاہے بڑھکیں مار لیں لیکن ادراک اُنہیں بھی ہے کہ میاں نوازشریف کی واپسی اُن کی سیاسی موت ہے۔

اُنہیں تیسرا بڑا سیاسی جھٹکا اُس وقت لگا جب اسحاق ڈار نے وطن واپسی کے2دن بعد ہی پٹرول، ڈیزل اور ایل پی حی کی قیمتیں کم کر دیں۔ پٹرول کی قیمت میں۔ 12.63 روپے اور ڈیزل کی قیمت میں 12.13 روپے کمی کر دی جبکہ ایل پی جی کی قیمت بھی 10 روپے فی کلو کم کر دی گئی۔ ڈالر کے ریٹ تیزی سے کم ہو رہے ہیں اور سٹاک مارکیٹ میں استحکام نظر آ رہا ہے۔ اِن اقدامات سے قوم میں اُمیدوں کے چراغ ایک دفعہ پھر روشن ہو گئے ہیں جو عمران خاں کو کسی صورت قبول نہیں کیونکہ اِن اقدامات سے نوازلیگ کی مقبولیت بڑھے گی جو عمران خاں کے لیے سُمِ قاتل ہے۔

FaceLore Pakistan Social Media Site
پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

عمران خاں کے لیے چوتھا بڑا سیاسی جھٹکا آڈیولیک جس نے اُن کے امریکی سازش کے بیانیے کا بھانڈا بیچ چوراہے پھوڑ دیا۔ اِس آڈیو میں وہ سائفر کے معاملے پر اپنے پرنسپل سیکرٹری اعظم خاں کو کہہ رہے ہیں”ہم نے صرف اِس پر کھیلنا ہے، امریکہ کا نام نہیں لینا”۔ اعظم خاں نے کہا کہ سائفر پر ایک میٹنگ بلا لیتے ہیں۔ شاہ محمود قریشی اور فارن سیکرٹری کو بلاتے ہیں۔ شاہ محمود قریشی وہ پڑھ کر سنائے گا تو میں کاپی کرلوں گا۔ میں منٹس لے لوں گا کہ فارن سیکرٹری نے یہ دستاویز بنا کر دی ہے۔ پھر تجزیہ اپنی مرضی کے منٹس میں کر دیں گے۔ تجزیہ یہ ہوگا کہ ڈپلومیٹک زبان میں اِسے تھریٹ ہی کہتے ہیں۔ منٹس تو پھر میرے ہاتھ میں ہی ہیں۔ اپنی مرضی کے منٹس ڈرافٹ کر لیں گے۔ عمران خاں نے کہا “فارن سازش بنا دیتے ہیں”۔

دوسری آڈیو میں عمران خاں، اعظم خاں، اسد عمر اور شاہ محمود قریشی سائفر سے متعلق بات کر رہے ہیں۔ اِس آڈیو میں عمران خاں شاہ محمود قریشی سے کہتے ہیں”اچھا شاہ جی! کل ہم تینوں (عمران خاں، اعظم خاں، شاہ محمود قریشی) اور فارن سیکرٹری نے بریفنگ کرنی ہے۔ ہم نے کہنا ہے کہ وہ جو لیٹر ہے ناں اِس کے چُپ کرکے مرضی کے منٹس لکھ دے۔ اعظم خاں کہہ رہے ہیں اِس کے منٹس بنا لیتے ہیں اور اِسے فوٹوسٹیٹ کرکے رکھ لیتے ہیں”۔ پھر عمران خاں کہتے ہیں”ہم نے کسی صورت امریکہ کا نام نہیں لینا۔ پلیز کسی کے مُنہ سے امریکہ کا نام نہ نکلے”۔ اسد عمر نے کہا “یہ مراسلہ نہیں ہے، یہ تو میٹنگ کا ٹرانسکرپٹ ہے”۔

عمران خاں نے کہا “نہیں، ہم نے اِس کو مراسلہ ہی کہنا ہے”۔ اِن آڈیولیکس کے بعد کیا شک کی کوئی گنجائش باقی رہ جاتی ہے کہ عمران خاں نے ملک وقوم سے غداری کرتے ہوئے پاکستانیوں کو گمراہ کیا اور 6 ماہ تک امریکی سازش کا چورن بیچتے ہوئے پاک امریکہ تعلقات کو برباد کرنے کی کوشش کی۔ جب اسد عمر نے کہا کہ ہم اِس کو لیٹر نہیں کہہ سکتے تو عمران خاں کا جواب تھا “ہم اِس کو لیٹر ہی کہیں گے، عوام کو کہاں سمجھ آتی ہے”۔ کیا عمران خاں یہ سمجھتے ہیں کہ قوم کی مجموعی دانش کو گھُن چاٹ چکا ہے؟ کیا وہ عوام کو اتنا ہی بیوقوف سمجھتے ہیں کہ وہ سیدھی سی بات کا مطلب بھی سمجھ نہیں پائیں گے؟ ہم سمجھتے ہیں کہ عمران خاں کے چند دیوانوں، پروانوں کے سوا سبھی اِس سازشی تھیوری کو سمجھ چکے اور اب خاں صاحب یہ چورن کبھی بیچ نہیں پائیں گے۔

دنیا جہان میں اصول یہی کہ بڑے رَہنماء درسگاہوں تربیت اوراخلاقیات پر لیکچر دیتے ہیں۔ یہ لیکچر بدزبانی، بدکلامی اور بدتہذیبی کو پروان چڑھانے کے لیے نہیں بلکہ اِن کا مقصد تربیت ہوتا ہے۔ اَناپرست اور نرگسیت کے شکار عمران خاں نے پہلے گورنمنٹ کالج لاہوریونیورسٹی میں طلباء وطالبات سے خطاب کرتے ہوئے جھوٹ کی آڑھت سجائی اور پھر پشاور کی درسگاہ میں خطاب کیا۔ پشاور میں خطاب کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا “میں ملک کے محافظوں سے سوال کرتا ہوں کہ اگر ڈاکو ملک کو لوٹ رہے ہوں تو کیا چوکیدار کہہ سکتا ہے کہ میں نیوٹرل ہوں۔ گھر والے کیا کہیں گے کہ میرا گھر لوٹا جا رہا ہے اور چوکیدار کہتے ہیں کہ میں نیوٹرل ہوں”۔

فوج کو کبھی جانور اور کبھی مسٹر ایکس اور مسٹر وائی کہہ کر مخاطب کرنے والے عمران خاں توشاید بھول چکے کہ وہ اِسی فوج کی گود کے پالے ہوئے ہیں لیکن قوم مرضِ نسیاں میں مبتلاء نہیں۔ وہ خوب جانتی ہے کہ 2018ء کے عام انتخابات میں عمران خاں کے سر پر اقتدار کا ہما بٹھانے کے لیے مسٹر ایکس اور مسٹر وائی نے کیا کیا جتن نہ کیے۔ دھمکی آمیز فون کرکے الیکٹیبلز کو اُن کے گرد اکٹھا کیا۔ میدان خالی کرنے کے لیے میاں نوازشریف اور مریم نواز کو عدلیہ کے ذریعے نااہل کروایا گیا۔

عمران خاں کے جلسوں کو کامیاب بنانے کے لیے ہر حربہ استعمال کیا گیا۔ میڈیا کو دباؤ میں لا کر اُن کے جلسوں کی گھنٹوں بلکہ پہروں براہ راست کوریج کروائی گئی اور پھر بھی جب بات بگڑتی دکھائی دی تو الیکشن ڈے پر نہ صرف آر ٹی ایس سسٹم بٹھا دیا گیا بلکہ مخالفین کے پولنگ ایجنٹس کو پولنگ سٹیشنوں سے باہر نکال کر عمران خاں کے حق میں ٹھپّے لگوائے گئے۔ جب نتیجہ سامنے آیا تو اتنی کوششوں اور کاوشوں کے باوجود تحریکِ انصاف سادہ اکثریت بھی حاصل نہ کر سکی۔ پھر جہانگیر ترین اور علیم خاں کے جہاز حرکت میں آئے۔ ایم کیوایم، بی اے پی اور چھوٹی سیاسی جماعتوں کو آنکھیں دکھائی گئیں۔

آزاد ارکانِ پارلیمنٹ کو دباؤ میں لایا گیا۔ تحریکِ انصاف جو پہلے ہی “کہیں کی اینٹ کہیں کا روڑا، بھان متی نے کُنبہ جوڑا” کی عملی تصویر تھی، اُس میں گھیر گھار کے لائی جانے والی سیاسی جماعتوں کی شرکت نے چوں چوں کا مربہ بنا دیا۔ 2011ء سے 2018ء تک کا یہ طویل اور دشوارگزار سفر مسٹر ایکس اور مسٹر وائی کی کاوشوں کا ہی نتیجہ تھا۔ وہی مسٹر ایکس اور مسٹر وائی جنہیں آجکل وہ جانور کہہ کر پکارتے ہیں۔ وہی مسٹر ایکس اور مسٹر وائی جن پر وہ الزام دھرتے ہیں کہ انہوں نے امریکی سازش کامیاب بنانے کے لیے ہینڈلرزکا کردار ادا کیا۔ وہی مسٹر ایکس اور مسٹر وائی جو خان کے نزدیک میرجعفر وصادق ہیں۔

عمران خاں کا امریکی سازش کا کھیل تو چوپٹ ہو گیا لیکن اِس سے فوج اور اسٹیبلشمنٹ کو کتنا نقصان پہنچا، کتنی جگ ہنسائی ہوئی، اِس کا کوئی اندازہ نہیں کر سکتا۔ خان مگر اِس سے لاتعلق کہ اُس کا مقصد محض حصولِ اقتدار خواہ اِس تگ ودَو میں پاکستان سری لنکا بنے یا بنانا ریپبلک۔ اِس تگ ودَو میں آئی ایم ایف کو قرضے کی اگلی قسط کی ادائیگی سے منع کرنے کے لیے خیبر پختونخوا کے وزیرِخزانہ سے خط لکھوایااور اقوامِ عالم کو سیلاب زدگان کی امداد سے روکنے کی بھی کوشش کی لیکن یہ مملکتِ خداداد ہے جس پر کسی جادوٹونے یا شیطانی فعل کا اثر ناممکن۔

اب سوال یہ ہے کہ جو شخص اپنی ذات کی خاطر وطن کی سلامتی داؤ پر لگا سکتا ہے اُسے غدار نہیں تو اور کیا کہیں گے؟ سچ کہا ہے مریم نواز نے “جتنی بڑی وسنگین سکیورٹی بریچ تم نے وزیرِاعظم کے دفتر میں بیٹھ کر اپنے سیکرٹری اور حواریوں کے ساتھ مل کر کی، اِس کا مقابلہ کوئی پاکستان کا بدترین دشمن بھی نہیں کر سکتا”۔ حیرت ہمیں مگر اُس وقت ہوئی جب پنجاب ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خاں نے آڈیو لیک پر رَدِعمل دیتے ہوئے انتہائی ڈھٹائی سے کہا “اچھا ہوا آڈیو لیک ہوئی، چاہتا ہوں سائفر کو پبلک کیا جائے”۔ ایک صحافی نے سوال کیا “آپ آڈیو میں کہہ رہے ہیں کہ سائفر پر کھیلنا ہے”۔

Advertisements
julia rana solicitors

عمران خاں نے جواب دیا “ابھی تو میں نے اِس پر کھیلا ہی نہیں، اب یہ ایکسپوز کریں گے تو ہم کھیلیں گے”۔ جہاں تک ہم عمران خاں کو جانتے ہیں وہ ایک بزدل انسان ہیں۔ جو شخص گرفتاری کے خوف سے اپنی بہنوں کو گھر میں چھوڑ کر 10 فُٹ اونچی دیوار پھلانگ کر غائب ہو جاتا ہے اور بعد میں بڑے فخر سے اِس کا اقرار بھی کرتا ہے، اُس کی دلیری تو روزِروشن کی طرح عیاں ہے۔ ضرورت اِس امر کی ہے کہ اُن ہاتھوں کو تلاش کیا جائے جو اس مکروہ کھیل کے پیچھے ہیں۔

  • julia rana solicitors
  • merkit.pk
  • julia rana solicitors london
  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

پروفیسر رفعت مظہر
" پروفیسر رفعت مظہر کالمسٹ “روز نامہ نئی بات قطر کے پاکستان ایجوکیشن سنٹر (کالج سیکشن)میں ملازمت کی آفر ملی تو ہم بے وطن ہو گئے۔ وطن لوٹے تو گورنمنٹ لیکچرار شپ جوائن کر لی۔ میاں بھی ایجوکیشن سے وابستہ تھے ۔ ان کی کبھی کسی پرنسپل سے بنی نہیں ۔ اس لئے خانہ بدوشوں کی سی زندگی گزاری ۔ مری ، کہوٹہ سے پروفیسری کا سفر شروع کیا اور پھر گوجر خان سے ہوتے ہوئے لاہور پہنچے ۔ لیکن “سکوں محال ہے قدرت کے کارخانے میں“ لایور کے تقریباََ تمام معروف کالجز میں پڑھانے کا موقع ملا ۔ زیادہ عرصہ یونیورسٹی آف ایجوکیشن لاہور میں گزرا۔ درس و تدریس کے ساتھ کالم نویسی کا سلسلہ بھی مختلف اخبارات میں جاری ہے۔ . درس و تدریس تو فرضِ منصبی تھا لیکن لکھنے لکھانے کا جنون ہم نے زمانہ طالب علمی سے ہی پال رکھا تھا ۔ سیاسی سرگرمیوں سے ہمیشہ پرہیز کیا لیکن شادی کے بعد میاں کی گھُٹی میں پڑی سیاست کا کچھ کچھ اثر قبول کرتے ہوئے “روزنامہ انصاف“ میں ریگولر کالم نگاری شروع کی اور آجکل “روزنامہ نئی بات“ میں ریگولر دو کالم “قلم درازیاں“ بروز “بدھ “ اور “اتوار“ چھپتے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”کھیل کھیل میں /پروفیسر رفعت مظہر

Leave a Reply