زبان سیکھنے کا فن/تحریر-ڈاکٹر چوہدری ابرار ماجد

زبانیں انسانوں کے آپس میں روابط اور معاشرت کی تعمیر کا زریعہ ہوتی ہیں ۔ زبانیں تہذیب تمدن کے پروان چڑھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں اور کسی بھی قوم یا قبیلے کی پیچان بھی ہوتی ہیں ۔

اور اگر کسی کے ساتھ رابطہ یا معلومات کو شئیر کرنا ہوتو اسکی زبان کو جاننا ضرورت بن جاتا ہے ۔ علم کا حصول بھی زبان کے علم کے بغیر ممکن نہیں اور اس وقت دنیا میں جس زبان کو سیکھنا ہر اعتبار سے دنیا کی مجبوری بنی ہوئی ہے وہ انگریزی زبان ہے ۔ گو کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی نے اس ضرورت کو کافی حد تک پورا کردیا ہے مگر زبان کو سیکھنے کی افادیت سے پھر بھی انکار ممکن نہیں ۔ کچھ آسان سے طریقے درج ذیل ہیں

FaceLore Pakistan Social Media Site
پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

کوئی بھی زبان سیکھنے کے لئے پانچ سے چھ سو لفظوں کو سیکھنے کی ضرورت ہوتی ہے جو اتنا زیادہ زخیرہ الفاظ نہیں ۔ اور یہ زبان دانوں کی تحقیق ہے کہ بچہ جب بولنا سیکھتا ہے تو وہ پہلے پانچ چھ ماہ صرف سنتا رہتا ہے اور پھر چھ ماہ کے بعد وہ چھوٹے چھوٹے ٹوٹے پھوٹے فقرے بنانا شروع کرتا ہے ۔ لیکن چند باتیں قابل غور ہیں جن میں پہلی بات یہ ہے کہ بچے بغیر کسی کوشش کے سیکھتے ہیں اور دوسرا ن کا سیکھنے کا کوئی ارادہ نہیں ہوتا جس کی وجہ سے وہ ذہن پر اس کا دباؤ بھی نہیں لیتا ۔ اس کو یہ خوف نہیں ہوتا کہ وہ کتنا مشکل کارم کر رہا ہے بلکہ وہ شوق سے کر رہا ہوتا ہے ۔ وہ بلا ارادہ ماحول سے سنتا رہتا ہے اور اس طرح یہ سننا اس کے زبان سیکھنے کا سبب بن جاتا ہے ۔ دوسری توجہ طلب بات یہ ہے کہ بچے کو یہ احساس نہیں ہوتا کہ وہ غلط کہہ رہا ہے یا صحیح تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سیکھنے کے لئے ضروری ہے کہ بولنے کی مشق کرتے ہوئے یہ پریشانی نہ ہو کہ میں صحیح بول رہا ہوں یا نہیں ۔

اسی طرح ایک اور اہم بات یہ ہے کہ کبھی بھی زبان سیکھتے وقت غیرزبان دانوں کو نہ سنیں ۔ ہمیشہ اہل زبان کو ہی سنیں ۔ اور اہل زبان میں سے بھی کسی اپنی پسند کی مشہور شخصیت کو جس کی آواز اور لب و لہجہ آپ کو پسند ہو اس کو سننے کی عادت بنا لیں ۔ جس طرح سیرت کی کتابوں میں ہم پڑھتے ہیں کہ اس وقت بچوں کو دیہاتی علاقوں میں بھیجنے کی ثقافت تھی ۔ جس طرح حضورور اکرم ﷺکو بھی حلیمہ سعدیہ کے ساتھ بھیجا گیا تھا ۔ اس کا مقصد خالص زبان اور ثقافت کو سیکھنا ہوتا تھا ۔

آپ نے مشاہدہ کیا ہوگا کہ بچے جس طرح کے ماحول میں رہتے ہیں اسی طرح کی زبان بولنا شروع کردیتے ہیں بلکہ الفاظ اور لہجہ و انداز بھی وہی ہوتا ہے ۔ اسی لئے کہتے ہیں کہ ہمیشہ کوئی بھی زبان سیکھنی ہو تو اہل زبان سے سیکھیں ۔ اگر ہم اپنے جیسوں سے سیکھنے کی کوشش کریں گے تو ان کی کمیاں بھی ہمارے اندر آجائیں گی اور پھر ان کی اصلاح نئے سرے سے سیکھنے سے بھی زیادہ مشکل ہوگی ۔

اور کبھی بھی شروع میں اس بات پر پریشان نہیں ہونا چاہیے کہ سمجھ نہیں آرہی ۔ کیوں کہ جیسا میں نے پہلے بھی بتا یا ہے کہ بلا کوشش زبان سیکھنے کے لئے ضروری ہے کہ بغیر کسی پریشانی اور تعطل کے چھ مہینے تک یہ سننے کا سلسلہ جاری رکھیں تو چھ مہینے کے بعد خود بخود ہی بولنا شروع کر دیں گے اور اس سلسلے کو کبھی بھی صحیح غلط کا شکار نہیں ہونے دینا چاہیے ۔

پھر ایک اور اہم راز یہ ہے کہ زبان ہمیشہ مجبوری کی صورت میں ہی سیکھنا آسان ہوتی ۔ میر ا مطلب یہ ہے کہ آپ کے ماحول میں آپ کے پاس جب اس زبان کے علاوہ کوئی اور چوائس نہیں ہوتا تو پھر زبان جلدی بولنا آتی ہے ۔ دوسرا راز شوق میں ہے جب اس کے ساتھ شوق بھی شامل ہوجائے تو پھر کبھی انسان تھکتا نہیں ہے ۔ انسان ہمیشہ نا پسند چیزوں سے اکتا ہٹ محسوس کرتا ہے ۔ محبت اور شوق سے کبھی تنگ نہیں آتا ۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ مہارت کے لئے مشق کی ضرورت ہوتی ہے اور جتنی زیادہ مشق ہوتی جاتی ہے زبان میں روانی آتی جاتی ہے ۔ جس کے لئے وقت درکار ہوتا ہے وگرنہ کوئی بھی زبان ہو اس کے لئے جیسے میں نے پہلے عرض کیا کہ پانچ سے لے کر چھ سو تک زخیرہ الفاظ چاہیے ہوتے ہیں ۔ اور ان ہی الفاط سے فقرے ترتیب پاتے ہیں جو بار بار ہماری گفتگو میں دہرائے جاتے ہیں ۔ اور جب ہم کسی زبان میں روانی کو پا لیتے ہیں تو پھر ہم بغیر سوچے سمجھے بولے جارہے ہوتے ہیں ۔

اس مہارت کے لئے ضروری ہے کہ ہمارے اندر یہ احساس ختم ہو کہ ہم کوئی نئی زبان بول رہے ہیں یا یہ ہمارے لئے نئی زبان ہے یا اس کو بولنے میں ہمیں مشکل درپیش ہے ، یا اس کو میں غلط بول سکتا ہوں ۔ ہمارے ذہن کے اندر یہ وہ خدشات اور خوف ہوتا ہے جو ہمیں بولنے سے دور رکھتا ہے یا مشکل کاسبب بنتا ہے ۔

سیکھنے میں ہمیشہ دو باتیں رکاوٹ بنتی ہیں ایک خوف اور دوسرا یقین ۔ آپ کہیں گے کہ خوف کی حد تک سمجھ آتی ہے مگر یقین کی سمجھ نہیں آرہی تو اس پر پھر کبھی بات کریں گے ۔ اشارہ دیتا چلوں جب انسان یہ یقین بنا لیتا ہے کہ وہ جو کچھ جانتا ہے ، دیکھ رہا ہے یا سن رہا ہے وہ ہی ٹھیک ہے تو پھر یہ یقین ہی اس کے سیکھنے میں رکاوٹ بن جاتا ہے ۔

تو ان خدشات اور خوف کو ختم کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ ایک تو ہم اس فکر کے بغیر کہ ہم نے کوئی زبان سیکھنی ہے فقط اس زبان کو سننا شروع کردیں ، اہل زبان کو سنیں اور حقیقی عملی زندگی کے بارے پروگرامز کو سنیں ۔ جن میں خبروں اور تبصروں والے پروگرام بھی مدد گار ہوسکتے ہیں لیکن اگر ہم بول چال سیکھنا چاہتے ہیں تو پھر ہمیں فلمیں اور ڈرامے سننے چاہیں ۔ کیونکہ عملی بول چال میں استعمال ہونے والے الفاظ اور فقروں کا سٹرکچر روزمرہ کی بول چال سے ہی مل سکتا ہے ۔

شروع میں سمجھ آئے یا نہ آئے ۔ اس مشق کو جاری رکھنا چاہیے ۔ یہ مشق مشکل ضرور ہے مگر زبان سیکھنے کا صحیح اور پائیدار حل صرف یہی ہے ۔ تھوڑا وقت لگے یا زیادہ اس کی صحیح اپروچ یہی ہے ۔

تو ان ڈراموں اور فلموں کے زریعے سے ہم نے اپنا ماحول بنانا ہوتا ہے ۔

ایک اور اہم راز یہ ہے کہ جب آپ کو تھوڑی بہت سمجھ آنا شروع ہوجائے تو کبھی بھی بولنے میں جھجک محسوس نہ کریں ۔ اور دوسرا یہ کہ آپ سوچنا بھی اسی زبان میں شروع کردیں ۔ صحیح طرح سے زبان آتی ہو یا نہ آتی ہو ، جیسی بھی آتی ہو اس کو اپنی سوچوں میں شامل کر لیں ۔ سوچوں کا ساتھی بنا لیں ۔

اس سے ایک جو پہلا فائدہ ہوگا وہ یہ ہے کہ ہمارے اندر سے یہ احساس آہستہ آہستہ ختم ہوتا چلا جائے گا کہ ہم کوئی اجنبی زبان بول رہے ہیں جو ہمارے بولنے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہوتا ہے ۔ اور آہستہ آہستہ یہ مشق ہماری عادت بننا شروع ہوجائے گی اور اس طرح یہ خود اعتمادی میں تبدیل ہونا شروع ہو جائے گی ۔ اور ہم یہ محسوس کرنا شرع کر دیں گے کہ ہم بول سکتے ہیں ۔

جب اعتماد بحال ہوگا تو سمجھ لیں کہ وہ زبان سیکھنا آپ کے لئے آسان ہوگیا ہے ۔

اور سوچتے سوچتے ایک موڑ ایسا آجائے گا کہ بلا سوچے سمجھے آپ بولنا شروع کردیں گے اور یہ ہی کامیابی کی طرف پہلا قدم اور ثبوت ہوگا ۔

لیکن کوئی بھی کام سیکھتے وقت اس کے طریقہ کار کو صحیح رکھنا چاہیے تاکہ یہ جب آپ کی پختہ عادت بنے تو اس کے اندر غلطیوں کا احتمال بلکل نہ ہو یا کم سے کم ہو ۔ کیونکہ اصل خطرات غلطیوں کا پختہ عادت بن جانا ہوتا ہے ۔

مثلاً اگر آپ ڈرائیوری سیکھنا شروع کریں تو چاہیے کہ گاڑی کو اصولوں کے مطابق چلانا سیکھیں ۔ اگر شروع سے اصولوں کے مطابق عادات پختہ ہونگی تو پھر کبھی ڈرائیونگ کے دوران غلطیوں کی گنجائش نہیں ہوگی ۔ اور جب غلطیوں کے ساتھ ڈرائیونگ پختہ ہوجائے گی تو پھر اس کو درست کرنا انتہائی مشکل ہوجائے گا ۔

اسی طرح اگر شروع سے ہی غلط تلفظ اور غلط سٹرکچر کی عادت بن جائے گی تو پھر بعد میں ان کی تصحیح انتہانی مشکل ہوجائے گی ۔ ایک تو اہل زبان کو سمجھانا مشکل ہوگا اور دوسرا سمجھنے میں بھی دشوار ی ہوگی ۔

تو اگلے مضمون میں ہم ان الفاظوں کا زخیرہ حاصل کرنا شروع کریں گے اور کوشش کریں گے کہ کسی اہل زبان کی آواز میں سننا شروع کریں اور میں کوشش کرونگا کہ آپ کو شروع میں آسان سی وڈیوز تجویز کروں جن کو سننے میں دقت بھی کم ہو اور سمجھ بھی زیادہ آئے۔

Advertisements
julia rana solicitors

ڈاکٹر ابرار ماجد

  • julia rana solicitors
  • julia rana solicitors london
  • merkit.pk
  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply