نعت کا تعظیمی بیانیہ(2،آخری حصّہ)۔۔اسلم اعوان

اور یہی مشاہدات،محسوسات،تجربات اوراحساسات مجتمع ہو کر بلآخر علم کی صورت میں ڈھلتے گئے،یوں زندگی کے مقاصد کے لئے اس چیز کو کافی سمجھا گیا کہ ہم ان مشاہدات کو حقیقی مانیں جن کے متعلق مختلف لوگ ایک جیسی شہادت دیں،گویا حقیقت اجتماعی طور پہ مربوط احساسات کا نام ہے۔

چنانچہ جب بھی انسان اپنے جذبات اور احساسات کا اظہارکرنا چاہے گا، وہ اُنہی  اصطلاحات کے استعمال پہ مجبور ہو گا جن کے ذریعے ابلاغ ممکن ہوتا ہے،خود فطرت نے بھی اپنے مقاصد کے حصول کی خاطر اُس عربی زبان کو ابلاغ کا وسیلہ بنایا جسے عام بَدّو بھی سمجھ سکتا تھا،فرمایا”ہم نے سمجھنے کے لئے قرآن کو آسان بنایا“،یعنی مروجہ زبان ہی ٹول آف انڈرسٹینڈنگ ہوتی ہے،اس میں کوئی بھی اصطلاح اصلاً ادانی و اعلی نہیں لیکن انسان نے انہیں ادنی و اعلی مقاصد کے لئے استعمال کرکے خود ہی اسے مقدس اور ناگوار میں منقسم کرلیا،اسی طرح جن اصلطلاحات کو آج ہم استعماری یا شاہی حوالوں سے پہچانتے ہیں یہ بھی اصلاً الوہی تھیں،بادشاہ،حاکم ،مولی اور مالک کے مفاہیم پہ مبنی تمام الفاظ سب سے پہلے دیوتاوں اور اَن دیکھے خدا کے لئے استعمال ہوئے،ہماری معلوم تاریخ میں پہلی بار بادشاہ کا لفظ نینوا کے حمورابی نے اپنے لئے استعمال کیا یعنی شہنشہاہ کی اصطلاح حمورابی کی قوت کی مظہر نہیں تھی بلکہ حمورابی نے اپنی ہستی کو پُرشکوہ بنانے کے لئے شہشہاہ جیسی خداؤں کے جاہ جلال اور عظمت کی علامت، اصطلاح،کا سہارا لیا،جیسے مغل شہنشاہ اکبر اعظم نے اپنے لئے ظل سبحانی کی اصطلاح مستعار لی تھی۔

FaceLore Pakistan Social Media Site
پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

چنانچہ حمورابی کے بعد رفتہ رفتہ وہ تمام اصطلاحات جو دیوی دیوتاؤں اور ربِ عظیم کے لئے مختص تھیں وہ دنیاوی حاکموں کے لئے بھی استعمال ہونے لگی بلکہ بعض مقامات پہ فطرت نے اس کی خود بھی اجازت دی،جیسے قرآن پاک نے،ماں باپ کو بچے کا رب کہا،اسی طرح محبت کی وہ تمام اصطاحیں جو حسن و عشق کی داستانوں میں استعمال ہوئیں،انہیں ہم اپنے ماں باپ،بچوں،دوستوں،رہنماؤں اورروحانی پیشواؤں کے لئے باآسانی استعمال کرتے ہیں،جیسے عشق و محبت کی اصطلاحیں”حُب اللہ“اور”حُب رسولﷺ “کے لئے استعمال ہوتی ہیں اسی طرح اسے محبوب،دوست، ماں باب،بیوی، بیٹی،بیٹے اور دیگر اشیا کے لئے بھی استعمال کرنے میں کوئی قباحت محسوس نہیں کرتے،خود اللہ نے بھی قرآن میں جہاں اپنے نبیﷺ کے لئے حبیب کی اصطلاح استعمال کی وہاں الکاسب و حبیب اللہ کہہ کے اسی لفاظ کو مزدور سے محبت جتانے کے لئے بھی استعمال کیا اور اس میں کافر،مسلمان،یہودی،عیسائی اور ہندو کی کوئی تخصیص بھی نہیں رکھی۔

خداؤں اور بادشاہوں کے لئے مختص اصطلاحات کا عمومی استعمال اُن شعرا کا معمول ہے جو اظہار کی من مانی عادتوں میں ملوث ہوتے ہیں،غالب و میر کو خدا سخن کہنا،مہدی حسن کو شہنشاہ غزل کہنا اور فقروں کو سلطان العارفین کہنے سے کبھی خدا کی شان میں کمی آئی نہ بادشاہوں کی عظمت مجروح ہوئی بلکہ یہ تال میل ہمارے ادارک کے تنوّع کا گداز مظہر دکھائی دیا،اسی طرح حضورﷺ کی بعثت سے قبل سیّد کا لفظ سرداران عرب کے لئے مستعمل تھا لیکن جب آقائےﷺ دو جہاں تشریف لائے تو لفظ سیّد انکی ذات مبارکہ سے منسوب ہو کر حرمتِ ابدی پا گیا،اس سے یہ بھی ثابت ہواکہ الفاظ کو حرمت اس کے حامل کی بدولت ملتی ہے،اسی طرح لفظ جنت،جہنم،حق و باطل اور ابلیس و فرشتوں جیسی اصطلاحوں کا استعمال ہمارے شعوری ابلاغ کا موثر ٹول بن گیا اورشاید فطرت کی منشا بھی یہی تھی ۔

اس لئے میرے خیال میں طارق ہاشمی نے جس مقدمہ کی بنیاد پیغمبرﷺ کے لئے سیاسی،سماجی اور طبقاتی اصطلاحات کے استعمال کے امتناع پہ رکھی وہ اسکی شخصی عقیدت میں غَلُو کے سوا کچھ نہیں اور اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ مروجہ اصلاحات انبیائؑ کے کسر شان ہیں تو پھر وہ ایسی نئی اصلاحات پیش کرے جو انبیاءکرامؑ،اولیا عظامؒ اور صلحا کےلئے مخصوص ہوں لیکن اگر کوئی کج کلاہ ایسی اصطلاحات ایجاد بھی کر لے تو ان اصطلاحات کے غیرقدسی استعمال کو کیسے روکے گا ؟

جیسے ماضی میں خدا اور مقدس ہستیوں کے لئے مختص اصطلاحات رفتہ رفتہ بادشاہوں،جرنیلوں اور دنیاوی محبوباو¿ں کے لئے مستعمل ہوئیں،اسی طرح انبیائؑ کے لئے مختص یہ نئی اصلاحات بھی بلآخر ادنی و حقیر اور استعماری قوتوں کے لئے استعمال ہونا شروع ہو جائیں گی،جسے روکنا ممکن نہیں ہو گا اور یہ لامتناہی سلسلہ یونہی چلتا رہے گا۔بالکل اسی طرح پیغمبروںؑ کے اخلاقی مقام اور کردار کے لئے مستعمل اصطلاحات کو بھی خود شاعروں اور ادیبوں نے اپنے خیالات،جذبات اور احساسات کے اظہار کے لئے مستعار لیکر زد زبان زد عام بنایا۔

طارق ہاشمی مزید لکھتے ہیں” اقبالؒ فارسی و اردو شاعری کی روایت میں پہلے ایسے قابل ذکر شاعر ہیں،جو روایتی تعظیمی بیانیہ کے برعکس آپﷺ کی ذات کی تکریم سماجی،علمی اور انقلابی حوالوں سے کرتے نظر آتے ہیں“۔تمام سماجی و علمی حوالے الوہی نہیں بلکہ بجائے خود انسانی تجربات کی مرہون منت ہیں،خود انقلاب بھی عام سیاسی اصطلاح ہے جو استعماری مقاصد کے لئے بھی استعمال ہوا جدید دور کا پہلا انقلاب نپولین کی بدترین شخصی آمریت کا وسیلہ بنا۔

علی ہذالقیاس،اس حقیقت سے مُفر نہیں کہ ہر فلسفی اور شاعرکو خارج میں اپنے ذہنی تضادات کا عکس دکھائی دیتا ہے،اس لئے شاعروں نے ہمیشہ یہ بتانے کی جسارت کی ہے کہ انسان اور دنیا کو ایسا ہونا چاہیئے،حتی کہ یونانی اور رومی شعراءتو خدا کو ڈانٹنا اور نصیحت کرنا بھی اپنا فرض سمجھتے تھے۔ہمارے ہاں بھی غالب اور اقبالؒ نے بظاہر شکوہ کے انداز میں اللہ تعالی کو اس دنیا کی اصلاح اور مسلمانوں کی مدد کی ترغیب دی یہ ماضی کے اُن یونانی،رومی اور ایرانی شعراءکے پُرشکوہ تصورات کی تکرار تھی جنہوں نے خود کو اس پورے نظام ہستی سے ماورا سمجھ کر اس دنیا کو ری ڈیزائین کرنے کی جسارت کی تھی،تاہم انسان ہونے کے ناطے تمام شعراءپہ ایسی کفیات بھی وارد ہوتی رہیں جو انہیں نفس انسانی کی بوقلمونی اورفطری کمزورویوں کے اعتراف پہ مجبورکرتی تھیں،اس ضمن میں اقبالؒ کے جواب شکوہ سمیت کئی دیگر اشعار  میں اِسی کم مائیگی کے اعتراف کی کئی مثالیں ملتی ہیں،حضرت اقبالؒ جہاں یہ فرماتے ہیں کہ،
در دشتِ جنونِ من جبریل زبوں صیدے،
یزداں بہ کمند آور اے ہمت مردانہ۔

حیرت ہے کہ اقبالؒ خود تو خدا پہ کمند ڈالنے کی ہمت مردانہ کا قائل ہے لیکن سائنسدانوں پہ طنز کے تیر چلاتے ہوئے فرماتے ہیں کہ
ڈھونڈنے والا ستاروں کی گزرگاہوں کا، اپنے افکار کی دنیا میں سفر کر نہ سکا
اپنی حکمت کے خم و پیچ میں الجھا ایسا، کہ آج تک فیصلہ نفع و ضرر کر نہ سکا۔

لیکن بلآخر بَحر ظلمات میں گھوڑے دوڑنے والے اس مرد مومن کو اپنے انکسارِ فکر اور عجز دانش کا جواز ان الفاظ میں تلاش کرنا پڑا،
تیری دعا سے قضا تو نہیں بدل سکتی،مگر ہے اس سے یہ ممکن کہ تو بدل جائے
تیری دعا ہے کہ ہو تیری آرزو پوری، میری دعا ہے تیری آرزو بدل جائے

اقبالؒ کے یہ گداز الفاظ بھی اٹل حقیقت کی نہیں بلکہ انکی لذت خیال اور شکستہ آرزوں کی عکاسی کرتے ہیں۔اسی طرح مرزاغالب نے بھی اپنی ذہنی عظمت کو سرنڈر کئے بغیر اپنی بیکسی کا اظہار کچھ یوں کیا کہ،
منظر اک بلندی پہ اور ہم بنا لیتے،کاش کے اِدھر ہوتا عرش سے مقام اپنا،
یعنی اگر میری زندگی خدا کی دائرہ حاکمیت اور تقدیر کی جبریت سے باہر ہوتی تو میں بھی اپنے لئے کوئی خوبصورت دنیا بنا لیتا لیکن کاش تقدیر ہمیں ہر وقت پاءبہ جولاں رکھتی ہے۔شائد اسی لئے افلاطون نے یہ کہہ کے اپنی جمہوریہ سے شاعر کو نکال دیا تھا کہ یہ فاطر العقل ہوتے ہیں،اسی طرح نشاة ثانیہ کے فلسفیوں(ہیگل) نے شاعری کو انسان کے عہد طفلیت کا کھلونا کہہ کے سنجیدہ علم کے دائرہ سے خارج کر دیا،اس سے قبل توارت اور زبور بھی شاعروں کو جھوٹ کی وادیوں میں ٹھوکریں کھانے والوں سے تشبہی دی گئی،خود قرآن نے بھی شاعروں کو کذب و افترا کا نمائندہ کہہ کے مسترد کیا البتہ عبرانی کہاوتوں میں شعر وخطابت کی تعریف و توصیف ملتی ہے ایک حدیث کا مفہوم بھی یہی ہے کہ بیشک شعرمیں نصیحت اور تقریر میں جادو ہے“۔اس میں کوئی شک نہیں شعراءزندگی کے مقاصد کو جانچنے کے لئے اپنی بیباک اور ضعیف عقل،عمیق و تاریک وجدان اور حواس کے بے نظم فیصلوں سے مدد لیکر فرضی حقائق کے پیمانے تیار کرتے ہیں اور پھر تمام عمر انہیں طبع زاد معیارات پہ کائنات کے اٹل حقائق کو جانچنے کی آشفتگی میں سرگرداں رہتے ہیں۔

Advertisements
julia rana solicitors london

اردو نعت کا تعظیمی بیانیہ(1)۔۔اسلم اعوان

  • julia rana solicitors london
  • merkit.pk
  • julia rana solicitors
  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

Aslam Awan
اس وقت یبوروچیف دنیا نیوز ہوں قبل ازیں پندرہ سال تک مشرق کا بیوروچیف اور آرٹیکل رائٹر رہاں ہوں،سترہ سال سے تکبیر میں مستقل رپوٹ لکھتا ہوں اور07 اکتوبر 2001 سے بالعموم اور 16مارچ 2003 سے بالخصوص جنگ دہشتگردی کو براہ راست کور کر رہاں ہوں،تہذیب و ثقافت اور تاریخ و فلسفہ دلچسپی کے موضوعات ہیں،

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply