• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • کیا تاریخ اب منظور پشتین کا انتظار کر رہی ہے؟۔۔رشید یوسفزئی

کیا تاریخ اب منظور پشتین کا انتظار کر رہی ہے؟۔۔رشید یوسفزئی

عوامی تاریخ دان ڈاکٹر مبارک علی کا خیال ہے کہ تاریخ کو مخصوص کرداروں کی بجائے سماج اور عوام کے پس منظر میں سمجھنا  چاہیے۔ لیکن عوامی یا سماجی تاریخ کے مختلف ادوار کی وضاحت اور تفہیم کیلئے تاریخ پھر اہم شخصیات، ہیروز اور ولنز کے تذکرے کی محتاج ہوتی ہے۔ کیونکہ کرداروں کے علاوہ تو کوئی ناول کوئی کہانی کوئی فلم تک نہیں بن سکتی تو تاریخ کیسے بن سکتی ہے؟ کرداروں کے علاوہ لکھے گئے ہزاروں صفحات کسی کہانی کا پس منظر ہوتے ہیں، اصل کہانی نہیں۔ کردار حقیقی، اساطیری، زندہ جاوید یا افسانوی ہوتے ہیں۔ لیکن بعض اوقات ایک کردار ان چاروں خصوصیات کا ایسا حامل ہوتا ہے کہ جس میں یہ ساری جہتیں مختلف زاویوں سے نظر آتی ہیں۔ ایسا کردار تاریخی جبر کی بھٹی میں کندن بن کر سامنے آتا ہے۔ جو سماج اور قوم کے طویل انتظار کی مجسم شکل ہوتا ہے۔ جس کو مظلوموں کی آہیں ،مجبوروں کے آنسو اور بے کسوں کی آسمان کی طرف اٹھنے والی نگاہیں تخلیق کرتی ہیں ۔ یہ کسی سیاستدان کا بیٹا، کسی جاگیردار کا وارث، کسی خفیہ ہاتھ کا بنایا ہوا پتلا یا این جی او کا پروردہ نہیں ہوتا۔

شیرشاہ سوری جدید پختون تاریخ کا ایسا ہی ایک کردار ہے، جس کو ہندوستان کے پختونوں کے ساتھ مغلوں کے روا رکھے گئے جبر،ذلت آمیز سلوک اور نسلی غلامی کے خطرے نے تخلیق کیا تھا۔

ابراہیم لودھی کی حکومت کو اپنوں کی خود غرضی، باہمی نا اتفاقی اور حماقت نے بابر کے چند ہزار سپاہیوں کے ہاتھوں تباہ کروایا اور مغلوں نے پختونوں کی مال، جان اور عزت کو آپس میں بانٹنا شروع کیا تو پختونوں کو زیاں کا احساس ہوا۔ آج کی طرح اس وقت بھی پختونوں کی عددی طاقت، جنگی صلاحیت یا سرفروشی کا جذبہ کم نہیں ہوا تھا بلکہ لودھی، نوہانی، فرمولی، شیروانی، کاکڑ، سوری، نیازی، ترین اور پنی قبائل کے پاس کُل ملا کر 450,000 گھڑ سوار جانباز، 1200 جنگی ہاتھی، بارہ ہزار توپ خانے کے اور ایک ہزار بندوق بردار زرہ پوش جوان موجود تھے۔ ایسے ایسے امراء کبراء اور خوانین تھے جن میں ایک ایک  کے پاس چالیس چالیس ہزار مسلح افراد تھے۔ لیکن وقت ان کے ساتھ نہیں تھا کیونکہ انہوں نے ریاست جیسی نعمت کی قدر کی، نہ اپنی آزادی اور خودمختاری کی۔ اور تاریخ کا سبق ہے کہ جو قوم اجتماعی طور پر کفرانِ نعمت کرے ان پر نسلوں تک ذلت و ادبار مسلط کردی جاتی ہے۔

بابر کے مرنے کے بعد ان پختون امراء نے کئی بار مغلوں سے ہندوستان واپس چھیننے کی کوشش کی لیکن الگ الگ لشکروں، انفرادی جھنڈوں، ذاتی مقاصد، خودنمائی اور خود کو دوسروں سے برتر سمجھنے کی وجہ سے ان کو کبھی کامیابی نہیں ملی۔ شیرشاہ تو ان کےسامنے پرِکاہ کے برابر اہمیت نہیں رکھتا تھا جو اِن کی نظر میں مغلوں کی جاگیر کا نگراں، معمولی سے گھوڑے بیچنے والے سوداگر کا ایسا بیٹا تھا جس کو اس کے بھائی بھی ساتھ دینے کی بجائے نیچا دکھانے کیلئے ہر وقت تیار رہتے تھے۔ لیکن مغلوں کے لشکروں میں رہ کر شیرشاہ نے ان کی  فوجی ترتیب، تربیت اور حملہ کرنے کا طریقہ کار اور ان کی کمزوریاں اور کوتاہیاں نوٹ کی تھیں۔ وہ جانتا تھا کہ جنگ میں مغل سپاہی پختون سپاہی کی برابری نہیں کرسکتا لیکن شرط یہ ہے کہ پختون ایک کمانڈ کے نیچے متحد ہوکر ایک مقصد کے تحت لڑے۔ انہیں ذاتی مقاصد خاندانی خودنمائی اور معمولی خواہشات کے تحت ضائع نہ کیے جائے، جیسا کہ آج مختلف قوتیں ان کو مصروف رکھے  ہوئے  ہیں۔

دولت خان لودھی، دریا خان نوہانی، میاں معروف اور اعظم ہمایوں فرمولی، شادی خان کاکڑ، اعظم ہمایوں ہیبت خان نیازی، حاجی خان ترین اور اختیار خان پنی کی خاندانی تاریخ، مال و دولت، جاہ و حشم اور امراء کے کروفر کی موجودگی میں شیرشاہ سوری کا مغلوں سے ہندوستان واپس چھیننے کا منصوبہ کبھی کامیاب نہیں ہوسکتا تھا، کیونکہ اتنے سرداروں کے ہوتے ہوئے پختون کبھی متحد نہیں ہوسکتے تھے۔ جس طرح آج کروڑوں کی تعداد میں موجودگی کے باوجود پختونوں کو مختلف خاندانی پارٹیوں، رنگ برنگے جھنڈوں اور بھانت بھانت کے نعروں نے کنفیوز، تقسیم اور بے اثر کردیا ہے۔

بابر فوت ہوا تو پختون امراء ابراہیم لودھی کے نوجوان بیٹے کو لیکر ایک بار پھر قسمت آزمائی کیلئے تیار ہوگئے۔ اس دوران شیرشاہ نے بڑے مقصد کی خاطر اور اپنے زورِ  بازو پر جو علاقے اپنے اختیار میں شامل کیے تھے، اس نئے پختون لشکر نے وہ بھی اس سے چھین لیے کہ مغلوں کو شکست دینے کیلئے ہمیں اس کی ضرورت ہے۔ وہ پختونوں سے نہیں لڑنا چاہتا تھا اس لیے مزید فوج اکٹھی کرنے کا بہانہ کرکے ان سے الگ ہوا۔ نئے مغل بادشاہ ہمایوں کو خط لکھ کر اپنی وفاداری کا یقین دلاتے ہوئے وعدہ کیا کہ عین لڑائی کے دوران میں اپنی فوج لے کر الگ ہو جاؤں گا لیکن آپ نے پختون امراء کو بھاگنے کا موقع نہیں دینا۔ منصوبے کے مطابق عین لڑائی کے دوران اپنی فوج الگ کرکے مغل فوج کو خود پسندی اور خود نمائی کے مرض میں مبتلاء پختون امراء کو دورہ کے میدان میں قتل ہونے کیلئے چھوڑا۔

اپنی طاقت اصل لڑائی کیلئے بچا کر بچے ہوئے پختونوں کو اکٹھا کرکے سمجھایا کہ اتنے جھنڈوں، اتنے سرداروں اور اتنے گروہوں اور خاندانی رئیسوں کے درمیان ہندوستان کو واپس جیتنا ناممکن تھا۔ آپ کو شکست نہیں ہوئی بلکہ جیت کی راہ میں آنے والی دیوار کو گرایا گیا ہے۔ آپ میرا ساتھ دیں میں آپ کو مہینوں کے اندر ہندوستان کی جیت کا تحفہ دوں گا۔ اور ہندوستان کے تحفے کا وعدہ اس نے آنے والی برسات میں چوسہ اور قنوج کی مختصر لڑائیوں میں مغل فوج کو تہس نہس کرکے پختونوں کی جھولی میں ڈالا۔

ڈاکٹر مبارک علی سے معذرت کے ساتھ، شیرشاہ جیسا ایک کردار نہیں تھا لیکن اس سے بڑے بڑے خاندانی رؤسا اپنی طاقتور افواج کے ساتھ ہندوستان میں موجود تھے اور وہ ہندوستان کو مغلوں سے واپس نہیں لے سکے اور ایک شیر شاہ کی کمی کے بعد پختون ہندوستان میں پہلے سے زیادہ امیر اور طاقتور تھے لیکن مغلوں سے ہندوستان نہیں بچا سکے۔ فرق اسی ایک شیرشاہ کا تھا۔ شیر شاہ جب سے گیا ہے پختونوں کو شرف کا ایک دن دیکھنا نصیب نہیں ہوا۔
آج پختون سمتوں اور سیاسی پارٹیوں میں تقسیم، نہ ان کی جان محفوظ نہ مال نہ عزت اور نہ نسل۔ کیا ان کے ووٹ سے اسمبلی کی چند سیٹیں جیتنے والے ان کی زندگی میں کوئی تبدیلی لاسکے  ہیں؟ اگر جواب ہاں میں ہے تو تہتر سالوں میں جو تبدیلی لائی گئی ہے اس کی تفصیل کہاں ہے؟ آئین میں ان کے تسلیم شدہ حقوق اور ان کے وسائل پر ان کا حق کہاں ہے؟ وہ جنتی سرزمین کے مالک ہیں پھر پاکستان کے ہر شہر میں کچرے کے ڈرموں میں اپنا رزق کیوں ڈھونڈ رہے ہیں؟ کباڑی، پالشی، چوکیدار اور پختون لفظ مترادف کیوں سمجھا جاتا ہے؟
اگر پختونوں کے ان مسائل کا حل کسی روایتی پختون قوم پرست، مذہبی یا سیکولر پارٹی کے پاس نہیں ہے اور حالات وہی ہیں جو شیر شاہ سوری کے دور سے پہلے ہندوستان میں پختونوں کے تھے تو پھر منظور پشتین کے علاوہ کون ہے، جس کا تاریخ انتظار کر رہی ہے؟ بیشک وہ کسی بڑے سیاسی خانوادے سے نہیں ہے۔ بیشک وہ کسی بڑے جاگیرداری گھرانے کا چشم و چراغ نہیں ہے۔ بیشک دردِ دل اور پختون قوم کے غم اور فکر کے علاوہ اس کے پاس کوئی دنیاوی یا مالی اثاثہ نہیں ہے۔ بیشک خود پسندی اور خود نمائی میں مبتلا خاندانی سیاسی لیڈروں اور پختونوں کی طاقت اور عددی اکثریت کو تقسیم، کنفیوز اور بے اثر کرنے والی سیاسی پارٹیوں کے سامنے وہ کل کا بچہ ہے۔ بیشک شیرشاہ کی طرح اس کے بھائی اسے نیچا دکھانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ بیشک اس کے قریبی ساتھیوں نے پختون قوم کے مقاصد کو اسمبلی کی  ایک ایک سیٹ کے بدلے میں بیچ دیا۔ بیشک غیروں کے ساتھ ساتھ اپنوں نے بھی اس سے بیوفائی کی ۔ یہ سب تو شیرشاہ سوری کے ساتھ بھی کیا گیا تھا، لیکن آج اس کے کسی موقع پرست اور مغل دوست بھائی کو کوئی نہیں جانتا، لیکن شیرشاہ رہتی دنیا تک تاریخ کا درخشندہ باب بن گیا ہے، جس سے بے مایہ چھوٹے اور بے بس لوگ اثر لے کر بڑے بڑے کارنامے کرنے کا حوصلہ پاتے ہیں۔

منظور پشتین کو بھی نظر دوسری طرف رکھنے کی بجائے پختونوں پر رکھنی ہوگی۔ راستے الگ کرنے والے اہم نہیں، کیونکہ وہ ساتھ دینے کے قابل نہیں ہوتے اس لیے سازشیں کرتے ہیں اور سازش ہمشہ اس کے خلاف ہوتی ہے جس کا مقابلہ نہیں کیا جاسکتا۔ پختونوں کو سیاسی اور مذہبی خانوادوں سے چھڑا کر متحد کرنا ہے یہ تاریخ نے اس کے مقدر میں لکھا ہے لیکن کیسے؟ یہ اس کی دانش اور مدبرانہ منصوبہ بندی کا کام ہے۔

Advertisements
julia rana solicitors london

حرف آخر: تحریر بالا کا عنوان میرا اپنے ایک بابصیرت استاد اور ممتاز سکالر و انٹلکچول سے سوال تھا۰ان کا جواب کافی دلچسپ لگا۰ سوچا تحریری شکل دیکر آپ قارئین کی نذر کیا  جائے۰ چونکہ اصل مواد یا خیال   اُنکا ہے لہذا تحریر بالا کا مجھ سے انتساب درست نہیں۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply