الھجرہ علی خطی رسول اللہ ﷺ (حصّہ چہارم)۔۔منصور ندیم

غار ثور میں تین ایام کا قیام صرف مشرکین کی توجہ بانٹنے کے لئے تھا۔ سیدنا ابوبکر صدیق نے پہلے سے ہی انتظام کررکھا تھا، ہجرت کے لئے مکہ سے نکلنے کے بعد تین دن کے قیام کے بعد غار ثور سے مدینہ کی جانب سفر کے لئے چوتھے دن صبح سویرے سیدنا ابو بکر صدیق نے عبداللہ بن اریقط کو پہلے سے ذمہ داری دی ہوئی تھی کہ وہ دو اونٹنیاں لے کر وہاں پہنچ جائے، یہ دونوں اونٹنیاں پہلے سے ہی عبداللہ بن اریقط کے سپرد کی گئیں تھیں، جو انہیں لے کر پہاڑ پر آگیا، حالانکہ عبداللہ بن اریقط نے اس وقت تک اسلام قبول نہیں کیا تھا، وہ ابھی مشرک ہی تھا، مگر مکہ میں ایک انتہائی معتبر  شخص تھا اور سیدنا ابو بکر صدیق کے ساتھ ان کا اچھا تعلق تھا، سیدنا ابو بکر صدیق کے اعتماد کا دوست ہونے کی نسبت سے سیدنا ابو بکر صدیق کو پورا یقین تھا کہ وہ شخص ان کے سفر کا راز فاش نہیں کرے گا۔ چونکہ عبداللہ بن اریقط مکہ سے مدینے کے لئے راستے کی آگاہی بھی رکھتا تھا، اس لئے اسے اونٹنیاں پہنچانے کی ذمہ داری دی گئی تھی، اس سفر میں عملا ًً تین افراد تھے، رسول اللہ ﷺ کے علاوہ سیدنا ابوبکر صدیق اور ان کا غلام عامر بن فہیرہؓ بھی تھا، ایک اونٹنی پر رسول اللہ ﷺ تنہا تشریف فرما تھے، اور دوسری اونٹنی پر سیدنا ابوبکر صدیق اور ان کے ساتھ اس اونٹنی پر ان کے پیچھے عامر بن فہیرہؓ بیٹھے، اور ان کے ساتھ عبداللہ بن اریقط راستہ بتلاتے ہوئے پیدل چل رہے تھا۔

غار ثور سے نکل کر یہ کارواں جو آٹھ روز میں مدینہ پہنچا، ایک ایسا سفر تھا جو دنیا کی تاریخ کو بدلنے والا تھا، غار ثور سے صبح نمودار ہونے سے کچھ پہلے اندھیرے میں غار سے نکل کر مدینے کی طرف کارواں روانہ ہوا، غار ثور سے رسول اللہﷺ کا کارواں مکہ کے زیریں حصے کی طرف ساحل سمندر کی سمت سے عُسفان کی طرف بڑھا، پھر یہ کارواں اَمَج کے نچلے حصے سے ہوتے ہوئے قُدَید کے قریب سے گزرا۔ الھجرہ پروجیکٹ کی نمائش میں ہر روز کے سفر کے راستے کو مکمل طور پر فضائی ڈرون سے فلمایا گیا ہے اور ہر روز کے سفر کے راستے کی مکمل ویڈیو ان مقامات کی تفصیلات کے ساتھ اس نمائش میں قد آدم اسکرینوں پر الگ الگ تسلسل سے چل رہی ہیں، ان تصاویر میں دیکھا جاسکتا ہے، پہلے روز کے سفر میں مسلسل کارواں دن ورات چلتا رہا تھا اور اس سفر میں ہجرت کے کارواں جن علاقوں سے گزرا ان میں آغاز جبل ثور سے ہوکر الخشعہ پہاڑی سلسلہ، الحدیبیہ، الغمیم کا مغربی کنارہ، صخرہ بارزہ کی وادی شامل رہی ۔

Advertisements
julia rana solicitors

جاری ہے۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply