انبیاء کا تسلسل و اختتام۔سانول عباسی

سوال ؛

14  سو سال پہلے وہ کون سا انسانی ارتقائی معیار طے ہوا جس کی بنیاد پر اب انسانیت کو آسمانی رہنمائی (الکتاب) یا انبیاء کرام کی مزید ضرورت باقی نہ رہی اور یہ سلسلہ ختم کردیا گیا؟

جواب!
انسان زندگی میں مختلف مدارج سے گزرتا ہے جیسے بچپن، لڑکپن، جوانی اور صلاحتیوں سے بھرپور پختہ عمر اور جب ان مراحل سے گزرتا ہے تو ہر مرحلے کے اپنے اپنے اسلوب ہیں اور جب عمر کی پختگی کے مراحل میں پہنچتا ہے تو اسے رہنمائی کی چنداں ضرورت نہیں رہتی کیونکہ وہ خود سوچنے سمجھنے اور فیصلہ کرنے کے قابل ہو جاتا ہے سوائے چند بنیادی اصولوں کے جو تمام عمر اسے ازبر رکھنے ہوتے ہیں جن پہ اس کی تمام زندگی کا دارومدار ہوتا ہے۔
اسی طرح انسانیت بھی اپنے شعور کے ارتقائی مراحل طے کرتی ہوئی اس نہج پہ آئی ہے اور جس طرح کے دور میں انسانیت رہی اس طرح سے اس کی رہنمائی کی گئی عہد طفولیت میں انسانیت کے سر پہ کوئی ذمہ داریاں نہیں تھیں رب العزت نے اسے انگلی پکڑ کے چلنا سکھایا پھر انسانیت کے لڑکپن کا دور آیا جس میں انسان کا تجسس اور بڑھ جاتا ہے مگر سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں ابھی اتنی نہیں ہوتیں کہ کوئی نتیجہ اخذ کیا جا سکے اس دور میں انسانیت کو جس طرح کی رہنمائی درکار تھی اسی طرح کی اسے تعلیم دی گئی پھر ایک عروج کا دور آتا ہے جس میں انسان پہ جذبات طاری ہوتے ہیں اس کی فکر میں جدت و روانی تو ہوتی ہے مگر وہ صرف وقتی جذبات کے تابع رہتی ہے کوئی ٹھہراؤ  نہیں ہوتا بس جس سمت میں جذبات کا بہاؤ چلا ادھر ساری قوت لگا دی جذبات کا طلاطم اتنا شدید ہوتا ہے کہ سوچ میں ٹھہراؤ  ممکن نہیں ہوتا اور سوچنے سمجھنے کی شکتیاں بدرجہ  اتم موجود  ہونے کے باوجود بھی قوت فیصلہ انتہائی کمزور اور جذباتیت کے تابع ہوتی ہے جو انسان کے لئے فائدہ مند نہیں ہوتی جس سے اکثر وہ تنائج برآمد نہیں ہوتے جو منشاء زندگی ہیں۔ انسانیت کی زندگی کے ان تمام ادوار میں انسان کی بہت مدد کی گئی اس کے جذبات کی بہت قدر کی گئی مگر کوئی مکمل ذمہ داری نہیں سونپی گئی۔

پھر آیا مکمل ہوش و حواس، سوچنے غورو فکر کرنے سمجھنے سمجھانے، فیصلہ کرنے یکسوئی کی قوت سے آراستہ ایک ذمہ دار با صلاحیت مرحلہ تو اس مرحلے میں بالکل اسی طرح جس طرح انسان کے ساتھ ہوتا ہے رب العالمین نے انسانیت کو اس کی بقیہ زندگی سے متعلق چند بنیادی کلیات و قوانین تھما دئیے کہ زندگی کی راہ میں جب کبھی ڈگمگائے تو ان کلیات و قوانین سے دوبارہ روشنی حاصل کر لے اور دوم یہ ابدی رہنمائی بطور پیمانہ بھی اس کے ساتھ رہے کہ انسان زندگی کی وادیوں میں گم گشتہ مسافر کی طرح نہ پھرتا رہے، اور اسے دنیا میں آزاد کر دیا اب زندگی گزارنے کے جو بنیادی اصول اور کارزار حیات میں جہاں سے انسانیت کے بہکنے کا خدشہ ہو سکتا ہے ان کی وضاحت کے ساتھ ساتھ ان علمی پہلوؤں کو بھی واضح کر دیا جن پہلوؤں سے انسانیت تکمیل کے مراحل آسانی سے طے کر سکتی ہے اور وہ سب کچھ انسان کے سپرد کر دیا گیا۔

انسانیت کے جن مدارج کو خاکسار نے بیان کیا ہے عہد طفولیت لڑکپن جوانی اور پھر ایک مدبرانہ شخصیت اگر آپ تاریخ کی ورق گردانی کریں تو آپ دیکھیں گے کہ واقعتاً انسانیت ان تمام مدارج کو طے کرکے  اس مقام پہ آئی ہے۔
تاریخ کے طالبعلم انسانی ادوار کی مختلف کڑیوں کو اس طرح بیان کرتے ہیں
آدم علیہ السلام سے نوح علیہ السلام تک انسانیت طفولیت کے دور سے گزری جس میں اس پہ کوئی خاص ذمہ داری و قانونی پابندیاں نہیں ملتیں بس اپنا گزران ہے پھر نوح علیہ السلام سے ابراہیم علیہ السلام تک یہ انسانیت کا لڑکپن کا دور ہے جس میں انسانیت کی فقط نشوونما سے متعلق چند بنیادی باتیں ہیں تاکہ انسانیت میں وقت کے ساتھ لڑنے اور حقیقت کو جاننے کی جستجو اور زندگی سے نبردآزما ہونے کی صلاحیتوں کو اجاگر کیا جا سکے۔ پھر ابراہیم علیہ السلام سے عیسٰی  علیہ السلام کا دور خالص انسانی جذباتی دور ہے جہاں جا بجا انسانیت اپنی جلد بازی و قوت کے خمار میں نظر آتی ہے قوت فیصلہ سے محروم اپنے گھمنڈ میں کسی بھی چیز کو سنبھالنے سے عاری جو کچھ بھی ان کو عطا کیا گیا اسے سنبھال نہ سکے اور ان تمام تینوں ادوار میں اگر دیکھیں تو یہ روز روشن کی طرح عیاں ہوتا ہے کہ کس طرح رب العزت نے انسانیت کے ناز اٹھائے اور ان کی مکمل تربیت کے اصول اپنی طرف سے بنا سنوار  کے ان کو دئیے، انہوں نے کوئی آسمانی کتاب خود نہیں لکھی بلکہ لکھی لکھائی ملیں اور زمانہ شاہد ہے کہ انسانیت اس خدائی خزانے کو نہیں سنبھال سکی، ان کے ہر طرح کے ناز اٹھائے گئے، کبھی ان کی ضد کو دیکھتے ہوئے ان کے لئے من و سلوی اتارا گیا، کبھی ان کو زمانے کی گرد کی نظر کر دیا تاکہ ہر حوالے سے اعلی انسان تیار ہو جائے۔

آخری دور جس میں انسانیت بالکل اس نہج پہ آگئی جہاں اس میں زندگی کی وہ تمام صلاحیتیں راسخ ہو گئیں کہ جو ذرا سی رہنمائی سے بہترین عمل کر سکے پروقار تعمیری صلاحیتوں سے بھرپور ذمہ داریوں کو سنبھالنے والی ساری خصوصیات اس دور کے انسان میں  جمع ہو گئیں اس دور کو دورِ محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کے نام سے تاریخ بیان کرتی ہے اس دور میں سب کچھ انسانیت کے سپرد کر دیا گیا انسان نے اپنے تمام کام خود کیے  کسی بھی قسم کی مافوق الفطرت مدد نہیں کی گئی سوائے وہاں جہاں واقعی انسانیت مجبور ہو گئی سب کچھ اس دور کے انسان کے ہاتھ میں دے دیا گیا ازلی و ابدی چند بنیادی اصولِ زندگی اس کے ہاتھ میں تھما کے زندگی کی راہوں میں اسے آزاد کر دیا کہ اب اس دنیا میں اپنی صلاحیتیں منواؤ اور اپنے آپ کو ثابت کرو اور اس کی مثال آپ کے ہاتھ میں ہے یعنی قرآن اور جب کبھی انسانیت نے کوئی بچگانہ فرمائش بھی کی تو انتہائی واشگاف انداز میں  انکار کر دیا گیا کہ اب جو کرنا ہے تم نے اپنے بل بوتے پہ کرنا ہے سہارے لینا چھوڑ  دو۔
آج اگر انسان کے حالات پہ غور کریں تو دیکھیں گے کہ اسے چنداں بہت زیادہ رہنمائی یعنی انگلی پکڑ کے چلانے کی ضرورت نہیں بلکہ تھوڑی سی رہنمائی درکار ہوتی ہے جو اسے درست سمت کے تعین میں مدد دیتی ہے باقی مسافتیں یہ خود طے کرتا ہے

سانول عباسی
سانول عباسی
تعارف بس اتنا ہی کہ اک عام انسان

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *