قفس۔ماہ وش طالب

بھردو جھولی میری یا محمدﷺ

لوٹ کر میں نہ جاؤں گا خالی۔۔

عقب سے آتی آواز کسی بازگشت کی مانند معلوم ہوتی تھی۔۔

“صائم محبت کوئی نیاز نہیں کہ جھولی پھیلائی اور مل گئ, یہ جو تم محبت محبت کا راگ الاپتے ہو نا یہ محض وقتی کیفیت ہے” وہ دونوں ہاتھ کمر پر ٹکائے اسے چیلنج کرتی تھی۔

“تم جتنی چاہے کوشش کرلو, مجھے کمزور نہیں کرسکتی, یہ بار بار تم اپنے دل کا حال بیان کرتی ہو, تمہاری محبت ہوگی موسمی بخار کی مانند, “وہ عرصے سے اس کے الزام سہتا آیا تھا, آج احتجاجاً لب کشائی کر ہی ڈالی,

“تم بہت ڈھیٹ ہو”

“نہیں , وفادار کہو, “

“اسے وفاداری نہیں ,وقت گزاری کہتے ہیں”

میں نکاح کرکے زندگی بھر تم سے یہ وقت گزاری کرنے کو تیار ہوں”

اب کی بار جواب میں خاموشی چھائی رہی,

اس نے خوبصورت آنکھوں پر لانبی پلکوں کی چلمن گرالی.اور وہ اس کی انہی اداؤں پر تو مرمٹا تھا. وہ ہمیشہ اس کی محبت سے کتراتی رہی, نجانے اسے کیا خدشات گھیرے رہتے تھے, مگر صائم اپنا دل ا س کے پاس  گروی رکھوا کر غافل ہو بیٹھا تھا, اتنا کہ  یونیورسٹی کے  بعد  والدین کو چھوڑ کر اس کے پیچھے بہاولپور سے لاہور آگیا, مائی نے بہیترے واسطے دیے” لوٹ آ صائم, وہ سراب ہے”

“صبر کر جا مائی, میں اس کو حقیقت بنا کر تیرے سامنے لاؤں گا تو دیکھنا”

وہ نمانا کیا جانے , کہ ماؤوں سے شرطیں کوئی جیتا ہے آج تک  بھلا,

اور پھروہ  سراب کے پیچھے  بھاگتا رہا, بھاگتا رہا, اتنا کہ سراب نے ہی اپنی شناخت  بدل ڈالی.

مگر وہ لوٹ کر نہ گیا, کس منہ سے جاتا؟۔۔

سو بے حال, بد حواس, نگری نگری کا مسافر بن بیٹھا.

آج اس کا پڑاؤ  داتا گنج بخش فیض عالم کا دربار تھا,  

سائلین و زائرین  نظرانہء عقیدت پیش کرنے کے بعد  صحن میں  ایستادہ برگد کے درخت کے قریب  آستانہ جمائے ملنگ بابا سے فریاد رسی کروانے لگے,  وہ بے تاثر آنکھوں سے اس منظر کو دیکھتا رہا,

“داتا جی کے فیض سے ہر کوئی مراد پائے گا

کوئی مندا ہووے کوئی چنگا ,  داتا جی نوں سب اِک برابر” دائیں پہلو سے  لگا چیلا,  صدا لگانے لگا,

“حق اللہ, حق اللہ, ” دوسروں کی زندگی سنوارنے والے اُجڑے حال ملنگ بابا کا وِرد  جاری تھا

درخواست گزار آتے رہے, مرادیں پاتے رہے,

ایک خاتون آگے  بڑھ کر اپنی عرضی پیش کرنے لگی تو یوں محسوس ہوا, گویا پردہء سمیں  جلوہ گر ہونے لگی ہو,

” بابا جی کچھ کرو, میرے ہاں تین سال سے بچہ نہیں ہورہا,” آواز میں لرزش کسی غمگین مگر سریلے نغمے ایسی تھی, صائم سر اٹھائے بنا نہ رہ سکا,  وہ کتابی چہرہ ,اور غزال  آنکھیں  کسی شاعر کے روٹھے خواب کی مانند ہورہی تھیں

وہ سراب جس نے دھوکہ بازی کا روپ دھار لیا تھا, حقیقت بن کر اس کے سامنے تھا,

صائم محوِ دیدار تھا کہ حالتِ سکتہ میں, وہ کب مرسیڈیز میں بیٹھ کر لوٹ گئی اسے خبر نہ ہوئی.

آج وہ محبت کے قفس سے رہا ہوگیا تھا .

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *