ٹی ٹی پی سے امن معاہدہ ۔۔اسلم اعوان

جنگ دہشتگردی کی کوکھ سے پیدا ہونے والے مسلح گروہوں کی جارحیت کو کند کرنے کے لئے پاکستان کو افغان طالبان کی وساطت سے ٹی ٹی پی سے ویسا ہی امن معاہدہ کرنا پڑ رہا ہے جیسا فوجی انخلاءکو محفوظ بنانے کی خاطر امریکہ کو افغان طالبان کے ساتھ کرنا پڑا۔تازہ ترین اطلاعات کے مطابق طویل مذاکرات کے بعد بلآخر پاک گورنمنٹ اور تحریک طالبان باہمی تنازعات کو پُرامن طریقوں سے حل کرنے کی خاطر سیزفائر پہ متفق ہو گئے،یہ سیزفائر ٹی ٹی پی اور پاکستانی حکام کے درمیان کابل میں کئی ہفتوں پہ محیط خفیہ بات چیت کے نتیجے میں ممکن ہوا،جس کے بعد ٹی ٹی پی اور پاکستانی قبائلی رہنماؤں کے درمیان مذاکرات کا دور شروع ہوا،جو بوجوہ بے نتیجہ رہا تاہم پہلی بار افغان طالبان نے فریقین کے مابین ثالثی کرانے کی تصدیق کردی،مولانا فضل الرحمن کہتے ہیں” ایک تو ٹی ٹی پی کو انگیج کرنے کا طریقہ کارغلط اور وقت کا تعین درست نہیں،دوسرے مذاکرات کرنے والی پاکستانی ٹیم اسقدر پیچیدہ معاملات کو نمٹانے کی اہلیت نہیں رکھتی“۔

واقفان حال کہتے ہیں،ٹی ٹی پی سے بات چیت کا درست وقت مئی2021 تھا جب ٹی ٹی پی کے امیر نورولی نے ازخود رابطہ کرکے مذاکرات کی پیشکش کی تھی،جسے باسہولت نظرانداز کر دیا گیا،دوسرے بات چیت کے تازہ مرحلہ کو پایا تکمیل تک پہنچانے کے لئے جن قبائیلی رہنماؤں کا انتخاب کیا گیا،وہ ٹی ٹی پی خاص کر حاجی گل بہادر گروپ کے لئے قابل قبول نہیں،ماہرین اس معاملہ میں بندوبستی علاقوں کے علمااور عمائدین کے علاوہ مولانا فضل الرحمن کو کردار دینے کے حامی تھے لیکن کارآمد لوگوں کو پس پشت ڈال کر انتہائی حساس معاملات کو نامطلوب افراد کے حوالے کرنا پیچیدگیاں بڑھا  سکتا ہے۔

FaceLore Pakistan Social Media Site
پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

مولانا فضل الرحمن بارے شاید تاثر یہ تھا کہ وہ ٹی ٹی پی سے تصفیہ میں مدد دینے میں سیاسی مفاد لے سکتے ہیں،ماہرین کہتے ہیں،اول تو یہ خدشہ بے بنیاد تھا کیونکہ مولانا فضل الرحمن جیسا ذمہ دار قومی رہنما انسانی مفادکو خارجی مقاصد کے لئے استعمال نہیں کر سکتا تاہم اگر ایسا ممکن بھی ہو تو خطہ میں قیام امن کی یہ بہت کم قیمت تھی،چنانچہ بظاہر اسی کھنچاتانی میں تنازع  کے پائیدار حل کے امکانات دور ہو رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق چند عوامل ٹی ٹی پی سے مذاکرات کے انجام کا تعین کریں گے،پہلا ٹی ٹی پی کے مطالبات اور پاکستان کی سلامتی سے وابستہ مفادات میں توازن قائم رکھنے کے علاوہ فریقین کی طرف سے ایک دوسرے کو دی جانے والی پیشکش کوصیغہ راز میں رکھنا،رپوٹس بتاتی ہیں کہ فی الحال پرائم ایجنسی کواس معاملہ سے الگ رکھ کے پشاور کورکی قیادت میں سرکاری مذاکرات کاروں نے ٹی ٹی پی کو افغانستان سے پاکستان واپس پلٹنے کے لئے محفوظ راستہ فراہم کرنے کے عوض طویل المدتی جنگ بندی پر راضی کرنے اور مسلح تنظیم کو تحلیل کرکے مرکزی دھارے کی سیاست میں شامل ہونے کی پیشکش کی لیکن اس پُرکشش پیشکش کے باوجود ٹی ٹی پی کی طرف سے دو مطالبات پہ اصرار مذاکرات میں تعطل کا وسیلہ بنا، پہلا،ملک کے سابقہ قبائلی علاقوں سے فوجی دستوں میں خاطر خواہ کمی دوسرا آئین میں ترمیم کے ذریعے2018 میں ضم کئے جانے والے قبائلی علاقوں کے انضمام کا خاتمہ، پاکستانی مذاکرات کار فاٹا میں فوجی دستوں میں کمی پہ تیار ہوں گے لیکن انضمام کا مطالبہ ناقابل عمل دکھائی دیتا ہے۔دوسرا اہم ایشو یہ ہے کہ افغان طالبان اپنا وزن کس پلڑے میں ڈالیں گے؟

اسی تناظر میں افغان طالبان کا ثالثی کا کردار مرکزی حیثیت اختیار کرگیا،کیا طالبان ٹی ٹی پی کو توقعات سے کم پر تصفیہ کرنے یا پھر پاکستان کو ٹی ٹی پی کی شرائط ماننے پر مجبورکریں گے؟ماہرین کاخیال ہے، طالبان گورنمنٹ کے لئے اپنی بقاءاور سیاسی و معاشی مفادات کو پش پشت ڈالنا مشکل ہو گا،سب سے پہلے تو طالبان کی پوزیشن ان کے اپنے خارجہ تعلقات اور پاکستان پر انحصار کی سطح پہ تشکیل پانے والہ وہ احسان ہے جو افغانستان میں امریکی موجودگی کے دوران پاکستان کی طرف سے طالبان کی سیاسی اور مادی حمایت کی صورت میں سامنے کھڑا ہے۔

حالیہ مہینوں میں طالبان کی جانب سے ٹی ٹی پی کو مذاکرات پر مجبور کرنے کی ایک وجہ افغانستان کے گہرے ہوتے معاشی اور انسانی بحران کے درمیان پاکستان پہ بڑھتا ہوا انحصار تھا۔پاکستان اپنے ہاں موجود افغانیوں کی فوری واپسی کے علاوہ پاک افغان سرحدی تجارت کو محدود کرکے طالبان کی آمدنی پر معاشی دباو¿ بڑھا سکتا ہے،انہی معاشی تقاضوں نے کچھ طالبان رہنماؤں کو اصلاح احوال کی طرف مائل کیا،جیسے سراج حقانی،جو کابل میں قائم مقام وزیر داخلہ ہیں،ٹی ٹی پی سے مذاکرات کرانے کے لئے متحرک نظر آئے۔عالمی تنہائی کے آشوب کی وجہ سے طالبان کو اس امر کا احساس ہے،انکی حکومت مستقبل قریب میں عالمی برادری سے الگ تھلگ ہونے کی وجہ سے پاکستان کے ساتھ کشیدگی کی متحمل نہیں ہو سکتی،ایسی صورت میں افغانیوں کو مزید مشکلات کا سامنا کرنے کے علاوہ حکومت کی بقا کو بھی خطرات درپیش ہو سکتے ہیں۔

تاہم یہ مجبوریاں افغان طالبان کے لئے ٹی ٹی پی سے مکمل نظریاتی وابستگی ختم کرنے کے لئے ناکافی ہیں،سراج حقانی،امریکہ کے خلاف جہاد میں ٹی ٹی پی کے تعاون کا کھلے عام اعتراف کرتے ہوئے ٹی ٹی پی کو کبھی تنہا نہ چھوڑنے کا اعادہ کرتے ہیں۔اگر طالبان کی پاکستان پر انحصار کی سطح تبدیل نہ ہوئی تو ٹی ٹی پی پر ان کی درمیانی پوزیشن کے لئے دو کلیدی عوامل اثرانداز ہوں گے،ایک طالبان کی اندرونی سیاست،جس میں ٹی ٹی پی کے لئے حمایت کا عنصرموجود ہے،طالبان کا وہ قندھاری دھڑا جو ٹی ٹی پی کے لئے اپنی حمایت بڑھا کر اسے پاکستان سے بچاتا ہے،اس میں طالبان کے وزیر دفاع ملا یعقوب نمایاںہیں،یہ حلقہ سراج حقانی کی پاکستان کے ساتھ ملکرکام کرنے کی ترجیح کو کس حد تک پورا ہونے دے گا اس کا فیصلہ وقت کرے گا۔

دوسرا،ٹی ٹی پی کے مطالبات پر طالبان کا موقف اہم ہوگا،اگرچہ طالبان اصولی طور پر ٹی ٹی پی کی پاکستان میں شریعت پر مبنی تحریک کی حمایت کرتے ہیں لیکن یہ واضح نہیں کہ وہ ٹی ٹی پی کی مذاکراتی پوزیشن کو بھی تسلیم کرلیں۔تاہم یہ بات قابل فہم ہے کہ ٹی ٹی پی کے مطالبات کی تکمیل ڈیورنڈ لائن کے اہم حصہ کو نرم کرکے اسے پاک افغان سرحد پر افغان قوم پرستوں کے موقف سے مزید ہم آہنگ بنا سکتی ہے۔دوسری طرف طالبان میںکچھ لوگ،خاص طور پر،وہ جو حکومتی بقا کے لئے داعش خراسان کے بارے میں فکر مند ہیں،کو خدشہ ہے،اگر ٹی ٹی پی قبائلی علاقوں پر کنٹرول حاصل کرنے میں ناکام رہی توخطہ میں داعش سمیت کئی دیگرمخالف مسلح دھڑے جڑ پکڑ کر سرحد پار سے طالبان کو چیلنج کر سکتے ہیں۔اگرچہ ٹی ٹی پی کے زیادہ ترلوگوں نے طالبان کی طرف سے مذاکرات کو ایک اور موقع دینے کے اصرار کا جواب قرار دیا تاہم ٹی ٹی پی خود بھی پاکستان سے بات چیت کے سیاسی مقاصد پرتقسیم ہے۔

لگتا ہے،افغانستان پر طالبان کے قبضے کے بعد گروپ کی تشدد کی مہم نے نسبتاً کم قیمت پر ایک بڑا سیاسی مقصد حاصل کرلیا،اسے پاکستان ایسی رعایتیں دینے کے قریب پہنچ گیا،جس سے انکی سیاسی حیثیت کو فروغ ملے گا،وہ پاکستان کی طرف سے ٹی ٹی پی کے قیدیوں کی رہائی اور معاوضے کی پیشکش کو بالآخر گروپ کو مضبوط کرنے کے طور پر دیکھتے ہیں لیکن ٹی ٹی پی کے کچھ لوگ اس امر پر فکر مند بھی ہیں کہ بات چیت سے کوئی فرق نہیں پڑتا،چاہئے تصفیہ کی شرائط کچھ بھی ہوں،جب ٹی ٹی پی غیر مسلح ہو جائے گی تو پاکستان ان کے پاؤں کے نیچے سے قالین نکالنے کی طاقت برقرار رکھے گا۔

یہ لوگ پاکستانی فوج کے ساتھ ماضی کے معاہدات کا حوالہ دیتے ہیں،جو بڑی حد تک ناکامیوں اور فوجی آپریشنز پر منتج ہوئے لیکن ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں کہ پاکستان اور ٹی ٹی پی کے معاہدات کو ناکام بنانے میں امریکہ دباؤ بنیادی محرک ہوتا تھا جوبہرحال اب خطہ میں موجود نہیں رہا چنانچہ اس وقت پاکستان کو عہد وپیماں نبھانے میں کوئی امر مانع نہیں ہو گا،تاہم کچھ رہنما پاکستان سے بات کرنے کے دوران تشدد میں کمی کے مضمرات بارے فکرمند ہیں،انہیں خدشہ ہے، اگر تشدد کے آپشن کو ترک کر دیا تو پاکستان انہیں کم پیشکش کرے گا لیکن تیسرا  عنصرجس میں بنیادی طور پر خاندانوں اور ٹی ٹی پی سے منسلک پناہ گزینوں کے بڑے قبائلی نیٹ ورک شامل ہیں جو پاکستان کے آخری فوجی آپریشن ضرب عضب کے دوران افغانستان چلے گئے تھے،وہ اب پاکستانی حکومت کے ساتھ کسی ایسے تصفیہ کے حامی ہیں جو اس امر کو یقینی بنائے کہ افغانستان سے ان کی فوری اور محفوظ واپسی ممکن ہو سکے۔

اس گروہ میں بہت سے لوگ کئی سالوں سے مشرقی افغانستان میں انتہائی غربت کی زندگی گزارنے پہ مجبور ہیں،افغانستان کے بڑھتے ہوئے انسانی بحران کے باعث گروہ کی خوراک اور دیگر اشیا ضروریہ تک رسائی جیسے مہلک مسائل درپیش ہیں۔پاکستانی سیاستدان بھی بظاہر ٹی ٹی پی کے ساتھ مقتدرہ کے مذاکرات پر خاموش ہیں لیکن سطح کے نیچے اضطراب موجود ہے،شاید اسی اندیشہ کے پیش نظر فوجی قیادت نے وزیراعظم شہبازشریف کو اعتماد میں لینے کے علاوہ قومی قیادت کو بندکمرہ میں دوبار بریفنگ دی جس میں مولانا فضل الرحمن شریک نہیں ہوئے تاہم ریٹائرڈ اشرافیہ اور مقتدرہ سے منسلک سوشل میڈیا،جو قومی سلامتی اور ملکی سیاست کے اہم معاملات پر قومی بیانیہ کو جارحانہ انداز میں تشکیل دیتے ہیں،کو اس ایشو پہ بحث سے روک دیا گیا،یہاں تک کہ سسٹم کے اندر بھی آگے بڑھنے کے طریقہ پر کچھ اختلاف ہوں گے،تناؤ  کا ایک ذریعہ پرائم ایجنسی کو الگ کرکے الیون کورکو ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات کے موجودہ دور کی قیادت دینا بھی ہو سکتا ہے۔ پشاور کور کی قیادت میں ڈیل کرنے کی پچھلی کوششیں (جیسے 2004 کا شکئی معاہدہ) جسے امریکی ڈروان حملہ میں نیک محمد کی موت نے ناکامی سے دوچار بنایا۔

Advertisements
julia rana solicitors

حمید کو مذاکرات پر آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کی مکمل آشیر بادحاصل ہو گی لیکن یہ واضح نہیں کہ موجودہ آئی ایس آئی چیف کس حد تک ان شرائط کے پیچھے ہیں۔سوال یہ بھی ہے کہ پاکستان کی پارلیمانی سیاست مذاکرات کے اگلے مرحلے کی تشکیل کیسے کرے گی،خاص طور پر اگر فوج کسی تصفیہ کی حمایت کے لئے آئینی تبدیلیوں کا مطالبہ کرتی ہے۔

  • julia rana solicitors
  • merkit.pk
  • julia rana solicitors london
  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

Aslam Awan
اس وقت یبوروچیف دنیا نیوز ہوں قبل ازیں پندرہ سال تک مشرق کا بیوروچیف اور آرٹیکل رائٹر رہاں ہوں،سترہ سال سے تکبیر میں مستقل رپوٹ لکھتا ہوں اور07 اکتوبر 2001 سے بالعموم اور 16مارچ 2003 سے بالخصوص جنگ دہشتگردی کو براہ راست کور کر رہاں ہوں،تہذیب و ثقافت اور تاریخ و فلسفہ دلچسپی کے موضوعات ہیں،

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply