• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • اے کعبہ دل اے معبد جاں، یہ کھلاڑی آخر جائیں کہاں؟۔۔سید مصعب غزنوی

اے کعبہ دل اے معبد جاں، یہ کھلاڑی آخر جائیں کہاں؟۔۔سید مصعب غزنوی

گزشتہ روز ایک پوسٹ نظر سے گزری جس میں بتایا جارہا تھا کہ پاکستانی ہاکی ٹیم کامن ویلتھ گیمز میں صرف ایک ایک عدد یونیفارم لیے پہنچی ہے، یہ سن کر بہت دکھ ہوا کہ آخر ہماری اتھلیٹک فیڈریشن کی بے ضمیری کی کوئی حد بھی ہے یا نہیں؟

یار اتنا بڑا ایونٹ، اب کیا ہر میچ کے بعد وہ پلیئرز اپنے ڈریسنگ رومز میں اپنی اپنی یونیفارم دھوئیں گے، میچ ختم ہوتے ہی۔ اور اگر نہ دھوئیں گے تو کیا اگلے روز کے میچ میں بدبودار گندی یونیفارم لیے میدان میں اُتریں گے؟

FaceLore Pakistan Social Media Site
پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

یہاں یقیناً کچھ لوگ کہیں گے کہ بھئی وہ ڈرائی کلین کروالیں گے، تو بھئی آپ نے یہ سوچا بھی کیسے؟ کیا ایسا کرکے مملکت خداداد کی عزت واش روم میں بہالیں وہ بیچارے؟

ایسا تو دنیا کا آخری احمق بھی نہ کرسکے گا۔ یقیناً ملک کی عزت ہر ایک کو عزیز ہوتی ہے اور اپنی جان سے بڑھ کر عزیز ہوتی ہے۔۔چلیں کچھ لوگ اس بات کا شاید سِرے سے ہی انکار کردیں لہذا ایک واقعہ سناتا ہوں تاکہ اس جیسے واقعات پر آپ کا ایمان مضبوط ہوسکے۔

چائنہ میں انٹرنیشنل مقابلہ جات کے لیے اولمپک ایسوسی ایشن پاکستان نے چند نوجوانوں کو سلیکٹ کیا، انہیں ویزا تو چائنہ جاری کرچکا تھا مگر سفر مملکت پاکستان کے سرکاری خزانے سے ہونا تھا۔ اب سرکار نے ادا کیا یا نہیں کیا ،مجھے بالکل معلوم نہیں اور نہ میرا کوئی چاچا ماما اس وقت پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن میں ملازم ہے، لہذا مجھے اس کی کانوں کان خبر نہیں۔ ایویں میں جھوٹ باندھوں اپنی نیک اور شریف النفس ایسوسی ایشن پر۔ معاذاللہ!

لڑکوں کو حکم ہوا کہ چائنہ پہنچنے ،وہ بھی اپنے ذاتی خرچ پر، اگر خرچہ   کرنا ممکن نہیں تو بتائیے کسی امیر زادے کا نام بھجوادیتے ہیں چائنہ کو۔

اب بیچارے لڑکوں نے چار و ناچار اپنے کوچ کے ہمت و دلاسہ دینے پر بالآخر حامی بھرلی، اور یہ لوگ براستہ خنجراب بارڈر چائنہ کی جانب بسوں پر عازمِ  سفر ہوئے۔
ان لڑکوں کے کوچ بتاتے ہیں کہ ہم نے ٹرینوں، لوکل بسوں بلکہ یہاں تک کہ راہ چلتی گاڑیوں سے لفٹ لے لے کر  اپنے محدود اخراجات  میں سفر کیا تاکہ  وہاں پہنچ سکیں ، جس پورے چکر میں ہم افتتاحی تقریب سے دو دن لیٹ ہوگئے۔

وہاں پہنچے تو ہمارے پاس صرف ایک ایک یونیفارم تھا، اور حالات سفر کی تھکن کی وجہ سے نہایت خراب تھے۔ یہ دیکھ کر وہاں اولمپک ایسوسی ایشن کے عہدیدار شدید پریشان ہوئے کہ ان اتھلیٹس کا اس قدر بُرا حال ہے۔ اور پھر عہدیداروں نے آخرکار سوال کر ہی لیا کہ، “کیسے پہنچے ہیں بھائی آپ لوگ یہاں تک؟۔

جس پر ہم نے اپنے  سفر کی روداد سنادی  ، وہ شدید فکر مند ہوئے اور چائنہ اولمپک ایسوسی ایشن نے ہمیں واپسی پر جہاز کے ٹکٹس سپانسر کردیے۔

ہم لوگ جیسے ہی لاہور ایئرپورٹ پر اترے ہمارے سامنے مقامی ایسوسی ایشن کے چند نمائندے موجود تھے جنہوں نے سوال کیا کہ، “سجنا جہاز تے کیویں  ؟”
چن مکھنا جہاز تے بہت مہنگا اے

تو ہم نے انہیں بتایا کہ بھائی ہمیں تو چائنہ والوں نے ٹکٹس سپانسر کی ہیں، یہ سن کر اس وقت تو وہ لوگ روانہ ہوئے مگر ایک ہفتے بعد ہمیں ٹکٹ کے آدھے چارجز ادا کرنے کے لیے فون آگیا، اور کہا گیا کہ اولمپک ایسوسی ایشن کے ذمہ داران نے کہا ہے کہ اگر یہ چارجز ادا نہ کیے گئے تو آئندہ کسی بھی انٹرنیشنل مقابلے کے لیے آپ کو شمار نہیں کیا جائے گا۔

یہ دھمکی ملنے پر سب کھلاڑیوں کے گھر والوں نے ٹکٹ کے آدھے، 40 ،40 ہزار جمع کروائے اور ہم نے وہ پیسے ذمہ داران کے حوالے کردیے۔

یہ تھی ایک کہانی کسی چھوٹے شہر کے اتھلیٹس کی، یہاں شہر شہر، نگر نگر، قریہ قریہ، بستی بستی جو کہانیاں رقم ہیں انہیں سنانے والے گھبراتے ہیں بس ،ورنہ ہر ایک کہانی سوچ کے نئے دریچے وا کرتی ہے۔اور عوام الناس برائے مملکت خداداد پاکستان کو پیغام دیتی ہے کہ،
‏تَسلیم کہ رات اندھیری ہے
آلام کی گھُمَّن گھیری ہے
تیرا تَن زخموں سے چُور بہت
تیرا دل غم سے رنجور بہت
اے کعبہِ دل، اے معبدِ جاں
تجھے زخمی چھوڑ کے جاؤں کہاں !
میرے جیتے جی ان شہروں پر
ان کھیتوں ، ان کھلیانوں پر
آسیب کی زردی چھائے کیوں؟
تیرے نین کنول مرجھائیں کیوں ؟
اے میرے دیار وفا و یقیں
خوشحال سدا آباد سدا
تیری سرخی ء لب شاداب سدا
تیرے بازو گجرے لال سدا
سر رکھ دیں گے ہر پتھر پر
دل رکھ دیں گے ہر ڈالی پر
ہم آنچ نہ آنے دیں گے کبھی
اس خاک کی خوش اقبالی پر

Advertisements
julia rana solicitors

یقیناً یہی وہ جذبہ ہے جو ہر اتھلیٹ کو اس ملک پاکستان میں جدوجہد کا حوصلہ عطا کرتا ہے۔
میرے وطن دے کھڈاڑی سدا جیوندے وسدے رہن!

  • julia rana solicitors
  • merkit.pk
  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com
  • julia rana solicitors london

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply