سیاسی و معاشی بحران۔۔اسلم اعوان

سابقہ حکومت کی معاشی پالیسیوں اور گورننس کی ناکامیوں کے باعث آنے والی سیاسی تبدیلی کی کوکھ سے نمودار ہونے والی سیاسی کشیدگی مملکت کو بدستور غیر یقینی صورتحال کی طرف دھکیل رہی ہے،سابق وزیراعظم عمران خان کی طرف سے اقتدار کی ہموار منتقلی میں رکاوٹیں ڈال کرجمہوریت کے مستقبل کو مخدوش بنانے کے علاوہ حکومت سے بیدخلی کے بعد ریاستی اداروں پہ جارحانہ حملوں نے بھی معاشی اصلاحات کی کوششوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا،خدشہ ہے کہ داخلی انتشار کی یہی لہریں عالمی اقتصادی بحران کے سایہ میں ملکی معشت کو زیادہ مضمحل بنا سکتی ہیں،باہم دست و گریباں قوتوں کو سوچنا چاہئے کہ اس کشمکش کو طول ملا تو کسی کے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا۔پی ڈی ایم کے اقتدار میں آنے کے پہلے دو ماہ کے دوران آئی ایم ایف نے واضح کر دیا،اگر اسلام آباد ایندھن اور بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کرکے مالیاتی خسارہ کم کرنے کے لئے جارحانہ اقدامات کرے تو وہ 6 بلین ڈالر کے توسیعی فنڈ سہولت سے اگست میں صرف 1بلین ڈالر کی اگلی قسط جاری کرے گا،چنانچہ مہنگائی،جو مئی میں 13.8فیصد تھی،بڑھ کر تقریباً21 فیصد تک پہنچ گئی لیکن پنجاب کی بیس صوبائی نشستوں پہ حالیہ ضمنی انتخابات میں شکست کے بعد حکمراں اتحاد بنیادی پیدواری یونٹس کے نرخوں میں مزید اضافہ کے ارادہ سے پیچھے ہٹ گیا،جس سے آئی ایم ایف سے امداد کے حصول کا امکان بعید تر ہو جائے گا،اگرچہ وفاقی وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل یہ کہہ رہے ہیں کہ انکی گورنمنٹ ملکی بقا کی خاطر اپنے سیاسی مفادات قربان کرنے کو تیار ہے لیکن لندن میں بیٹھے نوازشریف اور نواز لیگ کی ڈیفیکٹو لیڈر مریم نواز سیاسی ناکامیوں کو گلے لگا کر اپنی طویل مزاحمتی جدوجہد کی قربانی دینے کو تیار نہیں،چنانچہ آنے والے دونوں میں سیاسی تنازعات اور معاشی بحران مزید گہرے ہو سکتے ہیں،جس کا لامحالہ دباو¿ ریاستی اداروں پہ پڑے گا۔قابل فہم طور پر مسلم لیگ (ن) چاہے گی کہ فوج سمیت تمام اتحادی،معاشی اصلاحات کا سیاسی بوجھ بانٹیں لیکن بدترین فکری انتشار سیاسی جماعتوں اور قومی اداروں کو اپنی پوری صلاحیتوں کو بقاءکے تقاضوں پہ مرتکز رکھنے سے روکتا ہے،مستقبل قریب میں بھی یہاں وسیع تر سیاسی مفاہمت کا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔موجودہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے لئے زیادہ اہم یہ تھاکہ وہ سیاسی کشمکش سے بالاتر ہو کرقابل تجدید توانائی،زراعت اور مقامی گورننس کے نظام،جو ملک کے سیاسی اور اقتصادی استحکام اور طویل المدتی ترقی کو یقینی بنانے کی کلیدی کی حیثیت رکھتے ہیں،میں اصلاحات کو ممکن بناتے تاکہ معاشی پالسیوں کے فوائد عام آدمی تک پہنچانے کے علاوہ فیصلہ سازی کے عمل میں شہریوں کی تلویث یقینی بنائی جاتی کیونکہ معاشرے کے متوسط طبقہ میں سماجی تفریق اور ادارہ جاتی تسلط کے خلاف اشتعال بڑھ رہا ہے،ملک کی طاقتور اشرافیہ کوتسلیم کرلینا چاہیے کہ سیاسی اور اقتصادی لحاظ سے یہ ملکی تاریخ کا غیر معمولی مرحلہ ہے،اگر سابقہ پی ٹی آئی گورنمنٹ کی طرح موجودہ بندوبست بھی ناکام ہو گیا تو وفاقی اکائیوںکو مربوط رکھنا دشوار ہو جائے گا،امر واقعہ بھی یہی ہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان نے نئی حکومت اورمقتدر اداروںکی قیادت کی وطن سے وفاداری کو متنازعہ بنانے کے علاوہ معشت کا پیہہ جام رکھنے کی بھی ٹھان لی،عمران نے اپنی سوشل میڈیا فورس کے ذریعے ایک ایسی ”اشرافیہ مخالف اشرافیہ“ پیدا کر لی جو پاکستانی نشنل ازم کی بجائے لاشعوری طور پہ ملک کے سیاسی کلچر کو بھارتی وزیراعظم نیندرا مودی کی طرح پارٹی آمریت کی طرف لے جانے پہ مُصر ہے،اس مقصد کے حصول کی خاطر وہ اُن مذہبی اصطلاحات کا استحصال کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے،گزشتہ دو سو سال سے جن کی تکرار ہمارے لوح شعور پہ ثبت ہو چکی ہیں ،پی ٹی آئی کے پالیسی سازوں نے ہمارے سماج کے تاریخی اور نفسیاتی پس منظر کو سامنے رکھتے ہوئے ایسا متداول سیاسی بیانیہ تیار کر لیا،جس میں مذہب،جہاد، غداری،استعمار دشمنی اور آزادی و مساوات جیسے نعروں کی گونج میں نوجوانوں کو التباسات کی ایسی وادی پُرخار تک پہنچا دیا گیا جہاں ذہنی انتشار،بدتہذیبی اورنفرتوںکے بھڑکتے الاو¿کے سوا کچھ نہیں ملتا لیکن حسن بن صبا کے فدائین کی طرح یہ لوگ اِسی دشت پُرآشوب کو فردوس بریں سمجھ کر آگے بڑھنے میں عافیت ڈھونڈتے ہیں۔گیلپ پاکستان کے اپریل کے سروے میں ثانوی یا اس سے زیادہ تعلیم رکھنے والوں میں سے باسٹھ فیصد نے کہا کہ وہ عمران خان کی برطرفی کو اچھا نہیں سمجھتے۔عمران خان نے”رجیم چینج“امریکی سازش کے نعروں کی گونج میں پہلی بار اُس اشرافیہ کے اندر مقتدرہ مخالف جذبات بھر دیئے جسے ادارہ جاتی بالادستی کا بینافشری سمجھا جاتا تھا لیکن یہ واحد وجہ نہیں ہے کہ لوگ ان کی حمایت کرتے ہیں بلکہ عمران خان نے جمود کے بارے میں متوسط طبقہ کی ناراضگی کو بھی استعمال کیا،جیسے دنیا بھر کے پاپولسٹ لیڈر ہمیشہ سماج میں نفرت کی علامت سمجھے جانے والے بالادست طبقات کو تنقید کا ہدف بنا کے مظلوموں کی حمایت لیتے ہیں،سب جانتے ہیں کہ اس وقت عوام کی اکثریت جس اشرافیہ کو اپنے دکھوں اور معاشی مسائل کا ذمہ دار سمجھتی ہے،عمران خان اسی کو ہدف تنقید بنا کر پسے ہوئے طبقات کی حمایت وصول کر رہے ہیں۔ہرچند کہ ملک کا متوسط طبقہ پی ٹی آئی دور حکومت میں بے روزگاری اور مہنگائی سے شدید متاثر ہوا لیکن تحریک انصاف کی سوشل میڈیا فورس نے نہایت چالاکی کے ساتھ انہی متاثرہ طبقات کی نفرت کا رخ مقتدرہ کی قیادت اور موجودہ حکومت میں شامل رہنماوں کی طرف پھیر دیا۔خان مہنگائی اور قومی خودمختاری کے مسائل کو یہ الزام لگا کر گڈ مڈکر رہے ہیں کہ پی ڈی ایم کی حکومت واشنگٹن سے خوفزدہ ہو کر ماسکو کے ساتھ رعایتی روسی تیل کی درآمد کے لئے کئے گئے معاہدات پر عمل درآمد سے گریزاں ہے حالانکہ سابق وزیراعطم نے روس کے ساتھ سستے تیل کی خریداری کا کوئی معاہدہ کیا نہ ہماری مملکت کے پاس روسی خام تیل کو قابل استعمال بنانے کی ریفائنریز موجود ہیں لیکن پھر بھی وہ باتکرار کہتے ہیں کہ نئی دہلی نے روسی تیل کی درآمدات کو بڑھا کر عوام کو ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ سے بچانے میں کامیاب پائی۔ماہرین کا خیال ہے کہ مہنگائی کی حرکیات سے نمٹنے کی خاطر موجودہ حکومت اشیاءضروریہ پہ سبسڈیز کو کم کرکے انتہائی غریب لوگوں کے لئے جو ٹارگٹڈ کیش ٹرانسفرز کررہی ہے اس سے اقتصادی تبدیلی ممکن نہیں بلکہ میکرو اکنامک استحکام زیادہ تر متوسط طبقہ کے آمدن میں اضافہ سے پیدا ہوتا ہے جس کے مثبت سیاسی اثرات بھی ملتے ہیں۔تاہم پالیسیوں میں بگاڑ کی وجہ سے یہاں پائیدار،تیز رفتاری اور مساوی اقتصادی ترقی کے امکانات ناپید ہیں۔ڈاکٹر حفیظ پاشا کی سربراہی میں پاکستانی محققین کی ٹیم کی طرف سے تیار کردہ UNDP کی رپورٹ ہماری سیاسی معیشت کی غیر معمولی ڈی کنسٹرکشن پیش کرتی ہے،اندازہ لگایا گیا کہ پچھلے چار سالوں میں کارپوریٹ،جاگیردار اور حکمراں اشرافیہ نے”فوائد اور مراعات“ کی مد میں موجودہ ڈالر کے لحاظ سے 13بلین ڈالر کے مساوی وصول کئے جو ملک کی جی ڈی پی کا تقریباً 7 فیصد بنتا ہے۔رپوٹ کے مطابق یہاں سماجی تحفظ کے لئے مختص رقم کی منصفانہ تقسیم اور زیادہ پیداواری صلاحیت کو ترغیب دینے کے لئے تاخیر نہیں کرنی چاہئے کیونکہ آنے والے سالوں میں ملک کے لئے چیلنجز،موسمیاتی تبدیلیوں اور آبادی میں تیزی سے اضافہ کے باعث مزید گہرے ہوں گے۔ہمارا ملک پہلے ہی دنیا کے دس سے زیادہ آبادی والے ان ممالک میں شامل ہے،جہاں آنے والی دہائیوں میں آبادی میں مزید اضافہ ہونے سے وسائل میں کمی اور مسائل میں اضافہ سے پیچیدگیاں بڑھیں گی،ہماری مملکت تاحال ہیومین ریسورس کو ترقی دینے کی پلاننگ نہیں کر سکی،اس لئے نئی نسل کے کارآمد افراد میں بڑھتی ہوئی مایوسی انہیں نسلی،لسانی و مذہبی تشدد کا ایندھن بن سکتی ہے،ہماری نواجوان نسل کو پائیدار،تیز رفتار اور مساوی اقتصادی ترقی کی جانب ایسا راستہ درکار ہے جو تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کو پیداواری عمل کا حصہ بنا کر ان کی توانا صلاحیتوں کو قومی ترقی کے عمل میں کھپا سکے لیکن پاکستان چونکہ توانائی کا خالص درآمد کنندہ ہے جس کی برآمدات کی بنیاد بتدریج تنگ ہوتی جا رہی ہے،اس لئے بہت ضروری ہے کہ موجودہ حکومت برآمدات کی نمو اور زرعی پیداوار کو بہتر بنانے کے علاوہ گھریلو ایندھن کی پیداوار کے خسارے کو پورا کرنے کے لئے قابل تجدید توانائی کی طرف شفٹ ہو جائے۔ہمارے زرعی شعبے نے مالی سال 2017 کے بعد سے اوسطاً 2 فیصد سے بھی کم شرح سے ترقی کی۔گرتی ہوئی زرعی پیداوار،تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی،پانی کا بڑھتا ہوا تناو¿ اور موسمیاتی تبدیلی کے بگڑتے اثرات یہ سب پہلے سے ہی سنگین غذائی تحفظ کے چیلنجز کو بڑھا رہے ہیں۔سرکاری اداروں کے علاوہ زراعت کی صنعت بھی بڑے پیمانے پر بجلی کی صنعت کے بقایاجات کو بڑھاتی ہے،گورنمنٹ کو زرعی ٹیوب ویلوں کے لئے سالانہ کروڑوں ڈالر کی الیکٹرک پاور سبسڈی دینا پڑتی ہے۔حالیہ دنوں میں اس سمت میں کچھ نئے تجربات کئے گئے ہیں،مثال کے طور پہ اچھی کارکردگی کے حامل آبپاشی نظام کی تشکیل کی خاطر شمسی ٹیوب ویل کی تنصیب کے لئے کم شرح سود پہ قرضوں کی فراہمی یا نیٹ میٹرنگ کی اجازت دینے سے پانی کی بچت کو فروغ ملا،ان پٹ لاگت میں کمی اور پاور سیکٹر کے قرض کو کم کرنے میں مدد ملی ہے۔

  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com
  • julia rana solicitors london
  • merkit.pk
  • julia rana solicitors

Aslam Awan
اس وقت یبوروچیف دنیا نیوز ہوں قبل ازیں پندرہ سال تک مشرق کا بیوروچیف اور آرٹیکل رائٹر رہاں ہوں،سترہ سال سے تکبیر میں مستقل رپوٹ لکھتا ہوں اور07 اکتوبر 2001 سے بالعموم اور 16مارچ 2003 سے بالخصوص جنگ دہشتگردی کو براہ راست کور کر رہاں ہوں،تہذیب و ثقافت اور تاریخ و فلسفہ دلچسپی کے موضوعات ہیں،

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply