• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • ہم بے کسوں کی ہڈیاں!لیکن یہ جان لو۔محمد اظہار الحق

ہم بے کسوں کی ہڈیاں!لیکن یہ جان لو۔محمد اظہار الحق

کہنے کو یہ ایک تصویر ہے مگر محض تصویر نہیں’جام جمشید ہے جس میں بہت کچھ نظر آرہا ہے۔پیش گوئی ہے جس میں  مستقبل جھلک رہا ہے۔آنے والے ماہ و سال کا آئینہ ہے جس میں ہمارا معاشرتی “ارتقاء” صاف نظر آرہا ہے۔

اس تصویر میں  ایک پولیس کاجوان دکھائی دے رہا ہے۔وہ بیٹھا ہوا ہے مگر یوں کہ سر اس کا زمین کے ساتھ لگنے والا ہے۔ اس کو بیک وقت سات آٹھ  اشخاص ڈنڈو ں سے پیٹ رہے ہیں ۔یہ سات آٹھ اشخاص لباس وضع قطع اور مجموعی تاثر سے ان پڑھ یا زیادہ سے زیادہ نیم خواندہ لگتے ہیں ۔

ان کی اس پولیس  والے سےکیا دشمنی ہے؟ کوئی دشمنی نہیں ! وہ تو اس کا نام  بھی نہیں جانتے وہ زندگی میں اسے پہلے کبھی ملے بھی نہیں! اس نے ان کا کوئی نقصان نہیں کیا۔

تو پھر یہ سات آٹھ اشخاص اسے اس  قدر بے رحمی سے کیوں  پیٹ رہے ہیں ؟کیا یہ لوگ پاگل ہیں  ؟کیا یہ غنڈے ہیں ؟

نہیں !یہ پاگل ہیں نہ غنڈے ہیں  !یہ عوام ہیں پولیس والا ان کے لیے علامت ہے ۔ریاست کی! حکومت کی! حکومتی پالیسیوں  کی! سرکاری طاقت کی! یہ لوگ جو پولیس کے سپاہی کو مار رہے ہیں  اس تکبر کا بدلہ لے رہے ہیں  جو حکومت عوام کے ساتھ روا رکھتی ہے۔ان عوام کے ہاتھ وزیراعظم یا کوئی اور وزیر نہیں لگا ورنہ ان کا اصل ہدف  وزیراعظم اور ان کے وزراء ہیں ! مارنے والے یہ لوگ لوئر مڈل کلاس سے تعلق رکھتے ہیں  ۔یہ کوٹھیوں  میں نہیں رہے۔یہ گلیوں محلوں میں رہتے ہیں ۔ان کے پاس  وزیر اور عوامی نمائندے اس وقت آتے ہیں جب ووٹ لینا ہوتا ہے۔ان کے بچے بدترین سکولوں میں جاتے ہیں ۔ان ہسپتالوں کی نسبت قتل گاہیں  زیادہ آرام دہ ہیں ۔ان ہسپتالوں میں دوائی  ہو تو ڈاکٹر نہیں ہوتا۔ڈاکٹر ہو تو کاٹن اور قینچی نہیں ملتے ۔قینچی اور کاٹن ملے تو بجلی نہیں ہوتی!

پولیس کے جوان کو بے رحمی سے مارنے والے یہ بے بس عوام وہی ہیں جنہیں حکمرانوں کے گزرتے وقت غلاموں کی طرح راستے میں  کھڑا کردیا جاتا ہے۔ جن کی موٹر سائیکلوں اور آٹھ سی سی گاڑیوں پر یہ پولیس والے ڈنڈے مار کر انہیں وارننگ دیتے ہیں ‘جنہیں  بھیڑ بکریوں کی طرح سڑکوں پر روک لیا جاتا ہے۔

خادم حسین رضوی نہ ہوتے ‘کوئی اور شخص رہنمائی کرتا،’تب بھی ان عوام نے دھرنا دینا تھا ‘تب بھی انہوں نے پولیس والو ں کو مارنا تھا۔ تکبر ‘رعونت ‘فرعونیت ‘تحقیر اور پھر اس  کے بعد جیسے یہ سب کچھ کافی نہ ہو’عوام کے مذہبی جذبات کی توہین کرنا اور پھر تکبر سے یہ کہنا کہ  کچھ بھی نہیں ہوا ”حد درجہ بے حسی ہی نہیں’کھوتا پن بھی ہے!

میاں جاوید لطیف کو عوام نے کیوں مارا ؟چودھری نثار علی خان کے گھر پر حملہ ہوا’اس  لیے کہ عوام حکمرانوں سے نفرت کرتے ہیں ۔یہ وہ حکمران ہیں ‘وہ وزیر ہیں ‘ وہ سابق وزیر ہیں ‘وہ عوامی نمائندے ہیں جن کی کوئی شئے  عوام کے ساتھ مشترک نہیں !ان کے  کنبے امریکہ اور برطانیہ میں رہتے ہیں ۔ان کے شاپنگ سنٹر الگ ہیں ۔ان کے بچوں کی درسگاہیں  مختلف ہیں ۔یہ اپنا اور اپنے خاندانوں کا علاج بیرون ملک کراتے ہیں ۔یہ لاہور سے راولپنڈی تک بھی ٹرین یا بس میں عوام کے ساتھ سفر نہیں کرتے۔یہ کبھی عوام کے ساتھ بازاروں میں سودا سلف نہیں خریدتے۔ان کے محلات پر پہریدار کھڑے ہوتے ہیں اور بھنبھوڑ دینے والے کتے!کیا کوئی عام شہری وزیر داخلہ سے یا سیکرٹری داخلہ سے’ یا پولیس کے کسی بڑے افسر سے مل سکتا ہے؟کبھی نہیں ! صحافیوں کو معلوم ہے کہ  اس کلاس سے رابطہ کرنا کس قدر مشکل اور جانکاہ کام ہے!یہ وزیر تو  اپنے ان دفتروں میں نہیں حاضر ہوتے جہاں ہر روز جاکر عوام کے کام کرنا ان کا فرض ہےاور جس  کے بدلے میں یہ بھاری تنخواہیں اور گراں  بہا مراعات وصول کرتے ہیں ۔اس کالم نگار  کا ذاتی تجربہ ہے ۔ایک بار ایک عزیز کے کام کے لیے وفاقی وزارت ہاؤسنگ کے چکر لگانے پڑے۔ پہلے تو لسانی بنیاد پر سفارش ڈھونڈنا پڑی۔ایک صحافی بھائی نے وزیر کے پاس جاکر سفارش کی! یہ کالم نگار  پانچ دن جاتا رہا۔وزیر صاحب ہفتے میں ایک دن تشریف لاتے تھے۔ اس ہفتے ایک بار بھی نہ آئے۔ پوری کوشش اور بھرپور روابط کے باوجود کاغذات وزیر تک نہ پہنچ سکے ۔تھک ہار کر کوشش چھوڑ دی اور عزیز کو بتا دیا کہ یہ کام نہیں ہوسکتا ۔ذرا اس عام شخص کا تصور کیجیے جس کے پاس سفارش کرنے والا صحافی نہ ہو’روابط بھی نہ ہوں ‘اس کااس مملکت خداداد میں  کیا حشر ہوتا ہوگا؟

ان عوام کو حکمرانوں  نے ان پڑھ رکھا۔نیم خواندہ رکھا۔سرکاری سکولوں  میں دیواریں ہیں نہ دروازے۔ پینے کاپانی ہے نہ چھتیں  ‘اساتذہ ہیں نہ بیٹھنے کو ٹاٹ۔کیا خادم پنجاب نے یا قائداعظم ثانی نے کسی ایک سرکاری سکول  کا بھی  اس سارے عرصہ میں دورہ کیا ہے؟کیا اپنی کامیابیوں  کی فہرستوں میں  شریف برادران گنوا سکتے ہیں کہ کتنی سرکاری درس گاہوں کی عمارتیں  اس عرصہ میں مرمت ہوئی یا نہیں  ‘کتنے اساتذہ مہیا کئے گئے؟کتنے سکولوں میں فرنیچر دیا گیا’ان سکولوں میں پڑھنے والے بچوں میں سے کتنے کالج اور یونیورسٹی کی سطح تک پہنچ پائے؟

ان اَن پڑھ نیم خواندہ ‘محروم توجہ بے بس’بے کس عوام کا جب بھی بس چلے گا’یہ سرکاری اہلکاروں کو ماریں گے’وزیروں کے محلات پر حملے کریں گے’منتخب نمائندوں کو زخمی کریں گے یہ سب کچھ جان گئے ہیں ۔الیکٹرانک میڈیا نے خبروں کے آگے تعمیر کئے گئے بند توڑ  کر رکھ دئیے ہیں ۔ان اَن پڑھ عوام کواب معلوم  ہے کہ کس کے بھائی  کے دبئی میں  تین سو فلیٹ ہیں  ۔کون گورنر ‘کرسی سے ہٹتے ہی متحدہ عرب امارات منتقل ہوگیا یہاں تک کہ اس نے بیٹی کی شادی بھی وہیں کی !ان عوام کو یہ تک معلوم ہے کہ کس ہوٹل میں شادی کی تقریب پر کتنے کروڑ اور کتنےارب خرچ کئے گئے ۔اور خرچ کرنے والے کا خاندانی پس منظر کیا ہے؟انہیں یہ تک معلوم  ہے کہ مڈل کلاس کا دعویٰ کرنے والے کس لیڈر  کے اہل خانہ لاس  اینجلز کے مہنگے حصے میں رہ رہے ہیں !

دھرنے کی خبر سن کر ‘جاتی امرا کی سکیورٹی سخت کردی گئی۔ماڈل ٹاؤن کی گلیوں کی گلیاں  ‘سڑکوں کی سڑکیں بند ہیں ۔مگر جب عوام کا سیلاب اٹھے تو کوئی سکیورٹی  ‘کوئی ایلیٹ فورس کام نہیں آتی۔کیا رومانیہ کے چی سسکو،مصر کے حسنی مبارک اور ایران کے بادشاہ کے اردگرد سکیورٹی کم تھی؟ڈوبتے  ہوئے عوام کو تنکے کا سہارا درکار ہوتا ہے۔ وہ کسی خادم حسین  رضوی’ کسی آصف اشرف جلالی کا سہارا لے کر  اٹھتے ہیں اور جب زور  پکڑتے ہیں تو انہیں تشدد سے خود رضوی اور   جلالی  روکنے میں ناکام  ہوجاتے ہیں ۔سیلاب آئے تو یہ نہیں ہوتا کہ فلاں کھیت ‘فلاں بستی’فلاں شہر  کو چھوڑ کر ‘دوسرے  راستے سے کسی اور طرف نکل جائے ۔پھر سب کچھ بہا لے جاتا ہے!راستے میں جو آئے غرقاب ہوجاتا!کیا کوئی سوچ سکتا تھا ک یہ تکبر مآب وزراء بابے سیالوی کے دروازے پر کھڑے ہوں گے؟جہاں پندرہ پارلیمنٹیرین اپنے استعفے جمع کرا چکے ہوں گے!

تاریخ کروٹ  لیتی ہے تو جاتی امرا سے بلاول ہاؤس تک سب لرزنے لگتا ہے!پھر حساب برسوں یا مہینوں میں نہیں ‘دنوں میں  ہوتا ہے’پھر عشروں کی مںصوبہ بندی پر پانی پھر جاتا ہے پھر اپنی باری کا انتظار  کرتی شہزادیاں پوری پوری زندگی  تخت پر بیٹھنے کی حسرت میں گزار دیتی ہیں ۔مجید امجد نے اسی لیے تو متنبہ کیا تھا ۔

سیل ِزماں  کے ایک تھپیڑے کی دیر تھی

تخت و کلاہ و  وقصر کے سب سلسلے گئے

وہ دست و پاء میں گڑتی سلاخوں کے روبرو

صدہا تبسموں  سے لدے طاقچے گئے

آنکھوں  کو چھیدتے ہوئے نیزوں کے سامنے

محراب زر سے اٹھتے ہوئے قہقہے گئے

ہر سانس لیتی’ کھال کھنچی لاش کے لیے

شہنائیوں  سے جھڑتے ہوئے’زمزے گئے

دامن تھے جن کے خون کے چھینٹوں سے گلستاں

وہ اطلس و  حریر کے پیکر گئے’گئے

ہر کنجِ باغ ٹوٹے پیالوں کا ڈیھر تھی

سیلِ زماں کے ایک تھپیڑے کی دیر تھی

یہ ہاتھ’جھریوں بھرے’مرجھائے ہاتھ ‘جو

سینوں میں اٹکے تیروں سے رِستے لہو کے جام

بھر بھر کے دے رہے ہیں تمھارے غرور کو

یہ ہاتھ’گلبنِ ہستی کی ٹہنیاں

اے کاش انہیں بہار کا جھونکا نصیب ہو

ممکن نہیں کہ ان کی گرفتِ تپاں سے تم

تادیر اپنی ساعدِ نازک بچا سکو

تم نے فصیلِ قصر کے رخنوں میں بھر تو لیں

ہم بے کسوں کی ہڈیاں  ،لیکن یہ جان لو

اے وارثانِ طرہ  طرفِ کلاہِ کے

سیل ِ زماں کے ایک تھپیڑے کی دیر ہے!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *