جمہوری حکومت کا غیر جمہوری رویہ

SHOPPING

طاہر یاسین طاہر کے قلم سے

جمہوریت برداشت،دلیل،مکالمہ اور دوسروں کے بنیادی حقوق کو تسلیم کرنے کا بھی نام ہے۔ جمہوریت صرف اسی پریکٹس کا نام نہیں کہ الیکشن کمیشن میں اپنے بندے تعینات کر کے،آر، اوز کے ذریعے دھاندلی کرا کے اور ابھی پورے انتخابی نتائج آنے سے پہلے ہی پلانٹڈ خطاب کر کے حکومت ہتھیا لی جائے۔آر، اوز کےذریعے دھاندلی کی باتیں میڈیا میں شائع ہو چکی ہیں،اس پر پی ٹی آئی ایک طویل دھرنا بھی دے چکی ہے جبکہ بعض انتخابی حلقوں میں ہزاروں ووٹوں کا ریکارڈ ہی نہیں۔جمہوریت کے بارے یہ بات کرنا کا اس سے مناسب موقع اور کیا ہوگا جب ’’جمہوریت پرستوں‘‘ نے خود ہی اس کو آڑے ہاتھوں لیا ہوا ہے۔ہم نے بار ہا دیکھا کہ جمہوری حکومتوں میں اپوزیشن جماعتیں اپنی سیاست کو زندہ رکھنے کے لیے لانگ مارچ بھی کرتی ہیں اور ٹرین مارچ بھی کرتی ہیں۔پیپلز پارٹی کی حکومت کے خلاف تو لانگ مارچ اور ٹرین مارچ مسلم لیگ نون اور جماعت اسلامی مل کر کیا کرتی تھیں۔ماضی قریب میں جب آصف علی زرداری پاکستان کے صدر تھے تو اس وقت بھی پاکستان مسلم لیگ نون نے وفاقی حکومت کے خلاف ڈاکٹر طاہر القادری کے مارچ کو سپورٹ کیا،وکلا کے لانگ مارچ کی قیادت میاں نواز شریف صاحب نے کی اور گوجرانولہ ہی پہنچ پائے تھے کہ پاکستانی تاریخ کے متنازعہ ترین چیف جسٹس صاحب کو بحال کر دیا گیا۔ہم دیکھتے ہیں کہ پیپلز پارٹی کی حکومت کے خلاف جب ڈاکٹر طاہر القادری صاحب نکلے،اس سے پہلے جب اعتزاز احسن صاحب وکلا کے ساتھ اسلام آباد پہنچے اور بعد ازاں میاںصاحب نکلے تو پیپلز پارٹی کی حکومت نے ریاستی تشدد کا راستہ اختیار نہیں کیا بلکہ جب اعتزاز احسن صاحب وکلا کو لے کر اسلام آباد پہنچے تو وفاقی حکومت کی جانب سے انھیں کھانا دیا گیا۔

جمہوریت برداشت اور مکالمہ سکھاتی ہے۔تشدد بادشاہت کا رحجان ہے جسے مسلم لیگ نون کی حکومت نے اپنایا ہوا ہے۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ نون لیگ کی حکومت ای الیون میں پی ٹی آئی کے کنونشن پر ریاستی پولیس نہ چھوڑتی اور اسلام آباد میں دفعہ 144نافذ نہ کرتی۔اس سے حکومت کی اخلاقی برتری میں اضافہ ہوتا مگر ای الیون کے کنونشن پر دھاوا بول کر نون لیگ کی حکومت نے از خود احتجاج کو ہوا دی اور طاقت کا انجکشن لگا دیا۔اگلے روز کمیٹی چوک میں عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے جلسہ کرنا تھا اور اس جلسے میں خطاب کی دعوت عمران خان کو بھی دی گئی تھی۔ یہاں بھی دفعہ 144کے نام پر کارکنوں پر تشدد کیا گیا اور آنسو گیس کے شیل پھینکے گئے۔عوامی مسلم لیگ کے کارکن جونہی کمیٹی چوک پہنچے پولیس ان پر ٹوٹ پڑی،ادھر عمران خان کو شیخ رشید کے جلسےمیں جانے سے روکنے کے لیے پولیس اور ایف سی کی بھاری نفری عمران خان کی رہائش گاہ بنی گالہ کے اردگرد موجود رہی۔ بنی گالہ میں بھی پولیس اور پی ٹی آئی کے کارکنوں کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں۔راولپنڈی میں پولیس کی جانب سے شدید شیلنگ کے باعث ایک نومولود گھٹن کی وجہ زندگی کی بازی ہار گیا۔یاد رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں واضح کہا تھا کہ پی ٹی آئی اسلام آباد بند نہیں کرے گی بلکہ حکومت اسے اپنا جمہوری اور سیاسی حق استعمال کرنے کے لیے پریڈ ایوینیو کا گراونڈ دے،جبکہ حکومت کے لیے ہائیکورٹ کے یہ احکامات تھے کہ حکومت کنٹینرز لگا کر شہر یا راستے بند نہیں کرے گی۔پی ٹی آئی اسلام آباد ڈیڈ لاک کرے گی یا نہیں؟ یہ تو دو نومبر کو ہی پتا چلے گا مگر حکومت نے 27اکتوبر سے ہی اسلام آباد اور 28کو راولپنڈی بند کر کے عدالتی احکامات کی دھجیاں اڑا دیں۔یہ سب وہ حکومت کر رہی ہے جس نے الیکشن ہی آزاد عدلیہ کے نعرے پر لڑا۔ابھی تک کی اطلاعات یہی ہیں کہ پنجاب حکومت نے بھی پورے پنجاب میں دفعہ 144نافذ کر دیا ہے،نیز اٹک پل کر کنٹینرز لگا کر کے پی کے سے آنے والے قافلوں کو روکنے کا بندوبست کر دیا گیا ہے جبکہ موٹر وے اور سندھ پنجاب کی سرحد کو بھی کنٹینرز لگا کر بند کر دیا گیا ہے۔یہاں یہ بات حیرت انگیز ہے کہ جب اسلام آباد میں دفعہ 144نافذ ہے تو اس دوران میں کالعدم جماعتوں نے کیوںکر؟ اور اس کی پشت بانی سے اسلام آباد میں ہی ایک اجتماع کر لیا؟اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ حکومتی جبر کا نشانہ صرف پی ٹی آئی اور اس کی حلیف عوامی مسلم لیگ ہی ہے۔

یہ امر واقعی ہے کہ بہ ظاہر جمہوری کہلانے والی حکومت کا رویہ انتہایہ غیر جمہوری ہے۔آئین سب کو یہ حق دیتا ہے کہ وہ احتجاج کریں،اگرچہ ہم کبھی بھی پر تشدد احتجاج کے حق میں نہیں رہے،اگر پی ٹی آئی یہ کہتی ہے کہ وہ زور ِبازو پر اسلام آباد کو ڈیڈ لاک کریں گے تو یہ وہ رویہ ہے جو ملک میں انارکی کا سبب بن سکتا ہے۔ یعنی جس کی لاٹھی اس کی بھینس والی بات ہوگی۔ہاں جس طرح پی ٹی آئی کے کارکنوں پر شیلنگ کی جا رہی ہے اور انھیں زبردستی روکا جارہا ہے اس سے غصہ بڑھے گا۔حکومت نے تو عمران خان کو بھی غیر اعلانیہ نظر بند کر رکھا ہے۔عمرا ن خان نے اپنے کارکنوں سے کہا ہے کہ وہ تمام رکارٹیں توڑ کر بنی گالا پہنچیں۔حکومت کی حکمت عملی یہی ہے کہ وہ کسی صورت پی ٹی آئی کے کارکنوں کو جمع نہیں ہونے دے گی۔اس رویے سے سوائے تشدد کے اور کچھ نظر نہیں آ رہا۔ایک جمہوری حکومت کا اصل روپ ایک آمرانہ طرز حکومت کی صورت سامنے آیا ہے جو قابل افسوس ہے۔نون لیگ کی حکومت کو چاہیے کہ وہ ریاستی وسائل کوپر تشدد سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہ کرے۔حکومت کا اگر یہی رویہ رہا تو خدا نخواستہ کوئی بڑا حادثہ بھی رونما ہو سکتا ہے۔جمہوریت کی جو شکل نون لیگ کی حکومت پیش کر رہی ہے یہ بڑی خوفناک ہے۔

SHOPPING

اداریہ
اداریہ
مکالمہ ایڈیٹوریل بورڈ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *