• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • پانی میں ڈوبتا پاکستان اور لڑتے سیاستدان۔۔ڈاکٹر ندیم عباس

پانی میں ڈوبتا پاکستان اور لڑتے سیاستدان۔۔ڈاکٹر ندیم عباس

دنیا میں حادثے جنم لیتے رہتے ہیں اور قدرتی آفات بھی ایک حقیقت ہیں۔ ضرورت سے زیادہ بارشوں کا آجانا ترقی یافتہ اقوام میں بونس اور تیسری دنیا میں مصیبت سمجھا جاتا ہے۔ یہ جملہ وطن عزیز میں دہائیوں سے سن رہے ہیں کہ بارشیں نہ ہوں تو خشک سالی سے مرتے ہیں اور بارشیں ہوں تو سیلاب سے مرتے ہیں، مرنا ہر دو صورتوں میں ہے۔ اگر دیکھا جائے تو قدرت کا کتنا کرم ہے کہ وہ چند سال بارشیں کم دیتی ہے تو چند سال کے بعد اس کمی کو پورا کرکے انسانی بستیوں کو اجڑنے نہیں دیتی۔ یہ تو ہماری حماقت ہے کہ اس پانی کو سنبھال ہی نہیں سکتے، جو قدرت صاف شفاف اور پاک و پاکیزہ ہمارے صحن میں اتار دیتی ہے۔ ہم آج تک اس قابل نہیں ہوسکے کہ بارش کے پانی کو گٹر کے پانی سے الگ کرسکیں۔ المیہ یہ ہے کہ بارش کا پانی الگ کرکے جمع کرنا اور اس سے استفادہ کرنا تو دور کی بات ہے، ہمارے ہاں کا نظام ایسا ہے، جس میں پانی گٹر میں ڈال کر بھی نکالا نہیں جا سکتا اور بارش کے بعد دنوں تک علاقوں کے علاقے متاثر رہتے ہیں۔ میں روٹین کی بارش کی بات کر رہا ہوں، جب بارش تھوڑی زیادہ ہو جاتی ہے تو گٹر لائنیں تو چھوڑیں، ہمارے روڈ اور گلیاں بھی اس پانی کو سنبھال نہیں پاتیں اور سیلابی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔

دنیا اس وقت جس بحران کی طرف تیزی سے بڑھ رہی ہے، اسے پانی کا بحران کہا جاتا ہے۔ تاریخ میں پہلی بار جرمنی اور اس کے پڑوسی ممالک میں بڑی جھیلیں خشک ہوگئی ہیں۔ اوسلو کا درجہ حرارت اسلام آباد سے بڑھ گیا اور یہ کسی نے نہیں سوچا ہوگا، مگر برمنگھم کا درجہ حرارت لاہور سے آگے تھا۔ آج دل بہت دکھی ہوا، کوہ سلیمان کے بلوچ علاقے میں ایک نوجوان نے دو بچوں کو ڈوبتے دیکھا تو انہیں بچانے کے لیے پانی سے لڑ گیا، مگر جذبات اور طاقت کا کوئی مقابلہ نہیں ہوتا اور وہ طاقت بھی پانی کی جو پہاڑوں کو توڑ دیتی ہے۔ بچے تو ڈوبے ہی ڈوبے بچانے والا بھی لاپتہ ہوگیا۔ ایک تصویر وائرل ہوئی ہے، جس میں ایک شخص پورا دریائی ریت میں پیوست ہوچکا ہے اور اس کے ہاتھ باہر نکلے ہوئے ہیں۔ یوں لگتا ہے جیسے کسی کو پکار رہا ہو اور اسی پکار میں اس کی روح پرواز کر گئی۔ اہل علاقہ کی بڑی تعداد اس کی لاش کو نکال کر ہسپتال لے گئی اور بڑی تعداد میں لوگ اس کے جذبے کو سلام کرنے کے لیے ہسپتال پہنچ رہے ہیں۔ یہ ایک واقعہ نہیں، لوگ ایک دوسرے کی جانیں بچانے کے لیے یونہی جانیں قربان ہو رہے ہیں۔ اموات کی تعداد سینکڑوں میں ہے۔

ہمارے ہاں اس پر کوئی باز پرس ہی نہیں کی جاتی کہ کروڑں روپے کی مالیت سے جو بند بنائے جاتے ہیں، وہ ان سیلابی ریلوں کو روک کیوں نہ سکے؟ جو چھوٹے ڈیموں کے نام پر اربوں روپے کے بجٹ برباد کیے گئے، ان کا کیا بنا؟ کیا صرف یہ سن لینا کافی ہے کہ پانی زیادہ آگیا، اس لیے وہ بند ٹوٹ گئے؟ منگروٹھہ قصبے کے ڈوبنے کی بنیادی وجہ اس کے قدرتی پہاڑی نما ٹیلے پر مقامی وڈیرے کی طرف سے کریشر مشین کا لگانا ہے، جس نے تھوڑے عرصے میں تیس فٹ حفاظتی لائن کو تہس نہس کر دیا۔ اس پر بھی تحقیق ہونی چاہیے کہ وڈیروں نے اپنی زمینیں بچانے کے لیے بڑے بڑے بند بنا لیے یا بنوا لیے اور پانی کا رخ غریب آبادیوں کی طرف موڑ دیا، جس کا نتیجہ ہمارے سامنے ہے اور تباہی دیکھی نہیں جا رہی۔

کاش وطن عزیز میں انسان دوست حکومتیں ہوتیں اور یہاں ریاست عوام کے لیے ماں کا کردار ادا کرتی، ماں کو بیٹے کے جانے کا جو دکھ ہوتا ہے، وہ ناقابل بیان ہے۔ اہل ریاست کو چھوڑیں، اہل حکومت کو دیکھ لیں، ہمیں ایسے بے وقوف بنا رہے ہیں، جیسے ہم چار سو سال پہلے کے انسان ہوں۔ جناب ہم سب سمجھ اور دیکھ رہے ہیں۔ پنجاب میں پچھلے چار سال سے پی ٹی آئی اور اس کے اتحادیوں کی حکومت ہے، آپ بہت آوازیں کستے تھے اور عمران خان صاحب کو تھر کے بچوں کی تکلیف ہوتی تھی اور کراچی کی مظلومیت دور کرنے پر تو کئی سیٹیں جیت گئے۔ آج انہیں خبر ہو کہ انہی کی حکومت کے زیر سایہ تونسہ اور کوہ سلیمان کی بلوچ عوام آہ و بکا کر رہی ہے۔ آپ اپنے مدافع جناب شہباز گل صاحب کی حمایت میں جنتا میڈیا پر تشریف لائے ہیں، اس کا نصف بھی ان لاکھوں عوام کے دکھ درد کے مداوے کے لیے آتے تو ہمارے دل شاد ہوتے اور ہم آپ کی جھولی ماضی کی طرح پھر ووٹوں سے بھر دیتے، مگر اب تو صورتحال ابتر ہوچکی ہے، جانیں بچانے کے لیے ان ہیلی کاپٹرز کو استعمال نہیں کیا گیا، جو پنجاب حکومت کی ملکیت تھے۔اسی طرح فوج کو بلا کر کچھ فوری امدادی سرگرمیوں کا اہتمام ہوسکتا تھا، مگر ان سے آپ ناراض ہیں، اس ناراضگی کی قیمت ہم نے ادا کی ہے۔ ہر روز ٹی وی چینلز پر اکھاڑے کرنے والے میڈیا کے کردار پر سوالات ہیں کہ الجزیرہ اور پریس ٹی وی تو سیلاب، سیلاب اور متاثرین متاثرین کی دہائیاں دے رہے تھے اور آپ نے یہ زحمت ہی گوارا نہیں کی کہ ان مظلوموں کو کوریج دی جائے۔ سیاستدان کسی دور میں بڑے زیرک اور وضعدار ہوا کرتے تھے، جو ایسے مواقع پر سب کچھ بھول بھال کر ایک ہو جاتے تھے، اب ہماری سیاست بھی نرگسیت کا شکار ہوچکی ہے، جو لڑائی تو اشرافیہ کی ہے، مگر اس کا خمیازہ عام عوام نے بھگتنا ہے۔ میر کا ذرا پرانی اردو میں شعر ہے اور کیا خوب شعر ہے:

کن نیندوں سووتی ہے تو اے چشمِ گریہ ناک

Advertisements
julia rana solicitors london

مژگاں تو کھول شہر کو سیلاب لے گیا

Facebook Comments

ڈاکٹر ندیم عباس
ریسرچ سکالر,اور اسلام آباد میں مقیم ہیں,بین المذاہب ہم آہنگی کیلئے ان کے کام کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply