جنوبی ایشا میں بڑھتی مذہبی انتہا پسندی ۔اشرف لون

جنوبی ایشا جو کبھی دنیا میں بھائی چارے کی علامت مانا جاتا تھا اور جس میں صدیوں سے مختلف مذاہب کے لوگ آپس میں مل بیٹھ کے رہتے تھے،آج ایک نئے دوراہے پر کھڑا ہے۔اس خطے کو ایک بے یقینی کی فضا نے اپنی لپیٹ میں لیا ہے اور اس بے یقینی کو جنم دینے میں یہاں کے سماج میں دن بہ دن بڑھتی مذہبی انتہا پسندی اور بنیاد پرستی کا بہت بڑا کردار  ہے۔یہاں اب ہر ایک اپنا مذہب او ر اپنی رسومات دوسروں پر زبردستی تھوپنے پر تُلا ہوا ہے۔ یہاں کی صوفیانہ تعلیمات،جس نے مختلف مذاہب کے لوگوں کو آپسی بھائی چارے کی تعلیم دی تھی، اب بس کتابوں میں دفن ہے اور سمیناروں تک محدود۔

زیادہ دور نہ جاتے ہوئے پہلے ہندستان کی ہی مثال لیتے ہیں۔ایسا نہیں کہ ہندوستان میں صرف پچھلے چند سال میں مذہبی انتہا پسندی نے جنم لیا ہے  بلکہ 1947  سے لگاتار یہاں مذہبی انتہا پسندی کے بے شمار واقعات رونما ہوئے جن میں اقلیتی طبقے کے  ہزاروں لوگ مارے گئے۔سکھ مخالف فسادات،ہاشم پورہ قتل عام، بابری مسجد کا واقعہ، ممبئی فساد ات، گجرات فسادات،مظفر پور واقعہ اور دوسرے بے شمار واقعات جن میں مسلمان طبقے کو نشانہ بنا یا گیا۔لیکن اس بات میں کسی شک کی گنجائش نہیں کہ پچھلے چار سال سے مذہبی انتہا پسندی نے جو   راہ   اختیار کی   ہے اس سے پہلے کم ہی دیکھنے کو ملتی ہے۔

پچھلے چار سال کے دوران میں کئی ادیبوں اور سماجی مصلحوں کو قتل کیا گیا جنہوں نے متعدد سماجی برائیوں اور مذہب کی آڑ میں ہونے والے استحصال اور دوسری استحصالی رسوم کے خلاف آواز اُٹھائی تھی۔ان میں نریندر دابولکر، کالبورگی وغیرہ شامل ہیں۔اور حالیہ مہینوں  میں ہم نے دیکھا کہ کس طرح گائے کا گوشت کھانے کے بہانے مسلمانوں پر حملوں میں تیزی آئی ہے۔ پہلے ہندوستان کی شمالی ریاست اتر پردیش میں ایک بزرگ آدمی اخلاق احمدکا قتل محض اس بنا پر کیا گیا کہ اُس کے گھر ”گائے کا گوشت پک رہا تھا“،لیکن آخر پر یہ بات ثابت ہوئی کہ اُس کے گھر میں گائے کا گوشت نہیں پک رہا تھا لیکن اب اخلاق کو واپس نہیں لایا جاسکتا۔

اس کے بعد ہماچل پردیش میں ایک مسلمان لڑکے کو محض گائے کو گاڑی میں کہیں لے جانے پر قتل کیا گیا۔او ر کشمیر میں ایک ایسا دل دہلانے والا واقعہ پیش آیا جس کی کسی نے توقع  بھی نہیں کی تھی۔ادھم پور کے بلوائیوں نے کشمیر سے جموں آرہے ایک ٹرک پر پٹرول بموں سے حملہ کیا اور ٹرک کو نذر آتش کردیا جس کے نتیجے میں ٹرک میں سوار زاہد رسول بٹ کی موت واقع ہوئی۔
ہندوستان میں اس بڑھتی ہوئی مذہبی انتہا پسندی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یہاں 1947  سے  ہی قوم پرست سیاسی جماعت اور اس کی حلیف جماعتوں کو اپنی قومی شناخت بنانے کی فکر رہی ہے اور آئیڈیالوجی کی یہ جنگ آج بھی جاری ہے۔اور اس جنگ میں ان کا پہلا ہدف مسلمان طبقہ ہے جس کے بارے ان انتہا پسند  جماعتوں کا عمومی تاثر یہی ہے کہ یہ طبقہ باہر سے یہاں آکر بسا ہے اور صدیوں تک ہندوستان پر حکومت کی اور ہندوؤں کو غلام بنائے رکھا۔

ایسا نہیں کہ ان کا نشانہ صرف مسلمان ہیں  بلکہ عیسائی فرقہ بھی ان مظالم کا شکار رہا ہے۔عیسائیوں کے گھروں کو بھی جلادیا گیا اور ان کی عبادت گاہوں کو نذر آتش کیا گیا۔اور اس کے بعد ان کا اگلا نشانہ دلت طبقہ ہے جن کو یہ ”ذات باہر“(Outcaste) قرار دیتے ہیں۔اور اس کے بعد یقینی طور پر سکھ فرقے کے لوگ لائن میں ہیں۔دلت اور سکھ فرقہ بھی بارہا اکثریتی فرقے کے مظالم کا شکار رہا ہے۔ان واقعات نے ہندوستان کے سکیولرازم کے دعوؤں کی پول کھول کے رکھ دی ہے، اور یہ واقعات ہندوستان کے آئین کی توہین بھی ہیں ۔

اب پاکستان کا رُخ کرتے ہیں جہاں 2014ء کی ابتدا میں تحریک طالبان نے سو سے زیادہ اسکول جانے والے  بچوں کو روک کر جا ں بحق کر ڈالا۔ اور اسی سال پاکستان میں لاہور کے  گلشن اقبال پارک میں عیسائیوں کے مقدس دن ”ایسٹر“ کے دوران خود کش حملے میں سو کے قریب افراد مارے گئے اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔ان زخمیوں میں بچے،بوڑھے اور عورتیں سبھی شامل تھے۔ پاکستان میں Mob Violence آئے دن کی بات ہے جہاں مختلف اقلیتی فرقوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔شیعہ مسجدوں پر حملے ہورہے ہیں۔پاکستان میں ہر مہینے کسی نہ کسی اقلیتی فرقے کو بڑے پیمانے پر نشانہ بنایا جاتا ہے۔Mob Violence میں متعدد عیسائیوں کو قتل کیا گیا، گرجا گروں کو نشانہ بنایا گیا اور دن دہاڑے عدالتی فیصلوں اور انصاف کی دھجیاں اڑادی گئیں۔عموماََ کسی بہانے سے وہاں مشتعل ہجوم قانون کو اپنے ہاتھوں میں لے لیتا ہے۔

نومبر2014  میں لوگوں کے   ایک مشتعل ہجوم نے ایک عیسائی جوڑی کو زود و کوب کیا اور پھر ان کو زندہ جلا دیا۔ ان واقعات نے پاکستان میں رہ رہی اقلیتیوں میں عدم تحفظ کا احساس بڑھا دیا ہے۔جب ہم ہندوستان میں بڑھتی مذہبی انتہا پسندی پر بات کر تے ہیں تو ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ اس کا پڑوسی ملک اُس سے اس معاملے میں پیچھے نہیں۔دوسری بات یہ کہ1947  سے لے کر برابر ان دونوں ملکوں کو متعدد مسائل کا سامنا ہے جن میں مذہبی انتہا پسندی سب سے بڑا  مسئلہ ہے۔دونوں ملکوں  میں صنعتی انقلاب کی بہاریں تو آئی ہیں لیکن آج بھی ان ملکوں میں ایک طبقہ ایسا ہے جس کو یہاں کے سیاست دانوں نے مذہبی انتہا پسندی  کا پاٹھ پڑھا کر اپنے ذاتی مفاد کے لیے استعما ل کیا ہے اور آج بھی کر رہے ہیں۔

لیکن ایک بات کی طرف یہاں اشارہ کرنا ضروری ہے کہ جہاں پاکستان میں1947  سے جمہوریت کو پوری طرح فروغ نہیں ملا اور وہاں کی حکومت کی کمان زیادہ تر فوجی حکمرانوں یا جنرلوں کے ہاتھوں میں رہی ہے وہیں ہندوستان جو اپنے آپ کو سکیولرملک کہتا ہے اور یہاں کے حکمران  اور اکثریتی فرقے پاکستان پر تنقید کرتے ہوئے نہیں تھکتے  اور اپنے ملک کو دنیا کا سب سے بڑا جمہوری ملک مانتے ہیں،ایسے میں ہندوستان میں اقلیتی فرقے کے خلاف ان واقعات نے ہندوستان کے ان دعوؤں پر سوالیہ نشان کھڑا کیا ہے۔

بنگلہ دیش میں اب ایک نئی لہر نے جنم لیا ہے جس میں آئے دن آزاد بلاگروں، پبلشروں اور ادیبوں کو دہشت کا سامنا کر نا پڑ رہا ہے۔حالیہ برسوں میں وہاں متعدد بلاگرز (Bloggers) کو مشتعل ہجوم کے ذریعے تشدد کے بعد قتل کیا گیا۔اور اب وہاں پبلشرز کو نشانہ بنا یا جارہا ہے۔حالیہ دنوں میں دو پبلشروں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔اور کچھ عرصہ پہلے ایک بلاگر کے پبلشر فیصل عارفین کو قتل کیا گیا اور شیعہ فرقے کی مساجد کو نشانہ بنایا گیا۔ان سب واقعات کا تجزیہ کرنے کے بعد اور ان کی تہہ تک جانے کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ وہاں بھی مذہبی انتہا پسندی نے جڑ پکڑی ہے اور اس انتہا پسندی میں دن بہ دن اضافہ ہوتا آرہا ہے۔

متعدد تجزیہ کاروں کا یہ بھی ماننا ہے کہ اس سب کے پیچھے بنگلہ دیشی حکومت کی وہ پالیسی بھی ہے جس میں انہوں نے حال ہی میں اپنے متعدد شہریوں اور حزف مخالف کی سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کو پھانسی کی سز ا سنائی اور یہ واقعات اسی کا پیش خیمہ ہیں ۔بہرحال بنگلہ دیش میں بھی ”ہجوم تشدد“ میں دن بہ دن اضافہ ہورہا ہے جو بنگلہ دیش جیسے ملک کے لیے خطرہ کی گھنٹی اور اس ملک کو بھی ہندوستان اور پاکستان جیسے ممالک کے کٹہرے میں شامل کرتا ہے۔

برما جہاں مذہبی انتہاپسندی نام کو بھی نہیں تھی، میں مسلمانوں کا قافیہ حیات تنگ ہوتا جارہا ہے۔وہاں کے بُدھ رہنماؤں نے حال ہی میں مسلمانوں کے خلاف ایسے اشتعال آمیز بیان جاری کیے جس کے نتیجے میں وہاں کے اکثریتی فرقے(بُدھ) نے نہ صرف ”روہنگیا“ مسلمانوں کے املاک اور گھروں کو جلادیا بلکہ مسلمانوں کو زندہ جلادیا گیا اور ہزاروں مسلمان مارے گئے جس کے نتیجے میں وہاں سے لاکھوں مسلمانوں کو ملک چھوڑکر بھاگنا پڑا اور سمندری سفر کے دوران میں سینکڑوں مسلمان سمندر میں ڈوب کر مر گئے۔ اور اس واقعے نے پو ری انسانیت کو شرمسار کیا۔اور وہاں کی نوبل انعام یافتہ آن سان سوچی، اقوامہ متحدہ اور دوسرے مغربی ممالک  جو ساری دنیا کو انسانیت کا درس دیتے ہیں کی خاموشی نے ان کے دوغلے پن کو ظاہر کیا۔ یہ حیران کن بات ہے کہ مسلمانوں کے اس قتل عام میں برما کی حکومت برابر شامل تھی۔

سری لنکا جو عموماََ تامل نسل لوگوں کے استحصال کی وجہ سے خبروں میں رہتا ہے لیکن وہاں انہی تامل ٹائیگرز نے غریب مسلمانوں کو زیادتی کا نشانہ بنایا اور گھروں سے بے گھر کر دیا۔1990  میں تامل ٹا ئیگرز نے اپنے علاقوں (شمالی سری لنکا) میں تقریباََایک لاکھ مسلمانوں کو زیادتیوں کا نشانہ بناکر اپنے گھروں سے نکال دیا اور انہیں مہاجر کیمپوں میں رہنے پر مجبور کیا۔ تامل ٹائیگرز نے ان کی  مسجدوں کو نشانہ بنایا جس میں سینکڑوں مسلمان مارے گئے اور آج بھی ان مظلوم مسلمانوں کو  کوئی پوچھنے والا نہیں۔وہ ہر شعبے میں سری لنکا کے باقی لوگوں سے پیچھے ہیں۔یہ مسلمان تعلیم کے شعبے میں بھی پیچھے ہیں اور ان کی معاشی حالت میں بھی کوئی سدھار نہیں آیا ہے۔اور تامل نسل اور ان مسلمانوں کے درمیان خلا دن بہ دن بڑھتا جا رہا ہے۔

کیا جنوبی ایشا میں پہلے سے ایسا تھا یا یہ مذہبی انتہا پسندی کا ماحول پچھلی چند دہائیوں میں وجود میں آیا۔تاریخ اور سیاست کا ایک ادنیٰ طالب علم بھی اس بات کو جانتا اور مانتا ہے کہ جنوبی ایشا میں مذہبی انتہا پسندی کی جو لہر آج کل چل رہی ہے اس کا بیج دراصل اس وقت بویا گیا جب ان ملکوں پر انگریزوں کی حکومت تھی اورجنہوں نے یہاں ”تقسیم کرو اور حکمرانی کرو“ کی پالیسی کو اپنایا اور اس طرح جنوبی ایشیا میں مذہبی ٹکراؤ اور اس مذہبی ٹکراؤ سے وابستہ سیاست نے جنم لیا۔انگریزوں کے چلے جانے کے بعد ہی یہاں مذہبی انتہا پسندی اور قوم پرستی نے ایک شکل اختیار کی جس میں وہ طبقے جو ابھی تک حاشیے پر تھے سامنے آئے اور اپنی شناخت منوانے پر بضد ہوئے۔اس دوران میں نئی نئی انتہا پسند اور بنیاد پرست سیاسی جماعتیں وجود میں آئیں اورانہوں نے مذہب کو اپنے مفاد کے لیے استعمال کیا اور جو طبقے حاشیے پر تھے یا جن کی ابھی تک کوئی خاص شناخت نہیں تھی ان کو اپنے مفاد کے لیے استعمال کیا۔

ہندوستان،پاکستان،بنگلہ دیش،سری لنکا، برما، افغانستان وغیرہ جیسے جنوبی ایشائی ممالک میں دن بہ   دن مذہبی انتہاپسندی بڑھتی جارہی ہے اور ان ممالک میں اقلیتیوں کا قافیہ حیات بھی تنگ ہوتا جارہا ہے۔ مشتعل اور پرتشدد ہجوم قانون کو اپنے ہاتھ میں لے کر چوراہوں اور سڑکوں پر اپنے فیصلے صادر کرر ہی ہے اور ان واقعات کو روکنے میں ان ممالک کی حکومت بری طرح ناکام دکھائی دیتی ہے اور بعض اوقات ان کی پشت پناہی اور انہیں تحفظ بھی فراہم کر رہی ہے، جو ہم سب کے لیے لمحہ  فکریہ ہے اور ساتھ ہی یہ اس بات کی طرف بھی اشارہ کررہا ہے کہ مذہبی انتہاپسندی کی یہ لہر جلد تھمنے والی نہیں کیوں کہ جنوبی ایشائی خطے میں قوم پرست اورا نتہا پسند سیاسی جماعتوں کی طاقت میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ او ر مذہبی انتہا پسندی کی اس لہر نے پورے خطے کی سالمیت کو داؤ پر لگا دیا ہے اور یہاں کی اقلیتوں کے لیے خطرات ہی خطرات پیدا کیے ہیں۔

اشرف لون
اشرف لون
جواہرلال نہرو یونیورسٹی، نئی دہلی،انڈیا

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *