جمہوریت، سردار اور خنزیر

واقعی بات تو صحیح ہے…!

ہم میں اور ان کّفار میں زمین آسمان کا فرق ہے.

ہم ہوے اپنے شاہانہ ماضی اور اعلٰی روایات کے امین، اور اپنی بےپناہ مال و زر کی تاریخ سے بھرے خزانوں کے مالک…
اور یہ آئس لینڈ والے یہ تو انتہائی غلیظ قسم کے کافر ملعون نکلے جنہیں نا پانامہ کا کچھ معلوم اور نا ہی سیاست کا کوئی علم. ویسے یہ کافر لوگ بھی نا بڑے ہی عجیب و غریب ہوتے ہیں۔
اتنے عجیب کہ چھوٹی سی چھوٹی بات پر اپنے حکمرانوں کے گلے پڑجاتے ہیں اور نہایت ہی نچلے درجے کی کرپشن پر بھی اپنے حکمرانوں کو گریبان سے پکڑ کر کھینچتے ہوئے ایوانِ اقتدار سے باہر پھینک دیتے ہیں…

بھلا ہمارے حکمرانوں کا ان بیوقوفوں سے کیا مقابلہ، ہمارے حکمران ٹہرے دورِ جدید کے تقاضوں پر پورے اترتے انسانی حقوق کے علمبردار، حق و انصاف کے داعی، عوام کے خیر خواہ بھلا یہ انگریز اعمال میں ہمارے درویش صفت حکمرانوں کا کیسے مقابلہ کر سکتے ہیں کیونکہ ھم تو اپنے حکمرانوں کو اپنا " امیر و خلیفہ " سمجھتے ہیں….

اور کیوں نا سمجھیں بھئی انہیں اس مسندِ اعلٰی پر بیٹھانے والے بھی تو ہم عوام ہی تو ہیں.
ھم خود ہی تو ہیں جو نعرے مارتے بھنگڑے ڈالتے ناچتے گاتے چیختے چلاتے خوشی خوشی انکو نسل در نسل اپنا حکمران بناتے آرہے ہیں..
اور کیوں نا بنائیں صاحب یہ معصوم شریفے یہ نیک سیرت پاک دامن زردارے ھماری قوم کا افتخار ہی تو ہیں..
ہمارے حکمران بیچارے کہنے کو تو ہمارے حکمران ہوتے ہیں مگر یہ بےبس مجبور اشرافیہ اصل میں ہوتے ھمارے کمی کمین ہی ہیں…
انکی مجبوریوں میں سے ایک مجبوری یہ بھی ہوتی ہے کہ یہ ہم عوام کی خاطر اپنی آل اولاد ملک سے باہر رکھتے ہیں تاکہ انکی آل اولاد کی پرورش، انکا کھانا پینا انکی تعلیم و تربیت ھم غریب قوم کے سر نہ پڑ جائے…

یہ منصف حکمران اپنی نسل کو در در کی ٹھوکریں کھانے کے لیے اس لیے بھی باہر رکھتے ہیں کہ انکی اولاد ملک کے خزانے پر بوجھ نا پڑے.
ھمارے حکمرانوں کے بچوں کی آپ ھماری قوم سے لگن اور محبت دیکھیں تو آٹھ کی جگہ سو سو آنسو رونے بیٹھ جائیں گے۔ یہ بیچارے اتنے ایماندار اور محنتی ہوتے ہیں کہ عقل پکڑتے ہی یعنٰی کہ محض کوئی دس گیارہ سال کی عمر کو پینچتے ہی محنت لگن کو اپنی زندگی کا شُعار بنا لیتے ہیں۔
فقط اٹھارہ سال کی کم عمر کو پہنچتے ہی وہ اس قدر محنت کر چکے ہوتے ہیں کہ انکی محنت کی کمائی کی بنائی گئی درجن بھر آف شیور کمپنیز کی انویسمینٹ ایک جانب اور ھماری قوم کے قرضے جو کہ بحالتِ مجبوری ( ھمارے نیک سیرت حکمرانوں کے منع کرنے اور روکنے کے باوجود ) جو ھم نے خود بھیگ مانگ مانگ کر دنیا بھر سے لیئے ہوتے ہیں وہ سود سمیت قرضوں کا بوجھ دوسری جانب….
ہمارے حکمرانوں کے بچے بےحد محنتی اور لگن کے پکے ہوتے ہیں.

اور انکی جو ادا ھماری قوم کو سب سے زیادہ پسند ہے وہ ہے انکی اپنی خود کی محنت سے کمائی گئی حلال روزی ہے وہ اپنی تمام تر ملکیت دولت ھمارے عزیز ترین ملک پاکستان بھیج بھیج کر ھماری قوم کو دوالیہ ہونے سے بچاتے رہتے ہیں اور خود گھر کےذمہ دار بیٹے کی مانند خلیجی ریاستوں میں کی جانے والی محنت کے مصداق ساری زندگی پاکستانی عوام کے لیے جفا کشی کرتے رہتے ہیں…
پوری قوم کو صرف اس بات کا دکھ ہے کہ " خاندانِ محنت کشاں " صرف اور صرف ہمارے ملکِ خداد کی خاطر اپنے ماں باپ سے دور ہماری نااہل نکھٹو قوم کے لیئے دن رات ایک کیئے ہوئے ہے…
افسوس کیساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہم نے ان صاحبانِ ملت کو انکی اس قدر محنت کے عیوض آج تک کچھ نہیں دیا…
اور یقیں جانیئے ہم انہیں کچھ دے بھی نہیں سکتے ہم تو وہ بد بخت قوم ہیں جو ان محنتی لوگوں کا دیا ہوا کھا رہی ہے. یہ بیچارے اگر محنت کر کے ملک سے باہر اپنی کمپنیز اپنی فیکٹریاں نا لگاتے تو آج ھمارا کیا بنتا. اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ھماری قوم واقعی روڈ پر ہی آجاتی.

ھمیں چاہیے کے ہم اپنی اوقات میں رہیں اور جتنے بھی حکمران اپنی اپنی باری پر آرہے ہیں انکی آل اولاد کی بھی دل و جان سے قدر کریں کیونکہ وہ ھمارے مستقبل کے حکمران ہیں، انکی ملک و ملت سے کی گئی محبت اور لگن کو دیکھتے ہوئے ان پر لگائے گئے الزامات کو یکسر مسترد کرنا چاھیے…
بلکہ کرپشن کے حوالے سے عمران خان کے ملک گیر احتجاج کی جانب توجہ بھی نہیں دینا چاھیے…

آئیے سب ملکر یہ عہد کریں کے ھمارے پیارے وطن کے پیارے حکمران اور انکے بچوں پر لگنے والے جھوٹے نام نہاد بے ہودہ نازیبا الزامات کی ہم سب ملکر نفی کریں اور دعا کریں کہ ہمارے غم میں رونے والے یہ حکمران اور آنسوؤں سے اپنے گال گیلے کرنے والی انکی اولاد کے خلاف کوئی بات برداشت نہیں کریں گے اور آنے والے الیکشن میں انہیں ووٹ دیکر ضرور اپنا حکمران بنائیں گے..

میرا خیال ہے کہ عمران خان کو بھی اب سمجھنا چاھیے۔ اسے اپنے دھرنے کا مقصد بدل کر اپنی توپوں کا رخ الٹا پانامہ والوں کی جانب کرنا چاھیے..
اسے چاہیے کے پانامہ والوں کے خلاف مولانا فضل الرحمان کی قیادت میں دو نومبر کے روز بعد نمازِ ظہر دو بجے فیض آباد سے ڈی چوک تک ایک عظیم الشان ریلی نکالے..
اور اغیاری و طاغوتی قوموں کے سفارت خانوں کا سامنے احتجاج ریکارڈ کروا کر اپنے ہر دلعزیز صالح با شرع باکردار حکمرانوں اور انکے بچوں سے ہمدردی کا ثبوت دے۔ اور ناصرف ثبوت دے بلکہ ہمارے حاجی صاحبان و حکمران و رائیونڈیان کے خلاف " را موساد سمیت بین القوامی سازشی عناصر" کی سازش کو یکسر مسترد کر کے انہیں 2018 کے الیکشن میں دوبارہ کامیاب کروانے کا مسّلم عہد کرے۔

یہ تو تھا ایک بھیانک مذاق جو میں نے مندرجہ بالا تحریر میں کیا ہے۔ خدا وہ دن نا دکھائے کے میرا شمار لکھنے والوں میں " صالح " کے نام سے ہو..

ویسے جتنے چالاک یہ موجودہ چور لٹیرے ہیں اتنا چالاک تو ھمارے گاؤں کا " ٹکٹ بیچنے " والا بھی نا تھا۔ وہ بھی سوچتا ہوگا کے کاش کہ اس کے پاس بھی اسحاق ڈار کی شکل میں محلے کی کمیٹیاں کھانے والی آپا ہوتی…

آج وہ بھی حیران ہوگا کے اسکا نام پانامہ والی فہرست میں کیوں نہیں آیا۔ جب کہ دولت کے انبار تو اس نے بھی کچھ کم نہیں لگائے۔ بلکہ وہ اس بات پر پریشان ہوا ہوگا کے میاں صاحبان کی اولاد کے پاس اتنی دولت ہے تو خود میاں جی کے پاس کتنی ہوگی..
ان حکمرانوں کے بچے اب ہم پر مسلط ہونے کی تیاری میں مصروف ہیں۔

مجھے یاد پڑتا ہے کہ گزشتہ دورِ حکومت کی بات ہے کویت ہاسٹل اسلام آباد میں ایک رات نیند کی گہری وادی میں کھویا ہوا تھا کہ ہمارے دوست " سردار صاحب " نے دروازہ پیٹ ڈالا۔ ہم بھی گھبرا کر اٹھ بیٹھے اور چھلانگ مار کر پل بھر میں دروازہ کھولا تو سردار صاحب ہانپتے کانپتے اندر آئے کپڑوں سے بھرا تھیلا ایک جانب پھینکا، جلدی جلدی پانی کے جگ کو منہ لگایا اور خود ہی فرمانے لگے کہ یار مرشد غضب ہو گیا….
ہم نے کہا کہ بھائی یہ کوئی نئی بات ہے کیا یہاں تو آئے روز ہی کوئی نا کوئی غضب ہو ہی رہا ہے.
موصوف فرمانے لگے …!

پی ایم ھاؤس کے آس پاس “خنزیر” گھس آئے ہیں اور ہر آنے جانے والی گاڑی سمیت لوگوں کا پیچھا کر کے انہیں بھگا رہے ہیں۔ خوف کے مارے کوئی پی ایم ھاؤس کے قریب نہیں جا سکتا، میں بھی بھاگتا ہوا نجانے کیسے یہاں تک پہنچا ہوں…
ان کی اس بات پر میں مسکرا دیا..
میری مسکراہٹ پر وہ سرخ ہوگئے..

کمرے کی کھڑکی سے باہر جھانکتے ہوئے میں نے سگریٹ جلائی اور کہا یار سردار….!
ایک بات تو بتا..
جہاں آج خنزیر گھس بیٹھے ہیں، کیا وہاں پہلے کم تھے؟

Avatar
رضاشاہ جیلانی
پیشہ وکالت، سماجی کارکن، مصنف، بلاگر، افسانہ و کالم نگار، 13 دسمبر...!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *