مصری پاسپورٹ پر فرعون کی تصویر۔۔منصور ندیم

ابھی آفس میں مصری کولیگ میرے روم میں آیا تو اس کے ہاتھ میں مصری پاسپورٹ دیکھا، ویسے ہی دیکھنے کے لیے پاسپورٹ اس سے لیا تو بغور دیکھا کہ اس کے ہر داخلی صفحے پر فرعون کی شبیہ بنی ہوئی ہے۔ بیرونی جلد ہرے رنگ میں ہی ہے۔ عام اسٹینڈرڈ مصری پاسپورٹ 52 صفحات پر ہوتا ہے۔ آج کل مصری پاسپورٹ (جواز سفر) میں عربی اور انگریزی لکھی ہوتی ہے، مگر قدیم پاسپورٹ میں عربی اور فرینچ لکھی ہوتی تھی، پہلے صفحے پر حامل پاسپورٹ کی تصویر اور معلومات ہوتی ہے اور دوسرے صفحے پر احرام مصر ہیں، باقی ہر صفحے پر فرعون (توت عنخ آمون) کی شبیہ ہے ۔ فرعون سے نفرت ہمارے ہاں جیسے پائی جاتی ہے مصریوں کی تہذیب میں فراعین سے اس طرح نفرت نہیں دیکھی جاتی۔

مصری تہذیب میں بادشاہ یا حاکم وقت کے لئے لفظ “فرعون” مستعمل تھا، ورنہ عہد موسی علیہ السلام کے دور میں جو فرعون تھا اس کا نام رعمسیس تھا، جو رعمیسس دوئم Ramesses II کے نام سے جانا گیا، ریمسس دوئم تقریباً ۳۰۰۰ ہزار برس قبل مصر کا حکمران بنا تھا وہ اپنے عہد کے طاقتور ترین فراعین میں سے تھا۔ وہ ۱۴ برس کی عمر میں ولی عہد نامزد ہوا اور تقریباً ۲۰ برس کی عمر میں بادشاہ بنا، رعمسیس دوئم کے عہد میں ہی آسمان سے چھونے والے اہرام تعمیر کروانے کی بجائے اس نے مصر میں دریائے نیل کے آس پاس کے علاقوں میں کئی چھوٹی عمارتیں تعمیر کروائیں تھیں، رعمیسس کو اپنے مجسمے بنوانے کا شوق تھا اس نے اپنے مجسمے پہاڑوں کے اندر بہت گہرے کھدوائے تھے اور یہی وجہ ہے کہ مصر کے متعدد تاریخی مقامات پر آج بھی اس کے دیوقامت مجسمے محفوط ہیں۔

سنہء ۱۹۷۶ میں فرعون کی حنوط شدہ ممی کو جب فرانس لیجانے کا موقع آیا تو فرعون کی حنوط شدہ ممی کو لے جانے کے لئے مصری حکومت نے اس رعمسیس کی حنوط شدہ ممی کے لئے خاص طور پر پاسپورٹ جاری کیا تا کہ وہ فرانس کا سفر کر سکے۔ اس کے علاوہ مصری پاسپورٹ پر جس فرعون کی شبیہ بنی ہوئی ہے، وہ توت عنخ آمون کی ہے، جو فرعون کے اٹھارہویں خاندان سے اور اس کا عہد ۱۳۲۲ قبل مسیح تھا۔ اس کا عہد فراعین میں ترقی و خوشحالی میں ایک اہم سنگ میل رکھتا تھا، اس کے انتقال کے بعد اس کی حنوط شدہ ممی کے چہرے کے اوپر سونے کا ماسکو لگایا گیا ، اکثر تصاویر میں اس کے چہرے کو سونے میں ہی دیکھا ہوگا۔ توت عنخ آمون کی ممی کو Howard Carter نے سنہء ۱۹۲۲ میں دریافت کیا تھا ۔

Advertisements
julia rana solicitors

مصری تہذیب کی نسبت سے اہل مصر آج بھی فراعین کو اپنے اجداد مانتے ہیں، اس کا ثبوت ان کے پاسپورٹ پر اہرام مصر اور فرعون توت عنخ آمون کی شبیہ ہے۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply