مدارس کے نصاب میں تبدیلی ناگزیر ہے

وقتاً فوقتاً مدارس کے نصاب میں تبدیلی کی بات اٹھتی رہتی ہے، اس پر غور وخوض کرنے کے بعد معلوم ہوا کہ مدارس میں نصاب کی تبدیلی کے لیے عموماً تین مؤقف ہیں:
ایک مؤقف ان حضرات کا ہے جو اس نصاب کو موجودہ زمانے میں بے کار سمجھتے ہیں ، ایسے لوگوں کا خیال ہے کہ مدارس کے نصاب میں بڑے پیمانے پر تبدیلی کرنے کی ضرورت ہے جس میں عصری علوم اس حد تک شامل کیے جائیں کہ مدارس کے فضلاء کالج اور یونی ورسٹی کے فارغین کے ساتھ قدم سے قدم ملاکر دنیاوی زندگی میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی تگ ودو میں لگ جائیں ۔ یہ عموماً وہ حضرات ہیں جنہوں نے مدارس میں نہ تو باقاعدہ تعلیم حاصل کی ہے اور نہ ہی مدارس کے نصاب سے بخوبی واقف ہیں۔
کس قدر حیرت انگیز بات کرتے ہیں یہ لوگ کہ دینی مدارس کے طلبہ کو دنیا میں ترقی وکامیابی کے لیے مغربی نظام تعلیم اور تمدن واسلوب زندگی کی ضرورت ہے۔ ایسے لوگوں سے بس اتنی سی عرض ہے کہ عصری تعلیم گاہوں کے اسٹوڈنٹس کو آخرت کی فلاح وکامیابی کے لیے کسی چیز کی ضرورت ہے یا نہیں۔
دوسرا طبقہ وہ ہے جو اس نصاب میں ادنی سی تبدیلی بھی گوارہ نہیں کرنا چاہتا بلکہ جو لوگ تبدیلیوں کا مشورہ دیتے ہیں ان کی رائے پر توجہ بھی دینے کے لیے تیار نہیں ہے اس نظریہ کے لوگ مدارس کے ہی فاضلین ہیں۔
ظاہر ہے کہ یہ دونوں ہی نقطۂ نظر غلط ہیں، پہلا اس لیے کہ مدارس کی تعلیم کا بنیادی مقصد علوم قرآن وسنت کی ترویج، اشاعت اور حفاظت ہے، نیز امت محمدیہ کی دنیاوی زندگی میں رہنمائی کے ساتھ اس بات کی کوشش وفکر کرنا ہے کہ امت محمدیہ کا ہر ہر فرد اخروی زندگی میں کامیابی حاصل کرے۔ اخروی زندگی کو نظر انداز کرکے ڈاکٹر یا انجینئر یا ڈیزائنر بنانا مدارس کے قیام کا مقصد نہیں۔ جس طرح دنیاوی تعلیم میں بھی انجینئرنگ کرنے والے طالب علم کو میڈیکل کی تعلیم نہیں دی جاتی، وکالت کی تعلیم حاصل کرنے والے طالب علم کو نقشہ بنانا نہیں سکھایا جاتا، کیونکہ میدان مختلف ہیں، اسی طرح قرآن وحدیث کی تعلیم میں تخصص کرنے والے طالب علم کو انگریزی وحساب وسائنس وغیرہ کے مضامین ضمناً ہی پڑھائے جاسکتے ہیں۔
دوسرا طبقہ بھی غلط سوچ رکھتا ہے کیوں کہ مدارس کے قیام کا بنیادی مقصد قرآن وحدیث کی تعلیم پر قائم رہتے ہوئے زمانہ کی ضرورت اور اس کے تقاضوں کے مطابق بعض علوم کا حذف واضافہ کیا جانا چاہیے۔
ان دونوں نقطۂ نظر کے درمیان ایک معتدل نقطۂ نظر بھی ہے اس نظریہ کے حامل لوگوں کی دورس نگاہیں حال ہی میں مستقبل کو دیکھ رہی ہیں۔ انکا نقطہ نظر یہ ہے کہ مدارس اسلامیہ کو موجودہ رائج نظام کے تحت ہی چلنا چاہیے، یعنی علوم قرآن وسنت کو ہی بنیادی طور پر پڑھایا جائے اور ظاہر ہے کہ قرآن وحدیث کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا، لہٰذا قرآن وحدیث کی وہی کتابیں پڑھائی جائیں جن کے تعلیم وتعلم کا سلسلہ سینکڑوں سالوں سے جاری ہے، مگر تفسیر قرآن، شرح حدیث اور فقہ وغیرہ پر کچھ کتابیں دور حاضر کے اسلوب میں از سر نو مرتب کرکے شامل کی جائیں، نیز نحو وصرف وعربی ادب وبلاغت پر آسان ومختصر کتابیں تحریر کی جائیں، منطق اور فلسفہ جیسے علوم کی بعض کتابوں کو حذف کرکے انگریزی، حساب اور کمپیوٹر جیسے جدید علوم پر مشتمل کچھ کتابیں نصاب میں شامل کی جائیں۔ غرض کہ علوم کتاب وسنت کی بالادستی کو قائم رکھتے ہوئے تقاضائے وقت کے مناسب بعض علوم وفنون کا اضافہ کرلیا جائے، لیکن مدارس کے نصاب میں اس نوعیت کی تبدیلی نہ کی جائے کہ اصل مقصد ہی فوت ہوجائے۔
مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع صاحبؒ لکھتے ہیں :
درس نظامی جو اب تک ہمارے مدارس میں رائج ہے ، علوم دینیہ کی حفاظت واشاعت کے لئے تو بلاشبہ کافی ہے مگر ملکی ، دفتری ضروریات آج بالکل بدلی ہوئی ہیں ان میں ہماری قدیم منطق وفلسفہ اور قدیم ریاضی اور فارسی زبان کام نہیں دیتی، آج فارسی زبان کی جگہ انگریزی نے لے لی ہے اور قدیم معقولات کی جگہ نئی سائنس اور فلسفہ نے نیز دوسرے علوم جدید نے لے لی ہے۔ اگر ہمارے متقدمین اپنے زمانہ کی ضروریات کے پیش نظر فارسی زبان کو اپناسکتے ہیں ، یونانی منطق وفلسفہ اور ریاضی کی تعلیم کو نصاب کا ایک بڑا جزء بناسکتے ہیں تو ان کا اتباع آج اس میں نہیں کہ ہم اس وقت بھی وہی منسوخ شدہ سکے لے کر بازاروں میں پھریں بلکہ وقت کی ضروریات کے مطابق انگریزی زبان اور فنون جدیدہ (کمپیوٹر) کو پڑھنا پڑھانا وہی درجہ رکھے گا جو اس زمانہ میں فارسی زبان اور یونانی فلسفہ کا مقام تھا۔ اگر آج اس حقیقت کو سمجھ کر ہمارے علماء فارسی زبان کی جگہ انگریزی کو اور یونانی فلسفہ کی جگہ جدید سائنس اور فلسفہ کو دیں تو اس میں نہ علوم دینیہ کی تعلیم میں کوئی غلط تصرف ہے اور نہ یہ اسوۂ اسلاف ہی سے مختلف ہے۔ مضر اسباب سے مکمل پرہیز کرتے ہوئے انگریزی زبان اور عصری علوم وفنون کو پوری کوشش اور توجہ سے حاصل کیا جائے تو وہ پچھلے منطق وفلسفہ سے زیادہ اسلامی عقائد اور اسلامی علوم کے خادم نظر آئیں گے۔(جواہر الفقہ ج : ۵ رسالہ : اسلام کے قرن اول میں تعلیم کا نصاب)
ان دگرگوں حالات میں تیسرے نقطہ نظر کے علماء کی سوچ اور اس سوچ کا نفاذ نہایت اہمیت کا حامل ہے اور وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہیں اپنے پرائے سب کی طرف سے طعن وتشنیع کا نشانہ بننا پڑے گا، جدیدیت سے مرعوب ہونے کے تیر ان پر برسیں گے، غیروں کے ایجنٹ ہونے کے فتوے لگیں گے لیکن اگر علماء یہ کڑوا گھونٹ پی گئے اور نصاب میں وقت کے تقاضے کے مطابق تبدیلی ہوگئی تو یقین جانیے یہ کام ان کے لیے صدقہ جاریہ بن جائے گا اور آئندی آنے والی نسلیں انکے لیے دعاگو رہیں گی۔
گویا آج ذمہ داری دوہری ہے کہ ماضی کے ورثہ کی حفاظت اور حال ومستقبل کے تقاضوں اور ضرورتوں کی تکمیل دونوں ہمارے ذمہ ہیں اس لئے مزاج شریعت کی روشنی میں سنجیدگی کے ساتھ غور کرنا ہی اس مسئلہ کا حل ہے ورنہ علمی انحطاط کے اس سلسلہ کا منطقع ہونا مشکل ہے اور اس کا نتیجہ صرف یہ نکلے گا کہ اسلام کی غلط تشریح اور غلط اشاعت کو ہم محدود طریقے پر تو روک سکیں گے لیکن عالمی سطح پر اور وسیع پیمانے پر اسلام کی صحیح تصویر کو پیش کرنا ہمارے بس کی بات نہ ہوگی اور نئے شکار کے لئے ہمارے پاس پرانے بوسیدہ ناقابل انتفاع جال کے سوا کچھ اور نہ ہوگا۔ اور حال میں ماضی کی غفلت کی سزا افسوس اورندامت کی شکل میں جو ہمیں مل رہی ہے مزید اس میں اضافہ ہی ہوتا چلا جائے گا۔

Avatar
عادل لطیف
کہتا ہوں سچ جھوٹ کی عادت نہیں مجھے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *