اپنا گریبان۔۔شاہد محمود ایڈووکیٹ

پولیس ہو یا فوج، محکمہ صحت ہو یا تعلیم یا کوئی بھی محکمہ سب میں ہمارے ہی بھائی بند ہیں، پاکستانی ہیں۔ کسی ادارے میں سب برے یا سب اچھے نہیں ہوتے اس لئے کسی بھی ایک ادارے کو تنقید کا نشانہ بنانا مناسب نہیں۔ سب سے پہلے تو شائد اگر آپ عمر کی پچاس یا زیادہ دہائیاں گزار چکے تو آپ کو یاد ہو گا میٹرک رو دھو کے پاس کرنے والے کو کوئی کام نہیں ملتا تھا تو استاد لگ جاتا تھا PTC ٹیچر کہتے تھے شاید ۔ ایسے اساتذہ نے طلباء کی کردار سازی و تربیت تو دور کی بات تعلیم کی بنیاد ہی ٹیڑھی کر دی ۔ اب بتائیں کن سیاہ ست دانوں کی بات کی جائے جنہوں نے ذاتی مفادات کی خاطر اپنا کردار اتنا کمزور کر دیا کہ دوسری طاقتوں کو اقتدار پہ قبضے کا موقع مل گیا؟ یہ ذاتی کردار میں ننگے ہی کیوں نہ ہوتے اگر قومی مفادات کا تحفظ کرنے والے ہوتے اور بجائے سیاہ ست دان بن کر چاپلوسی و ہوس اقتدار و سازشوں میں ملوث ہونے کے سیاستدان بن کے ملک و قوم کے مفاد کے لئے کوشش کرنے والے ہوتے تو حکومت کر رہے ہوتے ۔ کس نے روکا تھا آئین وقت پہ بنانے اور فلاحی قوانین بنانے اور ان قوانین پہ عمل پیرا ہونے سے جس سے صرف ان کی جیبیں و تجوریاں نہ بھرتیں بلکہ عوام کی فلاح و بہبود ہوتی ۔ جب سیاہ ست دان ہی کرپشن و white color crime کرے گا تو دوسروں کا بھی دل للچائے گا ۔ مختصر یہ کہ آزادی کے رائے احمد خان کھرل جیسے متوالوں کے خلاف انگریزوں کی مدد کرنے والے پارٹیاں بدل بدل کے آج بھی اقتدار میں ہیں ۔ ایسے شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار خاندانوں کے افراد ہمیشہ طاقت کے سب ایوانوں میں ہوتے ہیں ۔ کئی سیاہ ست دان ایسے ہیں جن کی افواج پاکستان و عدلیہ کے افسران سے رشتہ داریاں ہیں ۔ افواج نے تو پھر قربانیاں دی ہیں ۔ سیاہ ست دانوں نے کرپشن کے علاوہ کیا دیا ہے مجموعی طور پہ ؟؟ آج بھی عوام میں ایوب خان زندہ ہے ہر دوسرے ٹرک کے پیچھے اس کی تصویر اور تیری یاد آئی تیرے جانے کے بعد لکھا ہوتا ہے ۔۔ ادھر تم اِدھر ہم کا نعرہ سیاہ ست دانوں کا تھا جو ملک دو لخت کر گیا ۔ غلطیاں سب کی ہیں لیکن سب سے بڑی غلطی ان کی ہے جو ہوس و زر پرستی کی وجہ سے مارشل لاء کا باعث بنے ۔ گھر کا سربراہ ہی مضبوط نہ ہو، صاحب کردار نہ ہو تو اس گھر کے بیٹے ہی پھر گھر سنبھالتے ہیں۔ عقلمند کو اشارہ کافی ہے۔ سیاہ ست دانوں کی کرپشن و اپنے آپ و جن کے وہ چور ہیں انہیں دی گئی مراعات کا ہی بوجھ ملکی خزانے کو کھا گیا ۔

حجاج بن یوسف کے مظالم و سفاکی کی وجہ سے کسی نے کہا تھا تو (حضرت) عمر (رضی اللہ تعالٰی عنہ) جیسا کیوں نہیں ہو جاتا تو اس نے تاریخی جواب دیا تم لوگ (رعایا) (حضرت) ابوذر غفاری (رضی اللہ تعالٰی عنہ) جیسے ہو جاؤ تو میں (حضرت) عمر (رضی اللہ تعالٰی عنہ) جیسا ہو جاوں گا ۔
نام لے کے تنقید کرنا مقصود نہیں صرف سمجھنے کی غرض سے آپ بڑے سیاہ ست دان تو چھوڑیں عام طفیلی parasite سیاہ ست دان دیکھ لیجئے انکا سیاست میں کردار دیکھ لیجئے مثال کے طور پہ؛
شاہ محمود قریشی
شیخ رشید
چودھری نثار
فواد چودھری
چودھری سرور
اور ایک لمبی لسٹ
یہ بھی آپ کو پتا ہو گا کہ خاندان کا ایک فرد ایک پارٹی میں دوسرا دوسری پارٹی میں بیشک پھوپھی بھتیجا ہوں یا بھائی بھائی ہوں   اور کسی کی رشتہ داری فوج میں تو کسی کی عدلیہ میں تو کسی کی بیوروکریسی میں تو ایسے میں کسی ادارے پہ تنقید سے پہلے سیاہ ست دان اپنے گریبان میں جھانکیں و اپنا قبلہ درست کریں، ملک و قوم کے ساتھ مخلص ہوں ۔ اپنی صفوں سے کالی بھیڑیں نکالیں، کردار سازی کریں تب بات کرنے کے قابل بنتے ہیں ۔

Advertisements
julia rana solicitors

میں استعاروں کی سر زمیں پر اُتر کے دیکھوں تو بھید پاؤں
بشر مسافر، حیات صحرا، یقین ساحل، گماں سمندر۔

Facebook Comments

شاہد محمود
میرج اینڈ لیگل کنسلٹنٹ ایڈووکیٹ ہائی کورٹ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply