اسلام کے بنیادی اور اہم ترین ادارے کا سوال

جہاں برسوں سے ذہنوں میں جمے جمائے نظریات اور زبانوں پر رٹے رٹائے کلمات پر سوال کرنا ایک جرم بن چکا ہو وہاں میرے سمیت کسی کو بھی اس حساس موضوع پر گفتگو کی جسارت سے قبل الزامات اور فتوؤں کا سامنا کرنے کیلئے خود کو تیار کر لینا چاہئے۔
کسی بھی ادارے یا شعبے میں عام سے منصب کے لئے بھی تقرری کا ایک معیار مقرر ہوتا ہے۔ قابلیت اور اہلیت کا یہ معیار منصب کے تمام تر موجودہ تقاضوں اور مستقبل میں ممکنہ طور پر پیش آنے والی ذمہ داریوں کو مد نظر رکھ کر مقرر کیا جاتا ہے تا کہ ادارے کا وقار برقرار رہے اور ساکھ متاثر نہ ہو۔ ادارے کے مقاصد کے حقیقی حصول کیلئے اس کے سربراہ کا انتخاب انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے کیلئے ضروری ہو جاتا ہے کہ منصب کی اہلیت کے مقررہ معیار پر نظر ثانی کرتے ہوئے اسے درجہ بدرجہ بڑھایا جاتا رہے۔ مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ مسجد جیسے اہم بنیادی دینی ادارے کی سربراہی کیلئے پیش امام ، خطیب یا مہتمم کے مناصب پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔
موجودہ دور میں جو منصب عام مسلمانوں کیلئے دینی مسائل کی معلومات اور ان کے حل تک دسترس کا پہلا ذریعہ ہے، عام مسلمان کے نزدیک جن کی تقاریر دین کی مقامی زبان میں تشریح کا درجہ رکھتی ہیں، جس منصب پر بیٹھ کر کسی کے بھی منہ سے نکلا ایک ایک لفظ لوگوں کے دلوں پر گہرے اثرات چھوڑتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں آپ یوں کہہ سکتے ہیں کہ یہی وہ منصب ہے جس کو عام مسلمانوں کی کثیر تعداد کے ذہنوں تک براہ راست رسائی حاصل ہے۔ اس کا کردار ہمارے معاشرے میں اس قدر اہم ہے مگر اہلیت اور قابلیت کا معیار مقرر کرنے اور اس پر عمل کروانے کی ضرورت اس اسلامی ریاست میں کبھی محسوس نہیں کی گئی۔ اس ادارے سے مکمل بے اعتنائی برتتے ہوئے اسے افراد اور نجی تنظیموں کے لئے کھلا چھوڑ دیا گیا۔ اس ادارے کی اس سے زیادہ بے توقیری اور کیا ہو سکتی ہے کہ اس کے سربراہ کی تقرری کیلئے کوئی قانون اور ضابطہ ہی نہیں۔
سربراہ تنظیمیں اور کمیٹیاں اس معاملے میں مختار کل ہیں جن کی ترجیحات محض مسلک اور شعلہ بیانی ہوتی ہیں۔ اس ساری صورت حال کے اثرات مختلف شکلوں میں ہمارے سامنے ہیں۔ ایک شکل تو یہ ہے کہ مساجد کی سرپرست تنظیم سے وابستہ کوئی بھی فرد معمولی اختلاف پر علیحدہ ہوا اور الگ مسجد بنا لی۔ کچھ لوگوں نے اختلافات نہ ہونے کے باوجود بھی اپنی الگ حیثیت و شناخت برقرار رکھنے کیلئے ایسے اقدام کئے۔ ایک گلی میں ایک ہی مسلک کی تین تین مساجد بن گئیں۔ عالم یہ ہو چکا کہ اس ادارے کے اہم ترین ایونٹ یعنی نماز جمعہ کے دوران آپ کو وہاں کے بجائے اسی گلی میں اسی مسلک کی دوسری مساجد میں ہونے والا خطبہ سنائی دے رہا ہو گا۔ انفرادی طور پر کسی کے زہد و تقویٰ پر شک کرنا کسی بھی طرح مناسب نہیں کہا جا سکتا مگر میں اجتماعی اور عمومی لحاظ سے بات کر رہا ہوں۔ خدارا آپ انفرادی سطح سے اوپر اٹھ کر سوچیئے کہ یہاں سوال مسلمانوں کے اہم ترین ادارے کا ہے اور اداروں کی سربراہی کیلئے اہلیت کی ضرورت ہوتی ہے جو ذاتی زہد و تقویٰ سے بالکل الگ چیز ہے۔
اس تحریر سے پہلے اسی موضوع پر مختلف جگہوں پر میری طرف سے کئے گئے سوال پر کچھ لوگوں کا یہ جواب ملا کہ جب کسی دار العلوم سے درس نظامی یا دیگر کورسز کرنے والوں کو ہی یہ منصب سونپا جاتا ہے تو پھر آپ کس قابلیت اور اہلیت کی بات کر رہے ہیں۔ اس جواب سے یہاں مزید دو سوال پیدا ہوتے ہیں کہ کیا مدارس میں درس نظامی یا اس طرح کے کروائے جانے والے دیگر کورسز پاس کرنے والے وقت کی نبض پر ہاتھ رکھتے ہیں؟ اس سوال سے قطع نظر دوسرا سوال کہ مان بھی لیا جائے کہ درس نظامی اس منصب کیلئے مناسب قابلیت ہے تو کیا اس پر سو فیصد عمل کروایا جا رہا ہے؟ آپ سب عالی دماغ اپنی رائے دینے میں آزاد ہیں مگر حضور ! معذرت کے ساتھ بندہ پچھلی صفوں کا طالب علم ضرور ہے مگر سوچ بچار کی غلطیوں کا عادی ہو چکا ہے‘ اس ناچیز کے نزدیک دونوں سوالات کے جوابات نفی میں ہیں۔
ذہن میں اٹھنے والا سوال تحریر کی صورت میں حاضر خدمت ہے۔ غور فرمائے جانے کی امید اور رہنمائی کی درخواست ہے۔

محمد اعظم
محمد اعظم
شعلۂ مضطر ہوں میں لیکن ابھی پتھر میں ہوں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *