والدین کے مسائل،حل کیا ہے؟۔سیدہ فاطمہ الزہرہ

ایک بار ایک سیشن ‘امی کیوں بننا چاہیے’ میں لڑکیوں سے کہا کہ جا کر  اپنی امیوں سے پوچھیں کہ جب آپ کو جنم دیا تھا ان کی عمر کیا تھی؟
اکثریت کا جواب، ۱۸ سال سے ۲۲ سال تک تھا۔
ایک چھوٹا سا سوال ہے کہ
“اس عمر کی لڑکی کو کتنی parenting آتی ہوتی ہے؟ اس کو سمجھ بھی نہیں ہوتی اس کے ساتھ کیا گیمیں چل رہی ہیں اسے زیورات اور میک اپ دے کر  بٹھا دیتے ہیں اور کوئی  اور اس کی زندگی کا فیصلہ کر کے یہ جا وہ جا”۔
ہارورڈ والے کہتے ہیں بچے کے ابتدائی  سال اہم ترین ہوتے ہیں یعنی نازک ترین اور اس کو کوئی  آئیڈیا  نہیں ہوتا کہ یہ سب ہونے کیا جا رہا ہے۔۔خیر اس بات کو کچھ دیر پیچھے رکھتے ہیں ۔۔
دو منٹ کے لیے زندگی کی کسی سخت حقیقت کو سوچیں’ جیسے۔۔
اولاد معذور پیدا ہوئی
اولاد پیدا ہوتے ساتھ ہی فوت ہو گئی
بچے کا ایکسیڈنٹ ہو گیا
یا اولاد کچھ عرصہ گزار کر  فوت ہو گئی

یہ تو ۳۰ سالہ عورتوں کو بھی بمشکل ہینڈل کرنا آتاہے ،اب وہ ۱۸ یا بیس سالہ لڑکیاں امی بن کر  اس کو کیسے ڈیل کرتی ہوں گی؟

tripako tours pakistan

خود کیسے سنبھلتی ہوں گی اور  سب سے بڑھ کر  باقی بچوں کو کیسے سنبھالتی ہوں گی۔ایسے میں جب کہ کوئی  سمجھدار بڑے اردگرد   موجود نہ  ہوں (جیسے ہماری کمیونٹیز چل رہی ہیں) تو کسی قابل ماہرِ نفسیات کی شدید ضرورت ہوتی ہے جو اس مشکل وقت میں فیملی کو سنبھال سکے۔۔۔
اولاد معذور پیدا ہو تو ماں کو کچھ سمجھ نہیں آتی کہ کیا کرے، خاندان والے کہتے ہیں کہ اس پہ کیا پیسہ لگانا، ماں اس بات سے اتنا پریشان ہوتی ہے کہ اسے  باقی بچے بھول جاتے ہیں اور وہ ‘چوروں’ کی طرح معذور بچے کو پالتی ہے۔
اولاد پیدا ہوتے ساتھ فوت ہو جاۓ اس سے بھی کچھ خواتین صدمے میں چلی جاتی ہیں اور کھویا ہوا بچہ اتنا حواسوں پہ سوار ہوتا ہے کہ سامنے والے نظر انداز ہوتے ہیں
ایسے کیسیز سب سے زیادہ  خطرناک ہیں جن میں کچھ عرصہ والدین کے پاس گزارنے کے بعد بچہ یا تو اغوا ہو جاۓ یا پھر فوت ہو جاۓ۔۔۔ دونوں صورتوں میں انسان (ماں باپ) اتنا ٹوٹتا ہے کہ پھر باقی اولاد سے تعلق متاثر ہوتا ہے۔ ہو سکتا ہے ماں اتنا ڈر جاۓ ایک بچہ کھونے کے بعد    وہ کسی بچے سے اٹیچ ہونے سے ڈرے اور یوں والدین لاشعوری طور پہ اپنے آپ کو  دیگر  کاموں میں  مصروف کرنے  کی کوشش کرتے ہیں۔ بہت ممکن ہے کہ والدین عجیب و غریب رویے کا شکار ہو جائیں ۔۔۔ جس کی سمجھ نہ آ رہی ہو کہ ایسا کیوں ہے مگر وہ لاشعوری طور پہ بچوں سے اٹیچ ہونے سے گھبرانے لگیں.(جن لوگوں کا  تقدیر وغیرہ  پہ ایمان ہے، اسلام کافی حد تک انہیں بچا لیتا ہے مگر باقیوں کا کیا ہوتا ہے)

ایک تحقیق کے مطابق ویسٹ میں اگر بچے کی وفات ہو گئی  یا بچہ اغوا ہو گیا، والدین اکٹھے نہیں رہ پاتے۔۔یا تو  طلاق لے لیتے ہیں یا  پھر الگ ہو جاتے ہیں اورنئے سفر کا  آغاز کرتے ہیں، کیونکہ ان سے پہلے تعلق میں نہیں رہا جاتا۔
(اس بات کے ریفرینس کی تلاش میں ہوں)
“ایک ۱۹ سالہ لڑکی ہے Sarah K۔ اس کی والدہ کو کینسر ہوا پھر اس کے والد کو’ دونوں وفات پا گۓ ہیں اور وہ یوٹیوب پر اپنی زندگی کے بارے میں ویڈیوز بناتی ہے۔ میں اس کی کوشش اور اس کی ذہانت سے متاثر ہوں۔ اب وہ اپنی زندگی میں خود اپنے آپ کے لیے پیسے کمانے کی کوششیں کر رہی ہے اور اپنی زندگی میں آگے بڑھ  رہی ہے۔ اور سسٹم کی تباہ کاریوں کو سمجھ رہی ہے اس کا ایک جملہ ملاحظہ کریں،جو  میرے ذہن سے چپک کر رہ گیا ہے :
‘The way I have dealt with the loss of my parents in the future might bite me in the ass but this is the only way I know how to cope for now’

“کبھی ہم سوچتے ہیں کہ جس طرح سے ہم cope کر کے بیٹھے ہیں یہ واقعی cope ہو جاتا ہے یا مستقبل میں پیچھا کرنے آتا ہے”

سو بات پیرنٹنگ کی ہو رہی تھی جو سیکھنا ناگزیر ہے۔۔۔ نئے  انداز میں”انسان”سے متعارف ہونا ضروری ہے۔عمر کی بات نہیں مگر دیکھیں ایک لڑکی کے یا لڑکے کے وہ بیس اکیس سال کدھر گزرے۔سوال یہ ہے کہ جب زندگیاں ورکنگ وومن /گھر کی دعوتوں / برانڈز/ سٹار پلس کو دان کر کے، بچوں کو اسکول اکیڈمی پہ قربان کر آیئں تو کس وقت میں لڑکیاں اور لڑکے پیرنٹنگ سیکھتے ہیں؟
سب سے بڑھ کہ والدین کو اگر تعلیمی نظام کی تباہ کاریوں کا نہیں پتہ تو پھر وہ کیسی اور  کیسے والدین بنیں گے؟
ورکشاپس اس حوالے سے بہت مدد کرتی ہیں۔
پیرنٹگ پہ بات کرتے ہوۓ ہمیشہ یہ اعتراض آتا ہے کہ ‘سیکھی نہیں جا سکتی’ ‘خود آجاتی ہے’ ‘پڑھنے کی کیا ضرورت ہے۔
پہلی بات یہ کہ جب بات ہوتی ہے اکا دکا لوگوں پہ نہیں معاشرے پہ ہوتی ہے،جس کی حالت دیکھ کہ سوال اٹھتا ہے”پھر انجینیر کو ڈگری کے بغیر فیلڈ میں کیوں نہیں جانے دیتے؟ “اتنا مشکل
ECATکیوں؟
پائلٹ کو کیوں تھیوری پڑھاتے ہیں؟ایسے ہی جہاز دے دیں؟
میڈیکل کا لائسنس لینا کیوں ضروری ہے؟ ایسے ہی سرجری کروانا شروع کر دیں؟
جو لوگ سمجھتے ہیں، پیرنٹنگ سیکھے بغیر کرتے کرتے ہی آجاتی ہے، وہ اوپر والی مثالیں یاد کر لیں
ہاں، آجاتی ہوگی شاید ،مگر۔۔بچے متاثر ہوتے ہیں!ہمیں پھر سے یاد کرنے کی ضرورت ہے کہ پیرنٹنگ کیا تھی!والدین کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ علامہ اقبال صرف شعر و شاعری نہیں کر  گۓ تھے،جب انہوں نے کہا کہ۔۔
تعلیم کے تیزاب میں ڈال اس کی خودی کو
ہو جاۓ ملائم تو جدھر چاہے اسے پھیر!
پھر
گلہ تو گھونٹ دیا اہل مدرسہ نے ترا
کہاں سے آۓ گی صدا لا الہ الا اللہ!
اکبر الہ آبادی کی سنیے۔۔
یوں قتل کے بچوں سے وہ بدنام نہ ہوتا
افسوس کہ فرعون کو کالج کی نہ  سوجھی!

بات یہ ہے اب والدین کو اندازہ ہی نہیں کہ اصل Parenting تھی کیا۔۔
واۓ ناکامی متاعِ کارواں جاتا رہا
کارواں کے دل سے احساسِ زیاں جاتا رہا!

اصل پیرینٹگ ہے کہ تعلیمی نظام کو سمجھ کر اپنے بچے کی تربیت سیکھیں،پھر موجودہ نظام میں رہنے کے  طریقے اور ممکنات  ڈھونڈنے کی کوشش کریں۔ورکشاپس اور ریسرچ سے سمجھ آتی ہے کہ حق کیا ہے اور باطل کیا ہے!

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *