یوکرین جنگ نے یورپ کوتھکا دیا ؟۔۔اسلم اعوان

یور پ کے قلب میں واقع یوکرین کی جنگ چوتھے مہینے میں داخل ہو گئی،اگرچہ یورپی باشندے کیف کی حمایت میں بڑی حد تک متحد ہیں لیکن وہ اب اس جنگ کے معاشی نتائج کو برداشت کرنے بارے منقسم دکھائی دیتے ہیں۔یورپی ممالک میں کئے گئے سروے سے پتہ چلتا ہے کہ عوام کی توجہ جنگ کے مہیب اثرات،خاص طور پر براعظم یور پ میں اشیا ضروریہ کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے مضمرات کی طرف پلٹ رہی ہے،ماسکو پر دباو برقرار رکھنے کے لئے یورپی حکومتوں کو اِن معاشی مشکلات کو سنبھالنا پڑے گا بصورت دیگر جنگ سے تھکن کا احساس یور پ کی اجتماعی مزاحمت کو کمزور کر دے گا۔

سروے میں رائے دینے والوں کی ایک تہائی یوکرین کی علاقائی دستبرداری جیسی رعایتوں کی قیمت پہ جنگ کا جلد خاتمہ چاہتی ہے،22 فیصد شہری روس کو سزا دینے اور یوکرین کے تمام علاقوں کو واگزارکرانے تک جنگ جاری رکھنے کے حامی ہیں۔

FaceLore Pakistan Social Media Site
پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

سروے کے مطابق 73 فیصد لوگوں نے اس تنازعہ میں ماسکو کو مورد الزام ٹھہرایا،64 فیصد کا خیال ہے امریکہ، یورپی یونین یا یوکرین ہی امن کی راہ میں حائل ہیں۔آن لائن کرائے جانے والے اس پول میں اپریل کے آخر اور مئی کے وسط تک جرمنی،رومانیہ اور سویڈن سمیت 10یورپی ممالک میں 8,172 بالغ افراد سے رائے لی گئی،جواب دہندگان کی اکثریت ہر صورت میں ”امن“کے متمنی تھی،چاہے اس کےلئے یوکرین کو کچھ علاقوں سے دستبرار ہی کیوں نہ ہونا پڑے، وہ لوگ بہت کم ہیں جو”انصاف“ کو ترجیح کے طور پر دیکھتے ہیں،چاہے اس کا نتیجہ طویل جنگ صورت ہی میں کیوں نہ نکلے۔

سروے مرتب کرنے والوں کے مطابق یہ بدلتے ہوئے احساسات یوکرین سے متعلق یورپی ممالک کی پالیسی کو متاثر کرسکتے ہیں۔انہوں نے لکھا،پول کے نتائج سے پتہ چلا کہ اس حوالہ سے یورپی رائے عامہ تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے جس کے نتیجہ میں مغرب کے لئے مشکل ترین دن آ سکتے ہیں۔ادھر امریکی انٹیلی جنس چیف کا کہنا ہے کہ پوٹن طویل جنگ کے لیے تیار ہیں،خود یورپی باشندے جوہری کشیدگی کے خطرے سے بھی ہراساں ہیں،اگر روس پر پابندیاں متوقع نتائج لانے میں ناکام رہیں تو ان لوگوں کے درمیان،جو جنگ کا جلد خاتمہ چاہتے ہیں اور جو روس کی شکست کے آرزو مند ہیں،تفریق مزید بڑھ جائے گی۔

رپورٹ میں کہا گیاکہ یوکرین کے ہمسایہ پولینڈ کے علاوہ سروے میں شامل تمام 10 ممالک میں ”امن“کے لئے رائے دینے والا پہلا گروہ تعداد میں ”انصاف“کے طلبگاروں سے زیادہ ہے۔ای سی ایف آر نے کہا کہ پہلی قسم کے بہت سے لوگوں کو تشویش ہے کہ ان کی حکومتیں،روس کے خلاف جنگ کو دیگر اہم مسائل،جیسے بڑھتی ہوئی مہنگائی اور زندگی کے بنیادوں تقاضوں کی تکمیل پہ،ترجیحی دے رہی ہیں۔

یورپ میں چونکہ معیشتیں ابھی کورونا لاک ڈاؤن کے آشوب سے نکل ہی رہی تھیں کہ انہیں یوکرین کی جنگ نے آ لیا، یوکرین جنگ نے مئی میں یورو استعمال کرنے والے ممالک میں مہنگائی کو ریکارڈ بلندی تک پہنچا دیا،توانائی کی قیمتوں میں اضافہ کی سالانہ شرح سب سے زیادہ تھی۔یورپی ممالک یوکرین کے داراحکومت کیف کے مضافات میں روسی جنگی کاروائیوں کے بڑھتے ہوئے واقعات کی وجہ سے اس ماہ پھر روسی تیل کی درآمدات پہ مرحلہ وار پابندی عائد کرنے کا معاہدہ کریں گی،چنانچہ مشرقی یوکرین میں گھمسان کی جنگ کے ساتھ، اس کشیدہ تنازع  بارے،ایسے سوالات بھی سر اٹھانے لگے کہ جنگ کے مضمرات اشیا خوردنی کی قیمتوں میں اضافہ اور توانائی کے بلوں میں بڑھوتری کے ساتھ مل کر ماسکو پر دباؤ ڈالنے کے لئے یور پی ممالک کی سیاسی خواہش کا امتحان لے سکتے ہیں۔

جیسا کہ یور پی ممالک نے گزشتہ ماہ تیل کی پابندی پر بات چیت کی تو یورپی پارلیمنٹ کے بیلجئم کے رکن نے روسی جارحیت کے خلاف ردعمل کو سراہانے کے باوجود بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور توانائی کی قلت بارے خبردار کرنا ضروری سمجھا۔قانون ساز سارہ میتھیو نے رفقاءکو بتایا کہ روس کی معیشت کو متاثر کرنے والی مغربی ممالک کی پابندیاں،یورپی شہریوں کی زندگیوں پر بھی گہرا اثرڈالیں گی۔انہوں نے یور پی یونین کے 27 ممالک پر زور دیا کہ وہ روزمرہ اشیا کی قیمتوں میں اضافے روک کے شہریوں کو ریلیف دیں،خاص طور پر ان لوگوں کو جو غربت کی کھائی میں گرنے جیسے خطرے سے دوچار ہیں۔

چنانچہ یورپی گھرانوں پر پڑنے والے منفی اثرات نے پالیسی سازوں کو ایک حد سے آگے بڑھنے سے روک دیا،مثال کے طور پر،جرمنی کی انرجی ٹیکس میں عارضی کمی اور پبلک ٹرانسپورٹ کے لیے ماہانہ 9 یورو کا ٹکٹ جاری کرنا۔برطانوی ماہرین کہتے ہیں کہ حکومتیں جس راہ پر چل نکلی ہیں ان کی پوری توجہ روس پہ اقتصادی پابندیوں پر مرکوز ہے،جس سے زندگی کی قیمت پر یورپ میں زبردست بے چینی پیدا ہوئی،کچھ چیزیں ایسی ہیں جنہیں لوگ خرید نہیں سکتے،لوگوں کوخوراک اور سردی سے بچنے کے لئے انرجی کی ضرورت ہے۔

ماہرین کہتے ہیں ہمیں یاد رکھنا ہوگا کہ ہم یورپ میں طویل جنگ کے متحمل نہیں ہوسکتے،ہمیں ولادیمیر پوتن کے خلاف کس حدتک جانا ہے؟ہمارے پاس کوئی ایک آپشن بھی ایسا نہیں جو ہمیں فوری فتح دلا سکے۔بدقسمتی سے یہ اقدامات کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے جو لامحالہ بُرے انجام پہ منتج ہو گا،اس لئے فوری جنگ بندی ناگزیر ہے۔رائے عامہ کے جائزوں اور ماہرین کے تجزیوں سے پتہ چلتا ہے کہ یوکرین پر روسی حملے کے سو دن بعد یورپین لیڈرشپ کے اعصاب پہ جنگی تھکاوٹ کے آثار ہویدہ ہیں، کیف کے حکام نے خدشہ ظاہر کیا کہ ”جنگی تھکاوٹ“کا احساس ماسکو کو پیچھے دھکیلنے میں مدد کرنے کے مغربی ممالک کے عزم کوکمزورکر رہا ہے۔

دوسری جنگ عظیم کے بعد یور پ نے روس پر پابندیاں عائد کرنے میں بے مثال اتحاد کا مظاہرہ کیا،امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے یوکرین کو اربوں ڈالر کا اسلحہ دیا،یورپ نے جنگ کی وجہ سے نقل مکانی کرنے والے لاکھوں افراد کا بوجھ اٹھایا لیکن جیسے ہی 24 فروری کے حملہ کا جذباتی مرحلہ اختتام کو پہنچا تو ایک متبادل سوچ نے یور پ و امریکہ کو مختلف طریقوں پہ غور کرنے پہ مجبور کر دیا، تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کریملن دور تک گھسیٹنے والے مضبوط تنازعات کے دباؤ اور مغربی طاقتوں کی  ممکنہ کم ہوتی دلچسپی کا فائدہ اٹھا سکتا ہے جو بہت جلد یوکرین پر روس کے ساتھ تصفیہ کے لئے دباؤ ڈالنے والے ہیں۔

یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے پہلے ہی مغربی مشوروں پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ انہیں سمجھوتہ ہرگز قبول نہیں ہو گا،یوکرین امن کے لئے شرائط خود طے کرے گا لیکن زیلنسکی کے پُرعزم خیالات کے الرغم یور پ میں جنگ کی تھکاوٹ بڑھ رہی ہے، لوگ ایسا نتیجہ چاہتے ہیں جو فائدہ مند ہو لیکن یوکرینی لیڈرشپ کوئی دوسرا نتیجہ مانگتی ہے،اس لئے زیلنسکی نے امن کی اطالوی تجویز مسترد کردی،فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کو بھی اس وقت غصہ سے لبریز ردعمل کا سامنا کرنا پڑا،جب اس نے کہا،اگرچہ پوٹن کا حملہ”تاریخی غلطی“تھی تاہم عالمی طاقتوں کو روس کی تذلیل سے باز رہنا چاہیے،پہلے جنگ کو روکیں پھر ہم سب ملکر تعمیر نوکا کام کر سکتے ہیں۔

اس وقت یور پ ممالک سفارتی طریقوں سے جنگ سے نکلنے کا راہ ڈھونڈ رہے ہیں لیکن یوکرین جو مغربی ممالک کی کمزوریوں کا رازداں ہے کسی ایسے امن فارمولہ پہ تیار نہیں جس میں مشرقی علاقوں سے دستبرداری اور رجیم چینج کی شرائط شامل ہوں۔کیف،روس کو مشرقی اور جنوبی یوکرین کے نئے زیر قبضہ علاقوں سے باہر دھکیلنے کے علاوہ کریمیا،جسے ماسکو نے 2014 میں ضم کرلیا اور ڈونباس کے وہ علاقے جو گزشتہ آٹھ سالوں سے کریملن کے حمایت یافتہ علیحدگی پسندوں کے زیر کنٹرول ہیں،کو واپس لینے کا خواہشمند ہے۔سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جنگ کے ہر مہینے یوکرائن کو 5 بلین ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑتاہے،کیف کا سارا معاشی انحصار مغربی ممالک کی مضبوط معاشی پوزیشن پر ہے۔یوکرین کو اپنی بقاءکے لیے مزید جدید ہتھیاروں کی ضرورت ہوگی،ماسکو کو کمزور کرنے کے لیے روس پر اقتصادی پابندیوں کا دائرہ بڑھانے کے لئے مغربی ممالک کے عزم کو مہمیز دینا پڑے گی۔

تاہم روس طویل جنگ کے لئے تیار ہے اور اب وہ اس مفروضے پر اپنی حکمت عملی بنا رہا ہے کہ مغربی ممالک جنگ سے اکتا چکے ہیں اس لئے روس نے رفتہ رفتہ اپنی عسکری بیانیہ کو زیادہ مناسب انداز میں تبدیل کرنا شروع کر دیا ہے۔امریکہ یوکرین کی مدد جاری رکھے ہوئے ہے،31مئی کو نیویارک ٹائمز کے ایک مضمون میں، بائیڈن نے کہا”میں یوکرین حکومت پر نجی یا عوامی طور پر کوئی علاقائی رعایت دینے کے لیے دباؤ  نہیں ڈالوں گا۔

Advertisements
julia rana solicitors

کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ سرد جنگ کے دوران بھی ایسا خوف کبھی پیدا نہیں ہوا جیسا اس وقت مغرب کی فضاوں پہ طاری ہے حالانکہ سوویت یونین کو اس وقت سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا۔اگرچہ یوکرین کے لیے حمایت میں فوری کمی کا کوئی امکان نہیں تاہم مغرب کے مقاصد کیا ہونے چاہئیں اس پراختلاف رائے کے واضح اشارے ملتے ہیں،جن کی تاحال مناسب وضاحت نہیں ہو سکی،یورپی اتحاد کو ممکنہ خطرہ کے پیش نظر یور پ کے مقامی خدشات اس توضیح کا راستہ روک رہے ہیں،خاص طور پر جب توانائی کی قیمتوں،خام مال کی قلت،بجلی کے بھاری بلوں،ایندھن کی قیمتوں اور روزمرہ اشیاءکی نرخوں میں ناقابل برداشت اضافہ کا بوجھ لوگوں پہ بڑھنا شروع ہوا تو صورت حال بے قابو ہو جائے گی۔

  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com
  • julia rana solicitors london
  • julia rana solicitors
  • merkit.pk

Aslam Awan
اس وقت یبوروچیف دنیا نیوز ہوں قبل ازیں پندرہ سال تک مشرق کا بیوروچیف اور آرٹیکل رائٹر رہاں ہوں،سترہ سال سے تکبیر میں مستقل رپوٹ لکھتا ہوں اور07 اکتوبر 2001 سے بالعموم اور 16مارچ 2003 سے بالخصوص جنگ دہشتگردی کو براہ راست کور کر رہاں ہوں،تہذیب و ثقافت اور تاریخ و فلسفہ دلچسپی کے موضوعات ہیں،

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply