ڈونلڈ ٹرمپ سے کیا گِلہ؟۔۔رعایت اللہ فاروقی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یروشلم کو اسرائیل کا دار الحکومت تسلیم کرتے ہوئے امریکی سفارتخانہ وہاں منتقل کرنے کے حکم نامے پر دستخط کیے ہیں۔ اس اقدام کے فورا ً بعد سے ہمارا میڈیا اس فیصلے کا تاریخی تناظر پیش کرتے ہوئے اسرائیل کے وجود میں آنے سے لے کر اب تک کی تاریخ کے تمام چیدہ چیدہ واقعات پیش کر رہا ہے اور ظاہر ہے کہ یہ ساری سٹوریاں اسرائیل ہی کے ارد گرد گھومتی نظر آتی ہیں جو بادی النظر میں قابل فہم بھی ہے مگر یہ کیس اتنا سادہ نہیں کہ اسے محض اسرائیل کی تاریخ کی بنیاد پر سمجھا جا سکے۔مشرق وسطی کی اہمیت اپنے تینوں حرموں سے ہے۔ ہم مسلمانوں کے لئے یہ تینوں ہی حرم مقدس ہیں لیکن عیسائیوں اور یہودیوں کے لئے ان میں سے صرف بیت المقدس ہی مقدس مقام کی حیثیت رکھتا ہے۔

کون نہیں جانتا کہ آج کے مشرق وسطیٰ میں ممالک بیشک کئی ہیں مگر اس خطے کی پوری سیاست صرف تین ممالک کے قبضے میں ہے۔ یہ ممالک سعودی عرب، ایران اور اسرائیل ہیں۔ ان تینوں ممالک کے تاریخی پس منظر کو سمجھے بغیر نہ تو ڈونلڈ ٹرمپ کے اقدام کے اثرات سمجھے جا سکتے ہیں اور نہ ہی مسئلے کے کسی ممکنہ حل کے بارے میں سوچا جا سکتا ہے۔ آج کی تاریخ میں مسلمانوں کا پہلا حرم یعنی قبلہ اول اسرائیل کے قبضے میں ہے اور اسرائیل کوئی لبرل نہیں بلکہ مذہبی ریاست ہے۔ یہ پاکستان کے بعد دوسری ایسی ریاست ہے جو مذہب کی بنیاد پر وجود میں آئی ہے۔ سعودی عرب کے پاس مسلمانوں کے باقی دونوں حرم ہیں اور یہ ریاست بھی ایک مذہبی ریاست ہے۔ عرب نیشنلزم کی کوکھ سے جنم لینے والی اس ریاست کے نام میں عربیہ تو پایا جاتا ہے لیکن اسلامیہ نہیں۔ اس کمی کو ریاست نے اپنے جھنڈے پر کلمہ طیبہ پرنٹ کرکے پورا کیا ہے۔ ایران شیعہ مکتب فکر کی مذہبی ریاست ہے جس کے نظام پر شیعہ علماء کا مکمل کنٹرول ہے۔ ان تینوں ہی ریاستوں کا عالمی تشخص متشدد ریاستوں کا ہے۔

اسرائیل کیسے وجود میں آیا اور بیت المقدس کس طرح اس کے قبضے میں گیا یہ تو پچھلے دو روز سے ہر ٹی وی چینل کا لگ بھگ ہر پروگرام آپ کو بار بار بتا چکا ۔ سعودی عرب کیسے وجود میں آیا اور باقی دونوں حرم کیسے اس کے کنٹرول میں گئے یہ سمجھنا بہت ضروری ہے۔ ہماری نوجوان نسل کا خیال ہے کہ سعودی عرب 1932ء میں وجود میں آیا، اس پر ایک خاندان کی حکومت ہے جو بادشاہت کیے  چلا آرہا ہے اور یہ خاندان اس ریاست کے بانی عبد العزیز السعود کی نسبت سے آل سعود کہلاتا ہے۔ ایسا نہیں ہے۔ موجودہ سعودی ریاست تیسری سعودی سلطنت ہے۔ پہلی سعودی سلطنت 1744ء میں قائم ہوئی تھی اور 1818ء تک رہی تھی۔ یہ محمد بن سعود اور محمد بن عبد الوہاب نجدی کی مشترکہ کوشش سے وجود میں آئی تھی اور اسے انہوں خلافت عثمانیہ سے بغاوت کرکے آزاد کرائے گئے عرب علاقوں میں قائم کیا تھا۔ یہ تبوک سے لے کر مسقط تک تھی اور ’’امارۃ الدرعیۃ‘‘ کے نام سے تھی۔

یہاں یہ نکتہ سمجھنا بہت اہم ہے کہ اپنے قیام سے لے کر 1816ء تک مسلمانوں کے دونوں حرم اس کے کنٹرول میں نہ تھے بلکہ حجاز کا پورا علاقہ بدستور خلافت عثمانیہ ہی کے پاس تھا۔ 1814ء میں اس سلطنت کے چوتھے اور آخری حکمران عبد اللہ بن سعود اقتدار میں آئے جنہوں نے دو سال بعد حجاز پر بھی قبضہ کر لیا۔ عثمانی خلیفہ نے اپنے مصری نائب السلطنت محمد علی پاشا کو کار روائی کا حکم دیا جنہوں نے اگلے دو برس میں سعودی سلطنت کا خاتمہ کردیا۔ دوسری سعودی سلطنت 1824ء میں ترکی بن عبداللہ نے قائم کی اور یہ 1891ء تک رہی۔ یہ پہلی سعودی سلطنت کے صرف دو تہائی حصے پر مشتمل تھی کیونکہ تبوک اس کا حصہ نہ بن سکا تھا۔یہ سلطنت ’’امارۃ نجد‘‘ کے نام سے موسوم تھی اور اس دوسری سلطنت کے پورے دورانیے میں بھی حجاز کا پورا علاقہ خلافت عثمانیہ ہی کا حصہ رہا یوں حرمین دوسری سعودی سلطنت کا بھی حصہ نہیں تھے۔

تیسری یعنی موجودہ سعودی سلطنت کا باقاعدہ قیام اگرچہ 1932ء میں عمل میں آیا مگر اس کی بنیاد 1902ء میں اس وقت پڑ چکی تھی جب کنگ عبد العزیز السعود نے آل رشید سے ریاض شہر قبضہ کیا تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب برطانیہ خلافت عثمانیہ کے گرد سازشوں کے جال بن رہا تھا۔ چنانچہ آنے والے وقت میں جہاں اس نے ایک طرف شریف مکہ سے خلافت عثمانیہ کے خلاف بغاوت کرا ئی وہیں اس نے عبد العزیز السعود سے بھی مضبوط تعلقات قائم کر لئے۔ حجاز کو خلافت عثمانیہ کے ہاتھ سے نکالنا برطانیہ کے لئے سیاسی طور پر بہت اہم تھا لیکن اسے شریف مکہ سے بھی کوئی دلچسپی نہ تھی، یہ برطانیہ ہی تھا جس کا گرین سگنل ملتے ہی عبدالعزیز السعود نے 1926ء میں حجاز پر قبضہ کرکے حرمین کا کنٹرول حاصل کر لیا۔ خلافت عثمانیہ ختم ہوچکی تھی اور مشرق وسطیٰ میں برطانیہ کا ڈرٹی گیم اپنے زوروں پر تھا۔ عرب خوش تھے کہ انہیں ترکوں سے نجات مل گئی مگر برطانیہ اسرائیل کے نام سے اس فتنے کو بھی وجود بخشنے جا رہا تھا جو آنے والے وقت میں عربوں کو دال آٹے کا بھاؤ ہی نہیں سمجھائے گا بلکہ تیسرا حرم یعنی بیت المقدس بھی بالآخر اس کے قبضے میں دیدیا جائے گا۔

برطانیہ یہاں صرف مسلمانوں کی قوت کی آخری علامت ختم کرنے آیا تھا مگر جب یہاں تیل دریافت ہوا اور ہوا بھی ایسے موقع پر جب برطانوی سلطنت خود سمٹنے لگی تھی تو اس کی جگہ لینے امریکہ آ پہنچا جو ہر اس جگہ پہنچتا ہے جہاں بیش قیمت وسائل ہوں۔ محض مذہبی اہمیت رکھنے والا مشرق وسطیٰ اب ماڈرن ورلڈ کا وہ تیلی محلہ تھا جہاں دنیا بھر کے لوگ تیل خریدنے آتے اور اس تیلی محلے پر آل سعود کی برکت سے امریکہ کی چوہدراہٹ قائم ہوچکی تھی۔ اسی تیلی محلے کی ایک دکان جو ایران کہلاتی تھی 1953ء میں برطانیہ اور امریکہ کی مشترکہ سازش کا شکار ہوئی جس کا ردعمل انقلاب ایران کی صورت ہوا۔ اگرچہ تیلی محلے میں تیل کی برکت سے دولت کی بہت ریل پیل تھی لیکن تیل کی دہار ’’حرم‘‘ کی اہمیت ختم نہ کر سکی۔ ایک طرف اسرائیل اپنے مقبوضہ حرم کے حوالے سے پرجوش رہا تو دوسری جانب سعودی حکمران بھی اپنے حرموں کی اہمیت جتانے کے لئے خود کو جلالۃ الملک کے بجائے خادم الحرمین الشریفین کہلوانے لگے۔

ایسے میں ایران مذہبی ریاست بنا تو ’’القدس‘‘ کو اس نے اپنا باقاعدہ نعرہ بنا لیا جبکہ سعودیوں کا دعویٰ ہے کہ القدس کا وہ صرف نام لیتا ہے اصل نظر تو اس کی ہمارے حرمین پر ہے۔ کس قدر عجیب بات ہے کہ سعودی بھی ایران کو اپنے لئے خطرہ بتاتے ہیں اور اسرائیل بھی سعودی عرب کو نہیں بلکہ ایران کو اپنے لئے خطرہ سمجھتا ہے یعنی تینوں حرم جن دو ملکوں کے کنٹرول میں ہیں وہ دونوں ہی ایران کو اپنے اپنے حرم کے لئے خطرہ بتاتے ہیں اور کتنی حیران کن بات ہے کہ سعودی عرب نے حال ہی میں جو عظیم فوجی اتحاد تشکیل دیا ہے اس سے اسرائیل نہیں بلکہ ایران پریشان ہے۔ سو جب تیلی محلے کے عرب اور صیہونی ہی گٹھ جوڑ کر چکے تو ڈونلڈ ٹرمپ سے کیا گلہ ؟

رعایت اللہ فاروقی
رعایت اللہ فاروقی
محترم رعایت اللہ فاروقی معروف تجزیہ نگار اور کالم نگار ہیں۔ آپ سوشل میڈیا کے ٹاپ ٹین بلاگرز میں سے ہیں۔ تحریر کے زریعے نوجوان نسل کی اصلاح کا جذبہ آپکی تحاریر کو مزید دلچسپ بنا دیتا ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *