جب بحرِمرمرہ نے آگ پکڑی (حصّہ اوّل)۔۔کبیر خان

ایک حدیث مبارکہ کی روُ سے دیکھا جائے توفتح قسطنطنیہ مسلمانوں کے لئے ہوسِ ملک گیری کی تسکین نہیں ،جزوِ ایمان تھی۔  حدیث مبارکہ ہے کہ:

”تم ضرور قسطنطنیہ کو فتح کرو گے، وہ فاتح بھی کیا باکمال ہوگا اور وہ فوج بھی کیا باکمال ہوگی“ ۔

FaceLore Pakistan Social Media Site
پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

یہی وجہ تھی کہ مسلمان شروع سے اس شہرکو فتح کرنے کی جدوجہد کر رہے تھے۔ لیکن متعدد بار حملے ناکام ہوئے۔ آخر 674عیسوی میں ایک بڑا اور طاقتور بحری  بیڑا تیار کر کے قسطنطنیہ کی سمت روانہ کیا گیا۔ اس بیڑے نے شہر کے باہر ڈیرے ڈال لیٗے اور اگلے چار سال تک متواتر فصیلیں عبور کرنے کی کوششیں کرتے رہے۔آخر 678 ء میں بازنطینی بحری جہاز شہر سے باہر نکلے اور انھوں نے حملہ آور عربوں پر حملہ کر دیا۔ اس بار ان کے پاس ایک زبردست ہتھیار تھا، جسے ’آتش یونانی‘ یا گریک فائر کہا جاتا تھا۔ یہ ایک ایسا آتش گیر مادہ تھا جسے تیروں کی مدد سے پھینکا جاتا تھا اور وہ کشتیوں اور جہازوں سے چپک جاتا تھا۔ مزید یہ کہ پانی ڈالنے سے اس کی آگ اوربھڑک جاتی تھی۔عرب اس آفت کے مقابلے کے لیے تیار نہیں تھے۔ چنانچہ دیکھتے ہی دیکھتے تمام بحری بیڑا آتش زار کا منظر پیش کرنے لگا۔ سپاہیوں نے پانی میں کود کر جانیں بچانے کی کوشش کی لیکن یہاں بھی پناہ نہیں ملی کیوں کہ آتش یونانی پانی کی سطح پر گر کر بھی جلتی رہتی تھی۔ ایسا لگتا تھا جیسے پورے بحر مرمرہ نے آگ پکڑ لی ہے۔ عربوں کے پاس پسپائی کے علاوہ کوئی چارہ نہ رہا۔ واپسی میں ایک ہولناک سمندری طوفان نے رہی سہی کسر پوری کر دی اور سینکڑوں کشتیوں میں سے ایک آدھ ہی بچ کر لوٹنے میں کامیاب ہو سکی۔ اسی محاصرے کے دوران جلیل القدر صحابی حضرت ابو ایوب انصاری نے بھی اپنی جان جان آفریں کے سپرد کر دی۔ ان کا مقبرہ آج بھی شہر کی فصیل کے باہر ہے۔ سلطان محمد فاتح نے یہاں ایک مسجد بنا دی تھی جسے ترک مقدس مقام مانتے ہیں۔

’’۔۔۔۔ قسطنطنیہ330 سے 395ء تک رومی سلطنت اور 395ء سے 1453ء تک بازنطینی سلطنت کا دارالحکومت رہا اور 1453ء میں فتح قسطنطنیہ کے بعد سے 1923ء تک سلطنت عثمانیہ کا دار الخلافہ رہا۔ فتح قسطنطنیہ کے بعد سلطان محمد فاتح نے اس شہر کا نام اسلام بول رکھا مگر ترکوں کو اسلام بول بولنے میں مشکل ہوتی تھی تو وہ اسے استنبول کہتے تھے اس وجہ سے اس کا نام استنبول پڑا۔ شہر یورپ اور ایشیا کے سنگم پر شاخ زریں اور بحیرہ مرمرہ کے کنارے واقع ہے اور قرون وسطی میں یورپ کا سب سے بڑا اور امیر ترین شہر تھا۔ اس زمانے میں قسطنطنیہ کو Vasileousa Polis یعنی شہروں کی ملکہ کہا جاتا تھا۔۔۔۔‘‘(وکیپیڈیا)

صاحبو! ہم جماندرو شریف النفس واقع ہوئے ہیں ۔ کبھی کسی پر حملہ کیا نہ فتح پائی ۔ ساری زندگی ’’سر نِوا کر‘‘ جیا کئیے۔ ابھی جو قسطنطنیہ کا دورہ پڑا تو یقین فرمائیں خالی ہاتھ گئے۔ بحری بیڑا نہ بیڑی ۔ تیر تفنگ نہ آتشگیر مادّے۔ گھوڑے ہاتھی نہ خچر باتری۔  میزائل راکٹ نہ ٹینک آبدوزیں۔ لنڈورے کے لنڈورے۔ ایک چھڑی کی قسم نہیں کھاتے، واک کے دوران کُتّے بِلّے سے باوقار فاصلہ قائم رکھنے کے لئے ، دُم کی طرح لگائےرکھی تھی۔ وہ بھی تُرک پولیس نے سرینڈر کروا لی کہ شہر میں آوارہ کُتّوں بلیوں کو سانبھ کے رکھنا میونسپلٹی کا کام ہے ۔ اور وہ اس میں مہارت تامہ رکھتی ہے۔ چنانچہ   بے دست و پائی میں ہمیں  صرف بیگم کا ہاتھ میّسر تھا۔اور بیگم بھی سگی ہی نہیں ، بے حد جتی ستی بھی۔( بحری جہاز کے عرشہ پر،معصوم سا رقص دیکھتے ہوئے بھی جل توُ جلال توُ کا ورد کرتی ہیں)۔ ہم چوبیس گھنٹے اسی جل تو جلال توُ کی  ذاتی نگرانی اور راہنمائی میں جیا کئیے۔ مگر حرام ہے جو حرفِ شکایت زباں پر لائے ہوں ۔

’’ونّ فائن مارننگ‘‘ فوراسٹار ہوٹل کے تھرڈ کلاس  ناشتے سے فارغ ہوتے ہی ڈرائیور نے ہانک کرہمیں بس میں بٹھا دیا ۔ مجبوراً ہماری راہبر و قائد کو بھی سوار ہونا پڑا۔ بس ہمیں اَن دیکھی منزل کی طرف لیئے  جارہی تھی  ۔ ہم سیاحتی کتابچوں کے  ذریعہ مزے سے تاریخ کی گلیوں اور بھول بھلیّوں میں ٹامک ٹوئیاں مار رہے تھے کہ بیگم نے پسلی میں کہنی ماری۔۔۔۔۔ ’’اُٹھ تینوں ایتھے سون لئی بھجیا گیا؟‘‘۔ ہڑبڑا کر دیکھا تو بیگم کہیں اور دیکھنے کو کہہ رہی تھیں ۔ ہم کان بند کر کے کھڑکی سے باہر مظاہرقدرت دیکھنے لگے۔۔۔۔۔۔ شاہراہ کے دونو طرف تا حدِ نگاہ پہلو بہ پہلو مومی چھولداریاں نصب تھیں ۔ بعد میں معلوم ہوا سبزیوں ، پودوں وغیرہ کی پنیریاں ہیں ۔’’کیا بے فضول خرچی ہے۔۔۔۔؟‘‘ہم نے سوچا۔

شاہراہ پرچند گھروں پر مشتمل ایک گوٹھ سے گذرتے ہوئے یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ تین چار بچّے ایک آوارہ کاغذ کو پکڑ کر لبِ شاہراہ ڈسٹ بِن میں ڈالنا چاہتے تھے لیکن ٹریفک کی تیزرفتاری کی باعث کاغذ اُن کی پکڑ میں نہیں آ رہا تھا۔ ہماری بس کے ڈرائیور نے ہیزرڈ لائیٹس آن کر کے گاڑی روکی تو لمحے میں دُور تلک رُکی ہوئی گاڑیوں کی قطار لگ گئی۔ بچّوں نے آوارہ کاغز پکڑ کر ڈسٹ بِن میں ڈالا اور مطمعن ہو کر اُچھلتے کودتے یہ جا وہ جا۔ ہمیں ہنسی بھی آئی اور تعجب بھی ہوا کہ ردی کے ایک کاغذ نے یہاں سے وہاں تک تیزرفتار ٹریفک کا پہیّہ جام کر دیا۔ ہمارے موٹروے پر مومی تھیلے، آج کے تازہ اخبارات، پمپرز ،سیگریٹ کے خالی پیکٹ اور اسی نوع کی دیگر اشیائے غیرضروریہ نہ صرف اُڑ اُڑ کر گاڑیوں کی ونڈ اسکرینز پر چپکتی رہتی ہیں بلکہ شاہراہ کے دونوں طرف یوں پھنسی رہتی ہیں جیسے کسی نے سوکھنے ڈالی ہوں ۔ لیکن اس کامطلب یہ نہیں کہ ہم گند پسند ہیں ۔ ہم تو ایک لمحہ کو کچرا تھام کے نہیں رکھتے، فوراً پرے پھینک دیتے ہیں ۔ یہی صفائی پسندی دھیرے دھیرے ہمارے مزاج میں رچ بس گئی ہے۔

تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ کے بعد بس ایک مقام پر رُکی، ڈرائیور نے جو کچھ کہا،قیافے سے اُس کا مطلب ہم  نے تو یہی نکالا کہ جس کسی نے ’’باہر پھرنا‘‘ ہے، پھر آئے۔ اس کے بعد کہیں بھی آزادانہ باہر پھرنے کی جگہ نہیں ہے۔ ہم نے سلیس پہاڑی میں ترجمہ  کر کے بیگم کو سنا دیا۔ وہ جواباً سندھی میں بھلا سا تبرّہ ارسال فرما کر گاڑی سے اُتر گئیں ۔ ہم بھی اُن کے نقشِ قدم پر چل پڑے۔ آگے ایک خاصی پلی پلائی دستانہ بردار خاتون نے ہماری پیش قدمی روک دی۔ اور ڈولہے سے پکڑ کر قریب ہی دوسری عمارت کے دروازے تک چھوڑ آئیں ۔۔۔۔۔ ’’مردانہ یہاں‘‘۔ مردانے سے فارغ ہوکرہم متصّل ٹک شاپ پر گئے۔ مرُنڈا شرُنڈا ککھ نہ ملا، پانچ پانچ لیرا کی دوٹافیاں لے کر گاڑی میں جا بیٹھے۔ اور اس سے پہلے کہ بیگم کے منہ سے بقیّہ جھڑتا ہم نے ایک ٹافی اُن کے منہِ مبارک میں ڈال دی۔

ابھی بس چلی نہ تھی کہ ایک پختہ کار بندہ سوار ہوا اور فرمائشی قسم کی مسکراہٹ کے ساتھ ہم سے مخاطب ہوا۔۔۔۔:

’’ناچیز کوخوارزمی کہتے ہیں ۔آج آپ کو ہانکنے کا فریضہ مجھے سونپا گیا ہے ۔ میں ہی آپ کوانطالیہ کی سیر کراوٗں گا۔ اس سے پہلےکولمبس ٹورز کے پلیٹ فارم سے اجنبیوں اور انجانوں کی راہنمائی کرتا رہا ہوں ۔ کافی گھاگ گائیڈ ہوں۔آپ کی معلومات میں کماحقہ بیشی نہ ہوئی تو کمی بھی نہیں رہے گی۔۔۔۔۔۔‘‘وغیرہ وغیرہ  ۔ وہ ہاتھ کے ریفلیکٹر سے اپنی آواز کوجس طرح دائیں بائیں پھیلا رہا تھا اُس سے ہمیں لگا ، قبل ازیں وہ بسوں میں طاقت کے نسخے ،سانڈے کا تیل یا سنگ دل محبوب کو قدموں میں بچھانے والے تعویذ بیچتا رہا ہو گا۔ تقریر دلپذیر کے بعد بھی وہ فرنٹ سیٹ پر بیٹھا زبان چلاتا رہا، ڈرائیوربس۔ کم و بیش ایک گھنٹہ کے بعد بس ایک مقام پر جا رُکی ۔اور رُک ہی سی گئی۔ باقیوں کی دیکھا دیکھی ہم بھی اُترے۔ گائیڈ کا سوئچ آن تھا ۔

گاڑی سے اُتار کر وہ گھاگ راہنما ہمیں جہاں لے گیا،کاش ہم اس کی لفظی تصویر کھینچ سکتے۔۔۔۔۔ آپ نے متیالمیرہ کا ’’کٹھّا‘‘ دیکھا ہے؟(ایک زمانہ میں ’’دڑونہ خور‘‘ بکری بھی کٹھّے کی گذرگاہوں سے کتراتی تھی ۔ انطالیہ کا وہ گھاٹ نِرا متیالمیرہ کا کٹھّا تھا۔ اگرچہ کٹھّا آہنی ریلنگ سے مزیّن تھا  اور ریلنگ بھی بظاہر اتنی ہٹّی کٹّی کہ مِشری  چاچا کےسنڈے کو ’’ڈکّ کے‘‘رکھنے کے لئے کافی و شافی۔ لیکن دوُر نیچے بپھرے سمندر سے اُچھلتے خوف کو تو نہیں روک سکتی ناں۔

پَیروں کے ہینڈ بریک آن کر کے انچ انچ اوبڑ کھابڑ شارٹ کٹ سے گھاٹ کی طرف جانے اور گھاٹ اُترنے میں بال برابر فرق تھا۔ کئی کئی ویوّ بریکرز)لہر توڑوں؟)کے باوجود سمندر یہ بڑی بڑی موجیں اور جھاگ اڑا رہا تھا۔ جی چاہا کہ ہم بھی ہلکی پھلکی موج اڑا  دیکھیں لیکن اپنا ہاتھ بیگم کے دستِ جفا کیش میں تھا۔ کچھوے کی رفتار سے اُترتے اُترتے آخر ہم گھاٹ پر اُترہی  گئے۔ ہم نے چھاتی نکال کر ایک اُنگلی سے اپنے دائیں ڈولہے کی مچھلی دکھائی۔۔۔۔۔(بائیں والی پہلے ہی ایک حادثہ کی نذر ہو چکی تھی)۔ مبیّنہ مچھلی دیکھ کر بیگم نے پرس سے نکال ہوٹل کے مونوگرام والا ٹشوپیر بڑھاتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔’’شاباش میرے شیر! لو پسینہ پونچھ لو‘‘۔

’’معزّزحاضرات و حضرات !‘‘گائیڈ کی آواز گونجی’’ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق ، ہماری کشتی کسی اچانک فنّی خرابی کی وجہ سے پینتیس سے چالیس منٹ لیٹ ہے۔ اس کے علاوہ سیّاحوں کا ایک جتھّا بھی ابھی ابھی ناشتہ کر کے ہوٹل سے نکلا ہے، وہ لوگ بھی ہمارے ہمرکاب ہوں گے۔ اُن کا انتظار لازم ہے۔ زحمت کے لئے معذرت۔ تب تک گھاٹ پر کھُلے پھریں۔ بس موجوں کے ساتھ موجیں اُڑانے سے گریز کریں ۔ ‘‘

بیگم ایک طرف بیٹھ کر وقت گذاری کے لئے کنکروں سے سمندر میں طوفان اٹھانے کی مشق کرنے لگیں ،ہم ٹہلتے ٹہلتے دوسری اور جاکر سن گلاسز کے پیچھے آنکھیں سیکنے لگے۔ ابھی بائیں آنکھ ہی ہلکی سی تپی تھی کہ دائیں طرف سے گائیڈ آن ٹپکا۔۔۔۔

’’آپ چھڑے چھانٹ بیٹھے تھے، سوچا کمپنی دے دوں۔۔۔۔؟‘‘۔ اور ہمارے جواب سے پہلے دھپّ سے بیٹھ گیا۔ ’’میرا قیاس کہتا ہے ،آپ نیوی کے غوطہ خوررہے ہیں۔۔۔۔ ایم آئی رائٹ۔۔۔؟‘‘

۔ ویری رائٹ ، ہم نے جواب دیا۔

’’باچھاوٗ !ربع صدی سے صرف سات سال کم تجربہ ہےاپنا۔۔۔۔‘‘ اُس نے  گرمجوشی کے ساتھ مصافحہ کے لئے ہاتھ بڑھایا۔’’آپ کے ہاتھ بھی چپّو چلانے اور لنگر اٹھانے والے لگتے ہیں۔ کبھی کسی بڑی مچھلی پر جال ڈالا ہے؟‘‘۔

Advertisements
julia rana solicitors london

ہم نے مسکراہٹ سے اُس کی قیافہ شناسی کی داد دی۔
(ترکی کے سفرنامے سے ایک باب)
جاری ہے

  • julia rana solicitors london
  • julia rana solicitors
  • merkit.pk
  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply