ہم جنسیت کیا ہے؟ اسباب کیا ہیں؟(حصہ اول)

ہم جنسیت کیا ہے؟ اسباب کیا ہیں؟(حصہ اول)
طاہر یاسین طاہر
سماج افراد سے تشکیل پاتا ہےاور سماجی رویے ،افرادی رویوں سے مل کر ایک معاشرتی رویہ تشکیل دیتے ہیں۔ہم میں سے کسی کو کھانسی بھی ہو جائے تو وہ اس کی موسمی و سائنسی وجوہات کے بجائے سب سے پہلے یہی کہے گا کہ یہ سب مذہب سے دوری کی وجہ سے ہے۔بے شک تمام الہٰی مذاہب کا ہدف معاشرتی اخلاقیات ہے۔جو معاشرہ اخلاقی اعتبار سے بر تر ہو گا ،وہ معاشی اعتبار سے بھی بر تر ہو گا۔ کیا ہم دیکھتے نہیں کہ صدرِ اسلام میں مسلمانوں کے پاس معاشی طاقت تھی؟ کیوں؟ اس لیے کہ اخلاقی طاقت بھی ان کے پاس تھی۔ دنیا کے تمام معاشروں میں البتہ کمزوریاں بھی ہوتی ہیں اور برتری بھی،کسی معاشرے کی کوئی اخلاقی کمزوری ممکن ہے دوسرے معاشرے کو پسند نہ آئے، مگر وہ اس معاشرے میں ایک عام سی آزادی اظہارہو۔معاشرتی ضرورتیں وقت کے ساتھ تبدیل ہوتی رہتی ہیں مگر جبلی ضرورتیں آج بھی قریب قریب ویسی ہی ہیں جیسے قبل از مسیح تھیں۔مثلاً ،شادی،افزائش ِنسل، جنسی ضروریات ،خوراک کا حصول وغیرہ ۔چیزوں کو ذاتی پسند و ناپسند کے بجائے انھیں طالب علمانہ انداز سے بھی دیکھنا چاہیے۔ علمائے عمرانیات کو اس حوالے سے ضرور معاشرتی رہنمائی کرنی چاہیے۔
“اخباری دانش” ابھی بلوغت کی منازل میں تھی کہ” سائبر دانش” کا ایسا سیلاب آیا جو ہر چیز کو اپنی “سائبریا دانش” میں بہا لے جا رہا ہے۔ جذباتیت غالب ہے۔غلطی سے نہیں،اس پر اصرار سے معاشرے تباہ ہوتے ہیں۔ہم بحثیت مسلمان جھوٹ بھی بولتے ہیں اور پھر بڑے تفاخر کے ساتھ یہ بھی کہتے ہیں کہ جھوٹ بولنا گناہ ہے۔انسان کی جبلی کمزوریوں کو تسلیم کرنے میں عار ہی کیا ہے؟ہر کام ہر کسی کے بس کا نہیں ہوتا۔”مکالمہ” پہ ایک تحریر شائع ہوئی تو چاروں سے سنگ باری شروع ہو گئی۔کچھ حضرات نے مکالمہ پہ تحریریں بھی بھجوائیں اور تبلیغ کی کہ نہ صرف ہم جنسیت دین سے دوری کے سبب ہے بلکہ ایسا لکھنا بھی اخلاق باختگی ہے۔دین داروں سے اتنا ہی کہوں گا کہ حضور،مدارس میں باقاعدہ طلبا سے یہ شغل فرمایا جاتا ہے۔ایک اصطلاح دین کی موٹی موٹی کتابوں میں ملتی ہے “علت ِ مشائخ”۔یہ کیا ہے؟دینی اخلاقیات سے دوری ایک سبب ہے۔ معاشرتی اور جبلی رویہ البتہ ایک دوسرا اور اہم سبب بھی ہے، جسے نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ہم جنسیت اور لزبائی عشق کی اربابِ نظر نے تین اسباب سے بحث کی ہے۔عضویاتی،نفسیاتی اور معاشرتی۔
کرافٹ ایبنگ،ڈاکٹر مال اور پروفیسر مانٹا گیزا کے خیال میں” ہم جنسی میلان خلقی اور عضویاتی ہوتا ہے”،ہم جنسیت کا سب سے موثر دفاع ایک جرمن عالم، کارل ہائزخ الرخس نے کیا تھا۔وہ خود پیدائشی “ہم جنسی “تھا اور ہم جنسیت کو فطری اور قانونی فعالیت منوانے کے لیے عمر بھر جدو جہد کرتا رہا۔معاشرتی اسباب کے حوالے سے رچرڈ برٹن ،جسے “ہم جنسی “عشق کا سب سے پہلا محقق بھی کہا جاتا ہے، وہ کہتا ہے کہ،جہاں کہیں مردوں کو عورتوں کی صحبت میسر نہ آسکے،اور عورتیں مردوں سے الگ تھلگ رہیں،وہاں ہم جنسی میلان اور لزبائی عشق کو پنپنے کے مواقع مل جاتے ہیں۔کاسپر کے الفاظ میں،یہ اکتسابی ہم جنسیت ہوتی ہے اور اس کی تہ میں مجبوری کارفرما ہے،جیسے ایک فاقہ زدہ شخص نامرغوب شے بھی کھا لیتا ہے،چنانچہ صنفِ مخالف کی صحبت میسر آنے پر اس نوع کا “ہم جنسی” میلان بھی ختم ہو جاتا ہے۔
اخبار نویس مگر اس سے اختلاف کرتا ہے، کیونکہ امریکہ و یورپ میں مرد و زن کے اختلاط کے باوجود ہم جنسیت کے باقاعدہ کلب ہیں اور ہم جنس شادیاں بھی ہوتی ہیں۔ہم جنسیت کے نفیساتی سبب سے بحث کرتے ہوئے،بعض علمائے تحلیل ِنفسی،کہتے ہیں کہ” ہر شخص فطری طور پر دو جنسی ہے”۔دو جنسیت انکشاف سب سے پہلے فلیس نے کیا تھا،جس سے فرائڈ نے استفادہ کیا،فرائڈ کہتا ہے کہ ،”میں نے کسی بھی ایک مرد یا عورت کا تجزیہ نہیں کیا جس میں ہم جنسی میلان موجود نہ ہو”۔وہ مزید کہتا ہے کہ اگر جنسی میلان کو دبا دیا جائے تو تشویش کی الجھن پیدا ہوتی ہے،سٹیکل اور کلفورڈ ایلن کی تحقیق یہ ہے کہ “ہم جنسیت خلقی نہیں ہوتی بلکہ نفسیاتی نظام میں خلل پیدا ہو جانے سے نمو پذیر ہوتی ہے”۔نامور مفکر ہیویلاک ایلس کہتا ہے کہ “ہم جنسیت کسی بھی نفیساتی مرض کی علامت نہیں ہے،اس کے خیال میں کسی ہم جنسی کو ابنارمل کہنا زیادتی ہو گی۔بعض مرد،عورت سے مایوس ہو کر یا احساسِ کمتری کے تحت ہم جنسی بن جاتے ہیں۔(حالانکہ احساسِ کمتری بھی ایک نفیساتی عارضہ ہے)انھیں اس بات کا اندیشہ ہوتا ہے کہ وہ عورت کی جنسی تشفی نہیں کر سکیں گے۔بعض نوجوان لڑکیاں مرد کے خوف سے ہم جنسیت کی طرف میلان رکھتی ہیں۔سمون دیوا کہتی ہیں۔
“ایک نوجوان لڑکی مرد کی درشتی اور تند مزاجی سے خائف ہو کر اپنے آپ کو بڑی عمر کی عورت کے سپرد کر دیتی ہے۔مردانہ قسم کی عورت میں اسے اپنے والدین کی جھلک دکھائی دیتی ہے،اس طرح نوجوان لڑکی حقیقی تجربے سے روگردانی کر تی ہے اور اس کے یہاں تخیل اور حقیقت آپس میں گڈ مڈ ہو جاتے ہیں۔”
سماجی،عضویاتی اور نفسیاتی تذکرے کے بعد ہم اس حوالے سے تاریخ کی کتابوں سے گرد ہٹائیں تو بھی ہمیں ہوش ربا واقعات پڑھنے کو ملتے ہیں۔ اگرچہ ان کی وجوہات بھی مذکورہ ہی ہیں۔”ہم جنسی محبت” کا کھوج تو قدیم ترین اقوام میں بھی ملتا ہے۔کیونکہ یہ ایک نفسیاتی و معاشرتی مسئلہ ہے ۔چنانچہ یہ شروع سے ہی انسان کے ساتھ ہے۔کچھ مورخین کی رائے یہ ہے کہ ہم جنسیت کی ابتدا مصر قدیم سے ہوئی،جہاں دیوی ماتا آئسس کے معبد میں ہیجڑے پجاری رہتے تھے۔ جن سے زائرین اپنی تفریح طبع کا سامان پیدا کر لیتے تھے۔مصر قدیم کی ساڑھے چار ہزار سالہ پرانی ایک تحریر سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس معاشرے میں” امرد پرستی “کا رواج عام تھا۔عہد نامہ قدیم کے بابِ پیدائش میں لکھا ہے کہ” جب دو فرشتے سدوم کو تباہ کرنے آئے تو حضرت لوط ؑ کے گھر ٹھہرے،جہاں سدومیوں نے انھیں گھیر لیا اور شور مچایا کہ اے لوط،انھیں باہر بھیجو”۔
قدیم چین اور جاپان میں بھی امردوں کے قحبہ خانے موجود تھے۔جاپانیوں کا خیال تھا کہ “ہم جنس پرست دلیر اور شجاع “ہوتے ہیں۔اہلِ یونان نے امرد پرستی کو قومی اور تعلیمی ادارہ بنا لیا اور ہم جنسیت ان کے معاشرے،مذہب،فلسفہ،قانون اور شعر و ادب میں نفوذ کر گئی۔ لائی کرگس اور سولن نے اپنے اپنے ضابطہ قوانین میں سدومیت(ہم جنس پرستی) کو مباح قرار دیا،لیکن ایک شرط عائد کی کہ صرف آزاد لڑکوں سے اظہار عشق کیا جائے،غلام ہم جنسی محبت کے اہل نہیں ہوتے۔
سقراط ایک حسین لڑکے آٹو لیکس کا ذکر کرتے ہوئے کہتا ہے،”جس طرح اندھیری رات میں آگ کے بھڑکتے ہوئے شعلوں پر سب لوگوں کی نگاہیں جم کر رہ جاتی ہیں،اسی طرح آٹو لیکس کے چہرے کی طرف تمام لوگوں کی نگاہیں اٹھ جاتی ہیں”۔یونان کے امرا ،اور،روسا امردوں کے قحبہ خانوں میں جانا اپنی شان سمجھتے تھے۔قدیم یونان کے فلاسفہ نے ہم جنسی عشق کی تعریف و توصیف میں منطقی دلائل دیے۔یونان کی غنائی شاعری فارسی غزل کی طرح ہم جنسی عشق پر مبنی ہے،اس میں” امردوں “سے اظہارِ عشق کیا گیا ہے،ایک شاعر سٹریٹون کہتا ہے،”شدید گرمی میں ایک حسین پھول کملا کر رہ جاتا ہے،اسی طرح خط کا ایک بال لڑکے کے حسن کو تباہ کر دیتا ہے”، ایک اور یونانی شاعر ایک لڑکے کو مخاطب کر کے کہتا ہے کہ ، “میرے پیارے ،تری آنکھیں تو بہروں سے بھی باتیں کرتی ہیں”۔افلاطون سمپوزیم میں کہتا ہے کہ “وہی نوجوان جو ہم جنسی عشق کا تجربہ رکھتے ہوں اچھے سیاستدان بن سکتے ہیں”۔(جاری ہے)

طاہر یاسین طاہر
طاہر یاسین طاہر
صحافی،کالم نگار،تجزیہ نگار،شاعر،اسلام آباد سے تعلق

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *