2025ء۔۔محمد اظہار الحق

صبح صبح گاؤں سے مہمان آگئے۔ان لوگوں نے پاسپورٹ بنوانا تھا ۔دیہاتی پس منظر رکھنے والے خوب جانتے ہیں کہ آبائی گاؤں سے آنے والے دھڑلے اور ٹھسے سے آتے ہیں ۔ ہفتوں رہتے ہیں ،کھاتے پیتے ہیں اور کام بھی کراتے ہیں ۔خدمت میں ذرا سی کوتاہی ہوجائے تو معاف نہیں کرتے۔

وہ زمانہ لد چکا جب دارالحکومت میں کام آسانی سے ہوجاتے تھے۔اب حالات اور تھے۔حقیقتیں نئی تھیں اور اتنی سخت کہ انہیں تسلیم کیے بغیر چارہ نہ تھا۔کسی بھی وزارت یا محکمے میں  جانے سے پہلے یہ جاننا ضروری تھا کہ وہاں قبضہ کس کا ہے؟چنانچہ فون پر پاسپورٹ آفس کے بارے میں معلومات حاصل کیں ۔ مولانا قاسم نانوتوی کی سوانح حیات ایک ہاتھ میں پکڑی،دوسرے میں تقویۃالایمان کی نئی نویلی جلد۔کندھے پر زدر رنگ کا ریشمی رومال ڈالا اور پاسپورٹ آفس جا پہنچے۔کافی دیر انتظار کے بعد متعلقہ افسر کے سامنے پیش کیا گیا۔اس نے بڑا سا پگڑ باندھا ہوا تھا۔اور سخت خضاب آلود تھا۔

“فلاں مسلک سے ہو؟”

“جی ہاں !الحمدللہ!”

ہم نے ساتھ ہی دونوں کتابیں میز پر رکھ دیں ۔

انہوں نے ان کے نام دیکھے۔پھر پوچھا:

“حیاتی ہو یا مماتی؟”

ہمارے فرشتوں کو بھی خبر نہ تھی کہ یہ حیاتی اور مماتی کا کیا معاملہ ہے؟ہمیں تو اتنا ہی بتایا گیا تھا کہ پاسپورٹ آفس پر اس مسلک کا قبضہ ہے۔ہم نے اسی اعتبار سے تیاری کی اور آگئے۔

دوبارہ پوچھے جانے پر یونہی کہہ دیا کہ حیاتی ہیں !یہ سنتے ہیں افسر کے ماتھے پر شکنیں نمودار ہوگئیں ۔اس نے درخواست پر ایک بڑا سا کانٹا مارا اور واپس کردی۔

“معاف کیجیے!ہم لوگ مماتی ہیں !آپ کا عقیدہ درست نہیں !”

منہ لٹکائے گھر واپس آئے۔چھ مہمانوں کو پھر کھانا کھلایا۔ شام کو چائے کے ساتھ یہ لوگ جلیبیاں بھی باقائدگی سے کھاتے تھے۔

خیر!ایک دوست سے مشورہ کیا ۔اس نے بتایا کہ پاسپورٹ والا  دفتر وزارتِ داخلہ کے نیچے کام کرتا ہے۔بہتر ہے وزارت سے کہلوانے کا بندوبست کرو!

صبح ہوئی تو ہم نے نسواری رنگ کی چادر اوڑھی اور ۔ حضرت مولانا احمد رضا خان کا ترجمہ ء قرآن پاک اٹھایا اور وزارت ِ داخلہ کا رخ کیا۔ سیکرٹری صاحب کے حضور پیش ہوئے ۔انہوں نے پہلا سوال ہی یہی پوچھا :

“بریلوی ہیں ؟”

“جی !الحمدللہ! ساتھ ہی اعلیٰ حضرت کا ترجمہ میز پر رکھا!

“مگر آپ سبز پگڑی باندھ کر کیوں نہیں آئے؟”

“جی معاف فرمائیے گا تساہل ہوگیا لیکن یقین کیجیے ہم کھیرا کاٹنے کے شرعی طریقے پر پابندی سے عمل کرتے ہیں”!

سیکرٹری صاحب کے چہرے پر جیسے رونق آگئی۔داڑھی پر ہاتھ پھیر کر مسکرائے اور فرمایا کہ اطمینان رکھیں کام ہوجائے گا!

باہر نکلنے لگے تو سیکرٹری صاحب کے معاون خاص نے بٹھا لیا۔

“آپ کو کچھ ہدایات دینی ہیں !دیکھیے،آئندہ جب بھی تشریف لائیں تو آپ کو وضاحت سے بتانا ہوگا  کہ آپ  مولانا الیاس قادری سے تعلق رکھتے ہیں یا مولانا خادم حسین رضوی کے گروپ سے یا مولانا جلالی صاحب کی برانچ سے،یا مولانا ثروت قادری  صاحب کے گروہ سے؟

ہم نے ہدایات ایک کاغذ پر نوٹ کرلیں اور شکریہ ادا کرتے واپس ہوئے۔

اگلا مرحلہ بنک میں سرکاری فیس جمع کرانے کا تھا یہ فیس صرف نیشنل بنک  آف پاکستان میں جمع کرائی جاسکتی تھی! بنک پر ایک دوسرے مسلک کا قبضہ تھا۔

وہاں پہنچے تو پوچھا گیا کہ کس گروپ سے تعلق رکھتے ہیں ۔

جس دوست نے معلومات فراہم کی تھیں اس نے یہ تفصیل تو بتائی ہی نہیں تھی!پوچھا لمحہء موجود میں گروپ کون کون سے ہیں ؟

معلوم ہوا کہ تین بڑے  گروپ ہیں ۔ایک مولانا ساجد میر والا ،دوسرا ابتسام الٰہی ظہیر والا، تیسرا حافظ سعید صاحب والا!

ہمیں مولانا ساجد میر والے گروپ میں عافیت نظر آئی مولانا ہمیشہ حکومت کے ساتھ ہوتے ہیں۔ سینیٹر بنتے ہیں اور انہیں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ کون سا جرنیل قادیانی ہے۔ہم نے اللہ کا نام لے کر ان کا نام لے لیا۔افسوس!یہ تُکہ ہمارے کام نہ آیا۔ بنک پر کسی اور کا قبضہ تھا۔ ہمارے کاغذات نامنظور کردئیے گئے۔

اب کسی نے مشورہ دیا کہ نیشنل بنک وزارتِ  خزانہ کا ذیلی ادارہ ہےوہاں سے سفارش کرائیے۔ ہم نے دوسرے دن یاقائم آل ِ محمد کا نعرہ لگایا اوروزارت جاپہنچے۔ افسر کے سامنے پیش ہوئے اور دعویٰ کیا کہ خاندانی مومن ہیں !ان صاحب نے مطمئن ہونے کے بجائےایک سوال داغ دیا کہ کس گروہ سے ہیں ؟ہماری سٹی گم ہوگئی،اس ضمن میں ہماری معلومات صفر تھیں ۔اخبارات کے ذریعے ہمیں صرف دو گروہوں کا علم تھا۔ایک مولوی صاحب والا اور دوسرا مولانا ساجد نقوی صاحب والا۔ مولانا  ساجد نقوی کا تعلق ہمارے ضلع اٹک سے تھا ۔ یہ بھی معلوم تھا کہ قُم سے فارغ التحصیل ہیں اوربڑے عالم ہیں ۔ ہم نے کہا کہ ان کے گروہ سے ہیں ! اس بار قسمت نے یاوری کی،وزارتِ خزانہ نے نیشنل بنک کو حکم دیا کہ ہمارا کام کیا جائے۔ خدا خدا کرکے پاسپورٹ بنا  اور مہمانوں  کے جتھے کو بخیر وخوبی واپس گاؤں والی بس میں بٹھایا ۔

آج 2025ء میں ہر شئے بدل چکی ہے ۔ مقابلے کا مرکزی ملازمتوں والا اعلی امتحان ،جسے کسی زمانے میں سی ایس ایس کہتے تھے اور جو انگریزی میں ہوتا تھا،اب پنجابی ،پشتو،سندھی،بلوچی،براہوی، کشمیری ،بلتی اور  شینا میں ہوتا ہے۔ صرف مدارس سے فارغ التحصیل طلبہ اس امتحان میں بیٹھ سکتے ہیں ۔ ہر مسلک کا مرکزی اعلی ملازمتوں میں کوٹا مختص ہےجو مدارس کی تعداد پر منحصر ہے ۔ سول سروس اکیڈمی ایک نہیں ،بلکہ بہت ساری ہیں ۔ ہر مسلک اپنے ہم مشرب افسروں  کو تربیت خود دیتا ہے۔ پھر یہ افسران مختلف وزارتوں  اور محکموں میں تعینات ہوتے ہیں ۔ اب یہ آپ کی ذہانت اور جنرل نالج پر منحصر ہے کہ آپ  افسر کو دیکھ کر اس کے مسلک کا اندازہ لگا لیں۔ اس کے لیے آپ کے پاس بنیادی معلومات کا ہونا ضروری ہے،مثلاً مولانا ساجد میر صاحب سر پر قراقلی ٹوپی پہنتے ہیں۔مولانا حنیف جالندھری پگڑی باندھتے ہیں ۔مولانا خادم حسین رضوی سیاہ رنگ کا عمامہ اوڑھتے ہیں  ۔مولانا جلالی ازہری انداز میں گول دستار پہنتے ہیں ۔حافظ سعید صاحب چترالی ٹوپی پہنتے ہیں ۔مولانا فضل الرحمٰن پیلا ریشمی رومال وغیرہ وغیرہ۔یوں آپ  سر کو دیکھ کر شناخت کرسکتے ہیں کہ افسر کس مسلک سے ہے۔پھر آپ کے پاس ہر مسلک کی مختلف شاخوں اور ذیلی گروہوں کے بارے میں بھی مکمل معلومات ہونی چاہئیں۔افسر کا تعلق جس مسلک سے ہو،آپ  اپنا تعلق اسی مسلک سے ظاہر کریں اور شدومد سے ظاہر کریں،افسر تبلیغی ہوتو مونچھوں پر استرا پھروا کر اس کے سامنے جائیے۔میز پر پڑی چندے والی صندوقچی میں پانچ ہزار کا نوٹ ڈالیں تو کامیابی کا امکان زیادہ ہوگا۔

وزیراعظم اور صدر کے عہدے اڑا دئیے گئے ہیں ۔علماء کا ایک بورڈ  صدارت کے فرائض سر انجام دیتا ہےدوسرا بورڈ وزارتِ اعظمٰی کے اختیارات استعمال کرتا ہے۔بورڈ میں تمام مسالک کی نمائندگی کا اہتمام کیا گیا ہے۔صوبوں میں بھی انتظامات انہی خطوط پر کیے گئے ہیں ۔ بچے کو پیدا ہونے کے بعد ہوش سنبھالتے ہی بتایا جاتا ہے کہ اس کا مسلک کیا ہے۔ مساجد،محلے، گلیاں ،کوچے،بازار ،ٹریفک،ریل گاڑیاں،بسیں  ،جہاز، ہر شے مسلک کی بنیاد پر کام کرتی ہے۔شناختی کارڈ کی بدعت ختم ہوچکی ہے۔ہر پاکستانی کے سینے پر ایک کارڈ  آویزاں  ہے جس پر اس کا نام نہیں ،صرف اور صرف مسلک لکھا ہے۔اگر اس نے مسلک بدلنا ہے تو دو این او سی  درکار ہوں گے۔ ایک اس ملک کے علما کرام سے ،جو وہ چھوڑنا چاہتا ہے،دوسرا نئے مسلک کے علما کرام سے،این او سی لے لیجیے،مسلک بدلنے کی رسم عام ہے کیوں کہ کام کرانے کے لیے آپ کو اکثر و بیشتر  مسلک تبدیل کرنا پڑتا ہے ۔ کسی زمانے میں  ہر مسلک  دو دو تین تین گروہوں میں منقسم تھا مگر اب ذیلی گروپوں کی تعداد درجنوں سے بھی بڑھ چکی ہے۔سنا ہے کسی زمانے میں مسلم لیگیوں کی تعداد اتنی ہی ہوا کرتی تھی۔

ملک کا نام بدلنے کے لیے علما کرام کی ایک اعلٰی اختیاراتی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔یہ خبر عام ہے کہ پاکستان کا نیا نام مسلکستان ہوگا۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *