• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • واٹر بینک ، ویٹ میٹرنگ اور واٹر کارڈ کا آئیڈیا ۔۔انجنئیر ظفر وٹو

واٹر بینک ، ویٹ میٹرنگ اور واٹر کارڈ کا آئیڈیا ۔۔انجنئیر ظفر وٹو

آپ نے اکثر یہ پڑھا ہوگا کہ قسمت کے دھنی کروڑوں کی لاٹری جیتنے والے زیادہ تر افراد کچھ عرصہ بعد پھر اسی طرح غربت کی حالت میں پائے جاتے ہیں اور جیک پاٹ لگنے کے باوجود بھی ان کی مالی حالت ہمیشہ کے لئے نہیں سنبھلتی کیونکہ انہیں فنانشل مینجمنٹ کرنا نہیں آتی۔

تاہم اگر ایک شخص کی ہر سال ہی لاٹری نکلتی ہو بلکہ ہر سال ایک سے زیادہ دفعہ لاٹری نکلتی ہو اور وہ پھر بھی غریب رہے تو اسے کیا کہنا چاہیے ۔ وہ شخص میں اور آپ ہیں۔

FaceLore Pakistan Social Media Site
پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

اللہ میاں ہر سال کئی دفعہ ہمیں بارش کی صورت میں اپنی ضرورت سے بھی زیادہ پانی بھیج دیتے ہیں ۔ہماری لاٹری نکل آتی ہے- جیک پاٹ لگ جاتا ہے۔ لیکن ہرسال ہی ہم اپنی نااہلی کی وجہ سے اس سےفائدہ اٹھانے کی بجائے نہ صرف ضائع کر دیتے ہیں بلکہ الٹا نقصان اٹھاتے ہیں اور روتے پیٹتے ہیں۔

جب بھی بارش ہوتی ہے ہمارے شہروں کی سڑکوں اور گلیوں پر پانی کھڑا ہوجاتا ہے- نشیبی علاقے زیر آب آجاتے ہیں۔دفتر کاروبار بند ہوجاتے ہیں۔عمارات کو نقصان پہنچتا ہے،پانی میں پھنس کر گاڑیاں ناکارہ ہوجاتی ہیں اور پھر کئی دنوں تک نشیبی علاقے کیچڑ میں لت پت رہتے ہیں۔

عالمی درجہ بندی کے مطابق پاکستان پانی کی قلت کا شکار ممالک کی فہرست میں شامل ہے جس کی وجہ پانی کی کم دستیابی بالکل نہیں بلکہ وافر مقدار میں دستیاب پانی کی بری منیجمنٹ(انتظام) ہے۔وہ وقت دور نہیں جب ہمارے ہاں پانی کی چلتی ٹوٹی ایک خواب بن جائے گی اور چند لیٹر پانی کے حصول کے لئے بھی لمبی لمبی لائینیں لگا کریں گی۔

ہمارے ہاں جب بھی بارش ہوتی ہے تو نشیبی علاقے زیر آب آجاتے ہیں،حالانکہ شہری علاقوں میں بارش کا یہ پانی زحمت کی بجائے رحمت بنایا جا سکتا ہے۔

بارش کا پانی جب چھت پر گرتا ہے تو سب سے صاف ہوتا ہے،گر اسے چھت پر ہی کسی طریقے سے جمع کر لیا جائے تو یہ پانی بہت سے مقاصد کیلئے استعمال ہو سکتا ہے۔

چھت کے بعد دوسرا آپشن اسے پائپ کے ذریعے نیچے لاکر زمین کے اوپر بنائے گئے کسی بھی ٹینک میں جمع کرنا ہے جس کا سائز اور میٹریل آپ کی ضرورت، بجٹ اور لوکیشن کے حساب سے فائنل کیا جا سکتا ہے ۔

اس کے بعد تیسرا آپشن اس بارشی پانی کو زیرزمین ٹینک بنا کر ذخیرہ کرنا یا ری چارج ویل (پانی چوس کنوئیں) بنا کر زیر زمین پانی کی سطح بلند کرنے کا ہے ، آپ ان میں سے کوئی ایک ، دو یا تینوں آپشن استعمال کر سکتے ہیں۔

اس طرح آپ اپنے گھر کی پانی کی کئی دنوں کی ضروریات نا صرف پوری کر سکتے ہیں بلکہ ضرورت سے زائد پانی کو “واٹر بینک” میں جمع کرواکر پیسہ بھی کما سکتے ہیں ۔

واٹر بینک کیا ہے؟

“واٹر بینک” ہم ایسی سہولیات یا تعمیرات کو کہیں گے جو بڑے شہروں کے پارک ، کھیلوں کے میدان، یونیورسٹیوں کے کیمپس یا سرکاری ونجی کھلے میدانوں میں بارش کے پانی کو بڑی مقدار میں زیر زمین پانی تک پانی چوس کنوؤں کے ذریعے پہنچاتی ہیں۔ ان سہولیات کو تعمیر کرنے کی ذمہ داری پانی ضائع کرنے والی تمام صنعتوں پر لازم کردی جائے جس میں چمڑے اور ٹیکسٹائل کی صنعتیں خصوصاً قابل ذکر ہیں۔ اس کے علاوہ بھی تقریباً ہر بڑی فیکٹری میں زمینی پانی کولنگ کے لئے استعمال ہورہا ہوتا ہے۔

ہر صنعت پر اس کے ضائع کئے گئے پانی کے کم ازکم دُگنا حجم کے پانی کو بارش کے دنوں میں زیر زمین ری چارج کروانے کی پابندی ہو۔یہ صنعتیں کالونی ، سوسائٹی یا ادارے کی سطح پر سو فیصد بارشی پانی کو زیرزمین پانی میں ری چارج کروانے کی پابند ہوں۔ ان کے این او سی کی رینیئوئل ان کی اس اہلیت سے مشروط کردی جائے کہ وہ حکومت کی طرف سے ان کے لئے مختص کئے گئے خاص خاص شہری علاقوں میں کتنا بارشی پانی ری چارج کرواتی ہیں۔

کارواش اور کنسٹرکشن انڈسٹری پر بھی ایسی ہی پابندیاں لاگو ہوں اور ان پر استعمال سے دُگنا پانی بارش کے دنوں میں واٹر بینک میں ری چارج کروانے کی پابندی ہو۔

اگر واٹر بنک کا آئیڈیا جڑ پکڑتا ہے تو مستقبل کے واٹر بنکس دریاؤں کے کناروں پر نشیبی علاقوں میں بنائے جانے والے بڑے بڑے بغلی تالاب (آف لائن اسٹوریج) یا دریاؤں سیلابی میدانوں میں بنائی گئی مصنوعی جھیلیں بھی ہو سکتی ہیں جو بڑے سیلابی پانیوں کو ذخیرہ کرلیں جب دریا ابل ابل کر کناروں سے باہر آرہے ہوتے ہیں۔ یہ تعمیرات بھی پانی کی بے پناہ کھپت کرنے والی صنعتوں کے خرچے پر بنوائی جائیں۔ بلوچستان جیسے علاقے میں چیک ڈیم یا سمال ڈیم بھی واٹر بنک کے طور پر بنوائے جا سکتے ہیں۔

ویٹ میٹرنگ کیا ہے؟

جس طرح شمسی توانائی سے بجلی بنا کر واپڈا کے نظام میں ڈالنے پر بجلی کے یونٹ مفت ملتے ہیں جسے نیٹ میٹرنگ کہتے ہیں اسی طرح پانی خور صنعتوں کے لئے زمینی پانی کو ری چارج کرنے کے ویٹ میٹرنگ کا نظام لاگو کیا جائے۔

بڑے شہروں کے واسا , KWSB یا پبلک ہیلتھ کے ادارے “ویٹ میٹرنگ” “wet metering “ کا نظام شروع کر سکتے ہیں جس میں واسا یا پبلک ہیلتھ یا KWSB کسی بھی فرد کو اتنا پانی مہیا کرنے کا پابند ہو جتنا بارش کا صاف پانی اس شخص نے بارش کے دوران جمع کرکے “واٹر بینک “میں جمع کروایا ہو گا-

واسا , KWSB یا پبلک ہیلتھ خود بھی “واٹر بینک “ بنا سکتے ہیں یا پھر نجی “واٹر بینکوں” کے ساتھ اپنے واٹر سپلائی کے نظام کو جوڑ سکتے ہیں- اس طرح انہیں سینکڑوں فٹ زیرزمین پانی پمپ کرنے کی بجائے واٹر بینک سے پمپ کرنا پڑے گا جس سے بجلی کا خرچہ انتہائی کم ہوگا اور زیرزمین پانی کی سطح بھی بلند ہوگی-

واٹر کارڈ کیسے کام کرے گا؟

لوگوں کو خوش نما بوتلوں میں زمینی پانی کو منرل واٹر بنا کر بیچنے والی کمپنیوں پر بھی بارشی پانی کو زیر زمین پانی کے ری چارج کرنے والی سہولتیں بنانے کی پابندی ہو جہاں بارش کے دنوں میں شہری اپنے چھتوں یا گھروں کا پانی لاکر جمع کروانے پر برابر یا زیادہ حجم کے صاف پینے کے پانی کے یونٹس ڈیجیٹل “ واٹر کارڈ “ پرحاصل کریں جو انہیں ما بعد بارش کسی بھی جگہ / بیکری سے مفت میں پانی دے سکیں ۔ اندازہ کریں کہ اگر کسی شہری کو چند بارشوں میں بارش کا پانی واٹر بینک میں جمع کروانے پر پورے سال کے استعمال کا پانی مفت مل رہا ہو رو وہ بارش میں پانی جمع کرنے والا نظام خود بخود ہی بنا لے گا۔

لوگ پلاسٹک کی پورٹیبل ٹینکیاں مناسب تعداد میں بنا کر بارش کے دوران گھروں کی چھتوں سے آنے والے بارش کے صاف پانی کے پائپ کے والو سے جوڑ کر بھرتے جائیں اور بارش ختم ہونے پر ان ٹینکیوں میں جمع شدہ پانی کو ایک ایک کرکے واٹر بینک میں جمع کرواکر رسید لے لیں یا اپنا واٹر کارڈ ری چارج کروا لیں-

اس واٹر کارڈ پر حکومت یا این جی اوز کی طرف سے پُرکشش پیکیج ہوں۔ مثلاً لاہور میں رہنے والا شہری اپنی ضرورت سے زیادہ کا بارشی پانی لاہور کے واٹر بینک میں جمع کروانے پر واٹر کارڈ پر حاصل شدہ پانی کے حجم سے فوڈ پانڈا کی طرز پر بنی “واٹر بھانڈا “ایپ سے واٹر ٹینکر کوئٹہ یا کراچی میں اپنی فیملی، رشتہ دار، مسجد مدرسے یا کسی ضرورت مند کو عطیہ کر سکے۔

واٹر بینک اور ویٹ میٹرنگ سے پیسے کیسے کمائے / بچائے جا سکتے ہیں؟

شہری علاقوں کی تمام کھلی جگہوں پر بارش کے پانی کو زیر زمین پانی کے ری چارج کرنے کے لئے شہری نجی ” واٹر بینک” بنا کر ان میں پانی جمع رکھنے کے سروس چارجز پانی ضائع کرنے کی پابندی کی زد میں آئی پانی خور صنعتوں سےوصول کر سکتے ہیں-

ایسے پلاٹ جو کسی بھی وجہ سے خالی پڑے ہیں یا پارکنگ ایریا ز میں “واٹر بینک” بنا کر اچھی خاصی آمدنی کمائی جاسکتی ہے-

اندازہ کریں واسا پورے شہر میں پھیلے ہزاروں “واٹر بینکس” کے نیٹ ورک سے اگر سال میں ساٹھ دن بھی پانی دے سکتا ہے تو بجلی کے خرچے کتنی کمی اور زیرزمین پانی کی سطح میں کتنی بہتری ہوگی- چھتوں سے بارش کے پانی کا بہہ کر سڑکوں اور گلیوں میں کھڑا ہونے میں کتنی کمی آجائے گی۔

اس سے کیا فرق پڑے گا؟

لاہور میں مون سون کی بارشیں ہر سال جون کے آخر سے شروع ہوکر ستمبر کے آخر تک چلتی ہیں اس کے  علاوہ سردیوں میں بھی بارش ہو جاتی ہے اور فروری مارچ میں بھی بارشیں چلتی رہتی ہیں- اگر ہم سادہ ترین الفاظ میں کہیں کہ سال میں کم از کم 20 دفعہ بارشیں ہوئی تو اوپر دیے گئے نظام سے آپ کے پاس بارش کا صاف پانی ذخیرہ کرنے یا ری چارج کرنے کے بیس مواقع تھے-

اگر ایک بارش سے آپ کے چھت ، لان یا زیر زمین پانی ذخیرہ یا ری چارج کرنے کی صلاحیت آپ کے دو سے تین دن کے استعمال کے پانی کے حجم کے برابر ہے تو آپ بارش کے پانی کو سال کے کم ازکم پچاس ساٹھ دنوں کے لئے مفت استعمال میں لا سکتے ہیں-جس سے زیر زمین پانی اور موٹر کو چلانے کے لئے استعمال ہونے والی بجلی کی کھپت میں کم ازکم پُندرہ فی صد کمی ہوئی اور زیرزمین پانی کی تیزی سے نیچے جانے والی سطح میں کچھ بہتری آئے گی-

اگر گھر کی چھت سے بہنے والا آدھا بارش کا پانی اس طریقے سے ذخیرہ یا ری چارج کر لیا جائے تو گلی یا سڑکوں پر بہنے والے بارش کے پانی کے حجم میں آدھی کمی آگئی جس کا مطلب راستوں کا کھلے رہنا اور ٹریفک کا رواں دواں رہنا ہے جس سے کاروبار اور دفتر کھلے رہیں گے اور کام کاج کا حرج نہیں ہوگا- گھروں اور عمارتوں کا نقصان نہیں ہوگا – سڑکیں پانی کھڑا ہونے سے نہیں ٹوٹیں گی-

Advertisements
julia rana solicitors london

کم سے کم ہر شخص کو اپنی زندگی میں اپنے نام کا ایک عدد پانی چوس کنواں اس سیارہ زمین کی پیاس بجھانے کے لئے ضرور بنوانا چاہئے۔

  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com
  • julia rana solicitors london
  • julia rana solicitors
  • merkit.pk

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply