بلوچستان میں غلطی کہاں ؟۔محسن علی

 جب بات بلوچستان کی ہوتی ہے تو ماما قدیر، واحد بلوچ اور بی ایل اے یا بی ایل ایف مگر کیا صرف یہی معاملات ہیں؟۔۔ پچیس اکتوبر کی ڈیڈ لائن کے بعد بلوچستان میڈیا عملاً  بلیک ڈاؤن  ہوچکا ہے، کوئٹہ کے سوا دیگر حصوں  میں اب نہ اخبار پہنچ رہے  ہیں ،بس چند پشتون آبادیوں تک اخبار کی رسائی ہے ۔ صحافی تنظیمیں ایک آدھ بیان دے کر بری الذمہ ہوچکیں۔ جو حکومت کی بلوچستان میں امن کے لئے کی جانے والی کوششوں پر ایک سوالیہ نشان ہے ، جبکہ شنید ہے کہ بلوچستان کے اندر آپریشن بگٹی و مری سرداروں کی رضامندی سے جاری ہیں جو جاری رہیں گے، جبکہ عام بلوچ سمجھتا ہے ریاست کی جانب سے یہ یکطرفہ کارروائی کی  جار ہی ہے ۔ جبکہ بلوچستان کے مسائل وہاں کی محرومیاں ہیں ۔ مگر عوام ایف سی اور ان علیحدگی پسندوں  سے تنگ ہوتی جارہی ہے.شاید  حالات تبدیل ہوں ۔ اب یہاں انڈیا تو انوالو ہے ہی اور اچھا خاص پیسہ .ان پہاڑوں میں کوئی بھوکا نہیں رہ  سکتا۔ جہاں یہ علیحدگی پسند رہتے ہیں. ان کو  اپنا فائدہ حاصل ہے.عوام کے لیے کچھ نہیں. علیحدگی  پسند ہیں . جو لوگ بلوچستان کو آزاد کروانا چاہتے ہیں پاکستان سے ان علاقوں میں گورنمنٹ کی کوئی امداد قبول نہیں ان کو نہ سکول ،نہ کچھ اور۔
اب ریاست بھی مان رہی ہے کہ بلوچستان کو محروم رکھا گیا اور ایف سی بھی کچھ اقدامات کر رہی ہے، جیسے جہاں ان کے کیمپس ہیں  سکول بنا رہی ہے، عوام کے لیے میرے شہر میں ایف سی  سکول ہے جہاں اچھی خاصی تعداد بچوں کی پڑھنے جاتی ہیں. ان سکولوں  کے بچوں کو  ملک کے بڑے شہروں میں  آسان اسکالرشپ مل رہی ہیں۔ مگر میرا ماننا ہے یہ سب اقدام اپنی جگہ کیوں نا بلوچستان کے رقبے کا درست استعمال کیا جائے اور یہاں پاکستان کا سب سے بڑا ریسرچ  سنٹر اور سب سے بڑی یونیورسٹی بنائی جائے۔ جس میں بلوچ عوام کے وہ نوجوان جو باہر پی ایچ ڈی مختلف علوم میں کرچکے انہیں یہاں بین الاقوامی اساتذہ کے برابر تنخواہ دی جائے اور ایک ّبڑی لائبریری بھی اور ان تینوں چیزوں کا اعلان تینوں صوبوں کے گورنر وزیراعلی و وزراء شرکت کریں اور اس مہم کا نام “بندوق گراؤ ،قلم اُٹھاؤ” رکھا  جائے ۔
اس اقدام سے ایک طرف تو بلوچ قوم ریاست کو خوش آمدید کہے گی تو دوسری جانب آپ دُشمن کو بھی قابو کر پائیں گے اور مزید بلوچ جنگجوں جوانوں کو اسلحہ  واپس کرنے کی صورت میں سرکاری خرچے پر چار سال پڑھانے کا اعلان کردے ۔ اس طرح ہم پاکستانی ریاست کی رٹ بلوچستان میں سکول و کالجز بنا  کر  بلوچستان کے مسئلہ کو حل کرنے میں کامیاب ہوسکتے ہیں اور وقت کے ساتھ ہم اپنی غلطیوں کا ازالہ کرکے بلوچستان سے بھرپور فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔ وہاں کی بلوچ قوم کو قومی دھارے میں لایا جائے بجائے اسکے کہ مسلسل خانہ جنگی کی فضا قائم رکھی جائے۔

محسن علی
محسن علی
اخبار پڑھنا, کتاب پڑھنا , سوچنا , نئے نظریات سمجھنا , بی اے پالیٹیکل سائنس اسٹوڈنٹ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *