دو دنیائیں جو کہیں نہیں ملتیں۔محمد اظہار الحق

تیرہ سال سے انگلستان میں رہ رہا ہوں جہاں بارہ برس سے ایک سرکاری محکمے میں ملازمت کررہا ہوں  ۔اپنے کنبے کے ساتھ ہر سال پاکستان جاتا ہوں پاکستان میں ہر بار ریاستی اداروں میں پہلے سے زیادہ تنزل صرف دکھائی دیتا ہے ۔ لوئر  اور اپر کلاسوں کے درمیان خلیج پہلے سے زیادہ گہری ہوتی جارہی ہے اگر  عام پاکستانی کے لیے کچھ نہ کیا گیا تو حالات ایک خطرناک موڑ بھی مُڑ سکتے ہیں  ۔عدالتی نظام  میں اور پبلک سروس سسٹم  کی جڑوں میں کرپشن کس طرح  رچ بس گئی ہے اس کا اندازہ پہلے نہیں تھا۔ وہ یوں  کہ ایک بھائی فوج میں تھا اور سارے کام وہی نمٹا دیتا تھا۔ اس بار’ ایک تو اس کی ریٹائرمنٹ کے باعث دوسرے آبائی جائیداد کے انتقال کے لیے’مجھے اپنے تحصیل ہیڈ کوارٹر خود جانا پڑا ‘جو صوبہ پنجاب میں واقع ہے۔ یہ ایک ہولناک تجربہ تھا۔ کمشنر کی سفارش کے باوجود’ہم تحصیل داروں اور پٹواریوں سے کام نہ کرا سکے۔ رشوت(خدمت)کھلم کھلا مانگی گئی اور ذرا سی شرم و حیا  بھی مانع نہ آسکی ۔ہر مرحلے پر اور ہر قدم پر رشوت مانگی گئی۔یہ تقاضے سب کے سامنے کیے جارہے تھے۔ میں نے رشوت دینے سے انکار کردیا ‘چنانچہ انتقال نہ ہوسکا۔ کمشنر صاحب کو ‘جو ہمارے خاندانی  دوست تھے ۔ بتایا کہ آپ کے ریفرنس کے ساتھ یہ حال تھا تو  دوسرے لوگوں کے ساتھ کیا نہیں ہوتا ہوگا!یہ رونا اس لیے رو رہا ہوں کہ مسلم لیگ نون نہ جانے کتنی دہائیوں سے حکمران ہے مگر ان اداروں میں کوئی مثبت تبدیلی نہ لاسکی۔ یہی صورتحال تھانوں میں ہے کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوئی۔عام شہری تھانے جاتے وقت سو بار سوچتا ہے!

یہ احوال ایک پاکستانی نے بیرون ملک سے بھیجا ہے۔ ہم لوگ’جو اس جوہڑ کے اندر رہ رہے ہیں  ‘اس بدبو کے اس قدر عادی ہیں کہ یہ بد بو ہماری زندگی کا حصہ بن چکی ہے۔باہر سے آنے والے کو یہ بدبو اس لیے ناقابل برداشت لگتی ہے کہ  ترقی یافتہ ملکوں میں اس ادارہ جاتی کرپشن کا وجود ہی نہیں !

ہمارے سیاستدان بالعموم’ اور حکمران بالخصوص اس کرپٹ نظام  کو تبدیل نہیں کرنا  چاہتے۔ ان کی نظر میں عوام  بھیڑ بکریاں  ہیں ۔ یہی سلوک  انگریز حکومت کرتی تھی۔ ریلوے بنی تو عام ہندوستانیوں کے لیے تھرڈ کلاس ڈبے مخصوص کئے گئےجن میں عوام بھیڑ بکریوں کی طرح بھرے جاتے تھے۔ بالکل اسی طرح ‘تحصیل میں  پٹوارخانے میں ‘تھانے میں ‘بجلی اور گیس کے دفتر میں سی ڈی اے یا ایل ڈی اےمیں عوام کے ساتھ جانوروں کا سا سلوک کیا جاتا ہے۔ لوگ دن دن بھر کھڑے رہتے ہیں ۔دوسرے دن پھر جاتے ہیں ۔ہفتوں چکر لگاتے ہیں مگر ان کی شکایت سننے والا کوئی نہیں !رشوت دیے بغیر کوئی کام نہیں ہوتا۔گیس کا کنکشن لینے میں سالہاسال  لگتے ہیں ۔درخواست دہندہ کے پاس ایک فائل ہوتی ہے جو سفارشی خطوط سے ہر ہفتے  ہر مہینے ضخیم سے ضخیم ہوتی جاتی ہے۔وہی درخواست  دہندہ گیس کے کارندے کو رشوت دیتا ہے ‘وہ اسی رات آکر غیر قانونی ‘ چوری کا کنکشن دے جاتا ہے۔ ملک میں ہزار وں کنکشن اسی قبیل کے کام کررہے ہیں ۔یہ کالم نگار 2011 میں گھر بنوا رہا تھا ۔ٹرانسفارمر لگوانے کے لیے پچاس ہزارروپے کے نذرانے کا  تقاضا ہوا (ٹرانسفارمراور کنکشن کے اڑھائی لاکھ اس کے علاوہ تھے) واپڈا آڈٹ کو درمیان میں ڈالنے سے یہ “نذرانہ”معاف ہوا۔اس پاکستانی کی  حالت زار کا اندازہ لگائیے جس کی رسائی کہیں نہیں اور شنوائی کہیں  نہیں !!

یہ ہے وہ کھائی جس کے اندر ایک  عام پاکستانی ہر روز’ہر قدم پر’ہر سانس پر’گرتا ہے اس گرے ہوئے پاکستانی کو دیکھتا تک  کوئی نہیں  !شرم آنی چاہیے حکمرانوں کو جوان تلخ حقیقتوں سے’جان بوجھ کر ‘آنکھ چراتے ہوئے ترقی کا دعویٰ کرتے ہیں !سندھ بلوچستان اور کے پی کے نے تو سندھ سپیڈ کا بلوچستان سپیڈ کا اور کے پی کے سپیڈ کا دعویٰ ہی نہیں کیا۔ پنجاب سپیڈ کا بڑا نام ہے۔ پنجاب کے حکمرانوں کے لیے چیلنج ہے کہ صوبے کی کسی کچہری میں کسی عام آدمی  کے ذریعے انتقال کا کوئی کیس بغیر رشوت کے کرا کے دکھا دیں !کبھی نہیں دکھا سکتے۔ کم از کم یہ بڑ ہانکنا تو بند کردیں کہ ترقی ہوئی ہے!جہاں سابق وزیراعظم اپنے قلم سے ایسے شخص کو قومی ائیر لائن کا سی ای او لگاتا ہے جس کا ایک دن کا بھی متعلقہ تجربہ نہیں  ‘وہاں تحصیل دار’پٹواری تھانیدار اور دوسرے سرکاری اہلکار کیوں  نہ دھاندلی  کریں  اور کیوں نہ ظلم روا رکھیں ۔

دہشت گردی سے نمٹنے اور کراچی کے حالات بہتر کرنے کا کریڈٹ نواز شریف کو دینا  ایسے ہی ہے جیسے صبح کی روشنی کا کریڈٹ رات کو دے دیا جائے۔ میاں صاحب نے تو مذاکراتی ٹیم میں بھی انہیں رکھا تھا جو (سوائے میجر عامر کے)جانے پہچانے طالبان نواز تھے۔ بچہ بھی جانتا ہے کہ آرمی پبلک سکول کے بچوں کا قتل عام ہوا تو ہماری سکیورٹی فورسز کا  سارا زاویہ نظر ہی تبدیل ہوگیا۔ کراچی کے حالات میں جتنی” دلچسپی”وفاق کو تھی’اس کا علم سب کو ہے۔ ہاں ! میاں صاحب کے عہدِ  ہمایونی میں یہ ضرور ہوا کہ پاکستان خارجہ امور کے حوالے سے مکمل تنہائی کا شکار ہوگیا۔ شرق اوسط کے تقریباً ہر ملک میں  بھارتی  وزیراعظم کو نمایاں  اہمیت دی جانے لگی۔ امریکہ میں مودی کی سرگرمیوں اور  اس وقت کے پاکستانی وزیراعظم کی سرگرمیوں کا موازنہ کرنے سے اندھا بھی صورتحال کا ادراک کرسکتا ہے۔

معاملے کی جڑ کیا ہے؟ معاملے کی جڑ یہ ہے کہ ترقی یافتہ ملکوں میں دودنیائیں نہیں ایک ہی دنیا ہے جس میں حکمران ‘سیاست دان اور عوام سب مل کر رہتے ہیں ! ناروے سے لے کر برطانیہ اور کینیڈا تک جاپان سے لے کر  جرمنی  فرانس اور نیدر لینڈ تک’ آسٹریلیا سے لے کر سوئٹزرلینڈ تک صدر’وزیراعظم’وزراء پارلیمنٹ کے ارکان’بازاروں میں  عوام کے شانہ بشانہ سودا سلف  خریدتے ہیں ۔ ٹرینوں میں سفر کرتے ہیں ۔ریستورانوں میں  قطار میں کھڑے ہوکر کھانا خریدتے ہیں ۔ پالتو جانوروں کو حیوانات کے ڈاکٹروں کے پاس خود لے کرجاتے ہیں ان کے بچے ‘جن درسگاہوں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں  عوام کے بچے بھی وہیں پڑھ رہے ہوتے ہیں ! برطانوی وزیراعظم  بیوی کے لیے ایک عام سیکنڈ ہینڈ کار خریدنے کے لیے خود کار فروش کے پاس  جاتاہے  ۔اس کار پر  ٹیکس جمع کرانے  خود ڈاکخانےکی کھڑکی پر کھڑا ہوتا ہے۔آسٹریلیا کا قائد حزب اختلاف گم ٹری(gumtree)

(انٹر نیٹ پر پرانی اشیاء خریدنے اور بیچنے والی تنظیم) سے پرانا ریفریجریٹرخود خریدتا ہے۔یہ حکمران عدالتوں میں پیش ہوتے ہیں تو چالیس مہنگی گاڑیوں کے جلوس میں نہیں آتے۔وزراء ‘دوروں  پر جاتے ہیں تو تن تنہا جاتے ہیں ان کا استقبال تک کوئی نہیں کرتا۔خود ہی اجلاس کے کمرے  میں پہنچتے ہیں ۔اجلاس اٹینڈ کرکے ایک عام شہری کی طرح ایک عام ملازم کی طرح واپس آجاتے ہیں۔ڈنمارک کی ملکہ  سبزی خود خریدتی ہے۔پاکستان میں اس کے برعکس دو الگ الگ دنیائیں ہیں ۔ایک حکمرانوں کی!دوسری عوام کی!حکمرانوں میں صرف  مسلم لیگ نون یا پیپلز پارٹی یا تحریک انصاف ہی نہیں  ‘سیاستدانوں اور عوامی”نمائندوں “کی اکثریت شامل ہے۔یہ ایک کلاس ہے۔اعلیٰ ترین کلاس’اپر موسٹ کلاس!اس کلاس میں حزب اختلاف اور حزب اقتدار دونوں  شامل ہیں اور دونوں  اس طبقاتی امتیاز کو زندہ رکھنے کی شعوری کوشش کرتے ہیں !یہ مقتدر لوگ بازاروں میں  نظر آتے ہیں نہ کچہریوں  میں ‘سرکاری ہسپتالوں میں بسوں اور ٹرینوں میں ! کچہری میں ان کا  انتقال کا کیس ہو تو تحصیلدار اور پٹواری’ ڈپٹی کمشنر کی قیادت میں ان کے  محلات میں حاضر ہوتے ہیں ۔ہوائی جہاز پروازوں میں ان کے لیے تاخیر کرتے ہٰیں ۔تاجر اور صنعت کار’ان کی شاپنگ کے لیے اور اصراف ان کی خواتین کی  خریداری کے لیے مال و اسباب لے کر ان کے دروازوں پر کھڑے ہوتے ہیں !ان میں سے اکثر کے خاندان مستقلاً رہتے ہی مغربی ملکوں میں ہیں ۔ان کی تقاریب ان کی سوشل لائف ‘ان کے رشتوں ناتوں کاسلسلہ سب کچھ الگ ہے۔یہ ایک متوازی دنیا ہے عوام کی دنیا کے ساتھ’ان کی دنیا کسی مقام پر ٹچ نہیں کرتی!آپ ان دو دنیاؤں  کے درمیان حائل گہری خلیج کا اندازہ اس ایک حقیقت سے کیجیے کہ دارالحکومت کے عوام اکیس دن دھرنے میں پستے رہے مگر دارالحکومت کا انچارج وفاقی وزیر’ ان اکیس دنوں میں  مکمل طور پر پیش منظر سے غائب رہا’مگر جیسے ہی شاہی خاندان کی عدالت میں پیشی کا وقت آیا ‘وزیر صاحب”ڈیوٹی”پر پہنچ گئے۔اگر دھرنے یا ہڑتال کے نتیجے میں پانچ ہزار عام پاکستانی بھی مرجائیں تو اس دوسری دنیا کے مکیں اس خبر کو یوں سنتے ہیں جیسے  سات سمندر پار کسی دور دراز ملک کی خبر ہو!

اس ملک کے سرکاری اہلکار ‘ان خواص کے سامنے رکوع میں جھکے ہوتے ہیں’یوں کہ خدا کی قسم! ان کی سرینوں سے کپڑا تک اٹھ جاتا ہے ۔مگر عوام کے لیے یہ سرکاری اہلکار فرعون اور نمرود سے کم نہیں !تحصیلدار’پٹواری’تھانیدار’واپڈا ‘گیس اور دیگر سرکاری محکموں کے کارندے’عوام کی رگوں سے  خون نچوڑتےہیں اور اپر کلاس کے بوٹوں کی ٹھوکریں اپنی پسلیوں پر فخر سے کھاتے ہیں ۔پھر ان کا حشر وہی ہوتا ہےجو فیض آباد دھرنے کے دوران عوام نےپولیس کے اُن اہلکاروں کا کیا جو ان کے ہتھے چڑھے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *