• صفحہ اول
  • /
  • خبریں
  • /
  • 2018 کانسی ، 2021 چاندی، 2022 گولڈ میڈل، نوح دستگیر نے پاکستان کا نام روشن کر دیا

2018 کانسی ، 2021 چاندی، 2022 گولڈ میڈل، نوح دستگیر نے پاکستان کا نام روشن کر دیا

پہلوانوں کے شہر گوجرانوالہ کے چوبیس سالہ ویٹ لفٹر نوح دستگیر نے دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کردیا، برمنگھم میں جاری کامن ویلتھ گیمز میں گولڈمیڈل جیت کر24 سالہ پاکستانی ویٹ لفٹر نوح دستگیر بٹ نے نیا باب رقم کیا.

پاکستانی ویٹ لفٹر نوح دستگیر بٹ نے برطانیہ میں جاری کامن ویلتھ گیمز میں اپنی کامیابی کے جھنڈے گاڑ دیئے، نوح دستگیر نے 109 ویٹ کیٹگری میں مجموعی طور پر 405 کلوگرام وزن اٹھایا۔ اسنیچ میں 173جبکہ کلین اینڈ جرک میں 232کلوگرام وزن اٹھایا جو 109 ویٹ کیٹگری میں کامن ویلتھ گیمز کا نیا ریکارڈ ہے۔

FaceLore Pakistan Social Media Site
پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

نوح دستگیر بٹ نے 2022 کے کامن ویلتھ گیمز میں گولڈ میڈل جیتنے سے قبل 2018 کے کامن ویلتھ گیمز میں کانسی کا تمغہ جیتا تھا۔2017 اور 2021 میں منعقدہ کامن ویلتھ ویٹ لفٹنگ چیمپئن شپ میں چاندی کے تمغے جیتے۔ وہ دو مرتبہ کامن ویلتھ جونیئر ویٹ لفٹنگ چیمپئن شپ میں بھی کانسی کے تمغے جیت چکے ہیں۔

نوح دستگیر بٹ کا تعلق ویٹ لفٹنگ کی مشہور فیملی سے ہے۔ ان کے کیریئر پر ان کے والد کا گہرا اثر رہا ہے،، نوح کے والد غلام دستگیر بٹ ساوتھ ایشین گیمز میں چار مرتبہ گولڈمیڈل جیت چکے ہیں، نوح بٹ اپنے والد کی نگرانی ہی میں ٹریننگ کرتے ہیں،

نوح دستگیر بٹ کے چھوٹے بھائی حنزلہ دستگیر بٹ بھی انہی کے قدم پر چل رہے ہیں اور انھوں نے برمنگھم میں ہونے والے کامن ویلتھ گیمز میں پاکستان کی نمائندگی کی ۔

Advertisements
julia rana solicitors

نجی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے نوح دستگیر نے کہا کہ 7 سال سے اس گیم کو جیتنے کی کوشش کررہا تھا۔ اتنا وزن اٹھانا آسان نہیں ہوتا، 12 سے 13 سال کی محنت کے بعد یہ کر پایا۔

  • merkit.pk
  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com
  • julia rana solicitors london
  • julia rana solicitors

خبریں
مکالمہ پر لگنے والی خبریں دیگر زرائع سے لی جاتی ہیں اور مکمل غیرجانبداری سے شائع کی جاتی ہیں۔ کسی خبر کی غلطی کی نشاندہی فورا ایڈیٹر سے کیجئے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply