امریکہ اور پاکستان میں ریپ

امریکہ اور پاکستان میں ریپ
شازیہ نواز

بہت دفعہ لوگ چیزوں کو سمجھ نہیں پاتے ۔خاص کر پاکستانی جن کو یہ سکھایا ہی نہیں جاتا کہ سوچنا کیسے ہے . ہم لوگوں کو تو بس رٹایا جاتا ہے کہ کیسے کیا ہونا چاہیے۔سوچنے پر سخت پابندی ہے۔ چیزیں ہم پاکستانیوں کو بہت آسانی سے سمجھ نہیں آتیں۔(ارے وہ امریکا میں تو ریپ کے اتنے مقدمات ہیں، ہمارے اتنے کم) مجھے نہیں پتا کہ پاکستان میں کتنی لڑکیاں ریپ ہوتی ہیں۔ مجھے یہ پتا ہے کہ میں کبھی نہیں ہوئی اور نہ میں کسی ایسی لڑکی کو جانتی تھی جو ہوئی ہو۔میں ہمیشہ گلیوں میں لڑکیوں پر آوازیں لگانے والوں کی بات کرتی ہوں۔ ان کی وجہ سے ہم لوگ گھروں سے نکل ہی نہیں سکتے تھے ۔دس سال کی عمر کے بعد مجھے کبھی بھی اکیلا نہیں چھوڑا گیا۔ کبھی نہ ہی گھر سے اکیلے گئے،اور نہ ہی لڑکوں کے ساتھ کبھی اکیلے ہونے دیا گیا۔جب بھی کبھی گھر سے اکیلے نکلے ، کسی نے گلی میں تنگ ضرور کیا.اس لئےساری زندگی گھر کے اندر بند رہے، صرف امی، بھائی ، یا ابو کے ساتھ نکلے۔لیکن اب جانتی ہوں کہ عورتوں کو گھروں میں رہنے پر مجبور کرنا انسانیت نہیں، گھروں میں ان کو قید کیا جانا چاہیے جو ان کوسڑکوں پر تنگ کرتے ہیں۔
لڑکیوں نے کیا جرم کیا ہے کہ وہ سڑکوں پر آزادی سے نہ پھر سکیں. میرا اسکول بھی لڑکوں کے ساتھ تھا اور کالج بھی . مگر تب بھی لڑکے اور لڑکیاں ایک دوسرے سے الگ الگ ہی رہتے تھے, ایک دوسرے کے ڈر سے۔امریکا میں عورتیں ہر جگہ آتی جاتی ہیں، دن کو بھی اور رات کو بھی، اور پھر اگر کوئی جرم ہو جا ئے ان کے ساتھ ،تو اس کو رپورٹ بھی کرتی ہیں۔
جب قید میں رہیں گے، تو نہ ہی زیادتی ہو گی اور نہ ہی افیئر چلے گا، لیکن یہ کہاں کا انصاف ہے کہ مظلوم کو قید کر دو، اور غنڈے سڑکوں پر د ند ناتے پھریں؟اور لڑکے تو پاکستان میں اور بھی زیادہ زیادتی کا شکار ہوتے ہیں؟ ان کی عزت کیوں نہیں جاتی؟ ان کو گھروں میں قید کیوں نہیں کرتے؟اگرزیادتی کا تعلق کپڑوں سے ہوتا تو جب ایک دفعہ کالج اسے اکیلا آنا پڑا ، تو ایک لڑکے نے اکیلا پا کر ، میری چھاتی کو ہاتھ کیوں لگایا ؟ کپڑوں کی پانچ تہیں پہن رکھی تھیں. زنانہ شمیز ، لمبی شمیز قمیص، دوپٹہ اور اوپر سے چادر. اور پھر خوف سے تیز تیز ، نظریں جھکا کر بھی چل رہی تھی ۔
اب پاکستان جاؤں، چاہے بغیر بازو کی قمیص ہو، کوئی دوپٹہ نہیں، ڈرتے ہیں اور دور دور سے ڈر کر ہی دیکھتے ہیں. یہ ایسے بھیڑیے ہیں جو بھیڑ نظر آ جا ئے تو بھیڑیے اور اگر شیرنی نظر آ جا ئے تو پاس بھی نہیں پھٹک سکتے۔
اپنے آ پ کو بے وقوف نہ بنا یا کریں. اگر کھلی سڑک نہ ہوتی ، تو وہ لڑکا زیادتی کرنے کی بھی کوشش کرتا. کبھی سوچتی ہوں کہ میں نے کانپنا کیوں شروع کر دیا، اور تیز تیز کیوں چلنے لگی، رک کیوں نہیں گئی اور پاس سے اینٹ اٹھا کر اس کے سر میں کیوں نہیں ماری؟جواب یہ ہے کہ ما ں نے ڈرنا سکھایا ، لڑنا نہیں. آج ٢٢ سال کے بعد پہلی دفعہ کسی کو ، اور وہ بھی آپ سب کو ، یہ قصہ سنایا ہے. امی کونہیں سنایا، وہ مجھےہی الزام دیتیں کہ پیچھے کیوں رہ گئی، اور باقی لڑکیوں کے ساتھ کیوں نہیں نکلی کالج سے؟میری سب سے چھوٹی بہن کو ان باتوں کا نہیں پتا میرے امی ابو، لاہور کے پوش علاقے میں منتقل ہو گئے،اور بہن کے پاس چھوٹی عمر سے اپنی کار ہے. ہر جگہ آزادی سے جاتی ہے، البتہ رہتی پوش علاقوں میں ہی ہے. مجھے کبھی کبھی خود بھی چلنا پڑتا تھا جب ابو اور بھائی نہیں ہوتے تھے۔زیادہ پاکستانی لڑکیوں کے پا س اپنی کار نہیں. وہ چل کر یا وین میں اپنا سفر کرتی ہیں، وہ کیوں ہراساں کی جا ئیں؟انڈیا کا بھی یہ ہی حساب ہے، ان کے آدمی بھی ہمارے آدمی کی طرح سوچتے ہیں اور اسی لئے وہاں لڑکیوں کے ساتھ زیادتی بہت کامن ہے۔کیوں کے دنیا دیکھی ہی نہیں پاکستان میں، پتا بھی نہیں تھا کہ پاکستان میں بھی ہزار طرحکے لوگ ہیں۔
ساری لڑکیوں کی اتنی حفاظت (اور جیل والی زندگی ) نہیں ہوتی. مجھے یقین ہے کہ وہ جو سڑکوں پر چلنے بھی نہیں دیتے ، موقع لگنے پر زیاد تی بھی ضرور کرتے ہوں گے. لیکن کون بتا ئے گا. میں نے ٢٢ سال کے بعد، اس مقام پر زندگی کے، لڑکے کے ہاتھ لگانے کا قصہ اب بتایا ہے، زیادتی کا پاکستان میں بتا کر تو اپنی زندگی خود ہی برباد کرنے والی بات ہے۔عورتوں کو قید نہ کریں ، ہراساں کرنے والوں کو اور زیادتی کرنے والوں کو کریں. لڑکیوں کا بھی زندگی کی آزادیوں میں اتنا ہی حق ہے جتنا کے لڑکوں کا . لڑکیوں کو باہر ،اور غنڈو کو اندر کریں۔
یہاں امریکا میں لڑکیا ں اور عورتیں ہر وقت سڑکوں پر آزادی سے پھرتی ہیں، اور بہت محفوظ ہیں، اسی لئے یہاں کے کلچر کو برا کہنے والے بھی اپنی بیٹیاں لے کر یہاں سے نہیں نکلتے۔پاکستانی عورتوں نے تو کبھی اتنی آزادی کا تصور بھی نہیں کیا ہوگا. ریپ یہاں ایک بہت بڑا جرم سمجھا جاتا ہے. کرنے والا بچتا نہیں.جسطرح آ پ ایک امیر آدمی کو نہیں لوٹ سکتے صرف یہ کہہ کر کے آ پ غربت کے مارے ہوئے ہیں، آپ لڑکی کے ساتھ زیادتی بھی نہیں کر سکتے کہ باہر کیوں تھی امریکا کی عورتیں جانتی ہیں وہ کتنی محفوظ ہیں. اور یہ ہی وجہ ہے جب کوئی اور بھی ایک بار یہاں آ جاتا ہے، جاتا نہیں پھر۔

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *