اردو نعت کا تعظیمی بیانیہ(1)۔۔اسلم اعوان

ہمارے ہاں اردو شاعری اور ادب میں تنقید کا رجحان اگرچہ نیا نہیں لیکن اس میں تاحال وہ گہرائی اور وسعت پیدا نہیں ہو سکی جو مغربی محقیقن کے ہاں ملتی ہے بلکہ ابھی ہم علمی تنقیدکے بنیادی تقاضہ،غیرجانبداری،کواپنانے کی پوری صلاحیت نہیں پا سکے جو محقیق کو کسی نتیجہ تک پہنچانے کا ابتدائی محرک ہے،چنانچہ عام طور پہ تاریخ،مذہب،فلسفہ اور شعر و ادب جیسے امور پہ تحقیقی کام کرنے والے خالی الزہن نہیں ہوتے بلکہ وہ پہلے اپنے دماغ میں ایک مفروضہ قائم کرلیتے ہیں پھر اسی مقدمہ کو ثابت کرنے کے لئے آسمانی صحیفوں،تاریخی کتب اور شعرا کے کلام سے دلائل ڈھونڈتے ہیں ول ڈیورانٹ نے کہا تھا کہ اس دنیا میں کوئی ایسی مہمل بات باقی نہیں بچی جو فلسفیوں،شاعروں اور ادیبوں نے نہ کہی ہو اس لئے فلسفہ و اداب میں ہر کسی کو اپنی ضرورت کا مواد مل جاتا ہے۔ڈاکٹرجمیل جالبی کے مطابق،کسی فن پارے کے بارے میں رائے،کوئی نقطہ نظر،کوئی وضاحت،مختلف فن پاروں سے اس کا مقابلہ اور ان کے باہمی فرق کا اظہار”تنقید“ ہے۔اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ کچھ لوگ ایسے بھی موجود ہیں جو زیر بحث موضوعات پہ غیرجانبداری سے سوچنے کی قدرت رکھتے ہیں لیکن زیادہ ترمشرقی محقیقین کے لئے ذاتی تعصبات،مذہبی عقائد اور سیاسی و نظریاتی وابستگیوں سے دامن چھڑانا ممکن نہیں ہوتا خاصکر وہ شعراءو ادیب جو عام طور پہ اپنے مقاصد پہ تنقید برادشت کرنے کی ہمت نہیں رکھتے وہ فکری جدلیات کے ارتقائی عمل سے خود کو ہم آہنگ نہیں رکھ پاتے،حالانکہ ہر خیال اور ہر عمل وراثت اور ماحول کا نتیجہ ہوتا ہے لیکن اہل ادب اس محاسبہ میں اپنے وجود کو شمار نہیں کرتے،بلکہ قدیم یونان کے شعراءتو خدا کی ذات میں عیوب کی نشاندہی اور اسے درست راہ عمل سمجھانا اپنا فرض سمجھتے تھے،جیسے ہومر نے اپنی نظموں میں دیوتاوں کو بُرے کام کرتے اور انجامِ بد سے دوچار ہوتے دیکھایا۔اس وقت ہمارے پیش نظر مایہ ناز نقاد،ڈاکٹرطارق ہاشمی،کے گرانقدرتنقیدی کام پہ مشتعل کتاب،اردو نعت میں تعظیمی بیانیہ،ہے،جس میں اردو نعت میں حضورﷺ کی تعریف وثناءکو دنیاوی شہنشاو¿ں کی عظمت و سطوت کے استعاروں میں بیان کرنے،طبقاتی مقام مراتب میں منعکس کرنے اور صنفی عشق و محبت میں بروکار آنے والی اصطلاحوں میں شان رسالت بیان کرنے کو حضورﷺ کے مقام بنوت سے فروتر کہہ کر نعت کے لئے کچھ نادر و منفرد اصطلاحات کی ضرورت پہ زور دیا۔طارق ہاشمی لکھتے ہیں” اردو نعت میں تشکیل دیئے گئے تعظیمی بیانیہ کی بنیاد جس تصور عظمت پر ہے،اس کے بھی کچھ ایسے نفسیاتی اسباب کا ہونا بعیدازقیاس نہیں کہ بہت سے ایسے شعر پڑھنے کو ملتے ہیں،جن میں یہ واضح محسوس ہوتا ہے کی تخلیق کار اس عظمت کا پوری طرح ادارک نہیں کر سکا جو اللّہ نے ایک رسولؑ کو عطا کی ہوئی ہے۔انسان کی مادی زندگی کے ماحول خصوصاً جہاں پیداواری اقدار کی اہمیت مسلم ہو چکی ہو،وہاں عظمت کا تصور ان طبقات کے ذریعے متعین ہوتا ہے جن کے ہاتھ میں فرماروائی کا اختیار ہو۔اشرافیہ طبقہ کی بودوباش اور رویّوں سے انسانی لاشعور کے پردہ پر عظمت کا جو تصور ثبت ہوا وہ اس طبقہ کی تشکیل کردہ اقدار اور مناصب ہی سے تعلق رکھتا ہے،یعنی انسانوں میں سب سے اشرف وہی ہے جو بادشاہ یا سلطان ہے اور حقیر وہ افراد ہیں جو ان کے زیر نگیں۔طبقہ اشرافیہ کی تشکیل کردہ اس نفسیات کے اثرات مذہب و تصوف کے ماحول میں بھی ملاحظہ کئے جا سکتے ہیں،چنانچہ اولیا اور صوفیا کی عظمت بیان کرنے کے لئے انہیں سلطان اور شاہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے،اردو نعت کے تعظیمی بیانیہ پہ غور کریں تو ہمارے بیشتر نعت گو شعرا عظمت رسولﷺ کے حقیقی ادراک اور شعور سے قدرے دور نظر آتے ہیں،اور اِسی بُعد کی بنیاد پہ وہ آپﷺ کی ہستی کو انہی دنیاوی مناصب ومقامات پہ متمکن دیکھنے لگے،جن کا تعلق ملوکیت کی تہذیب سے ہے“۔اس کتاب کا مرکزی خیال اسی متذکرہ پیرا گراف پہ محمول ہے کہ نعت گو شعرا شان پیغمبرﷺ کے حقیقی ادارک سے ناواقف ہونے کی وجہ سے تعریف و ستائش اور عظمت و سطوت کی مروجہ اصطلاحات میں شان رسالتﷺ بیان کرتے ہیں تاہم طارق ہاشمی اس حقیقی ادراک اور شان نبوتﷺ کے لئے مختص اُن مقدس اصطلاحات کی نشاندہی نہیں کر سکے،جو ان کے بقول شان نبویﷺ بیان کرنے لئے موزوں ہیں۔
اس کتاب پہ سب سے بامعنی تبصرہ ناصرعباس نیّر نے لکھا،حسب معمول انہوں نے زیرنظر مواد کا جائزہ،اپنے نظام فکر کے بنیادی موضوع،یعنی مذہبی عقائد اور فنون لطیفہ کے تناظر میں لیتے ہوئے نہایت محتاط الفاط میں،نعت کے تعظیمی بیانیہ،کے مرکزی خیال کو ردّ کر دیا،انہوں نے سوال اٹھایا کہ”کیا مذہبی عقائد اور فنون لطیفہ کی مجموعی شعریات میں کوئی بنیادی تضاد ہے؟پھر خود ہی جواب دیا کہ،اس کا کوئی ایک اور قطعی جواب مشکل ہے،اس لئے کہ اس سوال کا ایک رخ تاریخی اور دوسرا علمیاتی ہے،تاریخی طور پہ دیکھیں تو قدیم اور کلاسیکی زمانوں میں فنون لطیفہ میں مذہب کی شمولیت ہوا کرتی تھی اور مذہب اپنے اظہار کے لئے فنون لطیفہ کو بروکار لاتے تھے۔دوسری طرف علمیاتی رخ سے دیکھیں تو مذہب الوہی اور فنون لطیفہ بَشری ہیں،مذہب کی اقدار روحانی، اخلاقی ومابعدالطبعیاتی ہیں،جب کہ فنون لطیفہ کی اقدار اول جمالیاتی اور بعد میں کچھ اور ہیں،قدیم زمانوں میں اس فرق کو اہمیت نہیں دی جاتی تھی،جدید عہد میں اس فرق پہ باقاعدہ زور دیا جاتا ہے،جن معاشروں میں جدیدیت کے ضمن میں ردعمل پایا جاتا ہے،ان میں فنون لطیفہ کو مذہب کے تابع کرنے،مذہب کی بنیاد پہ یکسر مسترد کرنے یا پھر دونوں میں ایسا امتزاج پیدا کرنے کی سعی کی جاتی ہے جو ہمیں قدیم کلاسیکی عہد کی یاد دلاتی ہے“ ناصر عباس نیّر کا تجزیہ بلواسطہ نعت کو فنون لطیفہ کی باقاعدہ صنف تسلیم کرنے کی نفی کرتا ہے۔آگے اپنی پیش دستی کے مضمرات کو کم کرنے کی خاطر ناصر عباس لکھتے ہیں”ڈاکٹر طارق ہاشمی نے،اردو لغت کے تعظیمی بیانیہ،میں اور دیگر مضامین میں بنیادی طور پہ اسی سوال کو سامنے رکھا ہے لیکن”باانداز دیگر“،ہاشمی صاحب نے کتاب کے پہلے موضوع میں خدا سے شعراءکے شکوہ ہی کو موضوع بنایا،ان کی وضاحت سے ظاہر ہے کہ خدا سے شکوہ کا آغاز غالب(کے دیوان کے پہلے شعر)سے ہوتا ہے جو بجا طور پہ اردو کے پہلے جدید شاعر ہیں،تاہم آگے وہ اس بات کے حامی نظر آتے ہیں کہ مذہب اور فنون لطیفہ میں کسی زمانہ میں بھی تضاد نہیں رہا۔کتاب کا عنوان بننے والا مضمون”اردو نعت کا تعظیمی بیانیہ“اردو نعت کی تنقید کو ایک نئی سمت میں لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے،اس میں مدحت نبیﷺ کے لئے وضع کئے گئے تعظیمی بیانیہ کی ردّ تشکیل کی گئی ہے،یعنی،پیغمبرآخرالزمانﷺ کے لئے تعظیم و عظمت کے لئے استعمال کئے جانے والے الفاظ،دراصل ملوکیت کی فرہنگ سے ماخوذ ہیں،اور ان کا اوصاف نبویﷺ سے کوئی تعلق نہیں،شعراءنے عقیدت و عشق میں عظمت پیغمبرﷺ کا جو بیانیہ تشکیل دیا،وہ حقیقی نہیں(یہاں ناصر عباس نیّر نے بھی یہ نہیں بتایا کہ پھرحقیقی کونسا ہے)،سماجی و عمرانی اثرات کا حامل ہے،ناصر عباس نیّر لکھتے ہیں کہ یہاں یہ سوال ہماری توجہ چاہتا ہے کہ آخر نعت گو شعراءنے عظمت پیغمبرﷺ کا تصور دنیوی شاہوں کی شوکت کے تحت کیوں کیا،آخر مسند شاہی ہی کیوں عظمت کا استعارہ بنتی چلی آ رہی ہے؟اس کا تعلق مسلمان جمہور کی اجتماعی نفسیات سے ہے،ہاشمی صاحب بجا طور پہ کہتے ہیں کہ صوفیہ کے سلسلہ میں بھی یہی ملوکیت پسندی دیکھائی دیتی ہے،ان کے لئے مدحیہ وتعظیمی جذبات کا اظہار شاہ و سلطان کے الفاظ میں کیا جاتا ہے حالانکہ ابنبیاءاور بعدازاں صوفیہ،مساوت انسانی کے علمبردار رہے،ملوکیت اور باشاہت انسان کو شاہ و گدا میں تقسیم کرکے عام انسان کی تحقیر کرتے ہیں،یہ ایک اور طرح کی استعماریت ہے،یہ مضمون نعت گو شعرکو خصوصاً اور عام قارئین کو عموماً پڑھنا چاہئے“۔
امر واقعہ یہ ہے کہ زبان کا وجود ان مادی وظائف کے متواتر مشاہدہ سے نمودار ہوا جو انسانی زندگی کے روزہ مرہ تجربات کا حصہ بنے،اس لئے ہر زبان میں بنیادی اصطلاحات زندگی کے قریب ترین اشیاءاور روزہ مرہ معمولات سے متشکل ہوئیں،جیسے،جب ہم کہتے ہیں کہ میرا دل بھر گیا، تو یہ جملہ باشعور اور گنوار انسان کو یکساں سمجھ آتا ہے،کیونکہ ہمارا مشاہدہ ہے کہ جس طرح پانی کا گلاس بھر جائے تو اس میں مزید کچھ لینے کی گنجائش نہیں رہتی اور وہ ابل پڑتا ہے،حالانکہ دل نہ پیالہ ہے نہ اس میں پانی بھر سکتا ہے لیکن پھر بھی دل بھر جانے کا گداز مفہوم ہمیں گلاس یا پیالہ کے لبریز ہونے کے مادی مظہر سے ملا،یعنی بار بار ہمارے مشاہدہ کا حصہ بننے والے وظائف زندگی کے مسند تجربات کا نچوڑ ہماری زبان کو اصطلاحیں فراہم کرتا رہا،اسی لفظ نچوڑ پہ غور کر لیں عملاً یہ کسی چیز سے بزور کچھ مائع مواد کو نکلنے کا عمل ہے،جسے ہم اسی معنی میں زندگی کے غیرمری احساسات پہ منطبق کرکے ابلاغ کی مستقل اصطلاح بنا چکے ہیں اور یوں جوں جوں ہمارے اجتماعی مشاہدہ اور تجربات کا دائرہ وسیع ہوتا گیا،یہی استعارے،تشبہات اور کنائے ہمارا ذخیرہ الفاظ بڑھاتے گئے،جس کی وساطت سے انسان اپنی اُن کیفیات اور احساسات کو متشکل کرکے باہم ایک دوسرے کو منتقل کرنے کے قابل ہوا۔
جاری ہے۔

  • julia rana solicitors london
  • julia rana solicitors
  • merkit.pk
  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

Aslam Awan
اس وقت یبوروچیف دنیا نیوز ہوں قبل ازیں پندرہ سال تک مشرق کا بیوروچیف اور آرٹیکل رائٹر رہاں ہوں،سترہ سال سے تکبیر میں مستقل رپوٹ لکھتا ہوں اور07 اکتوبر 2001 سے بالعموم اور 16مارچ 2003 سے بالخصوص جنگ دہشتگردی کو براہ راست کور کر رہاں ہوں،تہذیب و ثقافت اور تاریخ و فلسفہ دلچسپی کے موضوعات ہیں،

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply