این میری شمل، گوئیٹے انسٹیٹوٹ لاہوراور جرمن زبان

این میری شمل، گوئیٹے انسٹیٹوٹ لاہوراور جرمن زبان
احمد رضوان
ایف ایس سی پری میڈیکل میں بوجہ اپنے لاابالی پن ، شوقِ آوارگی اورمحبوبہ اول و آخرکرکٹ کے ہاتھوں جب داخلے کے لئےمطلوبہ مارکس حاصل نہ کرسکا تو ابا جی کے لتروں سے بچنے کے لیے دوبارہ امتحان دے ڈالا مگر نتیجہ پھروہی ڈھاک کے تین پات نکلا اور کمند دو چار ہاتھ لب بام سے پہلے تڑک کرکے ٹوٹ گئی تو دل بھی ساتھ ہی ٹوٹ گیا، ذیادہ تر لنگوٹیےجو پڑھاکو تھے میڈیکل کالجز اور انجینئیرنگ یونیورسٹیوں کو سدھار گئے تھےاور ہم چپ چپیتے زرعی یونیورسٹی میں داخلہ پا کر لوگوں کو یقین دلا رہے تھے کہ" یارو میرا اعتبار کرو " ایگریکلچر سائنس بھی ہےاور آرٹ بھی ۔ ایک جگر جو ہماری طرح ہاتھ پاؤں مار رہا تھا اپنا پنجاب یونیوسٹی میں کیمیکل انجینئیرنگ کاہوا داخلہ ٹھکرا کر اپنے ابا جی کے پیسے اور اماں جان کا منت ترلاکرکے سائیپرس کے کسی کالج میں داخلہ لے کر اڑنچھو ہوگیا ۔ آتی گرمیوں میں جب سالانہ چھٹیوں میں جوان اپنا ایڈمیشن جرمنی کے کسی کالج میں کروا کےلوٹااور اپنے قیام قبرص کی داستان رنگین و سنگین سے جو ہمارا لہو گرمایا تو اشتیاق اپنے عروج پر پہنچ گیا ۔تب تک مغرب سے تعارف چاچا تارڑ کے سفر ناموں اور انگلش فلمیں دیکھنے تک ہی محدود تھا اور ہر نئے نئے جوان ہوتے کی طرح اپنا سپنا جرمنی جرمنی تھا۔
ظالم نے بتایا کہ جرمنی میں ہر طرح کی نصابی و غیر نصابی(ثانی الذکر پر زیادہ زور تھا) تعلیم و تربیت بالکل مفت ہے بس جرمنی کی کسی یونیورسٹی میں داخلہ ہونا چاہیئے اور آپ کو اتنی جرمن زبان آتی ہوجتنی جانو جرمن کو انگلش آتی تھی اور آپ اپنا مدعا سمجھا سکیں اورموقع ملنے پر موقع موقع گا کر وقوعہ ڈال سکیں ۔اس نے ہمیں بھی جرمن زبان میں داخلہ لینے اور داخلے کے لئے رہنما مشوروں سے نوازا ۔ایچ ای سی نامی پھندہ اور گورکھ دھندہ ابھی معرض وجود میں نہیں آیا تھا اور سارا سلسلہ جنبانی برائے دخول و خروج اپنے زورِ دست و بازو اور زبان وبیان کی مدد سے انجام پاتا تھا، ورلڈ یونیورسٹی کیٹیلاگ سے سارے رابطہ نمبر اور تفصیل اکٹھی کرکے پروفیسر صاحبان کو پٹانے کی کوشش کی جاتی تھی اوراس ساری خط و کتابت میں ڈاک بابو بہت اہمیت رکھتا تھا ۔ابھی بے وقعتی نے ڈاک کے محکمے میں خاک نہیں اڑائی تھی اور قاصد کا انتظار محبوب کے دیدار سے زیادہ شدت اورتشنگی سے کیا جاتا تھا ۔ وہ دیکھو ڈاکیاآیا ساتھ اپنے ڈاک لایا۔ ڈاک موصول ہونے کے ساتھ اضافی ٹپ دی جاتی تھی ،سلام و تشکر علیحدہ۔ انٹرنیٹ اور موبائل فونز کےنائٹ پیکیج کی عیاشی ابھی عامتہ الناس نہیں ہوئی تھی اور غریب غرباء منٹو اور چند دیگررسائل کی تصاویر بتاں کے وسائل پر خود انحصارہو کر اکتفا کیا کرتے تھے ۔
اسی جگر نے ہمیں صلاح دی لاہور جاؤ اور جرمن زبان سیکھنے کے لئے گوئٹے انسٹیٹوٹ میں داخلہ لے کر ڈپلومہ لے لو۔اگرچہ اس ڈپلومہ سے ویزے کے پراسس پر کوئی فرق نہیں پڑتا مگر آپ کی سنجیدگی ضرور عیاں ہوتی ہے حصول علم کے لیے ورنہ وہ بھی جانتے ہیں کون واپس آتا ہے پڑھنے کے بعد۔یونیورسٹی کی لائیبریری سے "جرمن زبان سیکھئیے "نامی کتاب ایشو کروائی اور اس کا مطالعہ شروع کردیا۔شروع شروع میں مشکل پیش آئی اس کے قواعد و گرامرسمجھنے میں مگر آہستہ آہستہ اس میں زبان کی فصاحت و بلاغت نے مسحور و محصور کرلیا ۔انگلش اس کے مقابلہ میں اجڈ زبان لگنے لگی اور یہ کافی حد تک سچ ہے اگر آپ فرنچ اور جرمن ادب و زبان کے پارکھ ہوں ۔
اگلے سال جب تگڈم کی دو تکونیں قبلہ شاہ صاحب ایم اے نفسیات کرنے گورنمنٹ کالج یونیورسٹی اور قاسم چاچا(جگت چاچاہیں سنا ہے اب والدین بھی کبھی کبھی چاچا کہہ کر بلا لیتے ہیں ،ویسے ہم عمرلنگوٹیا ہی ہیں)ایل ایل بی پنجاب یونیورسٹی میں داخلہ لے کر عازم لاہور ہوئے تو ہماری راہ بھی آسان اور ہموار ہوگئی۔
پنجاب یونیورسٹی نیو کیمپس ہاسٹل نمبر سولہ جہاں میں اور قبلہ شاہ صاحب رہائش کا کوئی سستا اور ٹکاؤ انتظام نہ ہونے کے سبب چاچاقاسم اور اس کے دیگر چار روم میٹس کے ساتھ ایک ہی کمرے میں غیر قانونی طور پرمقیم تھےاور ہاسٹل میں قانونی طور پررہنے والوں سے زیادہ ٹھسے اور ٹہکے سے گھومتے تھے (مہمان جو تھے سب کےاور ہر کمرے میں یہی حال تھا)کیا عمدہ عمدہ دوست بنے تب ۔اتنا جمگھٹا ہوتا تھا کمرے میں کہ سانسوں ،آوازوں کی آوا جاہی اور آنتوں کی قرقل تک صاف سنائی دیتی تھی ۔
تینوں نےگوٹئے انسٹیٹیوٹ کی ایوننگ کلاس میں داخلہ لے لیا ۔ہفتے میں تین دن کلاس ہوتی تھی ایک دن وقفے کے ساتھ ۔دن میں سب دوست اپنی اپنی کلاس کو نکل جاتے اور میں نیو کیمپس سے یونیورسٹی کی بس میں سوار اولڈ کیمپس ، انارکلی ، نیلا گنبد، مال روڈ کی آوارہ گردی پر نکل جاتا اورتینوں دوست شام کوہاسٹل کے باہر سے نہر کنارے بس پکڑتےدھرم پورہ اور واہگہ جانے والی اورآگے مال روڈ یا جیل روڈ سے ویگنیں بدلتے گوئٹے انسٹیٹیوٹ پہنچ جاتے۔ بعد میں شاہ صاحب اپنی سی ڈی ۷۰ لے آئے تو کافی آسانی ہوگئی ۔ گوئٹے انسٹیٹیوٹ تب غالب مارکیٹ کے عقب میں واقع کوٹھی میں تھا جہاں آج کل شائد چن ون نامی چین اسٹور علم کی جگہ بیڈ شیٹس بیچ رہا ہے کہ تعلیم ہمارا اوڑھنا بچھوناکبھی ترجیح نہیں رہا۔وہیں اس کے سامنے پیس نامی مشہور سپر اسٹور تھا جو عمران خان کے اس میں شئیر ہونے کی وجہ سے خبروں میں تھا ،بعد میں کھوپچے بن گئے تھے چھوٹے چھوٹے اس میں اور یاد پڑتا ہے آتشزدگی کا بھی شکار ہوا تھا ۔کیا کیا باتیں یاد آرہی ہیں ۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
(جب سے ایک مضمون کے دوسرے حصے کا شدت سے لوگوں کو انتظار ہے ،کیوں نہ ہم ابھی اسے اقساط میں پیش کریں یہ لذیذ قصہ طویل بھی ہے اور یادوں کی بارات کی طرح رنگین بھی ہے۔)

احمد رضوان
احمد رضوان
تیشے بغیر مر نہ سکا کوہکن اسد سرگشتہ خمار رسوم قیود تھا

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *