تنقید : ذہنی عارضہ، احساس محرومی یا تعمیری عمل.

زمانہ طالب علمی میں ہمارے سکول کے ایک استاد نے ایک واقعہ سنایا. واقعہ کچھ یوں ہے.

کسی شہر میں ایک مشہور مصور رہتا تھا جو اپنے ہنر میں کمال مہارت رکھتا تھا اس کی مہارت کے سبھی قائل تھے. ایک دفعہ اسے نجانے کیا سوجھی کہ اس نے اپنی بھر پور محنت سے ایک شاندار پینٹنگ بنائی اور اسی پراعتماد کوشش پر اس کے عوام الناس کی رائے لینے کے لئے پینٹنگ کو شہر کے مشہور و مصروف مقام پر رکھا اور پینٹنگ کے نیچے تحریر کردیا کہ اگر اس پینٹنگ میں کوئی نقص یا کمی ملے تو نشاندہی کردی جائے.
اگلے ہی دن جب اس نے دوبارہ اپنی پینٹنگ کو دیکھا تو اس پر نشانات ہی نشانات لگے ہوئے تھے. مصور بہت مایوس ہوا اور اپنی پینٹنگ اٹھا کر اپنے استاد کے پاس چلا آیا، اسے ساری روداد بتائی ساتھ اپنی مایوسی سے آگاہ کیا. ساری کہانی سن کر استاد نے مشورہ دیا کہ اب وہ ایک واجبی سے پینٹنگ بنا کر اسی جگہ پر نمائش کرے اور نیچے تحریر کرے کہ ” جہاں کہیں پینٹنگ میں کمی ہو نشان دہی کرکے اسے درست کردیا جائے.
اگلے دن وہ مصور تجسس کے ساتھ پینٹنگ دیکھنے گیا تو حیرت زدہ رہ گیا کہ اس کی توقع کے برخلاف پینٹنگ پر کوئی نشان نہیں ہے.
تو دوستو مذکورہ واقعہ سے ایک بات سمجھ میں آتی ہے کہ تنقیدی جائزہ یا نشان دہی کے لئے کسی خاص مہارت کی ضرورت نہیں ہوتی بھلے ہی زیر تنقید فرد اپنے فن میں کمال ماہر ہو.

tripako tours pakistan

تنقید کیا ہے؟

تنقید عربی زبان کا لفظ ہے، تنقید کا مادہ نقد ہے۔ اس کے معنی کھرے اور کھوٹے کی پہچان کرنا کے ہیں۔ تنقید ایک ایسی اصطلاح ہے جس میں کسی بھی شخص چیز یا پھر صنف کے منفی اور مثبت پہلو گنوائے جاتے ہیں۔ عموماً یہی سمجھا جاتا ہے کہ صرف نقائص کی نشاندہی کرنا یا انہیں منفیت کو اجاگر ہی صرف تنقید ہے.

تنقید کی اقسام؛

ڈاکٹرسلیم اختر کے مطابق تنقید دراصل کلاس نوٹس کی طرح سے ہے جس کا بنیادی مادہ تو تقریباً ایک رہتا ہے مگر مثالیں بدلتی رہتی ہیں۔اس کی مختلف اقسام درج ذیل ہیں؛

ا۔ آر کی ٹائپل تنقید

یہ نفسیاتی تنقید کی اہم شاخ ہے جس میں کسی ادیب یا ادب کے اجتماعی لاشعور پر روشنی ڈالی جاتی ہے۔

ب۔نفسیاتی تنقید

فرائیڈ کے دریافت کردہ نفسِ لاشعور کو اہمیت دینے والے ناقدین کا مطالعہ نفسیاتی تنقید کہلاتا ہے۔ادبی اصطلاح میں کسی ادیب کے نفس کو پرکھنا بھی مراد لیا جاتا ہے۔

ج۔استقرائی تنقید

یہ ایک ایسی تنقید ہے جس میں کسی ادیب کو خارج سے عائد کردہ اصول و قوانین سے نہیں بلکہ اس کی اپنی تصنیف کے مطابق پرکھا جاتا ہے۔

د۔تجزیاتی تنقید

اس میں کسی بھی ادب پارے کے بنیادی اوصاف کو ملحوظِ خاطر رکھا جاتا ہے۔

ہ۔رومانی تنقید

اس تنقید میں ادیب کے رومانوی رنگ کو ملحوظِ خاطر رکھا جاتا ہے۔

و۔سائنٹفک تنقید

یہ ایک ایسی شاخ ہے جس میں سائنٹفک علام کے مطلق تنقید کی جاتی ہے۔

ز۔عمرانی تنقید

یہ معاشرے کی تنقید ہے اس میں ادیب اور ادب کو معاشرتی پسِ منظر سے پرکھا جاتا ہے۔

ح۔مارکسی تنقید

اس میں کسی بھی ادب کا مطالعہ موضوع کی طبقاتی کشمکش میں کیا جاتا ہے۔

ط۔نظریاتی تنقید

اس میں نظریاتی بنیادوں پر کام کیا جاتا ہے۔

ی۔عملی تنقید

کسی فنکار یا ادب کا ںظریاتی مطالعہ عملی تنقید کہلاتا ہے۔

ک۔ہیئتی تنقید

اس میں کسی بھی صنف کی ہیتوں کا مطالعہ کیا جاتا

منفی اور مثبت پہلو کے لحاظ سے ہم تنقید کو دو حصوں میں تقسیم کرتے ہیں.

١. تنقید برائے تنقید.
٢. تنقید برائے اصلاح.

١. تنقید برائے تنقید یا منفی تنقید وہ پہلو ہے جس ہمارا واسطہ سب سے زیادہ پڑتا ہے. تنقید کا براہ راست تعلق ہماری سوچ سے ہوتا ہے اور سوچ کا انحصار ہمارے ذہنی اطمینان سے ہوتا ہے. ہم جس معاشرے اور ماحول میں زندگی گزار رہے ہوتے ہیں اس سے ہم جس قدر مطمئن یا عدم اطمینان کا شکار ہیں تو اسی پس منظر میں ہمارے سوچ پروان چڑھتی ہے اور اسی سوچ کو معیار بنا کر ہم ارد گرد کے ماحول پر جب اپنی رائے قائم کرنے ہیں تو اس رائے کا منفی ہونا منفی تنقید کہلائے گا. وقت کے ساتھ ساتھ جب یہ رائے نظریہ کی شکل اختیار کر لیتی ہے تو ہمیں ہر شئے میں منفیت نظر آنا شروع ہو جاتی ہے. یہ حالت مایوسی کی بدترین مثال ہے جو کسی انسان کو عملی طور پر مفلوج کردیتی ہے. جو ہر چیز یا ہر انسان کے عمل کو منفی تناظر سے دیکھتا ہے اور اُسے غلط رنگ دینے کی کوشش کرتا ہے کیونکہ ٱس کے اندر مثبت سوچنے کی صلاحیت نہیں هوتی۔ اور وه اپنے دوستوں کے ہر اچهے عمل سے بهی گهبراتا هے اور اُن سے خوف محسوس کرتا هے۔ ایسی صورت میں جو رویہ اختیار کیا جاتا ہے اسے تنقید برائے تنقید کی اصطلاح سے تعبیر کیا جاتا ہے. فرض کریں اگر میں منفی سوچ رکھنا والا انسان ہوں تو کوئی میری اچھائی کے لیے کچھ کہے میرے بُرے عمل پر تنقید کرے تو مین اُس پر ٹوٹ پڑھتا ہوں اور ٱس کی ہر بات کا غلط مطلب نکالتا ہوں اسی قسم کی تنقید کو ذہنی عارضہ کہیں تو یہ غلط نہ ہوگا اور یه سوچ اکثر غلام سماج میں یا محکوم قوموں میں زیادہ جنم لیتی ہے۔

٢. تنقید برائے اصلاح.
جب ہم مثبت سوچ کے تحت اسے کہتے ہیں چیزوں کو پرکھتے ہیں اور ہمیشہ ہر اچھے  عمل کو سمجھ کر اُس کی حمایت کرتے ہیں اور منفی سوچ والوں سے سخت اختلاف رکھتے ہیں اور اگر مثبت سوچ والے انسان کو کوئی کچھ کہے تو وه اُس پر مثبت طریقے سے سوچ کر عمل کرتے ہیں یا کوئی کسی شخص کے کسی عمل پر تنقید کرتا هے تو وه ٱس کی اصلاح کرنے کی کوشش کرتا هےاور یہ سوچ ہمیشہ انقلابی سماج میں بیدار هوتی ہے یا آزاد معاشرے میں پیدا ہوتی ہے۔ تنقید کی یہ قسم بعض اوقات منفی معلوم ہوتی ہے جب زیر تنقید فرد کی رائے سے اتفاق نہیں کیا جا رہا ہوتا لیکن اگر اس کی رائے یا ارادے کو مستقبل کے تناظر میں دیکھا جائے اور نتائج کے مثبت یا منفی ہونے کا جائزہ اور امکانات پر غور کیا جائے تو ایسی تنقید مثبت تنقید کے زمرے میں آتی ہے. جس سے فرد کی اصلاح کا پہلو نظر آ رہا ہوتا ہے.

لوگ تنقید کیوں کرتے ہیں؟ آئیے اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں.
تنقید کرنے والے لوگ ہمیشہ بہت حساس ہوتے ہیں جو اپنے ارد گرد کے ماحول اور عوامل سے گہرا اثر لیتے ہیں اور پھر ردعمل کا اظہار کرتے ہیں. ایسے افراد اپنی صلاحیتوں سے منفرد ہوتے ہیں. وہ چیزوں کو پرکھنے اور ان پر رائے دینے کی خصوصیات رکھتے ہیں. جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے کہ تنقید دراصل عدم اطمینان کی وہ کیفیت ہے جو الفاظ یا زبان سے ادا کی جاتی ہے.
تنقید اور تخلیق کے درمیان ایک رابطہ ہے اور وہ یہ ہے کہ یہ دونوں ایک دوسرے کے لئے مشعل راہ ہوتی ہیں۔ اس بحث میں پڑے بغیر کہ ان دونوں میں کسے اولیت حاصل ہے، اگر ہم تاریخ کا جائزہ لیں تو پتہ چلے گا کہ یہ دونوں صلاحیتیں ایک دوسرے کے فروغ کے لئے ممدو معاون ہوتی ہیں۔
تنقیدی اصول ہمیشہ فنی تخلیقات کی بنیاد پر استوار ہوتے مگر ایک بار جب یہ اصول وضع کر لئے جاتے ہیں تو آئندہ فنی تخلیق کی رہنمائی کرتے ہیں. اس کے باوجود کبھی کبھار تنقید تعصب کا روپ بھی اختیار کر لیتی ہے. ایسی تنقید ہمیشہ نفرت کے جذبات کے ماتحت پروان چڑھتی ہے جس میں تعمیری اور تخلیقی پہلو تقریباً ختم ہو کر رہ جاتا ہے. ایسی تنقید کو عموماً نقطہ چینی یا کیڑے نکالنے کا نام دیا جاتا ہے کم علمی مواد کی بنیاد پر تنقید برائے تنقید تو کی جا سکتی ہے لیکن اصلاح کے لئے کو لائحہ عمل طے نہیں کیا جاسکتا. تنقید کرنے میں دلچسپی رکھنے والے اکثر لوگ باہمی مباحث کسی نتیجے پر نہیں پہنچ پاتے ان کی بحث عموماً توں تکرار پر ختم ہوتی ہے. تنقید سے لوگ اپنی محرومی کو چھپانے کی کوشش بھی کرتے ہیں اور خود سے مطمئن ہونے کی کوشش بھی کر رہے ہوتے ہیں. تنقید کرنے والے کی نیت عموماً مثبت ہوتی ہے اس بات سے قطع نظر کہ اس کی تنقید کا ردعمل کیا ہو گا.

تنقید کے حوالے سے ایک بہت بڑا تعمیری پہلو یہ بھی دیکھا گیا ہے جو لوگ تنقید برداشت کرنا سیکھ جاتے ہیں وہ اپنی تحقیقی و تخلیقی صلاحیتوں میں بہت اضافہ کرتے چلے جاتے ہیں ان کام میں نکھار پیدا ہوتا جاتا ہے اور یہ لوگ زندگی کے ہر شعبے میں اپنی منزلیں آسان کرتے چلے جاتے ہیں.

محمدمنشاء طارق
محمدمنشاء طارق
چوہدری محمد منشاء طارق ورک، مقیم ابوظہبی متحدہ عرب امارات. تعلق اسلام آباد پاکستان

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *