• صفحہ اول
  • /
  • خبریں
  • /
  • ملک بھرمیں جشن ولادت النبی ﷺ عقیدت و احترام سے منایا جارہا ہے

ملک بھرمیں جشن ولادت النبی ﷺ عقیدت و احترام سے منایا جارہا ہے

فرزندانِ اسلام نے جشن عید میلاد النبی ﷺ کے شایان شان انعقاد کے لیے بھرپور تیاریاں کیں جبکہ ملک بھر میں جلسے جلوسوں اور محافل نعت و درود و سلام کا بھی انعقاد کیا جارہا ہے۔

نبی پاک ﷺ کے یوم ولادت کے سلسلے میں تمام سرکاری و نیم سرکاری عمارتوں پر چراغاں کیا گیا ہے جبکہ گھروں، دفاتر، مساجد، پارکس، تفریحی مقامات، گلیوں، مارکیٹوں، بازاروں اور شاہراہوں کو رنگ برنگے پرچموں، برقی قمقموں، آرائشی محرابوں، خوبصورت فلیکس سائنز، بینرز، جھنڈیوں اور دیگر زیبائشی اشیاءسے دلہن کی طرح سجایا گیا ہے۔

ملک کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں عید میلاد النبی ﷺ کے سلسلے میں جلوس اور ریلیاں نکالی جارہی ہیں جبکہ جلوسوں کے راستوں میں دودھ، شربت اورپانی کی سبیلیں لگانے، مٹھائی و لنگر تقسیم کرنے کے بھی خصوصی انتظامات کئے گئے ہیں۔

ملک بھر میں عید میلادالبنی ﷺکے موقع پر وفاقی دارالحکومت میں 31 اور صوبائی دارالحکومتوں میں اکیس اکیس توپوں کی سلامی دی گئی۔

اس موقع پر صدرمملکت ممنون حسین نے کہا کہ آج ہمارے لئے تذکیروتجدید کا مقدس دن ہے، حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات پرعمل سے مسائل دم توڑجائیں گے، آپ کی تعلیمات پرعمل کرنے سے معاشرہ جنت کا نمونہ بن جائے گا اوردعا ہے کہ اللہ تعالیٰ پاکستان کوحقیقی ترقی وخوشحالی کا گہوارہ بنادے۔

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے اپنے پیغام میں کہا کہ آج کا دن تاریخ اسلام کا ہی نہیں بلکہ پوری کائنات اورانسانیت کا عظیم ترین دن ہے۔

وزیر مملکت برائے اطلاعات مریم اورنگزیب کاِ عید میلاد النبی کے موقع پر پیغام میں کہنا تھا کہ خاتم النییین حضرت محمد مصطفیٰ کا نام نامی اور پیغام مبارک بنی نوع انسان سے محبت کی سدا زندہ رہنے والی علامت ہے، اللہ کے آخری نبی کے پیغام پر ایمان رکھنے والوں پر لازم ہے کہ وہ ہمدردی، اخوت اور خیرسگالی کو اپنے کردار کا حصہ بنائیں، نبی کا امتی ہوتے ہوئے آپس میں نفرتیں، نفاق اور دوریاں رکھنا حضور کی تعلیمات کے منافی ہے۔

سیکیورٹی انتظامات

12 ربیع الاول کے موقع پر جلسے جلسوں اور محفلوں کی حفاظت کے لیے وفاقی اور صوبائی سطح پر سخت سیکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔

جلوسوں کی سیکیورٹی کے لیے مرکزی جلوسوں کے روٹ پر پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی اضافی نفری تعینات کی گئی ہے جبکہ کوئٹہ میں کسی بھی ناخوشگوار واقعے بچنے کے لیے موٹرسائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی عائد کردی گئی ہے جو رات 12 بجے ختم ہوجائے گی۔

کراچی پولیس نے 12 ربیع الاول کے مرکزی جلوس کی سیکیورٹی کے لیے پلان بھی ترتیب دیا ہے جس کے تحت جلوس کی سیکیورٹی کے لیے 23 ہزار اہلکار تعینات کیے گئے ہیں، 5 ہزار پولیس اہلکار مرکزی جلوس کی گزرگاہ، داخلی اور خارجی راستوں پر تعینات کیے گئے ہیں۔

پلان کے مطابق پولیس موبائلز، بکتر بند گاڑیاں اور موٹرسائیکل سوار اہلکار بھی موجود ہوں گے۔

انٹرنیٹ اور موبائل فون سروس معطل

سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر سندھ کے شہروں کراچی، حیدر آباد، سکھر میں صبح 8 بجے بند ہونے والی موبائل اور انٹرنیٹ سروس رات 8 بجے تک معطل رہے گی۔

اس کے علاوہ اور بلوچستان کے شہر کوئٹہ میں بھی صبح 8 سے رات 8 بجے تک موبائل فون سروس بند رہے گی۔

کراچی اور لاہور کا ٹریفک پلان

کراچی اور لاہور میں 12 ربیع الاول کے جلسوں اور جلوسوں کے سلسلے میں سیکیورٹی پلان ترتیب دے دیا گیا ہے۔

دعوت اسلامی کے زیراہتمام ایک جلوس دوپہر ڈھائی بجے کھارادر گارڈن تک، جبکہ دوسرا مولانا اکبر درس کی قیادت میں میمن مسجد کھارادر سے آرام باغ مسجد تک نکالا جائے گا۔

پولیس کے افسران و اہلکار مرکزی جلوس میں موٹر سائیکل، موبائل، پریزن وینز، بکتر بند پر سوار ہو کر جلوس کے راستوں پر سیکورٹی کے فرائض انجام دیں گے۔

بم ڈسپوزل کی جانب سے جلوس کے راستوں کی سوئپنگ اور اونچی عمارتوں پر اسنائپرز بھی تعینات کئے گئے ہیں، جلوس کے مرکزی پوائنٹس پر ایمبو لینسز اور فائر بریگیڈ کی گاڑیاں موجود رہیں گی۔

محکمہ داخلہ کی جانب سے 12 ربیع الاول کی مناسبت سے جاری کردہ قواعد و ضوابط کے مطابق پولیس اور ضلعی انتظامیہ اشتعال انگیز تقاریر سے باز رکھنے کے پابند ہوں گے جبکہ کیبل آپریٹرز متنازع تقاریر نشر نہیں کرسکتے۔

پارکنگ کے مقامات جلوسوں اور محافل سے دور رکھے جائیں گے، سرکاری عمارتوں پر سیاسی، فرقہ وارانہ جھنڈے، بینر لگانے کی سخت ممانعت ہوگی۔

دوسری جانب لاہور کی انتظامیہ نے بھی 12 ربیع الاول پر ٹریفک پلان کا اعلان کردیا۔

پلان کے مطابق ضلع کچہری چوک سے داتا دربار، اردو بازار سے موری گیٹ، آزادی فلائی اوور پیر مک یوٹرن، ریٹی گن چوک سے لائر مال کراسنگ، نو لکھا بازار سے میلاد چوک اور میلاد چوک سے اندرون دہلی گیٹ، ایک موریہ سے ریلوے اسٹیشن، حاجی کیمپ سے ظفر شہید چوک اور فوارہ چوک سے میکلوڈ روڈ بند رہیں گی۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *