این او سی۔۔ محمد اظہار الحق

SHOPPING

نکاح شروع ہونے تک سب ٹھیک تھا۔دلہا کا   اور برات کا  گرم جوشی سے استقبال کیا گیا ۔پھولوں کی پتیاں نچھاور کی گئیں  ۔ نغمے گائے گئے ‘شادیانے بجائے گئے۔ساس نے ہونے والے داماد کی بلائیں لیں ۔ برات میں آنے والوں کو بہترین صوفوں پر بٹھایا گیا۔بلور کے گلاسوں میں   مشروبات پیش کیے گئے۔ تین ٹرک تیار تھے جنہوں نے دلہن کی رخصتی کے ساتھ جہیز کا سامان لے کر جانا تھا ۔تازہ ترین ماڈل کی کار اس  کے علاوہ تھی۔ ایک محل نما  مکان دلہن کے نام دیا گیا تھا۔ اس شادی کا سب سے خوش کُن پہلو یہ تھا کہ لڑکی اور لڑکے کی پسند کی شادی تھی جسے دونوں طرف کے ماں باپ اور دیگر بزرگوں نے دلی مسرت کے ساتھ منظور کیا تھا۔

سب کچھ ٹھیک جارہا تھا۔ عین نکاح سے پہلے دلہن  کے باپ نے این او سی مانگا ۔دلہا نے اپنے  باپ کی طرف دیکھا ‘باپ نے اپنے بھائیوں کی طرف دیکھا ۔ این او سی نہیں تھا ‘دلہا کے باپ نے ملتجیانہ لہجے میں گزارش کی کہ شادی کی تقریب کے بعد اولین فرصت میں این او سی فراہم کردیا جائے گا۔ دلہن کے باپ نے امید افزا نظروں سے مولوی صاحب کی طرف دیکھا’مگر ،مولوی صاحب نے نکاح کا رجسٹر اٹھایا  دامن جھاڑا اور یہ کہہ کر چل دیے کہ جب این او سی  آجائے  تو بلا لیجیے گا  برات  واپس چلی گئی۔

انٹر ویو بہت اچھا ہوا ۔امیدوار نے بورڈ کے ارکان کے سب سوالوں کے جواب اطمینان بخش دیے۔ تحسین ہوئی ‘نتیجہ اسی وقت بتا دیا گیا۔اسے ملازمت کے لیے سلیکٹ کرلیا گیاتھا۔ دوسرے دن اوریجنل دستاویزات کے ساتھ ہیڈ آفس حاضر ہونا تھا اور ملازمت جوائن کرنا تھی۔اس نے ان ہدایات پر پورا پورا عمل کیا ۔تمام دستاویزات لینے کے بعد ہیڈ کلرک نے این او سی مانگا۔

اس کا تو نہیں بتایا گیا تھا!

“بھائی بتانے نہ بتانے کا سوال نہیں  ‘این او سی لازم ہے۔وگرنہ جوائن نہیں کرسکیں گے”۔

“مجھے فیکٹری کے مالک سے بات کرنے دیجیے۔وہ خود انٹر ویو میں موجود تھے”۔

ہیڈ کلرک نے  ایک ادائے بے نیازی سے اسے دیکھا ‘پھر زیرِ لب مسکرا کر کہنے لگا۔

فیکٹری کے مالک کچھ نہیں کرسکتےبھائی!وہ تو خود ہر ہفتے اپنے بارے میں وضاحتیں  جاری کرتے پھر رہے ہیں “۔

منہ لٹکائے کامیاب امیدوار ناکام واپس ہوگیا۔

یہ حلف برداری کی تقریب تھی۔ نئی کابینہ نے حلف اٹھانا تھا۔ نامزد  وزراء  نئی شیروانیاں پہنے آئے ہوئے تھے۔تقریب ایوان صدر میں  تھی سول اور ملٹری کے ٹاپ کے افسران بمعہ بیگمات مدعو تھے۔ قومی اور بین الاقوامی پریس کے نمائندے موجود تھے۔وزیراعظم آچکے تھے بس اب صدر مملکت کا انتظار تھا۔ ان کے آتے ہی تقریب کا آغاز ہوجانا تھا وہ دیکھیے’ صدر صاحب تشریف لارہے ہیں ان کے پیچھے پیچھے ملٹری سیکرٹری اور اے ڈی سی ‘سمارٹ وردیوں میں ملبوس فوجی وقار کے ساتھ چل رہے تھے۔صدر مملکت ڈائس  کے سامنے کھڑے ہوکر فائل کھولتے ہیں ‘حلف اٹھانے  والے وزراء بھی کھڑے ہوجاتے ہیں اور اپنی اپنی فائل کھول کر حلف نامہ سامنے  رکھتے ہیں ۔ صدر صاحب نے پڑھنا شروع کردیا۔ ابھی”میں “ہی کہا تھا کہ ایک طرف سے سپاہیوں کا شور سنائی دیا ‘پھر ایک مولانا آتے  دکھائی دیے سر پر دستار تھی اور کاندھے پر چار خانے والا زرد رومال! انہوں نے ہاتھ کے اشارے سے صدر صاحب کو روکا اور گرج کر پوچھا “ان حلف برداروں کے این او سی کہاں ہیں ؟پیش کیے جائیں”

صدر صاحب رُک گئے وزیراعظم اٹھ کر کھڑے ہوگئے ‘حلف اٹھانے والے نامزد وزراء ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگے ۔وزیر اعظم کو پوچھا کون سا این او سی؟

مولانا نے ایک نگاہِ غلط انداز سے وزیراعظم کو دیکھا اور صرف اتنا کہا۔

آپ درمیان میں نہ بولیے۔

وزیراعظم خاموش ہوگئے این او سی نہیں تھے۔تقریب منسوخ ہوگئی ‘صدر صاحب نے جھک کر مولانا کو سلام کیا اور ایک طرف ہوگئے۔مولانا نے ابروؤں کے اشاروں  سے صدر صاحب کے سلام کا جواب دیا اور باہر نکل گئے۔ پورے ہال میں ان  کے ٹھک ٹھک کرتے قدموں کے علاوہ کوئی آواز نہیں تھی ہر طرف مکمل سناٹا تھا!

یہ تینوں واقعات اس ملک کی  صورت احوال کو واضح کررہے ہیں  جس کا ذکر کیا جارہا ہے۔یہاں یہ وضاحت ازحد لازم ہے کہ اس ملک کا پاکستان سے دور کا بھی کوئی تعلق نہیں !

یہ ملک کسی معلوم برِ اعظم میں نہیں تھا۔ یہ عجیب و غریب ملک فضا میں اٹکا تھا۔ نیچے گرتا تھا نہ اوپر خلا کی طرف ہی جاتا تھا ‘بظاہر  تو اس ملک کو چلانے کے لیے ایک عدد  حکومت موجود تھی صدر تھا جو ریاست کا سربراہ تھا ۔وزیراعظم تھا جو حکومت کا سرخیل تھا وزراء تھے’صوبوں کے گورنر اور وزرائے اعلیٰ  تھے۔ وفاقی اور صوبائی کابینہ  تھیں  بیورو کریسی تھی منتخب پارلیمنٹ  تھی۔ پوری ریاست اور حکومتی مشینری موجود تھی مگر اصل اقتدار اہل مذہب کے ہاتھ میں تھا۔

دلچسپ حقیقت یہ تھی کہ اس ملک میں عملی زندگی کے حوالے سے مذہبی تعلیمات پر عمل کرنا ضروری نہ تھا ۔چوری چکاری چور بازاری ڈاکے عام تھے ننانوے فیصد آبادی صبح شام جھوٹ بولتی وعدہ پورا کرنے کا مقررہ وقت پر پہنچنے کا ‘اپائنٹمنٹ  ایفا کرنے کا کوئی تصور نہیں  تھا۔  رشوت عام تھی سفارش کے بغیر کام نہیں ہوتا تھا۔میرٹ کی صبح شام رات دن دھجیاں اڑتی تھیں ۔حقدار مارے مارے پھرتے تھے۔نااہل مزے کرتے تھےشرفا کونوں کھدروں میں  چھپ کر زندگی کے دن پورے  کرتے تھے۔ غنڈے بدماش اٹھائی  گیرے لچے لقندرے دندناتے پھرتے تھے۔ بچوں کا اغوا عام تھا۔ اغوا برائے تاوان باقائدہ انڈسٹری بن چکا تھا۔ گاڑیوں کی چوری اس قدر عام تھی کہ لوگ چوروں کو گاڑیوں  کا آرڈر دیتے تھے کہ فلاں ماڈل کی فلاں گاڑی درکار ہے !پورے ملک میں کوئی ایک کچہری’ ایک تحصیل کوئی ایک پٹوار  خانہ نہ  تھا  جہاں  رشوت کے بغیر کام ہوتا ہو۔

سب سے زیادہ خیانت اور بے ایمانی  وہاں کا تاجر طبقہ کرتا تھا ۔یہ چھ بڑے گناہوں میں مبتلا تھا اور یہ چھ کے چھ گناہ  ڈنکے کی چوٹ پر کرتا تھا ۔اول ‘ شے بیچتے وقت خوب خوب جھوٹ بولتا  اور نقص چھپاتا تھا’ دوم۔ تاجر طبقہ کھانے پینے کی اشیامیں  ہولناک ملاوٹ کرتاتھا ۔گوشت کتوں اور گدھوں کا بیچتا تھا۔ مرچوں ‘آٹے ‘دودھ’گھی’مکھن’ شہد کوئی شے خالص نہیں تھی۔ یہاں تک کہ جعلی دوائیں عام تھیں اور بچوں کا دودھ بھی خالص عنقا تھا۔ سوم’تاجر  طبقہ  ٹیکس چوری میں ٹاپ پر تھا اور ٹیکس جمع کرنے والی مشینری کو کرپٹ کرنے میں بے مثال مہارت رکھتا تھا۔ چہارم’ نوے پچانوے فیصد تجاوزات کے ذمہ دار یہ تاجر دکاندار  اور کارخانہ دار تھے! پورے ملک کو انہوں نے تجاوزات کے ذریعے یرغمال بنا کر بدصورت کیا ہوا تھا۔ پنجم’ یہ لوگ خریدا ہوا مال واپس یا تبدیل نہیں کرتے اور یوں صارفین کا بنیادی حق سلب کئے ہوئے تھے۔ششم ‘ یہ لوگ مال کمانے کے لیے مذہب کا استعمال بے دردی سے کرتے تھے ‘اور لوگوں کے مذہبی جذبات کا استحصال کرکے خو ب خوب مال بناتے تھے۔

مگر المیہ یہ تھا کہ تاجر اور مذہبی دونوں طبقے اس عجیب و غریب ملک میں  یک جان دو قالب تھے۔ دونوں ایک دوسرے کی حفاظت اور سرپرستی کرتے تھے تاجر اناج کی بوریاں  مدارس میں بھیجتے تھے اور لاکھوں علما ء کو چندے اور مشائخ کو نذرانے میں  دیتے تھے اور اپنے تئیں  سمجھتے تھے کہ کارِ خیر کررہے ہیں اس کے بدلے میں اہلِ مذہب ‘تاجر طبقے کو ان چھ برے اعمال سے منع نہیں کرتے تھے بلکہ ہر ممکن طریقے سے تاویلات اور توجیہات کرکے  مزید حوصلہ افزائی کرتے تھے مثلاً  کبھی یہ مذہبی طبقہ سمگلنگ کو تجارت قرار دیتا تھا اور کبھی ٹیکس نہ دینے کا جواز گھڑتا تھا۔

معاشرے میں موجود ان جرائم ‘ گناہوں اور مکروہات او لعنتوں سے مذہبی طبقہ مکمل بے اعتنائی برتتا ‘مگر جس کو چاہتا کافر قرار دے دیتا۔یوں  مسلمان کہلانے کی خاطر’ کیا عوام اور کیا خواص ‘سب ان مذہبی لیڈروں علماء اور مشائخ  کے دست نگر تھے’ ان کے سامنے بے بس تھے اور  عملاً ان کے  ہاتھوں یرغمال بنے ہوئے تھے۔

SHOPPING

مسلمان ہونے کا سرٹیفکیٹ یا این وا سی جاری کرنا کاروبار  بن گیا تھا۔ دکانیں کھل گئی تھیں۔این او سی لینے والے منہ مانگے دام ادا کرتے تھے ۔،ہرعقل مند شخص  دوسرے کو  نصیحت کرتا تھا کہ این او سی لو اور جو چاہے کرو!

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *